🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

4135. -- باب:: شهادة أهل العصبية
-- باب: عصبیت (قوم پرستی یا تعصب) رکھنے والوں کی گواہی کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21088
وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، عَنْ عِمْرَانَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ يَزِيدَ، وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، إِلَى قَوْلِهِ:" وَيَتَكَاذَبَانِ"، وَرَوَاهُ شَيْبَانُ عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: وَحَدَّثَ ⦗٣٩٨⦘ مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا يَشْتُمُنِي وَهُوَ أَنْقُصُ مِنِّي نَسَبًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُسْتَبَّانِ شَيْطَانَانِ يَتَهَاتَرَانِ وَيَتَكَاذَبَانِ"، وَكَانَ يُقَالُ، فَذَكَرَ مَعْنَى مَا بَعْدَهُ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ قَتَادَةَ فَذَكَرَهُ. وَقَدْ ثَبَتَ ذَلِكَ اللَّفْظُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ دُونَ مَا قَبْلَهُ.
سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، کہنے لگے: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا ایسے آدمی کے بارے میں کیا خیال ہے جو مجھے گالی دیتا ہے حالانکہ وہ نسب کے اعتبار سے مجھ سے حقیر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو گالیاں دینے والے شیطان ہیں جو ایک دوسرے کے خلاف جھوٹ بکتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21088]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21089
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُعَيْمٍ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمُسْتَبَّانِ مَا قَالَا فَعَلَى الْبَادِئِ مَا لَمْ يَعْتَدِ الْمَظْلُومُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ. وَرُوِيَ ذَلِكَ فِي حَدِيثِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى جَوَازِ الِانْتِصَارِ مِنْ غَيْرِ تَعَدٍّ وَلَا إِظْهَارِ فُحْشٍ، وَحَدِيثُ عَائِشَةَ فِي قِصَّةِ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا دَلِيلٌ عَلَى إِبَاحَةِ الِانْتِصَارِ، حَيْثُ قَالَتْ:" فَلَمْ تَبْرَحْ زَيْنَبُ بِنْتُ جَحْشٍ حَتَّى عَرَفْتُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَكْرَهُ أَنْ أَنْتَصِرَ"، وَالْعَفْوُ وَتَرْكُ الِانْتِصَارِ أَوْلَى.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو گالیاں دینے والوں کا وبال ابتدا کرنے والے پر ہے، جب تک کہ مظلوم زیادتی نہ کرے۔“
یہ بات سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بھی مروی ہے، اور اس میں زیادتی اور فحش گوئی کے اظہار کے بغیر بدلہ لینے کے جائز ہونے کی دلیل ہے۔ اور سیدہ زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا کے قصے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث بدلہ لینے کے مباح ہونے کی دلیل ہے، جہاں وہ فرماتی ہیں: ”زینب بنت جحش ابھی گئی نہیں تھیں کہ میں نے جان لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے بدلہ لینے کو ناپسند نہیں فرماتے۔“ لیکن معاف کرنا اور بدلہ لینے کو چھوڑ دینا، یہ زیادہ بہتر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21089]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2587»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21090
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَا نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِنْ مَالٍ، وَلَا زَادَ اللهُ بِالْعَفْوِ إِلَّا عِزًّا، وَمَا تَوَاضَعَ أَحَدٌ لِلَّهِ إِلَّا رَفَعَهُ اللهُ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ جَمَاعَةٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ مال کو کم نہیں کرتا اور معاف کرنے سے اللہ عزت میں اضافہ کرتا ہے، جو کوئی اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے، اللہ اس کو بلند فرما دیتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21090]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 2580»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21091
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَارِمٍ الْحَافِظُ، بِالْكُوفَةِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَيُّوبَ الْمُخَرِّمِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ أَبِي الْمُتَّئِدِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَكْرَمِ أَخْلَاقِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ؟ تَعْفُو عَمَّنْ ظَلَمَكَ، وَتُعْطِي مَنْ حَرَمَكَ، وَتَصِلُ مَنْ قَطَعَكَ".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں بتاؤں کہ دنیا اور آخرت میں بہتر اخلاق والے کون ہیں؟“ پھر فرمایا: ”ظالم کو معاف کرنا، محروم کرنے والے کو عطا کرنا، قطع رحمی کرنے والے کے ساتھ صلہ رحمی کرنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21091]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21092
وَحَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ، عَنْ ⦗٣٩٩⦘ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ حَاسَبَهُ اللهُ حِسَابًا يَسِيرًا، وَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِهِ"، قَالُوا: مَنْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" تُعْطِي مَنْ حَرَمَكَ، وَتَعْفُو عَمَّنْ ظَلَمَكَ، وَتَصِلُ مَنْ قَطَعَكَ"، قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ، فَمَا لِي يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:" أَنْ تُحَاسَبَ حِسَابًا يَسِيرًا، وَيُدْخِلَكَ اللهُ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِهِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے اندر تین خوبیاں ہوئیں اللہ اس کا حساب آسان کر دے گا اور اپنی رحمت سے اس کو جنت میں داخل کر دے گا۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون؟ فرمایا: ”محروم کرنے والے کو عطا کرنا، ظالم کو معاف کرنا، قطع رحمی کرنے والے کے ساتھ صلہ رحمی کرنا۔“ کہنے لگے: اگر میں یہ کام کروں مجھے کیا ملے گا، اے اللہ کے رسول؟ فرمایا: ”تیرا حساب آسان ہوگا اور اللہ تجھے اپنی رحمت سے جنت میں داخل فرما دیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21092]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21093
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَهْ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ أَبِي غِفَارٍ، ثنا أَبُو تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيُّ وَأَبُو تَمِيمَةَ اسْمُهُ طَرِيفُ بْنُ مُجَالِدٍ، عَنْ أَبِي جُرَيٍّ جَابِرِ بْنِ سُلَيْمٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلًا يَصْدُرُ النَّاسُ عَنْ رَأْيِهِ، لَا يَقُولُ شَيْئًا إِلَّا صَدَرُوا عَنْهُ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: عَلَيْكَ السَّلَامُ يَا رَسُولَ اللهِ، مَرَّتَيْنِ، قَالَ:" لَا تَقُلْ: عَلَيْكَ السَّلَامُ، عَلَيْكَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ الْمَيِّتِ، قُلِ: السَّلَامُ عَلَيْكَ"، قَالَ: قُلْتُ: أَنْتَ رَسُولُ اللهِ؟ قَالَ:" أَنَا رَسُولُ اللهِ الَّذِي إِذَا أَصَابَكَ ضُرٌّ فَدَعَوْتَهُ كَشَفَهُ عَنْكَ، وَإِنْ أَصَابَكَ عَامُ سَنَةٍ فَدَعَوْتَهُ أَنْبَتَهَا لَكَ، وَإِذَا كُنْتَ بِأَرْضٍ قَفْرٍ أَوْ فَلَاةٍ فَضَّلَتْ رَاحِلَتُكَ فَدَعَوْتَهُ رَدَّهَا عَلَيْكَ"، قَالَ: قُلْتُ: اعْهَدْ إِلِيَّ، قَالَ:" لَا تَسُبَّنَّ أَحَدًا"، قَالَ: فَمَا سَبَبْتُ بَعْدَهُ حُرًّا وَلَا عَبْدًا وَلَا بَعِيرًا وَلَا شَاةً، قَالَ:" وَلَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا، وَأَنْ تُكَلِّمَ أَخَاكَ وَأَنْتَ مُنْبَسِطٌ إِلَيْهِ وَجْهُكَ، إِنَّ ذَلِكَ مِنَ الْمَعْرُوفِ، وَارْفَعْ إِزَارَكَ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ، فَإِنْ أَبْيَتَ فَإِلَى الْكَعْبَيْنِ، وَإِيَّاكَ وَإِسْبَالَ الْإِزَارِ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَخِيلَةِ، وَإِنَّ اللهَ لَا يُحِبُّ الْمَخِيلَةَ، وَإِنِ امْرُؤٌ شَتَمَكَ وَعَيَّرَكَ بِمَا يَعْلَمُ فِيكَ فَلَا تُعَيِّرْهُ بِمَا تَعْلَمُ فِيهِ، فَإِنَّمَا وَبَالُ ذَلِكَ عَلَيْهِ".
سیدنا جابر بن سلیم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی کو دیکھا (کہ لوگ اس کی بات کہتے ہیں اور اس کی بات مانتے ہیں) میں نے پوچھا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ میں نے عرض کیا: ” «عَلَيْكَ السَّلَامُ» اے اللہ کے رسول!“ (دو مرتبہ)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «عَلَيْكَ السَّلَامُ» نہ کہو، کیونکہ یہ مردوں کا تحفہ ہے، تم «السَّلَامُ عَلَيْكَ» کہا کرو۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: کیا آپ اللہ کے رسول ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اللہ کا رسول ہوں، وہ ذات کہ اگر آپ کو کوئی مصیبت آئے اور آپ اس کو پکاریں تو وہ آپ کی پریشانی دور کر دیتا ہے، اور اگر قحط سالی آئے تو آپ اس سے دعا کریں تو وہ (سبزہ و غلہ) اگا دیتا ہے، اور اگر جنگل میں آپ کی سواری گم ہو جائے تو اس کو پکارو تو وہ تمہاری سواری لوٹا دیتا ہے۔“ میں نے عرض کیا: مجھ سے عہد لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی کو گالی مت دینا۔“ راوی کہتے ہیں: اس کے بعد میں نے کسی آزاد، غلام، اونٹ یا بکری کو بھی گالی نہیں دی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نیکی کو حقیر نہ جاننا اور اپنے بھائی سے خندہ پیشانی سے بات کرنا، یہ بھی نیکی ہے، اور اپنے تہبند کو نصف پنڈلی تک اٹھائے رکھو، اگر تو اس سے انکار کرے تو ٹخنوں تک، اور چادر کو لٹکانے سے بچنا کیونکہ یہ تکبر ہے اور اللہ تعالیٰ تکبر کو ناپسند فرماتا ہے۔ اور اگر کوئی آدمی آپ کو گالی دے یا عار دلائے اس (عیب) کی وجہ سے جسے وہ آپ کے بارے میں جانتا ہے تو آپ اسے عار نہ دلائیں، اس کا وبال اس پر ہی ہوگا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21093]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21094
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ الْإِسْفَرَايِينِيُّ بِهَا، ثنا أَبُو عَمْرٍو إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُجَيْدٍ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ: خَرَجْتُ أُرِيدُ الْغَابَةَ، فَسَمِعْتُ غُلَامًا لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ يَقُولُ: أُخِذَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ أَخَذَهَا؟ قَالَ: غَطَفَانُ وَفَزَارَةُ، قَالَ: فَصَعِدْتُ الثَّنِيَّةَ فَنَادَيْتُ: يَا صَبَاحَاهُ، يَا صَبَاحَاهُ، ثُمَّ انْطَلَقْتُ أَسْعَى فِي آثَارِهِمْ حَتَّى اسْتَنْقَذْتُهَا مِنْهُمْ، وَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ الْقَوْمَ عِطَاشٌ أَعْجَلْنَاهُمْ أَنْ يَسْتَقُوا لِسَقْيِهِمْ، قَالَ:" يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ مَلَكْتَ فَأَسْجِحْ، إِنَّ الْقَوْمَ غَطَفَانَ يُقْرَوْنَ". أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ.
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے جنگل کا ارادہ کیا، میں نے عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے غلام سے سنا، وہ کہہ رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنیاں پکڑ لی گئی ہیں۔ کہتے ہیں: میں نے کہا: کس نے ان کو پکڑا ہے؟ اس نے کہا: قبیلہ غطفان اور فزارہ والوں نے۔ کہتے ہیں: میں بلند جگہ پر چڑھ گیا، میں نے آواز دی: «يَا صَبَاحَاهُ، يَا صَبَاحَاهُ» ”ہائے صبح کا حملہ، ہائے صبح کا حملہ۔“ پھر میں ان کے نشاناتِ قدم پر چل نکلا۔ پھر میں نے ان سے وہ اونٹنیاں چھین لیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی جماعت میں آئے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگ پیاسے ہیں، ہم نے انہیں پانی پینے سے پہلے ہی جلدی میں بھگا دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن اکوع! خدا نے تم کو اقتدار دیا ہے درگزر سے کام لو، کیونکہ وہ لوگ (اب) غطفان میں مہمانی پا رہے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21094]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21095
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا زَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ، ⦗٤٠٠⦘ عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَائِذِ اللهِ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ أَقْبَلِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ آخِذًا بِطَرَفِ ثَوْبِهِ حَتَّى أَبْدَى عَنْ رُكْبَتَيْهِ، فَقَالَ:" أَمَّا صَاحِبُكُمْ هَذَا فَقَدْ غَامَرَ"، فَسَلَّمَ وَقَالَ: إِنَّهُ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ شَيْءٌ، فَأَسْرَعْتُ إِلَيْهِ، ثُمَّ ذَهَبَ، فَسَأَلْتُهُ أَنْ يَغْفِرَ لِي، فَأَبَى عَلَيَّ، وَتَحَرَّزَ مِنِّي بِدَارِهِ، فَأَقْبَلْتُ إِلَيْكَ، فَقَالَ:" يَغْفِرُ اللهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ"، ثَلَاثًا، ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَدِمَ، فَأَتَى مَنْزِلَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَ: أَثَمَّ أَبُو بَكْرٍ؟ فَقَالُوا: لَا، فَأَقْبَلَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَعَّرُ حَتَّى أَشْفَقَ أَبُو بَكْرٍ، فَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَا وَاللهِ كُنْتُ أَظْلَمَ، مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللهَ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى بَعَثَنِي إِلَيْكُمْ، فَقُلْتُمْ: كَذَبْتَ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: صَدَقْتَ، وَوَاسَانِي بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ، فَهَلْ أَنْتُمْ تَارِكُونَ لِي صَاحِبِي؟"، قَالَهَا مَرَّتَيْنِ، فَمَا أُوذِيَ بَعْدَهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هِشَامِ بْنِ عَمَّارٍ.
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آئے تو وہ اپنے کپڑے کی ایک طرف پکڑے ہوئے تھے اور ان کے گھٹنے ظاہر ہو رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے اس صاحب کو کسی پریشانی نے گھیر رکھا ہے۔“ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سلام کیا اور کہنے لگے: میرے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان تنازع ہو گیا، میں نے جلد بازی کی۔ پھر وہ چلے گئے۔ میں نے ان سے معافی کا سوال کیا، لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور مجھ سے بچتے ہوئے گھر چلے گئے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: ”اللہ ابوبکر کی مغفرت فرمائے۔“ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نادم ہوئے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر آ کر پوچھا: کیا ابوبکر یہاں ہیں؟ گھر والوں نے کہا: نہیں۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہونے لگا، یہاں تک کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو ڈر محسوس ہوا تو وہ اپنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے۔ دو مرتبہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! زیادتی مجھ ہی سے ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! اللہ نے مجھے تمہاری طرف مبعوث کیا ہے، تم نے کہا: جھوٹ کہتے ہو اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے سچ کہا اور اپنے مال و جان سے میری مدد کی۔ کیا تم میرے ساتھی کو چھوڑتے نہیں ہو؟“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ فرمائی۔ اس کے بعد انہیں (کبھی) تکلیف نہیں دی گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21095]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3661»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21096
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جَعَلَ رَجُلٌ يَشْتِمُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ، فَجَعَلَ يَعْجَبُ وَيَتَبَسَّمُ، فَلَمَّا أَكْثَرَ ذَلِكَ رَدَّ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ بَعْضَ قَوْلِهِ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَ، فَلَحِقَهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَانَ يَشْتُمُنِي وَأَنْتَ جَالِسٌ، فَلَمَّا رَدَدْتُ عَلَيْهِ بَعْضَ قَوْلِهِ غَضِبْتَ وَقُمْتَ قَالَ:" فَإِنَّهُ كَانَ مَعَكَ مَنْ يَرُدُّ عَنْكَ، فَلَمَّا رَدَدْتَ عَلَيْهِ قَعَدَ الشَّيْطَانُ، فَلَمْ أَكُنْ لِأَقْعُدَ مَعَ الشَّيْطَانِ"، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مِنْ عَبْدٍ ظُلِمَ مَظْلِمَةً فَيُغْضِي عَنْهَا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، إِلَّا أَعَزَّ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا نَصْرَهُ". رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ بَشِيرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قِصَّةِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُرْسَلًا دُونَ مَا فِي آخِرِهِ مِنَ التَّرْغِيبِ فِي الْإِغْضَاءِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو گالیاں دے رہا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تعجب فرما رہے تھے اور مسکرا رہے تھے۔ جب اس نے زیادہ باتیں کیں تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے اور اٹھ کھڑے ہوئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے) پیچھے چلے اور کہنے لگے: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ مجھے گالیاں دے رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے رہے، جب میں نے اس کا جواب دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہو گئے اور اٹھ کھڑے ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرے ساتھ وہ (فرشتہ) تھا جو اس کا جواب دے رہا تھا، جب تو نے جواب دیا تو شیطان بیٹھ گیا، اور میں شیطان کے ساتھ نہیں بیٹھتا۔“ پھر فرمایا: ”اے ابوبکر! کسی بندے پر ظلم نہیں کیا جاتا لیکن وہ اس کو اللہ کی رضا کے لیے برداشت کرتا ہے تو اللہ اس کی مدد کر کے اسے عزت بخشتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21096]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21097
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، ثنا أَبُو صَخْرٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْمُؤْمِنُ مَأْلَفٌ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَأْلَفُ وَلَا يُؤْلَفُ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن تو محبت کی جگہ ہے، اس شخص میں کوئی بھلائی نہیں جو انس نہیں کرتا اور نہ ہی اس سے انس کیا جاتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21097]
تخریج الحدیث: «منكر»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں