مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
72. بَابُ حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الْمَرْأَةِ .
عورت پر شوہر کے حق کا بیان
حدیث نمبر: 7664
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" أَلَا أُنْبِئُكُمْ بِرِجَالِكُمْ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟" قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:" النَّبِيُّ فِي الْجَنَّةِ، وَالصِّدِّيقُ فِي الْجَنَّةِ، وَالشَّهِيدُ فِي الْجَنَّةِ، وَالْمَوْلُودُ مَوْلُودُ الْإِسْلَامِ فِي الْجَنَّةِ، وَالرَّجُلُ يَكُونُ فِي جَانِبِ الْمِصْرِ يَزُورُ أَخَاهُ لَا يَزُورُهُ إِلَّا اللَّهُ فِي الْجَنَّةِ، أَلَا أُنْبِئُكُمْ بِنِسَائِكُمْ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟" قُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ:" الْوَدُودُ الْوَلُودُ الَّتِي إِذَا غَضِبَتْ أَوْ أُغْضِبَتْ قَالَتْ: يَدِي فِي يَدِكَ، وَلَا أَكْتَحِلُ بِغُمْضٍ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: کیا میں تمہارے ان مردوں کے بارے میں نہ بتاؤں جو اہل جنت میں سے ہیں؟ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نبی جنتی ہے صدیق جنتی ہے شہید جنتی ہے اسلام میں پیدا ہونے والا بچہ (جو بچپن میں فوت ہو جائے) جنتی ہے، اور وہ شخص جو شہر کے کونے پر رہتا ہو اور اپنے بھائی سے ملنے کے لئے جائے وہ صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے جائے وہ جنتی ہے، اور کیا میں تمہیں تمہاری ان خواتین کے بارے میں نہ بتاؤں جو اہل جنت میں سے ہیں؟ ہم نے عرض کی: جی ہاں! یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: محبت کرنے والی بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی وہ عورت کہ جب وہ غصے میں آئے یا جب اسے غصہ دلایا جائے، تو وہ یہ کہے: میرا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں ہے، میں نہیں سوؤں گی (جب تک آپ راضی نہیں ہوتے)۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن خالد واسطی ہے، اور وہ کذاب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7664]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن خالد واسطی ہے، اور وہ کذاب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7664]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12467)»
الحكم على الحديث: موضوع
حدیث نمبر: 7665
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ أَنْ تَأْذَنَ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا، وَهُوَ كَارِهٌ، وَلَا تَخْرُجَ وَهُوَ كَارِهٌ، وَلَا تُطِيعَ فِيهِ أَحَدًا، وَلَا تُخَشِّنَ بِصَدْرِهِ، وَلَا تَعْتَزِلَ فِرَاشَهُ، وَلَا تَضْرِبْهُ، وَإِنْ كَانَ هُوَ أَظْلَمَ مِنْهَا حَتَّى تُرْضِيَهُ، فَإِنْ هُوَ رَضِيَ وَقَبِلَ مِنْهَا فَبِهَا وَنِعْمَتْ قَبِلَ اللَّهُ عُذْرَهَا وَأَفْلَحَ وَجْهُهَا، وَلَا إِثْمَ عَلَيْهَا، وَإِنْ هُوَ أَبَى أَنْ يَرْضَى عَنْهَا، فَقَدْ أَبْلَغَتْ عُذْرَهَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عورت کے لئے یہ بات حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے شوہر کے گھر میں آنے کی کسی ایسے شخص کو اجازت دے جسے شوہر ناپسند کرتا ہو اور اگر شوہر ناپسند کرتا ہو تو وہ گھر سے بھی نہ نکلے اور شوہر کے بارے میں وہ کسی کی اطاعت نہ کرے اور اس کو ناراض نہ کرے اور اس کے بستر سے الگ نہ ہو اور اس کو نہ مارے، اگرچہ شوہر نے اس پر ظلم کیا ہو یہاں تک کہ وہ شوہر کو راضی کر لے اگر وہ شوہر راضی ہو جاتا ہے، اور اس کے عذر کو قبول کر لیتا ہے، تو ٹھیک ہے، اور اچھی بات ہے، اللہ تعالیٰ بھی اس کے عذر کو قبول کر لے گا، اور وہ عورت کامیاب ہو جائے گی اور اس پر کوئی گناہ نہیں ہو گا، اور اگر شوہر بات نہیں مانتا اور اس سے راضی نہیں ہوتا تو عورت نے اپنا عذر پیش کر دیا ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے۔ جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7665]
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے۔ جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7665]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (62/20)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7666
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَجُلًا خَرَجَ وَأَمَرَ امْرَأَتَهُ أَنْ لَا تَخْرُجَ مِنْ بَيْتِهَا، وَكَانَ أَبُوهَا فِي أَسْفَلِ الدَّارِ، وَكَانَتْ فِي أَعْلَاهَا فَمَرِضَ أَبُوهَا فَأَرْسَلَتْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ:" أَطِيعِي زَوْجَكِ" فَمَاتَ أَبُوهَا فَأَرْسَلَتْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" أَطِيعِي زَوْجَكِ" فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لِأَبِيهَا بِطَاعَتِهَا لِزَوْجِهَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عِصْمَةُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عِصْمَةُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نکلا اس نے اپنی بیوی کو یہ ہدایت کی کہ وہ اپنے گھر سے نہ نکلے اس عورت کا با پگھر کے نیچے والے حصے میں رہتا تھا وہ عورت اوپر والے حصے میں رہتی تھی اس کا باپ بیمار ہو گیا اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات ذکر کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس عورت سے فرمایا) تم اپنے شوہر کی اطاعت کرو اس عورت کا باپ فوت ہو گیا اس عورت نے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے شوہر کی اطاعت کرو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد میں اس عورت کو پیغام بھیجا کہ اللہ تعالیٰ نے اس عورت کے اپنے شوہر کی اطاعت کرنے کی وجہ سے اس کے باپ کی مغفرت کر دی ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عصمہ بن متوکل ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7666]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عصمہ بن متوکل ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7666]
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7667
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" ثَلَاثٌ لَا تُقْبَلُ لَهُمْ صَلَاةٌ، وَلَا تَصْعَدُ لَهُمْ إِلَى اللَّهِ حَسَنَةٌ: السَّكْرَانُ حَتَّى يَصْحُو وَالْمَرْأَةُ السَّاخِطُ عَلَيْهَا زَوْجُهَا وَالْعَبْدُ الْآبِقُ حَتَّى يَرْجِعَ فَيَضَعَ يَدَهُ فِي يَدِ مَوَالِيهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تین لوگ ہیں جن کی نماز قبول نہیں ہوتی اور ان کی کوئی نیکی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ تک نہیں پہنچتی ہے، نشے کا شکار شخص جب تک وہ ہوش میں نہیں آ جاتا ایسی عورت جس کا شوہر اس پر ناراض ہو اور مفرور غلام جب تک وہ واپس آ کر اپنا ہاتھ اپنے آقاؤں کے ہاتھ میں نہیں دیدیتا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7667]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7667]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (9385)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 7668
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" اثْنَانِ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمَا رُءُوسَهُمَا: عَبْدٌ آبِقٌ مِنْ مَوَالِيهِ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَيْهِمْ وَامْرَأَةٌ عَصَتْ زَوْجَهَا حَتَّى تَرْجِعَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”دو قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کی نماز ان کے سر سے اوپر نہیں جاتی اپنے آقا سے مفرور ہونے والا غلام جب تک وہ ان کے پاس واپس نہیں آ جاتا اور وہ عورت جو اپنے شوہر کی نافرمانی کرتی ہے، جب تک وہ واپس نہیں آ جاتی“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7668]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7668]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7669
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" إِنَّ الْمَرْأَةَ إِذَا خَرَجَتْ مِنْ بَيْتِهَا وَزَوْجُهَا كَارِهٌ لِذَلِكَ لَعَنَهَا كُلُّ مَلَكٍ فِي السَّمَاءِ، وَكُلُّ شَيْءٍ مَرَّتْ عَلَيْهِ غَيْرَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ حَتَّى تَرْجِعَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُوِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ، وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُوِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ، وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جب کوئی عورت اپنے گھر سے نکلتی ہے، اور اس کا شوہر اس بات کو ناپسند کرتا ہو، تو آسمان میں موجود ہر فرشتہ اور ہر وہ چیز جس کے پاس سے وہ عورت گزرتی ہے وہ اس پر لعنت کرتے ہیں، البتہ جنوں اور انسانوں کا معاملہ مختلف ہے، اور ایسا اس وقت تک ہوتا ہے، جب تک وہ واپس نہیں آ جاتی“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے، اور وہ متروک ہے دحیم اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7669]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے، اور وہ متروک ہے دحیم اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7669]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (517)»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 7670
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنِّي لَأُبْغِضُ الْمَرْأَةَ تَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهَا تَجُرُّ ذَيْلَهَا تَشْكُو زَوْجَهَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں ایسی عورت کو ناپسند کرتا ہوں جو اپنے دامن کو کھینچتی ہوئی اپنے گھر سے نکلتی ہے، اور اپنے شوہر کی شکایت کرتی ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7670]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7670]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (323/23)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 7671
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" الْمَرْأَةُ عَوْرَةٌ، وَإِنَّهَا إِذَا خَرَجَتْ مِنْ بَيْتِهَا اسْتَشْرَفَهَا الشَّيْطَانُ، وَإِنَّهَا لَا تَكُونُ أَقْرَبَ إِلَى اللَّهِ مِنْهَا فِي قَعْرِ بَيْتِهَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”عورت پردے کی چیز ہے، جب وہ اپنے گھر سے نکلتی ہے، تو شیطان اسے جھانک کر دیکھتا ہے، اور عورت اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتی ہے، جب وہ اپنے گھر کے سب سے زیادہ اندرونی حصے میں ہو“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7671]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7671]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7672
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" اقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَإِذَا قَرَأْتُمُوهُ فَلَا تَسْتَكْبِرُوا بِهِ، وَلَا تَغْلُوا فِيهِ، وَلَا تَجْفُوا عَنْهُ، وَلَا تَأْكُلُوا بِهِ". وَقَالَ:" إِنَّ النِّسَاءَ هُمْ أَصْحَابُ النَّارِ" فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَلَسْنَ أُمَّهَاتِنَا وَأَخَوَاتِنَا وَبَنَاتِنَا؟ فَذَكَرَ كُفْرَهُنَّ لِحَقِّ الزَّوْجِ وَتَضْيِيعَهُنَّ لِحَقِّهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَلَهُ طُرُقٌ رَوَاهَا أَحْمَدُ، وَغَيْرُهُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَلَهُ طُرُقٌ رَوَاهَا أَحْمَدُ، وَغَيْرُهُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبدالرحمن بن شبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم قرآن پڑھو اور جب تم اسے پڑھو تو اس کے حوالے سے تکبر نہ کرو اور اس کے بارے میں غلو نہ کرو اور اس سے جفا نہ کرو اور اس کے عوض میں قیمت نہ کھاؤ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا: عورتیں ہی اہل جہنم ہوں گی ایک صاحب نے عرض کی: کیا وہ ہماری مائیں اور ہماری بہنیں اور ہماری بیٹیاں نہیں ہیں؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا ذکر کیا کہ وہ شوہروں کے حق کی ناشکری کریں گی اور ان کے حق کو ضائع کریں گی اور اس وجہ سے وہ جہنم کی مستحق بن جائیں گی“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کے مختلف طرق ہیں
یہ روایت امام أحمد اور دیگر حضرات نے بھی نقل کی ہے۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7672]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کے مختلف طرق ہیں
یہ روایت امام أحمد اور دیگر حضرات نے بھی نقل کی ہے۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7672]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7673
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" إِنَّ النَّارَ خُلِقَتْ لِلسُّفَهَاءِ وَهُنَّ النِّسَاءُ إِلَّا الَّتِي أَطَاعَتْ بَعْلَهَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَقَدْ قِيلَ فِيهِ إِنَّهُ صَالِحٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَقَدْ قِيلَ فِيهِ إِنَّهُ صَالِحٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جہنم بے وقوفوں کے لئے بنائی گئی ہے، اور وہ خواتین ہیں، البتہ اس عورت کا معاملہ مختلف ہے جو اپنے شوہر کی اطاعت کرتی ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے، اور وہ متروک ہے اس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے کہ وہ صالح ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7673]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے، اور وہ متروک ہے اس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے کہ وہ صالح ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7673]
الحكم على الحديث: ضعیف جداً