مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. بَابُ صِفَتِهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - .
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے حلیہ کا بیان
حدیث نمبر: 14490
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عُثْمَانَ بِصَحْفَةٍ فِيهَا لَحْمٌ، فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَرُقَيَّةُ جَالِسَةٌ، فَمَا رَأَيْتُ اثْنَيْنِ أَحْسَنَ مِنْهُمَا، فَجَعَلْتُ مَرَّةً أَنْظُرُ إِلَى رُقَيَّةَ وَمَرَّةً أَنْظُرُ إِلَى عُثْمَانَ، فَلَمَّا رَجَعْتُ قَالَ لِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَدَخَلْتَ عَلَيْهِمَا؟". قُلْتُ: نَعَمْ قَالَ:" فَهَلْ رَأَيْتَ زَوْجًا أَحْسَنَ مِنْهُمَا؟". قُلْتُ: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقَدْ جَعَلْتُ مَرَّةً أَنْظُرُ إِلَى رُقَيَّةَ وَمَرَّةً أَنْظُرُ إِلَى عُثْمَانَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَقَالَ: كَانَ هَذَا قَبْلَ نُزُولِ [ آيَةِ ] الْحِجَابِ،، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَقَالَ: كَانَ هَذَا قَبْلَ نُزُولِ [ آيَةِ ] الْحِجَابِ،، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک پیالہ دے کر مجھے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا، جس پیالے میں گوشت موجود تھا، جب میں ان کے ہاں آیا تو سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں۔ میں نے ان دونوں سے زیادہ خوبصورت جوڑا کوئی نہیں دیکھا، کبھی میں سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھتا تھا کبھی میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھتا تھا، جب میں واپس آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا: کیا تم ان کے ہاں گئے تھے، میں نے جواب دیا: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم نے ان دونوں سے زیادہ خوبصورت جوڑا کوئی دیکھا ہے، میں نے عرض کی: جی نہیں یا رسول اللہ! میں بھی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھتا تھا اور کبھی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھتا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے وہ کہتے ہیں۔ یہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے، اس روایت کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14490]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے وہ کہتے ہیں۔ یہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے، اس روایت کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14490]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (97)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14491
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَزْمٍ الْمَازِنِيِّ قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَمَا رَأَيْتُ قَطُّ ذَكَرًا وَلَا أُنْثَى أَحْسَنَ وَجْهًا مِنْهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا عبداللہ بن حزم مازنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو دیکھا، میں نے ان سے زیادہ خوبصورت چہرے والا کوئی مرد یا کوئی عورت نہیں دیکھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14491]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14491]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (94)»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 14492
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ يَوْمَ الْجُمْعَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ، عَلَيْهِ إِزَارٌ عَدَنِيٌّ غَلِيظٌ، ثَمَنُهُ أَرْبَعَةُ دَرَاهِمَ أَوْ خَمْسَةٌ، وَرَيْطَةٌ كُوفِيَّةٌ مُمَشَّقَةٌ، ضَرْبُ اللَّحْمِ، طَوِيلُ اللِّحْيَةِ، حَسَنُ الْوَجْهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
عبدالله بن شداد بن الہاد بیان کرتے ہیں: میں نے جمعہ کے دن سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو منبر پر دیکھا، انہوں نے عدنی تہبند باندھا ہوا تھا، جو موٹا تھا اور اس کی قیمت چار یا شاید پانچ درہم تھی اور ایک کوفی چادر لی ہوئی تھی، جس پر نقش و نگار بنے ہوئے تھے وہ بھرپور جسم کے مالک تھے۔ ان کی داڑھی لمبی تھی اور چہرہ خوبصورت تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14492]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14492]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (92)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 14493
وَعَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: كَانَ عُثْمَانُ يَوْمَ الْجُمْعَةِ يَتَوَكَّأُ عَلَى عَصًا، وَكَانَ أَجْمَلَ النَّاسِ، وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَصْفَرَانِ: إِزَارٌ وَرِدَاءٌ، حَتَّى يَأْتِيَ الْمِنْبَرَ فَيَجْلِسَ عَلَيْهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
موسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن عصا کے ساتھ ٹیک لگاتے تھے، وہ سب سے زیادہ خوبصورت تھے۔ ان کے جسم پر دو زرد لباس تھے، ایک تہبند تھا اور ایک چادر تھی، وہ منبر کے پاس آئے اور اس پر تشریف فرما ہوئے۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14493]
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14493]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير“ (93)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14494
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْنٍ الْقَارِئِ قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَبْيَضَ اللِّحْيَةِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
عبداللہ بن عوف قاری بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو دیکھا ہے ان کی داڑھی سفید تھی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے، جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14494]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے، جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14494]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير“ (95)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14495
وَعَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَصْفَرَ اللِّحْيَةِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ مِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ مِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
ابن ابوذئب نے عبدالرحمن بن سعد کا یہ قول نقل کیا ہے، میں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو دیکھا ان کی داڑھی زرد تھی۔
یہ روایت امام طبرانی نے مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14495]
یہ روایت امام طبرانی نے مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14495]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (96)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14496
وَعَنْ أُمِّ مُوسَى قَالَتْ: كَانَ عُثْمَانُ مِنْ أَجْمَلِ النَّاسِ.
رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرُ أُمِّ مُوسَى وَهِيَ ثِقَةٌ.
رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، غَيْرُ أُمِّ مُوسَى وَهِيَ ثِقَةٌ.
ام موسیٰ بیان کرتی ہیں: سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سب سے زیادہ خوبصورت تھے۔
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں، صرف اُم موسیٰ کا معاملہ مختلف ہے، اور وہ ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14496]
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں، صرف اُم موسیٰ کا معاملہ مختلف ہے، اور وہ ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14496]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 14497
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا أَنَا بِعُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ مُتَّكِئٌ عَلَى رِدَائِهِ، فَأَتَاهُ سَقَّاءَانِ يَخْتَصِمَانِ إِلَيْهِ، فَقَضَى بَيْنَهُمَا. ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَنَظَرْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ، بِوَجْهِهِ نُكْتَاتُ جُدَرِيٍّ، وَإِذَا شَعْرُهُ قَدْ كَسَا ذِرَاعَيْهِ..
رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ، وَفِيهِ أَبُو الْمِقْدَامِ: هِشَامُ بْنُ زِيَادٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ، وَفِيهِ أَبُو الْمِقْدَامِ: هِشَامُ بْنُ زِيَادٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
حسن بن ابوالحسن بیان کرتے ہیں: میں مسجد میں داخل ہوا تو میرے سامنے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے، جو اپنی چادر کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ ان کے پاس دو پانی بھرنے والے افراد آئے، ان دونوں نے اپنا مقدمہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ دیا، پھر میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، میں نے ان کا بغور جائزہ لیا تو وہ ایک خوبصورت چہرے کے مالک شخص تھے۔ ان کے چہرے پر جدری کے کچھ داغ تھے اور ان کے بالوں نے ان کی کلائیوں کو بھرا ہوا تھا۔
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومقدام بن ہشام ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14497]
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومقدام بن ہشام ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14497]
الحكم على الحديث: ضعیف جداً