مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
66. بَابٌ فِيمَنْ وَطِئَ حَائِضًا .
اس شخص کا بیان، جو حیض والی عورت کے ساتھ صحبت کرے
حدیث نمبر: 7597
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَنْ وَطِئَ امْرَأَةً وَهِيَ حَائِضٌ فَقُضِيَ بَيْنَهُمَا وَلَدٌ فَأَصَابَهُ جُذَامٌ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ بَكْرِ بْنِ سَهْلٍ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَقَالَ الذَّهَبِيُّ: قَدْ حَمَلَ النَّاسُ عَنْهُ. وَهُوَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ بَكْرِ بْنِ سَهْلٍ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَقَالَ الذَّهَبِيُّ: قَدْ حَمَلَ النَّاسُ عَنْهُ. وَهُوَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص حیض والی عورت کے ساتھ صحبت کرتا ہے اگر ان دونوں کے نصیب میں اولاد ہو، اور اسے جذام لاحق ہو جائے، تو وہ شخص صرف اپنے آپ کو ہی ملامت کرے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں بکر بن سہل کے حوالے سے نقل کی ہے۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
امام ذہبی کہتے ہیں: لوگوں نے اس پر تنقید کی ہے، اور وہ مقارب الحدیث ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7597]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں بکر بن سہل کے حوالے سے نقل کی ہے۔ امام نسائی رحمہ اللہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
امام ذہبی کہتے ہیں: لوگوں نے اس پر تنقید کی ہے، اور وہ مقارب الحدیث ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7597]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى الحجم الأوسط (169/1)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 7598
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ؟ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَعْتِقَ نَسَمَةً وَقِيمَةُ النَّسَمَةِ يَوْمَئَذٍ دِينَارٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ تَمِيمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ تَمِيمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے اپنی بیوی کے ساتھ اس کے حیض کے دوران صحبت کر لی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ ایک جان کو آزاد کرے (راوی کہتے ہیں:) ان دنوں جان کی قیمت ایک دینار تھی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن یزید بن تمیم ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7598]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن یزید بن تمیم ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7598]
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7599
وَعَنْ عُبَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ: مَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ؟ فَقَالَ:" مَا فَوْقَ الْإِزَارِ وَمَا تَحْتَ الْإِزَارِ مِنْهَا حَرَامٌ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا آدمی کے لئے اپنی حیض والی بیوی کے ساتھ کس حد تک تعلق رکھنا حلال ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تہبند کے اوپر، اس کا تہبند سے نیچے والا حصہ حرام ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اسحاق بن یحیی نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7599]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اسحاق بن یحیی نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7599]
الحكم على الحديث: إسناده منقطع