🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

101. بَابُ بِنْتُ امْرِئِ الْقَيْسِ: كَلْبِيَّةٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحُسَيْنِ لِأُمِّ وَلَدٍ، وَالْقَاسِمُ بْنُ الْحُسَيْنِ لِأُمِّ وَلَدٍ، وَعَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَمُسْلِمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَسُلَيْمَانُ مَوْلَى الْحُسَيْنِ . وَقُتِلُ الْحُسَيْنُ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ سَنَةً - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِيهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15179
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ الْجِنَّ تَنُوحُ عَلَى الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے جنات کو امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما پر نوحہ کرتے ہوئے سنا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15179]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2867 و 2862)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15180
وَعَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ الْجِنَّ تَنُوحُ عَلَى الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیده میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے جنات کو امام حسین رضی اللہ عنہ پر نوحہ کرتے ہوئے سنا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15180]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2868)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15181
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: مَا سَمِعْتُ نَوْحَ الْجِنِّ مُنْذُ قُبِضَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا اللَّيْلَةَ، وَمَا أَرَى ابْنِي إِلَّا قُبِضَ - تَعْنِي الْحُسَيْنَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَتْ لِجَارِيَتِهَا: اخْرُجِي اسْأَلِي، فَأُخْبِرَتْ أَنَّهُ قَدْ قُتِلَ، وَإِذَا جِنِّيَّةٌ تَنُوحُ:
أَلَا يَا عَيْنُ فَاحْتَفِلِي بِجَهْدِ وَمَنْ يَبْكِي عَلَى الشُّهَدَاءِ بَعْدِي عَلَى رَهْطٍ تَقُودُهُمُ الْمَنَايَا
إِلَى مُتَجَبِّرٍ فِي مُلْكِ عَبْدِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ ثَابِتِ بْنِ هُرْمُزَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد میں نے کبھی جنات کا نوحہ نہیں سنا، ایک رات ایسا ہوا تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ میرا بیٹا انتقال کر گیا ہے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی مراد امام حسین رضی اللہ عنہ تھے، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنی کنیز سے کہا: تم جاؤ اور اس بارے میں دریافت کرو، تو انہیں یہ بات بتائی گئی کہ امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے، وہاں ایک جن نے نوحہ کرتے ہوئے یہ اشعار پڑھے: خبردار! اے آنکھ تم خوب روؤ! اور میرے بعد شہداء پر کون روئے گا؟ ان پر جنہیں ایک غلام کی حکومت میں، تقدیر موت کے منہ میں لے گئی
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ثابت بن ہرمز ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15181]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2869)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15182
وَعَنْ أَبِي جَنَابٍ الْكَلْبِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي الْجَصَّاصُونَ قَالُوا: كُنَّا إِذَا خَرَجْنَا إِلَى الْجَبَّانِ بِاللَّيْلِ عِنْدَ مَقْتَلِ الْحُسَيْنِ سَمِعْنَا الْجِنَّ يَنُوحُونَ عَلَيْهِ وَيَقُولُونَ:
مَسَحَ الرَّسُولُ جَبِينَهُ فَلَهُ بَرِيقٌ فِي الْخُدُودِ أَبَوَاهُ مِنْ عُلْيَا قُرَيْ
شٍ جَدُّهُ خَيْرُ الْجُدُودِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَأَبُو جَنَابٍ مُدَلِّسٌ.
ابوجناب کلبی بیان کرتے ہیں: مجھے لوگوں نے یہ بات بتائی ہے کہ جب ہم لوگ نکل کر رات کے وقت امام حسین رضی اللہ عنہ کی قتل گاہ کی طرف گئے، تو ہم نے جنوں کو ان پر نوحہ کرتے ہوئے سنا وہ یہ کہہ رہے تھے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی پیشانی پر ہاتھ پھیرا تھا، تو ان کے رخساروں میں اس کی چمک موجود تھی، ان کے والدین قریش کے بڑوں میں سے تھے، اور ان کے نانا، سب اجداد سے بہتر تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایسا راوی ہے، جس سے میں واقف نہیں ہوں اور ابوجناب نامی راوی مدلس ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15182]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2866 و 2865)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15183
وَعَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حُمَيْدٍ الْجَهْمِيِّ - مِنْ وَلَدِ أَبِي جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ - أَنَّهُ كَانَ يُنْشِدُ فِي قَتْلِ الْحُسَيْنِ، وَقَالَ هَذَا الشِّعْرَ لِزَيْنَبَ بِنْتِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ:
مَاذَا تَقُولُونَ إِنْ قَالَ النَّبِيُّ لَكُمْ مَاذَا فَعَلْتُمْ وَأَنْتُمْ آخِرُ الْأُمَمِ بِعِتْرَتِي وَبِأَنْصَارِي وَذُرِّيَتِي
مِنْهُمْ أُسَارَى وَقَتْلَى ضُرِّجُوا بِدَمِ مَا كَانَ هَذَا جَزَائِي إِذْ نَصَحْتُ لَكُمْ
أَنْ تَخْلُفُونِي بِسُوءٍ فِي ذَوِي رَحِمِي.
فَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيُّ: نَقُولُ: (رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ) . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ مُنْقَطِعٍ.
أحمد بن محمد بن حمید جہمی جو سیدنا ابوجہم بن حذیفہ رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں، انہوں نے امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں یہ اشعار کہے، اور یہ بتایا: یہ اشعار سیدہ زینب بنت عقیل بن ابوطالب رضی اللہ عنہما کے ہیں: اس وقت تم لوگ کیا کہو گے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم لوگوں سے پوچھ لیا: تم آخری امت ہو، تو تم نے میری عترت، میرے انصار اور میری ذریت کے ساتھ کیا کیا؟ ان میں سے کچھ کو قیدی بنا لیا گیا اور کچھ قتل ہو کر خون میں لت پت ہو گئے، میں نے تمہاری جو خیرخواہی کی تھی کیا اس کا یہی بدلہ ہے کہ تم میرے بعد میرے رشتہ داروں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرو۔ تو ابواسود دؤیلی نے کہا: ہم یہ کہتے ہیں (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) اے ہمارے پروردگار! ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا، اگر تو نے ہماری مغفرت نہ کی اور ہم پر رحم نہ کیا، تو ہم خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔
یہ روایت امام طبرانی نے منقطع سند کے ساتھ نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15183]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2875)»

الحكم على الحديث: إسنادہ منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15184
وَرَوَاهُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ أَجْوَدَ مِنْهُ، وَزَادَ فِيهِ: فَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ الدُّؤَلِيُّ:
أَقُولُ وَزَادَنِي حَنَقًا وَغَيْظًا أَزَالَ اللَّهُ مُلْكَ بَنِي زِيَادِ وَأَبْعَدَهُمْ كَمَا بَعُدُوا وَخَانُوا
كَمَا بَعِدَتْ ثَمُودُ وَقَوْمُ عَادِ وَلَا رَجَعَتْ رَكَائِبُهُمْ إِلَيْهِمْ
إِذَا قَفَّتْ إِلَى يَوْمِ التَّنَادِي.
انہوں نے اسے ایک اور سند کے ساتھ نقل کیا ہے، جو زیادہ عمدہ ہے، اور اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ ابواسود دؤیلی نے کہا: میں یہ کہتا ہوں، جبکہ میرا غصہ اور فریاد زیادہ ہو گئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ زیاد کی اولاد کی حکومت کو ختم کر دے، اور جس طرح انہوں نے عہد شکنی کی اور خیانت کی تو انہیں یوں برباد کر دے جس طرح قوم ثمود اور قوم عاد برباد ہو گئی تھیں، اور ان کی سواریاں، جب وہ ٹھہر جائیں، تو قیامت کے دن تک ان کی طرف واپس نہ آئیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15184]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2853)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15185
وَعَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْهَيْثَمِ قَالَ: كَانَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْتَلِمَ الْحَجَرَ أَوْسَعَ لَهُ النَّاسُ، وَالْفَرَزْدَقُ بْنُ غَالِبٍ يَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ رَجُلٌ: [ أَبَا ] فِرَاسُ، مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ الْفَرَزْدَقُ:
هَذَا الَّذِي تَعْرِفُ الْبَطْحَاءُ وَطْأَتُهُ وَالْبَيْتُ يَعْرِفُهُ وَالْحِلُّ وَالْحَرَمُ هَذَا ابْنُ خَيْرِ عِبَادِ اللَّهِ كُلِّهِمُ
هَذَا التَّقِيُّ النَّقِيُّ الطَّاهِرُ الْعَلَمُ يَكَادُ يُمْسِكُهُ عِرْفَانُ رَاحَتِهِ
وَرُكْنُ الْحَطِيمِ لَدَيْهِ حِينَ يَسْتَلِمُ إِذَا رَأَتْهُ قُرَيْشٌ قَالَ قَائِلُهَا
إِلَى مَكَارِمِ هَذَا يَنْتَهِي الْكَرَمُ يُفْضِي حَيَاءً وَيُفْضِي مِنْ مَهَابَتِهِ
فَلَا يُكَلَّمُ إِلَّا حِينَ يَبْتَسِمُ فِي كَفِّهِ خَيْزُرَانٌ رِيحُهُ عَبِقُ
بِكَفِّ أَرْوَعَ فِي عِرْنِينِهِ شَمَمُ مُشْتَقَّةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ نَبْعَتُهُ
طَابَتْ عَنَاصِرُهُ وَالْخِيَمُ وَالشِّيَمُ لَا يَسْتَطِيعُ جَوَادٌ بُعْدَ غَايَتِهِمْ
وَلَا يُدَانِيهِمُ قَوْمٌ وَإِنْ كَرِمُوا أَيُّ الْعَشَائِرِ لَيْسَتْ فِي رِقَابِهِمُ
لِأَوَّلِيَّةِ هَذَا أَوَّلُهُ نَعَمُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
سلیمان بن ہیثم بیان کرتے ہیں: امام زین العابدین رضی اللہ عنہ بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے جب انہوں نے حجر اسود کا استلام کرنے کا ارادہ کیا، تو لوگوں نے ان کے لئے جگہ بنا دی۔ فرزدق نامی شاعر یہ منظر دیکھ رہا تھا کسی شخص نے کہا: اے ابوفراس! یہ کون صاحب ہیں؟ تو فرزدق نے یہ اشعار کہے: یہ وہ ہیں جن کی چاپ کو بطحاء کی وادی پہچانتی ہے، بیت اللہ، حل اور حرم (کے علاقے) انہیں پہچانتے ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کے تمام بندوں سے زیادہ بہتر ہستی کے صاحبزادے ہیں، یہ پرہیزگار ہیں، صاف ستھرے ہیں، پاک ہیں، نمایاں ہیں، ممکن ہے کہ ان کے استلام کرنے کے وقت، ان کی ہتھیلی کو پہچان کر، حطیم کا کونہ ان کو تھام لے، قریش نے جب ان کو دیکھا تو ان میں سے کسی کہنے والے نے کہا: ان کی کرم نوازی پر آ کر، کرم ختم ہو جاتا ہے، یہ حیا کی وجہ سے نگاہیں جھکا کر رکھتے ہیں اور ان کی ہیبت کی وجہ سے دوسروں کی نگاہیں (ان کے آگے) جھکی رہتی ہیں، تو ان کے ساتھ کلام صرف اس وقت کیا جاتا ہے، جب یہ مسکرا دیتے ہیں، ان کے ہاتھ میں خیزران (نامی درخت کی چھڑی) ہے، ان کی خوشبو بہترین ہے اور ان کی ہتھیلی کی خوشبو ہر طرف پھیلتی ہے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اوصاف حاصل کیے ہیں، ان کے عناصر اور ان کی خوبو پاکیزہ ہے، کوئی تیز رفتار، ان کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا، اور کوئی بھی قوم، خواہ وہ کتنی ہی معزز کیوں نہ ہو، ان کے قریب نہیں پہنچ سکتی، کون سا خاندان ایسا ہے، جس کی گردن میں ان کی اولیت اور ان کے احسان کا پٹہ نہ ہو۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15185]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2800)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15186
وَعَنْ سَفِيانٍ قَالَ: قَلْتُ لِعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ: رَأَيْتُ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ؟ قَالَ: أَسُودُ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ، إِلَّا شَعَرَاتٍ هَاهُنَا فِي مُقَدَّمِ لِحْيَتِهِ، فَلَا أَدْرِي أَخَضَبَ وَتَرَكَ ذَلِكَ الْمَكَانَ تَشَبُّهًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ لَمْ يَكُنْ شَابَ مِنْهُ غَيْرُ ذَلِكَ؟ قَالَ: وَرَأَيْتُ حَسَنًا وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَسَجَدَ بَيْنَ الْإِمَامِ وَبَيْنَ بَعْضِ النَّاسِ، فَقِيلَ لَهُ: اجْلِسْ، فَقَالَ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سفیان بیان کرتے ہیں: میں نے عبیداللہ بن ابویزید سے دریافت کیا، تم نے امام حسین رضی اللہ عنہ کی زیارت کی ہے؟ اس نے بتایا: ان کے سر اور داڑھی کے بال سیاہ تھے صرف یہاں پر داڑھی کے آگے والی طرف کچھ بال سفید تھے، مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مشابہت اختیار کرتے ہوئے اس جگہ پر خضاب لگایا تھا یا اس کے علاوہ ان کا کوئی اور بال سفید ہی نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے یہ بات بتائی کہ میں نے سیدنا امام حسن رضی اللہ عنہ کو دیکھا نماز کھڑی ہو گئی، تو وہ امام اور کچھ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے ان سے کہا: گیا آپ بیٹھ جائیں تو انہوں نے کہا: نماز کھڑی ہو چکی ہے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15186]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6773)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15187
وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: حَجَّ الْحُسَيْنُ خَمْسًا وَعِشْرِينَ حَجَّةً مَاشِيًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ مُنْقَطِعٍ.
مصعب بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: امام حسین رضی اللہ عنہ نے پیدل پچیس حج کیے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے منقطع سند کے ساتھ نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15187]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2844)»

الحكم على الحديث: إسنادہ منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15188
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَيْتِ عَائِشَةَ، فَمَرَّ عَلَى بَيْتِ فَاطِمَةَ، فَسَمِعَ حُسَيْنًا يَبْكِي، فَقَالَ:" أَلَمْ تَعْلَمِي أَنَّ بُكَاءَهُ يُؤْذِينِي؟". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.
وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي حَدِيثِ أَبِي أُمَامَةَ الطَّوِيلِ فِي الْإِخْبَارِ بِقَتْلِهِ النَّهْيَ عَنْ بُكَائِهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -. وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ بَيْعَتِهِ فِي الْبَيْعَةِ.
یزید بن ابوزیاد بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے باہر آئے آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر کے پاس سے گزرے آپ نے سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کو روتے ہوئے سنا تو فرمایا: کیا تم یہ بات نہیں جانتی ہو کہ اس کا رونا مجھے تکلیف دیتا ہے؟
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے۔ اس سے پہلے سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ایک طویل حدیث گزر چکی ہے، جس میں انہیں رلانے کی ممانعت کا ذکر ہے، جس میں امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی اطلاع کا ذکر ہے اور بیعت سے متعلق باب میں، ان کی بیعت سے متعلق روایت گزر چکی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15188]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2847)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں