مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
80. بَابٌ فِي الْعَمَلِ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ .
کتاب و سنت پر عمل کرنا
حدیث نمبر: 788
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، يُحِلُّ حَلَالَهُ، وَيُحَرِّمُ حَرَامَهُ - حَرَّمَ اللَّهُ لَحْمَهُ وَدَمَهُ عَلَى النَّارِ، وَجَعَلَهُ رَفِيقَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ، حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ كَانَ الْقُرْآنُ حُجَّةً لَهُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ خُلَيْدُ بْنُ دَعْلِجٍ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَيَحْيَى وَالنَّسَائِيُّ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ: صَالِحٌ، لَيْسَ بِالْمَتِينِ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: عَامَّةُ حَدِيثِهِ تَابَعَهُ عَلَيْهِ غَيْرُهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ خُلَيْدُ بْنُ دَعْلِجٍ، ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَيَحْيَى وَالنَّسَائِيُّ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ: صَالِحٌ، لَيْسَ بِالْمَتِينِ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: عَامَّةُ حَدِيثِهِ تَابَعَهُ عَلَيْهِ غَيْرُهُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص قرآن سیکھتا ہے اور دن رات اس کے ساتھ مصروف رہتا ہے، وہ قرآن کے حلال کو حلال قرار دیتا ہے اور اس کے حرام کو حرام قرار دیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اُس شخص کا گوشت اور اس کا خون آگ پر حرام قرار دے دیتا ہے، اور معزز نیک (فرشتوں) کو اس کا ساتھی بنا دیتا ہے، یہاں تک کہ جب قیامت کا دن ہو گا، تو وہ قرآن اس شخص کے حق میں حجت ہو گا۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی خلید بن دعلج ہے، امام أحمد، یحیی اور نسائی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، ابوحاتم کہتے ہیں: یہ صالح ہے لیکن متین نہیں ہے، ابن عدی کہتے ہیں: اس کی نقل کردہ احادیث کے حوالے سے دوسرے راویوں نے اس کی متابعت کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 788]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی خلید بن دعلج ہے، امام أحمد، یحیی اور نسائی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، ابوحاتم کہتے ہیں: یہ صالح ہے لیکن متین نہیں ہے، ابن عدی کہتے ہیں: اس کی نقل کردہ احادیث کے حوالے سے دوسرے راویوں نے اس کی متابعت کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 788]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 126/2»
الحكم على الحديث: اسنادہ ضعیف، لیکن دیگر متابعات و شواہد کی بنا پر اسے تقویت حاصل ہے۔
حدیث نمبر: 789
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" يَا مُعَاذُ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ قَيَّدَهُ الْقُرْآنُ عَنْ كَثِيرٍ مِنْ هَوَى نَفْسِهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا معاذ من جیل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرمایا: ”اے معاذ! بیشک مؤمن کو قرآن اس کی نفسانی خواہش کے بہت سے پہلوؤں سے قید رکھتا ہے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 789]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 789]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 8317»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 790
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنَّ أَفْضَلَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَالْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِأَهْلِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا وَضِيَاعًا فَعَلَيَّ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَعَزَا الشَّيْخُ جَمَالُ الدِّينِ الْمِزِّيُّ بَعْضَ هَذَا إِلَى النَّسَائِيِّ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ فِي الْكُبْرَى، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْهَاشِمِيُّ، ذَكَرَهُ ابْنُ عَدِيٍّ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَعَزَا الشَّيْخُ جَمَالُ الدِّينِ الْمِزِّيُّ بَعْضَ هَذَا إِلَى النَّسَائِيِّ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ فِي الْكُبْرَى، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْهَاشِمِيُّ، ذَكَرَهُ ابْنُ عَدِيٍّ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”سب سے زیادہ فضیلت والی بات اللہ کی کتاب ہے (اور سب سے زیادہ فضیلت والا) اطریقہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے، امور میں سب سے برے نئے پیدا شدہ امور ہیں، اور ہر بدعت گمراہی ہے، جو شخص مال چھوڑ کر جائے گا، وہ اس کے اہل خانہ کو ملے گا، اور جو شخص قرض یا بال بچے چھوڑ کر جائے گا، تو وہ میری ذمہ داری ہوں گے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، شیخ جمال الدین مزی نے اس کے کچھ حصے کی نسبت امام نسائی رحمہ اللہ کی طرف کی ہے، بظاہر یہ لگتا ہے کہ وہ حصہ ”سنن کبری“ میں ہو گا، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جعفر بن محمد بن علی ہاشمی ہے، ان کا ذکر ابن عدی نے کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 790]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، شیخ جمال الدین مزی نے اس کے کچھ حصے کی نسبت امام نسائی رحمہ اللہ کی طرف کی ہے، بظاہر یہ لگتا ہے کہ وہ حصہ ”سنن کبری“ میں ہو گا، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جعفر بن محمد بن علی ہاشمی ہے، ان کا ذکر ابن عدی نے کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 790]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 9418»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 791
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ شَافِعٌ مُشَفَّعٌ، مَنِ اتَّبَعَهُ قَادَهُ إِلَى الْجَنَّةِ، وَمَنْ تَرَكَهُ أَوْ أَعْرَضَ عَنْهُ - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - زُخَّ فِي قَفَاهُ إِلَى النَّارِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ هَكَذَا مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ هَكَذَا مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ مَسْعُودٍ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: بے شک یہ قرآن ایسا شفاعت کرنے والا ہے کہ اس کی شفاعت قبول ہو گی، جو شخص اس کی پیروی کرے گا، یہ اسے جنت تک لے جائے گا، اور جو شخص اسے چھوڑ دے گا (راوی کو شک ہے، یا شاید یہ الفاظ ہیں:) جو شخص اس سے منہ موڑے گا (راوی کو شک ہے، یا شاید اس کی مانند کوئی اور کلمہ ہے) تو اُسے گدی کے بل جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔“
یہ روایت امام بزار نے اسی طرح سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 791]
یہ روایت امام بزار نے اسی طرح سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 791]
تخریج الحدیث: «اورده المؤلف فى كشف الاستار 121»
الحكم على الحديث: إسنادہ موقوف علی ابن مسعود۔
حدیث نمبر: 792
عَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: بِنَحْوِهِ.
وَرِجَالُ حَدِيثِ جَابِرٍ الْمَرْفُوعِ ثِقَاتٌ، وَرِجَالُ أَثَرِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِيهِ الْمُعَلَّى الْكِنْدِيُّ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.
وَرِجَالُ حَدِيثِ جَابِرٍ الْمَرْفُوعِ ثِقَاتٌ، وَرِجَالُ أَثَرِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِيهِ الْمُعَلَّى الْكِنْدِيُّ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.
ایک اور سند کے حوالے سے اس کی مانند روایت سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول مرفوع حدیث کے رجال ثقہ ہیں، جب کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ”اثر“ کے رجال میں ایک راوی معلیٰ کندی ہے، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 792]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول مرفوع حدیث کے رجال ثقہ ہیں، جب کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ”اثر“ کے رجال میں ایک راوی معلیٰ کندی ہے، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 792]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 793
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: كَانَ قَوْمٌ عَلَى بَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَنَازَعُونَ فِي الْقُرْآنِ، فَخَرَجَ عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا مُتَغَيِّرًا وَجْهُهُ، فَقَالَ:" يَا قَوْمُ، بِهَذَا أُهْلِكَتِ الْأُمَمُ، وَإِنَّ الْقُرْآنَ يُصَدِّقُ بَعْضُهُ بَعْضًا، فَلَا تُكَذِّبُوا بَعْضَهُ بِبَعْضٍ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، وَهُوَ مِمَّنْ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ عَلَى ضَعْفِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ، وَهُوَ مِمَّنْ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ عَلَى ضَعْفِهِ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کچھ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے کے پاس بیٹھے ہوئے قرآن کے بارے میں بحث کر رہے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے (تو غصے کی شدت کی وجہ سے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو چکا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! اسی وجہ سے دوسری امتیں ہلاکت کا شکار ہوئی تھیں، بیشک قرآن کا ایک حصہ دوسرے کی تصدیق کرتا ہے، تو تم اس کے ایک حصے کے ذریعے کسی دوسرے حصے کی تکذیب نہ کرو۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن ابواخضر ہے اور یہ ان افراد میں سے ایک ہے کہ جن کے ضعیف ہونے کے باوجود ان کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 793]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن ابواخضر ہے اور یہ ان افراد میں سے ایک ہے کہ جن کے ضعیف ہونے کے باوجود ان کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 793]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف