مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
72. بَابُ حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الْمَرْأَةِ .
عورت پر شوہر کے حق کا بیان
حدیث نمبر: 7674
وَعَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى الزَّوْجَةِ أَنْ لَا تَهْجُرَ فِرَاشَهُ، وَأَنْ تَبَرَّ قَسَمَهُ، وَأَنْ تُطِيعَ أَمْرَهُ، وَأَنْ لَا تَخْرُجَ إِلَّا بِإِذْنِهِ، وَأَنْ لَا تُدْخِلَ عَلَيْهِ مَنْ يَكْرَهُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ عَمْرٍو، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ عَمْرٍو، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا تمیم داری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بیوی پر شوہر کا یہ حق ہے کہ عورت اس کے بستر سے الگ نہ ہو اور اس کی قسم کو پورا کروائے، اور اس کے حکم کی فرمانبرداری کرے اور اس کی اجازت کے بغیر (گھر سے) نہ نکلے اور عورت کسی ایسے شخص کو اندر نہ آنے دے جسے وہ (یعنی شوہر) ناپسند کرتا ہو“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن عمرو ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7674]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن عمرو ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7674]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1258)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7675
وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: خَطَبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النِّسَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ وَأَمَرَهُنَّ بِتَقْوَى اللَّهِ وَالطَّاعَةِ لِأَزْوَاجِهِنَّ، وَأَنْ يَتَصَدَّقْنَ وَقَالَ:" وَإِنَّ مِنْكُنَّ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ - وَجَمَعَ أَصَابِعَهُ - وَجُلُّكُنَّ حَطَبُ جَهَنَّمَ - وَفَرَّقَ أَصَابِعَهُ -" فَقَالَتِ امْرَأَةٌ: وَلِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ وَتُسَوِّفْنَ الْخَيْرَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ زَيْدُ بْنُ رَفِيعٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ زَيْدُ بْنُ رَفِيعٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو خطبہ دیتے ہوئے انہیں وعظ و نصیحت کی انہیں اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے اور انہیں شوہروں کی اطاعت کرنے اور صدقہ کرنے کا حکم دیا آپ نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کچھ خواتین ایسی ہیں جو جنت میں داخل ہوں گی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو جمع کیا (اور پھر یہ بات ارشاد فرمائی) اور تم میں سے زیادہ تر جہنم کا ایندھن ہوں گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو علیحدہ کیا (اور پھر یہ بات ارشاد فرمائی) ایک خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ کیوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیونکہ تم لعنت بکثرت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو اور بھلائی کے بارے میں ٹال مٹول سے کام لیتی ہو“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی زید بن رفیع ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7675]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی زید بن رفیع ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7675]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3109)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7676
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهَا زَارَتْ أُخْتَهَا عَائِشَةَ وَالزُّبَيْرُ غَائِبٌ فَدَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدَ رِيحَ طِيبٍ فَقَالَ:" مَا عَلَى الْمَرْأَةِ أَنْ لَا تَتَطَيَّبَ وَزَوْجُهَا غَائِبٌ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں: وہ اپنی بہن سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملنے کے لئے گئیں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ اس وقت گھر میں موجود نہیں تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ نے خوشبو محسوس کی، تو ارشاد فرمایا: عورت پر کوئی حرج نہیں ہو گا کہ اگر وہ اس وقت خوشبو نہ لگائے، جب اس کا شوہر گھر میں موجود نہ ہو (یعنی شہر سے باہر گیا ہوا ہو)۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7676]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7676]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (105/24)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7677
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" مَا أَنَا وَامْرَأَةٌ سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ إِذَا حَنَّتْ عَلَى وَلَدِهَا وَأَطَاعَتْ رَبَّهَا وَأَحْصَنَتْ فَرْجَهَا إِلَّا كَهَاتَيْنِ" وَقَرَنَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”میں اور ایسی عورت، جس کے رخسار زرد ہو چکے ہوں جبکہ وہ اپنی اولاد کے لئے نرم ہو اور اپنے پروردگار کی فرمانبرداری کرتی ہو اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرتی ہو (میں اور وہ عورت) ان دو (انگلیوں کی طرف جنت میں) ہوں گے“۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ملا کے یہ بات ارشاد فرمائی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے، اور وہ ضعیف ہے، اور وہ متروک ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7677]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے، اور وہ ضعیف ہے، اور وہ متروک ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7677]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7836)»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 7678
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَتِ امْرَأَةٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا جَزَاءُ عِزْوَةِ الْمَرْأَةِ؟ قَالَ:" طَاعَةُ الزَّوْجِ وَاعْتِرَافٌ بِحَقِّهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ فَيَّاضٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ فَيَّاضٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ! عورت کے (شوہر کے ساتھ) انتساب (یا رشتے کی) کی جزا کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شوہر کی اطاعت کرنا اور اس کے حق کا اعتراف کرنا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن فیاض ہے، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7678]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن فیاض ہے، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7678]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10703)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف