مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
72. بَابُ حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الْمَرْأَةِ .
عورت پر شوہر کے حق کا بیان
حدیث نمبر: 7644
وَعَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ فِي صَفِّ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ فَقَالَ:" يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ إِذَا سَمِعْتُنَّ أَذَانَ هَذَا الْحَبَشِيِّ وَإِقَامَتَهُ فَقُلْنَ كَمَا يَقُولُ، فَإِنَّ لَكُنَّ بِكُلِّ حَرْفٍ أَلْفَ أَلْفِ دَرَجَةٍ".
فَقَالَ عُمَرُ: فَهَذَا لِلنِّسَاءِ فَمَا لِلرِّجَالِ؟ فَقَالَ:" ضِعْفَانِ يَا عُمَرُ". ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ مِنِ امْرَأَةٍ أَطَاعَتْ وَأَدَّتْ حَقَّ زَوْجِهَا وَتَذْكُرُ حُسْنَهُ، وَلَا تَخُونُهُ فِي نَفْسِهَا وَمَالِهِ إِلَّا كَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الشُّهَدَاءِ دَرَجَةٌ وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ، فَإِنْ كَانَ زَوْجُهَا مُؤْمِنًا حَسَنَ الْخُلُقِ فَهِيَ زَوْجَتُهُ فِي الْجَنَّةِ وَإِلَّا زَوَّجَهَا اللَّهُ مِنَ الشُّهَدَاءِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا عَبْدُ اللَّهِ الْجَزَرِيُّ عَنْ مَيْمُونَةَ، وَفِيهِ مَنْصُورُ بْنُ سَعْدٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ، وَفِيهِ ضَعْفٌ كَبِيرٌ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، وَالْإِسْنَادُ الْآخَرُ فِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
فَقَالَ عُمَرُ: فَهَذَا لِلنِّسَاءِ فَمَا لِلرِّجَالِ؟ فَقَالَ:" ضِعْفَانِ يَا عُمَرُ". ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النِّسَاءِ فَقَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ مِنِ امْرَأَةٍ أَطَاعَتْ وَأَدَّتْ حَقَّ زَوْجِهَا وَتَذْكُرُ حُسْنَهُ، وَلَا تَخُونُهُ فِي نَفْسِهَا وَمَالِهِ إِلَّا كَانَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الشُّهَدَاءِ دَرَجَةٌ وَاحِدَةٌ فِي الْجَنَّةِ، فَإِنْ كَانَ زَوْجُهَا مُؤْمِنًا حَسَنَ الْخُلُقِ فَهِيَ زَوْجَتُهُ فِي الْجَنَّةِ وَإِلَّا زَوَّجَهَا اللَّهُ مِنَ الشُّهَدَاءِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا عَبْدُ اللَّهِ الْجَزَرِيُّ عَنْ مَيْمُونَةَ، وَفِيهِ مَنْصُورُ بْنُ سَعْدٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ، وَفِيهِ ضَعْفٌ كَبِيرٌ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، وَالْإِسْنَادُ الْآخَرُ فِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مردوں اور خواتین کی صف میں کھڑے ہوئے آپ نے فرمایا: اے خواتین کے گروہ! جب تم اس حبشی کی اذان اور اقامت سنو تو اس کی مانند کلمات کہو جو یہ کہتا ہے، تو تمہیں ہر ایک حرف کے عوض میں ایک ایک ہزار درجہ ملے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یہ حکم، تو خواتین کے لئے ہے مردوں کے لئے کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! اس کا دگنا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خواتین کی طرف متوجہ ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا: جو بھی عورت اطاعت کرتی ہے، اور اپنے شوہر کے حق کو ادا کرتی ہے، اور اس کی اچھائی کو یاد رکھتی ہے، اور اپنی جان اور اس کے مال کے بارے میں اس کے ساتھ خیانت نہیں کرتی ہے، تو جنت میں اس عورت اور شہداء کے درمیان ایک درجہ کا فرق ہو گا، اگر اس کا شوہر مومن ہوا اور اچھے اخلاق کا مالک ہوا تو وہ جنت میں بھی اس کی بیوی ہو گی ورنہ اللہ تعالیٰ اس عورت کی شادی شہداء میں سے کسی کے ساتھ کر دے گا۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے۔ ان دونوں میں سے ایک میں یہ بات مذکور ہے کہ عبداللہ جزری نے اسے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے ایک سند میں منصور بن سعد نامی راوی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر ہے جس میں بہت زیادہ ضعف پایا جاتا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور دوسری سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے، جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7644]
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے۔ ان دونوں میں سے ایک میں یہ بات مذکور ہے کہ عبداللہ جزری نے اسے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے ایک سند میں منصور بن سعد نامی راوی ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر ہے جس میں بہت زیادہ ضعف پایا جاتا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور دوسری سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے، جن سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7644]
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 7645
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَيُّ النَّاسِ أَعْظَمُ حَقًّا عَلَى الْمَرْأَةِ؟ قَالَ:" زَوْجُهَا" قُلْتُ: فَأَيُّ النَّاسِ أَعْظَمُ حَقًّا عَلَى الرَّجُلِ؟ قَالَ:" أُمُّهُ".
وَفِيهِ أَبُو عُتْبَةَ، وَلَمْ يُحَدِّثْ عَنْهُ غَيْرُ مِسْعَرٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
وَفِيهِ أَبُو عُتْبَةَ، وَلَمْ يُحَدِّثْ عَنْهُ غَيْرُ مِسْعَرٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: عورت پر لوگوں میں سے سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کے شوہر کا، میں نے دریافت کیا: مرد پر لوگوں میں سے سب سے زیادہ حق کس کا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کی ماں کا۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوعتبہ ہے مسعر کے علاوہ اور کسی نے اس سے روایت نقل نہیں کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7645]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1462)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7646
وَعَنْ عَلِيٍّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ اتَّقِينَ اللَّهَ وَالْتَمِسْنَ مَرْضَاةَ أَزْوَاجِكُنَّ، فَإِنَّ الْمَرْأَةَ لَوْ تَعْلَمُ مَا حَقُّ زَوْجِهَا لَمْ تَزَلْ قَائِمَةً مَا حَضَرَ غَدَاؤُهُ وَعَشَاؤُهُ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ الْمُحَارِبِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ الْمُحَارِبِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے خواتین کے گروہ! تم اللہ سے ڈرتی رہو اور اپنے شوہروں کی رضامندی تلاش کرو کیونکہ عورت کو اگر یہ پتہ چل جائے کہ اس کے شوہر کا حق کیا ہے، تو وہ مسلسل اس وقت تک کھڑی رہے، جب تک اس (شوہر) کا صبح کا کھانا یا رات کا کھانا موجود ہوتا ہے (یعنی اس کے کھانا کھانے کے دوران اس کے پاس کھڑی رہی)“۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن یعلی بن عطاء محاربی ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7646]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن یعلی بن عطاء محاربی ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7646]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1459)»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 7647
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَوْ تَعْلَمُ الْمَرْأَةُ حَقَّ الزَّوْجِ مَا قَعَدَتْ مَا حَضَرَ غَدَاؤُهُ وَعَشَاؤُهُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهُ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَغَرُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَلَا أَعْرِفْ لِأَبِيهِ مِنْ مُعَاذٍ سَمَاعًا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَغَرُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَلَا أَعْرِفْ لِأَبِيهِ مِنْ مُعَاذٍ سَمَاعًا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر عورت کو شوہر کے حق کا پتہ چل جائے، تو وہ اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک اس کے (شوہر) کا ناشتہ یا رات کا کھانا موجود ہو جب تک وہ شخص اس سے فارغ نہیں ہو جاتا“۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن سلیمان اغر ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں، اور نہ ہی میں اس کے والد کے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع سے واقف ہوں۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7647]
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن سلیمان اغر ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں، اور نہ ہی میں اس کے والد کے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع سے واقف ہوں۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7647]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1479) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (160/20)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7648
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" لَا يَنْظُرُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى امْرَأَةٍ لَا تَشْكُرُ لِزَوْجِهَا وَهِيَ لَا تَسْتَغْنِي عَنْهُ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ ایسی عورت کی طرف نظر نہیں کرتا جو اپنے شوہر کی شکر گزار نہیں ہوتی حالانکہ وہ اس سے بے نیاز نہیں ہوتی ہے“۔
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے۔ اور امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے۔ امام بزار کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7648]
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے۔ اور امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے۔ امام بزار کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7648]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1460)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7649
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ أَنَّهُ أَتَى الشَّامَ فَرَأَى النَّصَارَى يَسْجُدُونَ لِأَسَاقِفِهُمْ وَبَطَارِقِهِمْ وَرُهْبَانِهِمْ، وَرَأَى الْيَهُودَ يَسْجُدُونَ لِأَحْبَارِهِمْ وَعُلَمَائِهِمْ وَفُقَهَائِهِمْ فَقَالَ: لِأَيِّ شَيْءٍ تَفْعَلُونَ هَذَا؟ قَالُوا: هَذِهِ تَحِيَّةُ الْأَنْبِيَاءِ. قُلْنَا: فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَصْنَعَ بِنَبِيِّنَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَجَدَ لَهُ. فَقَالَ:" مَا هَذَا يَا مُعَاذُ؟" قَالَ: إِنِّي أَتَيْتُ الشَّامَ فَرَأَيْتُ النَّصَارَى يَسْجُدُونَ لِأَسَاقِفَتِهِمْ وَقِسِّيسِيهِمْ وَرُهْبَانِهِمْ وَبَطَارِقَتِهِمْ وَرَأَيْتُ الْيَهُودَ يَسْجُدُونَ لِأَحْبَارِهِمْ وَفُقَهَائِهِمْ وَعُلَمَائِهِمْ فَقُلْتُ: لِأَيِّ شَيْءٍ تَصْنَعُونَ هَذَا وَتَفْعَلُونَ هَذَا؟ قَالُوا: هَذِهِ تَحِيَّةُ الْأَنْبِيَاءِ. قُلْتُ: فَنَحْنُ أَحَقُّ أَنْ نَصْنَعَ بِنَبِيِّنَا. فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنَّهُمْ كَذَبُوا عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ كَمَا حَرَّفُوا كِتَابَهُمْ لَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا مِنْ عِظَمِ حَقِّهِ، وَلَا تَجِدُ امْرَأَةٌ حَلَاوَةَ الْإِيمَانِ حَتَّى تُؤَدِّيَ حَقَّ زَوْجِهَا وَلَوْ سَأَلَهَا نَفْسَهَا وَهِيَ عَلَى ظَهْرِ قَتَبٍ".
رَوَاهُ بِتَمَامِهِ الْبَزَّارُ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَكَذَلِكَ طَرِيقٌ مِنْ طُرُقِ أَحْمَدَ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ بَعْضَهُ أَيْضًا.
رَوَاهُ بِتَمَامِهِ الْبَزَّارُ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَكَذَلِكَ طَرِيقٌ مِنْ طُرُقِ أَحْمَدَ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ بَعْضَهُ أَيْضًا.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: وہ شام آئے وہاں انہوں نے عیسائیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے اساقف اور بطارق (یعنی مذہبی پیشواؤں) اور راہبوں کو سجدہ کرتے تھے اور انہوں نے یہودیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے احبار اور اپنے علماء اور فقہاء کو سجدہ کرتے تھے، تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تم لوگ ایسا کیوں کرتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا: یہ انبیاء کو سلام کرنے کا طریقہ ہے، تو ہم نے کہا: ہم، تو پھر اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ہم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسا کریں جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے معاذ! یہ کس وجہ سے ہے انہوں نے عرض کی: میں شام گیا وہاں میں نے عیسائیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے مذہبی پیشواؤں اور راہبوں کو سجدہ کرتے تھے اور میں نے یہودیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے اکابرین فقہاء اور علماء کو سجدہ کرتے تھے میں نے دریافت کیا: تم لوگ ایسا کیوں کرتے ہو اور یہ عمل کیوں کرتے ہو؟ تو انہوں نے بتایا یہ انبیاء کو سلام کرنے کا طریقہ ہے، تو میں نے کہا:، پھر ہم اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ ہم اپنے نبی کے ساتھ ایسا کریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان لوگوں نے اپنے انبیاء کی طرف جھوٹی بات منسوب کی ہے جس طرح ان لوگوں نے اپنی کتابوں میں تحریف کر لی تھی اگر میں کسی کو کسی دوسرے کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو میں عورت کو یہ ہدایت کرتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کیونکہ اس کا حق عظیم ہے عورت ایمان کی حلاوت اس وقت تک نہیں پا سکتی جب تک اپنے شوہر کے حق کو ادا نہیں کرتی خواہ وہ شخص اس عورت سے اس کے قرب کا مطالبہ اس وقت کرے جب وہ پالان کی پشت پر بیٹھی ہوئی ہو“۔
یہ روایت امام بزار نے مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے۔ اور امام أحمد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں اسی طرح امام أحمد کے طرق میں ایک طریق ایسا ہی ہے۔ امام طبرانی نے بھی اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7649]
یہ روایت امام بزار نے مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے۔ اور امام أحمد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں اسی طرح امام أحمد کے طرق میں ایک طریق ایسا ہی ہے۔ امام طبرانی نے بھی اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7649]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1461) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (52/20)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7650
وَعَنْ صُهَيْبٍ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ لَمَّا قَدِمَ الشَّامَ رَأَى الْيَهُودَ يَسْجُدُونَ لِعُلَمَائِهِمْ وَأَحْبَارِهِمْ وَرَأَى النَّصَارَى يَسْجُدُونَ لِأَسَاقِفَتِهِمْ وَلِرُهْبَانِهِمْ وَفُقَهَائِهِمْ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَجَدَ لَهُ فَقَالَ:" مَا هَذَا يَا مُعَاذُ؟" قَالَ: إِنِّي قَدِمْتُ الشَّامَ فَرَأَيْتُ الْيَهُودَ يَسْجُدُونَ لِعُلَمَائِهَا وَأَحْبَارِهَا وَرَأَيْتُ النَّصَارَى يَسْجُدُونَ لِقِسِّيسِيهَا وَفُقَهَائِهَا وَرُهْبَانِهَا فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالُوا: هَذِهِ تَحِيَّةُ الْأَنْبِيَاءِ. قَالَ:" كَذَبُوا عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ كَمَا حَرَّفُوا كِتَابَهُمْ لَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جب شام گئے، تو وہاں انہوں نے یہودیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے علماء اور اکابرین کو سجدہ کرتے تھے اور انہوں نے عیسائیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے مذہبی پیشواؤں راہبوں اور فقہاء کو سجدہ کرتے تھے جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! یہ کس وجہ سے ہے۔ انہوں نے بتایا میں شام گیا میں نے وہاں یہودیوں کو دیکھا وہ اپنے علماء اور اکابرین کو سجدہ کرتے تھے اور میں نے عیسائیوں کو دیکھا کہ وہ اپنے پادریوں اور فقہا اور راہبوں کو سجدہ کرتے تھے میں نے دریافت کیا: یہ کس وجہ سے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ انبیاء کا سلام کرنے کا طریقہ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان لوگوں نے اپنے انبیاء کی طرف جھوٹی بات منسوب کی ہے جس طرح ان لوگوں نے اپنی کتابوں میں تحریف کر لی تھی اگر میں کسی کو یہ حکم دیتا کہ وہ کسی دوسرے کو سجدہ کرے تو میں عورت کو یہ حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے“۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی نہاس بن قہم ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7650]
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی نہاس بن قہم ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7650]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1470)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7651
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ إِلَى الشَّامِ فَلَمَّا قَدِمَ مُعَاذٌ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُ أَهْلَ الْكِتَابِ يَسْجُدُونَ لِأَسَاقِفَتِهِمْ وَبَطَارِقَتِهِمْ أَفَلَا نَسْجُدُ لَكَ؟ قَالَ:" لَا لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا صَدَقَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّمِينِ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَجَمَاعَةٌ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَجَمَاعَةٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا صَدَقَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّمِينِ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَجَمَاعَةٌ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَجَمَاعَةٌ.
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو شام بھیجا جب سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ واپس آئے، تو انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے اہل کتاب کو دیکھا کہ وہ اپنے پادریوں اور بڑوں کو سجدہ کرتے تھے، تو کیا ہم آپ کو سجدہ نہ کریں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں! اگر میں نے کسی کو کسی دوسرے کو سجدہ کرنے کا حکم دینا ہوتا، تو میں عورت کو یہ حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے“۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ امام طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف صدقہ بن عبداللہ سمین کا معاملہ مختلف ہے۔ ابوحاتم اور ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7651]
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ امام طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف صدقہ بن عبداللہ سمین کا معاملہ مختلف ہے۔ ابوحاتم اور ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7651]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1469 و 1468) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5117)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7652
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" لَوْ أَمَرْتُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ طَهْمَانَ أَبُو عَزَّةَ الدَّبَّاغُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ طَهْمَانَ أَبُو عَزَّةَ الدَّبَّاغُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اگر میں کس کو یہ حکم دیتا کہ وہ کسی دوسرے کو سجدہ کرے، تو میں عورت کو یہ حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے“۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن طہمان ابوعزہ دباغ ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7652]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن طہمان ابوعزہ دباغ ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7652]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1467)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7653
وَعَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَوْ كُنْتُ آمِرًا أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ وَهْبِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ وَهْبِ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر میں نے کسی کو یہ حکم دینا ہوتا کہ وہ کسی دوسرے کو سجدہ کرے، تو میں نے عورت کو یہ حکم دینا تھا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے وہب بن علی کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے۔ اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7653]
یہ روایت امام طبرانی نے وہب بن علی کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے۔ اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7653]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6590)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف