مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
98. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - .
حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 15028
عَنْ سَوْدَةَ بِنْتِ مُسَرَّحٍ قَالَتْ: كُنْتُ فِيمَنْ حَضَرَ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - حِينَ ضَرَبَهَا الْمَخَاضُ فِي نِسْوَةٍ، فَأَتَانَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" كَيْفَ هِيَ؟". قُلْتُ: إِنَّهَا لَمَجْهُودَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ:" إِذَا هِيَ وَضَعَتْ فَلَا تَسْبِقُنِّي فِيهِ بِشَيْءٌ". قَالَ: فَوَضَعَتْ، فَسَّرُوهُ وَلَفُّوهُ فِي خِرْقَةٍ صَفْرَاءَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" مَا فَعَلْتِ؟". فَقُلْتُ: قَدْ وَضَعَتْ غُلَامًا، وَسَرَرْتُهُ وَلَفَفْتُهُ فِي خِرْقَةٍ. فَقَالَ:" عَصَيْتِنِي؟". قُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ مَعْصِيَتِهِ، وَمِنْ غَضَبِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ! قَالَ:" فَائْتِنِي بِهِ". فَأَتَيْتُهُ بِهِ، فَأَلْقَى عَنْهُ الْخِرْقَةَ الصَّفْرَاءَ، وَلَفَّهُ فِي خِرْقَةٍ بَيْضَاءَ، وَتَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي فِيهِ، وَأَلْبَأْهُ بِرِيقِهِ، فَجَاءَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ:" مَا سَمَّيْتَهُ يَا عَلِيُّ؟". قَالَ: سَمَّيْتُهُ جَعْفَرًا. قَالَ:" لَا. وَلَكِنْ حَسَنٌ وَبَعْدَهُ حُسَيْنٌ، وَأَنْتَ أَبُو حَسَنٍ".
سیدہ سودہ بنت مسرح رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں ان خواتین میں شامل تھی جو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں بچے کی پیدائش کے وقت ان کے پاس موجود تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ نے دریافت کیا: اس کا کیا حال ہے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ا وہ تکلیف کے عالم میں ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وہ بچے کو جنم دیدے تو تم نے مجھ سے پہلے اس بچے کے بارے میں کچھ نہیں کرنا راوی بیان کرتے ہیں: جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بچے کو جنم دے دیا تو ان لوگوں نے اس کی نال کاٹ دی اور اسے ایک زرد کپڑے میں لپیٹ دیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ نے دریافت کیا: کیا بنا، تو میں نے عرض کی: انہوں نے بچے کو جنم دیا ہے، میں نے اس کی نال کاٹ دی ہے اور اسے ایک کپڑے میں لپیٹ دیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے میری نافرمانی کی ہے؟ میں نے عرض کی: میں اس نافرمانی سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں اور اس کے رسول کے غضب سے بھی پناہ مانگتی ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بچے کو میرے پاس لے کے آؤ، میں انہیں آپ کے پاس لے کے آئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زرد رنگ کا کپڑا اس سے ہٹا دیا اور ایک سفید کپڑے میں اسے لپیٹ دیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچے کے منہ میں لعاب دہن ڈالا اور اپنے لعاب کے ذریعے اسے گھٹی دی، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے علی! تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ انہوں نے بتایا: میں نے اس کا نام جعفر رکھا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں! بلکہ یہ حسن ہے، اور اس کے بعد حسین ہو گا، اور تم ابوحسن ہو۔“ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15028]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15029
وَفِي رِوَايَةٍ:" وَأَنْتَ أَبُو حَسَنِ الْخَيْرِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، فِي أَحَدِهِمَا عُرْوَةُ بْنُ فَيْرُوزٍ، وَعُمَرُ بْنُ عُمَيْرٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، فِي أَحَدِهِمَا عُرْوَةُ بْنُ فَيْرُوزٍ، وَعُمَرُ بْنُ عُمَيْرٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”تم ابوحسن خیر ہو۔“
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک میں ایک راوی عروہ بن فیروز اور ایک راوی عمر بن عمیر ہے، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15029]
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک میں ایک راوی عروہ بن فیروز اور ایک راوی عمر بن عمیر ہے، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15029]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2542)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15030
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: خَطَبْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ابْنَتَهُ فَاطِمَةَ، قَالَ: فَبَاعَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - دِرْعًا لَهُ، وَبَعْضَ مَا بَاعَ مِنْ مَتَاعِهِ، فَبَلَغَ أَرْبَعَمِائَةٍ وَثَمَانِينَ دِرْهَمًا، وَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَجْعَلَ ثُلُثَيْهِ فِي الطِّيبِ، وَثُلُثًا فِي الثِّيَابِ، وَمَجَّ فِي جَرَّةٍ مِنْ مَاءٍ، فَأَمَرَهُمْ أَنْ يَغْتَسِلُوا بِهِ. قَالَ: وَأَمَرَهَا أَنْ لَا تَسْبِقَهُ بِرِضَاعِ وَلَدِهَا. قَالَ: فَسَبَقَتْهُ بِرِضَاعِ الْحُسَيْنِ، وَأَمَّا الْحَسَنُ فَإِنَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَضَعَ فِي فِيهِ شَيْئًا لَا نَدْرِي مَا هُوَ، فَكَانَ أَعْلَمَ الرَّجُلَيْنِ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لئے شادی کا پیغام دیا، راوی کہتے ہیں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے پاس موجود زرہ کو فروخت کیا اور اپنے سامان میں سے کچھ سامان فروخت کیا، تو انہیں چار سو اسی درہم ملے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ دو تہائی رقم خوشبو میں خرچ کریں اور ایک تہائی رقم کپڑوں کے لیے استعمال کریں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کے گھڑے میں کلی کی اور ان لوگوں کو یہ حکم دیا کہ وہ اس پانی کے ساتھ غسل کریں، راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو یہ ہدایت کی کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے پہلے نے بچے کو دودھ نہیں پلانا، راوی بیان کرتے ہیں: لیکن سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے سے پہلے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو دودھ پلا دیا تھا۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایسا نہیں ہوا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے منہ میں کوئی چیز ڈالی تھی، ہمیں نہیں معلوم کہ وہ کیا چیز تھی؟ تو وہ ان دونوں حضرات میں زیادہ علم رکھنے والے تھے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15030]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15030]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15031
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُصَلِّي، فَإِذَا سَجَدَ وَثَبَ الْحَسَنُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَلَى ظَهْرِهِ وَعَلَى عُنُقِهِ، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَفْعًا رَفِيقًا ; لِئَلَّا يُصْرَعَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْنَاكَ صَنَعْتَ بِالْحَسَنِ شَيْئًا مَا رَأَيْنَاكَ صَنْعَتَهُ بِأَحَدٍ؟ قَالَ:" إِنَّهُ رَيْحَانَتِي مِنَ الدُّنْيَا، وَإِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَعَسَى اللَّهُ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ".
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے تھے جب آپ سجدے میں گئے تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آپ کی گردن پر اور آپ کی پشت پر سوار ہو گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آرام سے اٹھے تاکہ بچہ گر نہ جائے، لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم نے آپ کو حسن کے حوالے سے ایسا کام کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ ہم نے آپ کو کسی کے ساتھ ایسا کرتے ہوئے نہیں دیکھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ دنیا میں میرا پھول ہے، میرا یہ بیٹا سردار ہو گا، اور اللہ تعالیٰ عنقریب اس کے ذریعے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کروا دے گا۔“ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15031]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1554) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2595) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (44/5)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15032
وَفِي رِوَايَةٍ: يَثِبُ عَلَى ظَهْرِهِ يَفْعَلُ ذَلِكَ غَيْرَ مَرَّةٍ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ وَقَدْ وُثِّقَ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ وَقَدْ وُثِّقَ.
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر چڑھ گئے اور انہوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ ایسا کیا۔
یہ روایت امام أحمد، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، امام أحمد کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں، صرف مبارک بن فضالہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15032]
یہ روایت امام أحمد، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے، امام أحمد کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں، صرف مبارک بن فضالہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15032]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2594) أخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (51/5)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 15033
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: جَاءَ حَسَنٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ سَاجِدٌ، فَرَكِبَ عَلَى ظَهْرِهِ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ حَتَّى قَامَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَقَامَ عَلَى ظَهْرِهِ، فَلَمَّا قَامَ أَرْسَلَهُ، فَذَهَبَ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِي رِجَالِهِ خِلَافٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِي رِجَالِهِ خِلَافٌ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت سجدے کی حالت میں تھے۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ (جو بچے تھے) وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر سوار ہو گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ کے ذریعے انہیں پکڑا، یہاں تک کہ وہ کھڑے ہو گئے، جب آپ رکوع میں گئے، تو پھر وہ آپ کی پشت پر سوار ہو گئے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو آپ نے انہیں چھوڑ دیا وہ چلے گئے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15033]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15033]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2638)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15034
وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاجِدًا حَتَّى جَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، فَصَعِدَ عَلَى ظَهْرِهِ، فَمَا أَنْزَلَهُ حَتَّى كَانَ هُوَ الَّذِي نَزَلَ، وَإِنْ كَانَ لِيُفَرِّجُ لَهُ رِجْلَيْهِ، فَيَدْخُلُ مِنْ ذَا الْجَانِبِ، وَيَخْرُجُ مِنْ ذَا الْجَانِبِ الْآخَرِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سجدے کی حالت میں دیکھا، اسی دوران سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما آئے اور آپ کی پشت پر چڑھ گئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نہیں اتارا، یہاں تک کہ وہ خود ہی نیچے اتر گئے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے اپنی دونوں ٹانگیں کشادہ کر دیتے تھے اور وہ ایک طرف سے داخل ہو کے دوسری طرف سے نکل آیا کرتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عابس ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15034]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عابس ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15034]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15035
وَعَنِ الْبَهِيِّ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ: أَخْبِرْنِي بِأَقْرَبِ النَّاسِ شَبَهًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَقَالَ: الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ كَانَ أَقْرَبَ النَّاسِ شَبَهًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَحَبَّهُمْ إِلَيْهِ، كَانَ يَجِيءُ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاجِدٌ فَيَقَعُ عَلَى ظَهْرِهِ، فَلَا يَقُومُ حَتَّى يَتَنَحَّى، وَيَجِيءُ فَيَدْخُلُ تَحْتَ بَطْنِهِ، فَيُفَرِّجُ لَهُ رِجْلَيْهِ حَتَّى يَخْرُجَ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
بہی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ مجھے اس شخص کے بارے میں بتائیے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتا ہو، تو انہوں نے جواب دیا: سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھے، وہ آتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے کی حالت میں ہوتے تھے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت پر چڑھ جاتے تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک کھڑے نہیں ہوتے تھے جب تک وہ ایک طرف نہیں ہٹ جاتے تھے، ایک مرتبہ وہ آئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیٹ کے نیچے (یعنی دونوں ٹانگوں کے درمیان) داخل ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے اپنی دونوں ٹانگیں کشادہ کر دیں تو وہ دوسری طرف سے نکل آئے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عابس ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15035]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عابس ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15035]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند ()»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15036
وَعَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: كَانَتْ فَاطِمَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - تَنْقُرُ الْحَسَنَ وَتَقُولُ: بُنَيَّ شَبِيهُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْسَ بِشَبِيهِ عَلِيٍّ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَهُوَ مُرْسَلٌ، وَفِيهِ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، وَهُوَ لَيِّنٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَهُوَ مُرْسَلٌ، وَفِيهِ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، وَهُوَ لَيِّنٌ.
ابن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں: سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو اٹھا کر یہ کہہ رہی تھیں: ”یہ میرا بیٹا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے، یہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مشابہت نہیں رکھتا ہے۔“
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور
یہ روایت مرسل ہے، اس کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے اور وہ کمزور ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15036]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور
یہ روایت مرسل ہے، اس کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے اور وہ کمزور ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15036]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (283/6)»
الحكم على الحديث: إسنادہ مرسل
حدیث نمبر: 15037
وَعَنْ كُلَيْبِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: ذُكِرَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: إِنَّهُ كَانَ يُشْبِهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ كُلَيْبًا لَا أَعْرِفُ لَهُ سَمَاعًا مِنَ الصَّحَابَةِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ كُلَيْبًا لَا أَعْرِفُ لَهُ سَمَاعًا مِنَ الصَّحَابَةِ.
کلیب بن شہاب بیان کرتے ہیں: سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا ذکر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس کیا گیا، تو انہوں نے فرمایا: وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ کلیب نامی راوی کے صحابہ کرام میں سے کسی سے سماع کے بارے میں مجھے علم نہیں ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15037]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں البتہ کلیب نامی راوی کے صحابہ کرام میں سے کسی سے سماع کے بارے میں مجھے علم نہیں ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15037]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطيراني فى المعجم الكبير (2529)»
الحكم على الحديث: إسنادہ منقطع