🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3. بَابٌ فِيمَنْ يَحْلِفُ يَمِينًا كَاذِبَةً يَقْتَطِعُ بِهَا مَالًا .
اس شخص کا بیان، جو جھوٹی قسم اٹھاتا ہے تاکہ اس کے ذریعے مال ہتھیا لے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6902
عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: اخْتَصَمَ رَجُلَانِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَرْضِ أَحَدِهِمَا مِنْ [ أَهْلِ ] حَضْرَمَوْتَ قَالَ: فَجَعَلَ يُحَلِّفُ أَحَدَهُمَا، فَضَجَّ الْآخَرُ وَقَالَ: إِذًا ذَهَبَ بِأَرْضِي. فَقَالَ:" إِنْ هُوَ اقْتَطَعَهَا بِيَمِينِهِ ظُلْمًا كَانَ مِمَّنْ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُزَكِّيهِ وَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ" قَالَ: وَوَرِعَ الْآخَرُ فَرَدَّهَا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو آدمیوں نے ایک زمین کے بارے میں مقدمہ پیش کیا جو ان دونوں میں سے کسی ایک کی تھی اور ان کا تعلق حضرموت سے تھا، راوی بیان کرتے ہیں: ان دونوں میں سے ایک حلف اٹھانے لگا تو دوسرا پریشان ہو گیا اور بولا: ایسی صورت میں تو یہ میری زمین لے جائے گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر اس نے اپنی قسم کی بنیاد پر ظلم کے طور پر وہ زمین ہتھیائی ہو گی، تو یہ ان افراد میں سے ایک ہو گا کہ قیامت کے دن اللہ تعالٰی نہ تو اس کی طرف نظر کرے گا اور نہ ہی اس کا تزکیہ کرے گا اور اس کے لئے دردناک عذاب ہو گا، راوی بیان کرتے ہیں: تو دوسرا شخص پریشان ہو گیا اور اس نے وہ زمین واپس کر دی۔
یہ روایت امام أحمد نے، اور امام بزار نے، امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6902]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1359) اخرجه ابو يعلى فى المسند (7274) اخرجه احمد فى المسند (394/4)»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6903
وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ عُمَيْرَةَ قَالَ: خَاصَمَ رَجُلٌ مِنْ كِنْدَةَ يُقَالُ لَهُ: امْرُؤُ الْقَيْسِ بْنُ عَابِسٍ رَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَضَى عَلَى الْحَضْرَمِيِّ بِالْبَيِّنَةِ، فَلَمْ يَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ، فَقَضَى عَلَى امْرِئِ الْقَيْسِ بِالْيَمِينِ، فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: [ إِنْ ] أَمْكَنْتَهُ مِنَ الْيَمِينِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَتْ وَاللَّهِ - أَوْ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ - أَرْضِي. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَلِفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ أَحَدٍ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ". قَالَ رَجَاءٌ: وَتَلَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا فَقَالَ امْرُؤُ الْقَيْسِ: مَاذَا لِمَنْ تَرَكَهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" الْجَنَّةُ". قَالَ: فَأُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَرَكْتُهَا لَهُ كُلَّهَا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.
سیدنا عدی بن عمیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: کندہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا نام امرء القیس بن عابس تھا، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حضر موت سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے خلاف مقدمہ پیش کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی شخص کے لیے ثبوت فراہم کرنے کا فیصلہ دیا، تو اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امرء القیس کے لیے قسم کا فیصلہ دیا، تو حضرمی نے کہا: یا رسول اللہ! اگر آپ اسے قسم اٹھانے کا موقع دیں گے، تو یہ اللہ کی قسم (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) رب کعبہ قسم! میری زمین لے جائے گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص جھوٹی قسم اٹھا کر اس کے ذریعے کسی شخص کا مال ہتھیائے گا، جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا، تو اللہ تعالٰی اس پر غضبناک ہو گا۔ رجاء نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: بے شک وہ لوگ جو اللہ کے نام کے عہد اور اس کے نام کی قسموں کے عوض میں، تھوڑی قیمت کماتے ہیں۔ امرہ القیس نے کہا: یا رسول اللہ! جو شخص اسے چھوڑ دے، اُسے کیا ثواب ملے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت، اس نے عرض کی: پھر میں آپ کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ میں نے ساری زمین اس کے لئے چھوڑ دی۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6903]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6904
وَعَنِ الْعُرْسِ بْنِ عُمَيْرَةَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ حَضْرَمَوْتَ وَامْرَأَ الْقَيْسِ بْنَ عَابِسٍ كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ آخَرَ خُصُومَةٌ لَهُ فِي أَرْضٍ، فَأَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحَضْرَمِيَّ الْبَيِّنَةَ فَلَمْ يَكُنْ لَهُ بَيِّنَةٌ فَقَضَى عَلَى امْرِئِ الْقَيْسِ بِالْيَمِينِ فَقَالَ الْحَضْرَمِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ أَمْكَنْتَهُ مِنَ الْيَمِينِ ذَهَبَ وَاللَّهِ بِأَرْضِي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ كَاذِبَةٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ". وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - امْرَأَ الْقَيْسَ فَتَلَا عَلَيْهِ الْآيَةَ:" إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا الْآيَةَ". فَقَالَ امْرُؤُ الْقَيْسِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا لِمَنْ تَرَكَهَا؟ قَالَ:" الْجَنَّةُ". قَالَ: فَإِنِّي أُشْهِدُكَ أَنِّي قَدْ تَرَكْتُهَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا عرس بن عمیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: حضرموت سے تعلق رکھنے والے ایک شخص اور امرء القیس بن عابس کے درمیان ایک زمین کے سلسلے میں مقدمہ تھا، وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرمی سے ثبوت مانگا اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امرء القیس کے لئے قسم اٹھانے کا فیصلہ دے دیا، تو حضرمی نے عرض کی: یا رسول اللہ! اگر آپ اسے قسم اٹھانے کا موقع دیں گے، تو اللہ کی قسم یہ میری زمین لے جائے گا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص جھوٹی قسم اٹھا لے تاکہ اس کے ذریعے کسی مسلمان شخص کا مال ہتھیا لے، تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا تو اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہو گا۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے امرء القیس کو بلوایا اور اس کے سامنے یہ آیت تلاوت کی: بے شک وہ لوگ جو اللہ کے نام کے عہد اور اس کے نام کی قسموں کے عوض میں تھوڑی قیمت خریدتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الآیة تو امراء القیس نے کہا: یا رسول اللہ! جو شخص اسے ترک کر دے، اسے کیا ملے گا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جنت، اس نے عرض کی: پھر میں آپ کو گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں کہ میں نے اسے چھوڑ دیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6904]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (137/17 و138)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6905
وَعَنْ عِيَاضِ بْنِ خَالِدٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَجُلَيْنِ يَخْتَصِمَانِ عِنْدَ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ لِيَقْتَطِعَ بِهَا مَالَ رَجُلٍ لَقِيَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
عیاض بن خالد بیان کرتے ہیں: میں نے دو آدمیوں کو سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کے سامنے جھگڑا کرتے ہوئے دیکھا، سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جو شخص قسم اٹھا کر اس کے ذریعے کسی شخص کا مال ہتھیائے گا، جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا، تو اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہو گا۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6905]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (226/20) اخرجه احمد فى المسند (25/5)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6906
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" مَا مِنْ عَبْدٍ أَوْ أَمَةٍ يَحْلِفُ عِنْدَ هَذَا الْمِنْبَرِ عَلَى يَمِينٍ آثِمَةٍ وَلَوْ عَلَى سِوَاكٍ رَطْبٍ إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ النَّارُ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جو بھی بندہ، یا کنیز اس منبر کے پاس جھوٹی قسم اٹھا لے، خواہ وہ ایک تر مسواک کے بارے میں ہی کیوں نہ ہو، تو اس کے لئے جہنم واجب ہو جائے گی۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6906]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (329/2)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6907
وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ مَرْوَانَ قَالَ: اذْهَبُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَ هَذَيْنِ - لِسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ وَأَرْوَى بِنْتِ أُوَيْسٍ - فَأَتَيْنَا سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ، فَقَالَ: أَتَرَوْنَ أَنِّي قَدِ انْتَقَصْتُ حَقَّهَا شَيْئًا؟ أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ. وَمَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ. وَمَنِ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ فَلَا بَارَكَ اللَّهُ لَهُ فِيهِ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِي الصَّحِيحِ مِنْهُ:" مَنِ اقْتَطَعَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ، رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، وَأَبُو يَعْلَى بِتَمَامِهِ.
ابوسلمہ بیان کرتے ہیں: مروان نے کہا: تم لوگ جاؤ اور ان دو آدمیوں کے درمیان صلح کروا دو، ان کی مراد سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ اور عروی بنت اویس نامی خاتون تھیں، راوی کہتے ہیں: ہم لوگ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا: کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو؟ کہ میں نے اس عورت کے حق میں کوئی کمی کی ہو گی؟ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص بالشت بھر زمین ناحق طور پر لے گا، اُسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا اور جو شخص کسی قوم کی اجازت کے بغیر اُن کی بجائے کسی اور کی طرف نسبت ولاء قائم کرے گا، اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو گی اور جو شخص (جھوٹی) قسم کے ذریعے مسلمان شخص کا مال ہتھیائے گا، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے لئے اس مال میں برکت نہیں رکھے گا۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے صحیح میں اس کا یہ حصہ منقول ہے: جو شخص بالشت بھر زمین ہتھیائے گا، اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا۔ یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں، یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور امام ابویعلی نے مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6907]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1346) اخرجه أبو يعلى فى المسند (955) اخرجه احمد فى السند (1540)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6908
وَعَنْ أَبِي سُودٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" الْيَمِينُ الْفَاجِرَةُ الَّتِي يَقْتَطِعُ بِهَا الرَّجُلُ مَالَ الْمُسْلِمِ تُعْقِمُ الرَّحِمَ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.
سیدنا ابوسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: وہ جھوٹی قسم، جس کے ذریعے کوئی شخص کسی مسلمان کا مال ہتھیا لے، وہ رحم کو بانجھ کر دیتی ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6908]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (381/22 بنحوه) اخرجه احمد فى المسند (79/5)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6909
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" الْيَمِينُ الْفَاجِرَةُ تُذْهِبُ الْمَالَ أَوْ تَذْهَبُ بِالْمَالِ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ لَمْ يَصِحَّ سَمَاعُهُ مِنْ أَبِيهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جھوٹی قسم مال لے جاتی ہے (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے، لیکن اس کا مفہوم یہی ہے)۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، البتہ ابوسلمہ نامی راوی کا اپنے والد (سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ) سے سماع مستند طور پر ثابت نہیں ہے، باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6909]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1345)»

الحكم على الحديث: إسناده منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6910
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ مَصْبُورَةٍ، وَهُوَ فِيهَا كَاذِبٌ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ عُلَاثَةَ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَرُدَّ تَضْعِيفُهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ایسی قسم اٹھائے، جو اس پر (کوئی چیز) لازم کرتی ہو، اور وہ اس میں جھوٹا ہو، تو اسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لئے تیار رہنا چاہیے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ بن علاثہ ہے، جسے یحیی بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے، لیکن اس کو ضعیف قرار دینا مسترد قرار دیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6910]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6911
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنَّ أَعْجَلَ الطَّاعَةِ ثَوَابًا صِلَةُ الرَّحِمِ، إِنَّ أَعْجَلَ الطَّاعَةِ ثَوَابًا صِلَةُ الرَّحِمِ. وَإِنَّ أَهْلَ الْبَيْتِ لَيَكُونُونَ فُجَّارًا فَتَنْمُوا أَمْوَالُهُمْ وَيَكْثُرُ عَدَدُهُمْ إِذَا وَصَلُوا أَرْحَامَهُمْ. وَإِنَّ أَعْجَلَ الْمَعْصِيَةِ عُقُوبَةً الْبَغْيُ وَالْيَمِينُ الْغَمُوسِ تُذْهِبُ الْمَالَ وَتُثْقِلُ فِي الرَّحِمِ وَتَذَرُ الدِّيَارَ بِلَاقِعَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو الدَّهْمَاءِ الْأَصْعَبُ وَثَّقَهُ النَّفِيلِيُّ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ حِبَّانَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس اطاعت کا سب سے جلدی ثواب ملتا ہے، وہ صلہ رحمی ہے، جس اطاعت کا سب سے جلدی ثواب ملتا ہے وہ صلہ رحمی ہے اور بعض اوقات کسی گھرانے کے لوگ گناہگار ہوتے ہیں، اُن کے مال زیادہ ہوتے ہیں ان کی تعداد زیادہ ہوتی جاتی ہے، جبکہ وہ صلہ رحمی کرتے ہیں، اور جس گناہ کی سب سے زیادہ جلدی سزا ملتی ہے، وہ سرکشی اور جھوٹی قسم ہے، جو مال لے جاتی ہے، اور رحم کو بوجھل کر دیتی ہے اور آبادیوں کو برباد کر دیتی ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابودھماء اصعب ہے، جس نفیلی نے ثقہ قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ضعیف کہا: ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6911]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں