مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوَلِيِّ وَالشُّهُودِ .
ولی اور گواہوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 7521
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَرْقَمَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ارقم ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7521]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ارقم ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7521]
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 7522
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرٍ، فَإِنْ كَانَ هُوَ الْوَاسِطِيُّ الْكَبِيرُ فَهُوَ ثِقَةٌ وَإِلَّا فَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرٍ، فَإِنْ كَانَ هُوَ الْوَاسِطِيُّ الْكَبِيرُ فَهُوَ ثِقَةٌ وَإِلَّا فَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر نکاح نہیں ہوتا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں، محمد بن عبدالملک کے حوالے سے ابوزبیر سے نقل کی ہے، اگر تو یہ واسطی ہے، تو پھر یہ ثقہ ہے، اور اگر یہ وہ نہیں ہے، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7522]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں، محمد بن عبدالملک کے حوالے سے ابوزبیر سے نقل کی ہے، اگر تو یہ واسطی ہے، تو پھر یہ ثقہ ہے، اور اگر یہ وہ نہیں ہے، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7522]
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7523
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَقَّاصِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَقَّاصِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر، نکاح نہیں ہوتا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن وقاصی ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7523]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن وقاصی ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7523]
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 7524
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيِّ وَشَاهِدَيْنِ".
قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَغَيْرُهُ خَلَا قَوْلَهُ:" وَشَاهِدَيْنِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَشُهُودٍ". وَفِيهِ أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ، وَغَيْرُهُ خَلَا قَوْلَهُ:" وَشَاهِدَيْنِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَشُهُودٍ". وَفِيهِ أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ولی اور دو گواہوں کے بغیر، نکاح نہیں ہوتا“۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں:
یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں: ”اور دو گوا ہوں“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”اور گوا ہوں“ اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7524]
یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے نقل کی ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں: ”اور دو گوا ہوں“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”اور گوا ہوں“ اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7524]
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7525
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ وَشَاهِدَيْ عَدْلٍ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحْرِزٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحْرِزٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”ولی اور دو عادل گواہوں کے بغیر، نکاح نہیں ہوتا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محرز ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7525]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محرز ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7525]
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 7526
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَيْسَ لِلنِّسَاءِ مِنْ عُقْدَةِ النِّكَاحِ شَيْءٌ جَعَلَتْ مَيْمُونَةُ أَمْرَهَا إِلَى أُمِّ الْفَضْلِ فَجَعَلَتْهُ أُمُّ الْفَضْلَ إِلَى الْعَبَّاسِ فَأَنْكَحَهَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَبَ مَيْمُونَةَ فَجُعِلَ أَمْرُهَا إِلَى الْعَبَّاسِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَبَ مَيْمُونَةَ فَجُعِلَ أَمْرُهَا إِلَى الْعَبَّاسِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: خواتین کو نکاح کروانے کے معاملے میں کوئی حق نہیں ہے، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہما نے اپنا معاملہ (اپنی بہن) سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا کے سپرد کیا تھا، اور سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا نے اسے (اپنے شوہر) سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے سپرد کر دیا تھا، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی شادی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کروائی تھی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید بن کا سب ہے، اور وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کو شادی کا پیغام دیا، تو ان کی شادی کا معاملہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا گیا“۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7526]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید بن کا سب ہے، اور وہ ثقہ ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کو شادی کا پیغام دیا، تو ان کی شادی کا معاملہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے سپرد کیا گیا“۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7526]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2481) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1011) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10728)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن