مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
97. بَابُ فِي فَضْلِ أَهْلِ الْبَيْتِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - .
اہل بیت کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 14957
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ خَلِيفَتَيْنِ: كِتَابَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - حَبْلٌ مَمْدُودٌ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ - أَوْ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ - وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي، وَإِنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہارے درمیان دو چیزیں نائب کے طور پر چھوڑے جا رہا ہوں، اللہ کی کتاب جو زمین اور آسمان کے درمیان لٹکی ہوئی ایک رسی ہے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی رسی ہے، اور میری عترت جو میرے اہل بیت ہیں، یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ یہ دونوں حوض پر میرے پاس آ جائیں گے۔“
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14957]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14957]
الحكم على الحديث: إسنادہ جید۔
حدیث نمبر: 14958
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنِّي خَلَّفْتُ فِيكُمُ اثْنَيْنِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُمَا أَبَدًا: كِتَابَ اللَّهِ وَنَسَبِي، وَلَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطِّلْحِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطِّلْحِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں اپنے پیچھے تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں تم ان کے بعد کبھی گمراہ نہیں ہو گے، اللہ کی کتاب اور میرا نسب (یعنی میری اولاد) یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ یہ دونوں حوض پر میرے پاس آ جائیں گے۔“
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن موسیٰ طلحی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14958]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن موسیٰ طلحی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14958]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14959
عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنِّي مَقْبُوضٌ، وَإِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ - يَعْنِي كِتَابَ اللَّهِ وَأَهْلَ بَيْتِي - وَإِنَّكُمْ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدَهُمَا، وَإِنَّهُ لَنْ تَقُومَ السَّاعَةُ حَتَّى يُبْتَغَى أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَمَا تُبْتَغَى الضَّالَّةُ فَلَا تُوجَدُ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْحَارِثُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْحَارِثُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرا انتقال ہو جائے گا، اور میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں، یعنی اللہ کی کتاب اور میرے اہل بیت، اور ان دونوں کے بعد تم گمراہ نہیں ہو گے، اور قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک اللہ کے رسول کے اصحاب کو یوں تلاش نہیں کیا جائے گا، جس طرح کسی گمشدہ چیز کو تلاش کیا جاتا ہے، اور وہ نہیں ملتی ہے۔“
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14959]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14959]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14960
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ، انْصَرَفَ إِلَى الطَّائِفِ، حَاصَرَهَا سَبْعَ عَشْرَةَ - أَوْ تِسْعَ عَشْرَةَ - ثُمَّ قَامَ خَطِيبًا، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" أُوصِيكُمْ بِعِتْرَتِي خَيْرًا، وَإِنَّ مَوْعِدَكُمُ الْحَوْضُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَتُقِيمُنَّ الصَّلَاةَ، وَلَتُؤْتُنَّ الزَّكَاةَ، أَوْ لَأَبْعَثَنَّ إِلَيْكُمْ رَجُلًا مِنِّي - أَوْ كَنَفْسِي - يَضْرِبُ أَعْنَاقَكُمْ". ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ، فَقَالَ:" هَذَا".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ جَبْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ جَبْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم طائف کی طرف تشریف لے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سترہ یا شاید انیس دن تک اس کا محاصرہ کیے رکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر یہ ارشاد فرمایا: ”میں تمہیں اپنی عترت کے بارے میں بھلائی کی تلقین کرتا ہوں، تم سے ملنے کی جگہ حوض ہے، اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، تم لوگ نماز ضرور قائم کرو گے، اور زکوۃ ضرور ادا کرو گے، ورنہ میں تمہاری طرف اپنے میں سے ایک شخص کو بھیجوں گا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) تمہاری طرف اس شخص کو بھیجوں گا جو میری طرح ہو گا، اور وہ تمہاری گردنیں اڑائے گا۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا: اور وہ یہ ہو گا۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن جبر ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14960]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن جبر ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14960]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14961
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: آخِرُ مَا تَكَلَّمَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" اخْلُفُونِي فِي أَهْلِ بَيْتِي".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آخری بات ارشاد فرمائی وہ یہ تھی: ”میرے بعد میرے اہل بیت کا خیال رکھنا۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14961]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14961]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14962
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمُ الثَّقَلَيْنِ، أَحَدُهُمَا أَكْبَرُ مِنَ الْآخَرِ: كِتَابُ اللَّهِ، حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي، وَإِنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادِهِ رِجَالٌ مُخْتَلَفٌ فِيهِمْ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادِهِ رِجَالٌ مُخْتَلَفٌ فِيهِمْ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں، ان میں سے ایک دوسری سے بڑی ہے اللہ کی کتاب جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوں ایک رسی ہے، اور میری عترت میرے اہل بیت، یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ حوض پر یہ دونوں میرے پاس آ جائیں گے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے رجال ہیں جن کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14962]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے رجال ہیں جن کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14962]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14963
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْجُحْفَةَ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنِّي لَا أَجِدُ لِنَبِيٍّ إِلَّا نِصْفَ عُمُرِ الَّذِي قَبْلَهُ، وَإِنِّي أُوشِكُ أَنْ أُدْعَى فَأُجِيبَ، فَمَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟". قَالُوا: نَصَحْتَ قَالَ:" أَلَيْسَ تَشْهَدُونَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ، وَأَنَّ النَّارَ حَقٌّ؟". قَالُوا: نَشْهَدُ، قَالَ: فَرَفَعَ يَدَهُ فَوَضَعَهَا عَلَى صَدْرِهِ، ثُمَّ قَالَ:" أَنَا أَشْهَدُ مَعَكُمْ". ثُمَّ قَالَ:" أَلَا تَسْمَعُونَ؟". قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ:" فَإِنِّي فَرَطٌ عَلَى الْحَوْضِ، وَأَنْتُمْ وَارِدُونَ عَلَى الْحَوْضِ، وَإِنَّ عَرْضَهُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَبُصْرَى، فِيهِ أَقْدَاحٌ عَدَدَ النُّجُومِ مِنْ فِضَّةٍ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِي الثَّقَلَيْنِ". فَنَادَى مُنَادٍ: وَمَا الثَّقَلَانِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" كِتَابُ اللَّهِ، طَرَفٌ بِيَدِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَطَرَفٌ بِأَيْدِيكُمْ، فَتَمَسَّكُوا بِهِ لَا تَضِلُّوا، وَالْآخَرُ عَشِيرَتِي، وَإِنَّ اللَّطِيفَ الْخَبِيرَ نَبَّأَنِي أَنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ، فَسَأَلْتُ ذَلِكَ لَهُمَا رَبِّي، فَلَا تَقَدَّمُوهُمَا فَتَهْلَكُوا، وَلَا تَقْصِرُوا عَنْهُمَا فَتَهْلَكُوا، وَلَا تَعْلَمُوهُمَا فَهُمْ أَعْلَمُ مِنْكُمْ". ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ:" مَنْ كُنْتُ أَوْلَى بِهِ مِنْ نَفْسِهِ فَعَلِيٌّ وَلِيُّهُ، اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ".
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”جحفہ“ کے مقام پر پڑاؤ کیا، پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا: ”میں نے جس بھی نبی کو پایا اس کی عمر اس سے پہلے والے نبی سے نصف ہوتی تھی اور عنقریب مجھے بلا لیا جائے گا، تو مجھے جانا ہو گا، تو تم لوگ کیا کہتے ہو؟ لوگوں نے عرض کی: آپ نے خیرخواہی کر دی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم لوگ اس بات کی گواہی نہیں دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، جنت حق ہے اور جہنم حق ہے؟ لوگوں نے عرض کی: ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک بلند کیا اور اسے اپنے سینے پر رکھا اور ارشاد فرمایا: میں تمہارے ساتھ گواہی دیتا ہوں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم لوگ سنتے نہیں ہو؟ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں حوض پر تمہارا پیشرو ہوؤں گا اور تم حوض پر میرے پاس آؤ گے اس حوض کی چوڑائی اتنی ہے جتنا صنعاء اور بصریٰ کے درمیان فاصلہ ہے، اس کے پاس آسمان کے ستاروں کی تعداد میں چاندی کے بنے ہوئے پیالے ہیں، تو تم اس بات کا جائزہ لینا کہ تم میرے بعد دو چیزوں کے بارے میں کیا کرو گے؟ ایک منادی نے پکار کر یہ کہا: یا رسول اللہ! دو چیزوں سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی کتاب، جس کا ایک کنارہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ایک کنارہ تمہارے ہاتھوں میں ہے، تم اسے مضبوطی سے تھام کے رکھنا، تم گمراہ نہیں ہو گے اور دوسرا میری عشیرت، لطیف اور خبیر ذات نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے اس وقت تک جدا نہیں ہوں گی یہاں تک کہ یہ دونوں حوض پر میرے پاس آ جائیں گی، تو میں نے ان دونوں کے لئے اپنے پروردگار سے دعا مانگی ہے، تو تم ان دونوں سے آگے نکلنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ تم ہلاکت کا شکار ہو جاؤ گے، اور تم ان دونوں کے بارے میں کوتاہی بھی نہ کرنا ورنہ تم ہلاکت کا شکار ہو جاؤ گے، اور تم ان دونوں کو تعلیم دینے کی کوشش بھی نہ کرنا کیونکہ یہ تم سے زیادہ علم رکھتے ہیں۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور ارشاد فرمایا: ”میں جس کے نزدیک اس کی جان سے زیادہ قریب ہوں، تو علی بھی اس کا ولی ہے، اے اللہ! جو اس سے محبت رکھتا ہو، تو بھی اس سے محبت رکھنا اور جو اس سے دشمنی رکھتا ہو، تو اس سے دشمنی رکھنا۔“ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14963]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف ولکن عند الشواھد حدیث صحیح ولہ شاہد
حدیث نمبر: 14964
وَفِي رِوَايَةٍ أَخْصَرَ مِنْ هَذِهِ:" فِيهِ عَدَدُ الْكَوَاكِبِ مِنْ قِدْحَانِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ".
وَقَالَ فِيهَا أَيْضًا:" الْأَكْبَرُ: كِتَابُ اللَّهِ، وَالْأَصْغَرُ: عِتْرَتِي".
وَقَالَ فِيهَا أَيْضًا:" الْأَكْبَرُ: كِتَابُ اللَّهِ، وَالْأَصْغَرُ: عِتْرَتِي".
ایک روایت اس سے زیادہ مختصر ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں: ”اس حوض کے پاس ستاروں کی تعداد میں سونے اور چاندی کے بنے ہوئے پیالے ہوں گے۔“ اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: ”بڑی چیز اللہ کی کتاب ہے، اور چھوٹی چیز میری عترت ہے۔“ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14964]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14965
وَفِي رِوَايَةٍ: لَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، وَنَزَلَ غَدِيرَ خُمٍّ، أَمَرَ بِدَوْحَاتٍ فَقُمِّمْنَ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ:" كَأَنِّي قَدْ دُعِيتُ فَأَجَبْتُ".
وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَقُلْتُ لِزَيْدٍ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقَالَ: مَا كَانَ فِي الدَّوْحَاتِ أَحَدٌ إِلَّا رَآهُ بِعَيْنَيْهِ، وَسَمِعَهُ بِأُذُنَيْهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.
قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ، وَفِي التِّرْمِذِيِّ مِنْهُ:" مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ".
وَفِي سَنَدِ الْأَوَّلِ وَالثَّانِي: حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
وَقَالَ فِي آخِرِهِ: فَقُلْتُ لِزَيْدٍ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقَالَ: مَا كَانَ فِي الدَّوْحَاتِ أَحَدٌ إِلَّا رَآهُ بِعَيْنَيْهِ، وَسَمِعَهُ بِأُذُنَيْهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.
قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ، وَفِي التِّرْمِذِيِّ مِنْهُ:" مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ".
وَفِي سَنَدِ الْأَوَّلِ وَالثَّانِي: حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حجتہ الوداع سے واپس تشریف لے گئے تو آپ نے غدیر خم کے مقام پر پڑاؤ کیا، وہاں آپ کے حکم کے تحت درختوں کے نیچے جھاڑو دی گئی، پھر آپ کھڑے ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا: یوں لگتا ہے جیسے مجھے بلا لیا جائے گا، اور مجھے جانا ہو گا۔ اس روایت کے آخر میں یہ الفاظ ہیں: میں نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا، کیا آپ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے، تو انہوں نے فرمایا: اس وقت اس مقام پر جو بھی فرد موجود تھا وہ اپنی دونوں آنکھوں کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہا تھا اور اپنے دونوں کانوں کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو سن رہا تھا۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس روایت کا ایک حصہ مذکور ہے اور ترمذی میں اس میں سے
یہ روایت مذکور ہے: ”جس کا میں مولیٰ ہوں تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے۔“
یہ روایت امام طبرانی نقل کی ہے پہلی اور دوسری سند میں ایک راوی حکیم بن جبیر ہے اور ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14965]
یہ روایت مذکور ہے: ”جس کا میں مولیٰ ہوں تو علی بھی اس کا مولیٰ ہے۔“
یہ روایت امام طبرانی نقل کی ہے پہلی اور دوسری سند میں ایک راوی حکیم بن جبیر ہے اور ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14965]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 14966
عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ قَالَ: لَمَّا صَدَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ حَجَّةِ الْوَدَاعِ، نَهَى أَصْحَابَهُ عَنْ سَمُرَاتٍ مُتَفَرِّقَاتٍ بِالْبَطْحَاءِ أَنْ يَنْزِلُوا تَحْتَهُنَّ، ثُمَّ بَعَثَ إِلَيْهِنَّ، فَقُمَّ مَا تَحْتَهُنَّ مِنَ الشَّوْكِ، وَعَمَدَ إِلَيْهِنَّ فَصَلَّى عِنْدَهُنَّ، ثُمَّ قَامَ فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ قَدْ نَبَّأَنِي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ أَنَّهُ لَمْ يُعَمَّرْ نَبِيٌّ إِلَّا نِصْفَ عُمُرِ الَّذِي يَلِيهِ مِنْ قَبْلِهِ، وَإِنِّي لَأَظُنُّ يُوشِكُ أَنْ أُدْعَى فَأُجِيبَ، وَإِنِّي مَسْئُولٌ وَأَنْتُمْ مَسْئُولُونَ، فَمَاذَا أَنْتُمْ قَائِلُونَ؟". قَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ، وَجَهَدْتَ، وَنَصَحْتَ، فَجَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا. قَالَ:" أَلَيْسَ تَشْهَدُونَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّ جَنَّتَهُ حَقٌّ، وَنَارَهُ حَقٌّ، وَأَنَّ الْمَوْتَ حَقٌّ، وَأَنَّ الْبَعْثَ حَقٌّ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لَا رَيْبَ فِيهَا، وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ؟". قَالُوا: بَلَى، نَشْهَدُ بِذَلِكَ. قَالَ:" اللَّهُمَّ اشْهَدْ". ثُمَّ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ اللَّهَ مَوْلَايَ، وَأَنَا مَوْلَى الْمُؤْمِنِينَ، وَأَنَا أَوْلَى بِهِمْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، فَمَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ فَهَذَا مَوْلَاهُ". - يَعْنِي عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -" اللَّهُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاهُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ". ثُمَّ قَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي فَرَطٌ وَأَنْتُمْ وَارِدُونَ عَلَى الْحَوْضِ، حَوْضٌ أَعْرَضُ مَا بَيْنَ بُصْرَى إِلَى صَنْعَاءَ، فِيهِ عَدَدُ النُّجُومِ قِدْحَانُ مِنْ فِضَّةٍ، وَإِنِّي سَائِلُكُمْ حِينَ تَرِدُونَ عَلَيَّ عَنِ الثَّقَلَيْنِ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا الثَّقَلُ الْأَكْبَرُ: كِتَابُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - سَبَبٌ طَرَفُهُ بِيَدِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَطَرَفُهُ بِأَيْدِيكُمْ، فَاسْتَمْسِكُوا بِهِ، لَا تَضِلُّوا وَلَا تُبَدِّلُوا. وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي، فَإِنَّهُ قَدْ نَبَّأَنِي اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ أَنَّهُمَا لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ زَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَنْمَاطِيُّ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ الْإِسْنَادَيْنِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ زَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَنْمَاطِيُّ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِ الْإِسْنَادَيْنِ ثِقَاتٌ.
سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع سے واپس تشریف لے گئے تو آپ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ متفرق درختوں کے نیچے نہ جائیں اور ان کے نیچے جا کے پڑاؤ نہ کریں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو پیغام بھیجا اور حکم دیا کہ تم لوگ اٹھو اور ان درختوں کے نیچے صفائی کرو، پھر بی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان درختوں کی طرف گئے، آپ نے وہاں نماز ادا کی پھر آپ کھڑے ہوئے اور آپ نے ارشاد فرمایا: ”اے لوگو! لطیف اور خبیر ذات نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ اس نے جس بھی نبی کو دنیا میں بھیجا تو اس کی عمر اس سے پہلے والے نبی کی عمر سے نصف ہوتی تھی، میرا یہ خیال ہے کہ عنقریب میرا بلاوا آ جائے گا، اور مجھے جانا ہو گا مجھ سے بھی حساب لیا جائے گا اور تم لوگوں سے بھی حساب لیا جائے گا، تو تم لوگ کیا کہو گے؟ لوگوں نے کہا: ہم اس بات کی گواہی دیں گے کہ آپ نے تبلیغ کر دی، بھرپور کوشش کی، خیرخواہی کی، اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا کرے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تم لوگ اس بات کی گواہی نہیں دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور جنت حق ہے، اور جہنم حق ہے، اور موت حق ہے، اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا حق ہے، اور قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے، اور اللہ تعالیٰ قبروں میں موجود لوگوں کو دوبارہ زندہ کر دے گا؟ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اے اللہ! تو گواہ ہو جاؤ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! بے شک اللہ تعالیٰ میرا مولیٰ ہے اور میں مومنین کا مولیٰ ہوں اور میں ان کے نزدیک ان کی جانوں سے زیادہ قریب ہوں، تو جس کا میں مولیٰ ہوں یہ بھی اس کا مولیٰ ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی:) ”اے اللہ! جو اس سے محبت رکھتا ہو، تو اس سے محبت رکھنا اور جو اس سے دشمنی رکھتا ہو، تو اس سے دشمنی رکھنا۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے لوگو! میں تمہارا پیشرو ہوؤں گا، اور تم حوض پر میرے پاس آؤ گے، وہ ایسا حوض ہے جو بصریٰ سے لے کر صنعاء تک کے درمیان فاصلے سے زیادہ چوڑا ہے، اور اس کے پاس ستاروں کی تعداد میں چاندی سے بنے ہوئے پیالے ہیں، اور جب تم لوگ حوض پر میرے پاس آؤ گے، تو میں تم سے دو چیزوں کے بارے میں دریافت کروں گا، تو تم لوگ اس بات کا جائزہ لو گے کہ تم میرے بعد ان دو چیزوں کے بارے میں کیا کرتے ہو؟ ان میں بڑی چیز اللہ کی کتاب ہے، جس کا ایک کنارہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور ایک کنارہ تم لوگوں کے ہاتھ میں ہے، تم اسے مضبوطی سے تھام کے رکھو، تم گمراہ نہیں ہو گے، اور تم تبدیلی نہ کرنا (اور دوسری چیز) میری عترت میرے اہل بیت ہیں، لطیف اور خبیر ذات نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے، یہاں تک کہ یہ دونوں حوض پر میرے پاس آ جائیں گے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی زید بن حسن انماطی ہے ابوحاتم کہتے ہیں: یہ منکر الحدیث ہے، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس کی دو اسناد میں سے ایک کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14966]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی زید بن حسن انماطی ہے ابوحاتم کہتے ہیں: یہ منکر الحدیث ہے، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس کی دو اسناد میں سے ایک کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14966]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف