مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
102. بَابُ مَنَاقِبِ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 15199
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي: ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنَّ فَاطِمَةَ حَصَّنَتْ فَرْجَهَا، وَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَدْخَلَهَا بِإِحْصَانِ فَرْجِهَا وَذُرِّيَّتَهَا الْجَنَّةَ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عَتَّابٍ، وَقِيلَ: ابْنُ غِيَاثٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”فاطمہ نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے اپنی شرمگاہ کو حفاظت کرنے کی وجہ سے اسے اور اس کی اولاد کو جنت میں داخل کر دے گا۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عتاب ہے، اور ایک روایت کے مطابق ابن غیاث ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15199]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عتاب ہے، اور ایک روایت کے مطابق ابن غیاث ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15199]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2651) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (406/22)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15200
وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ كَانَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" أَيُّ شَيْءٍ خَيْرٌ لِلْمَرْأَةِ؟ فَسَكَتُوا فَلَمَّا رَجَعَتْ قُلْتُ لِفَاطِمَةَ: أَيُّ شَيْءٍ خَيْرٌ لِلنِّسَاءِ؟" قَالَتْ: لَا يَرَاهُنَّ الرِّجَالُ. فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" إِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: عورت کے لئے کیا چیز سب سے بہتر ہے؟ لوگ خاموش رہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب میں واپس گھر گیا تو میں نے فاطمہ سے دریافت کیا، خواتین کے لئے کون سی چیز سب سے زیادہ بہتر ہے، تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: یہ کہ مرد انہیں نہ دیکھیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: بعد میں میں نے اس بات کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ میری جان کا ٹکڑا ہے۔“
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15200]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15200]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2653)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15201
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ - كَرَّمَ اللَّهُ وَجْهَهُ - خَطَبَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِنْ كُنْتَ تَزَوَّجْهَا فَرُدَّ عَلَيْنَا ابْنَتَنَا". إِلَى هَاهُنَا يَنْتَهِي حَدِيثُ خَالِدٍ [ الْحَذَّاءِ ] وَفِي الْحَدِيثِ زِيَادَةٌ: قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِنْتُ عَدُوِّ اللَّهِ تَحْتَ رَجُلٍ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ وَاخْتَصَرَهُ فِي الْكَبِيرِ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ أَيْضًا، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ تَمَّامٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی بیٹی کے لئے شادی کا پیغام دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے اس عورت کے ساتھ شادی کرنی ہے تو ہماری بیٹی ہمیں واپس کر دو۔۔۔۔۔۔۔۔ خالد حذاء کی نقل کردہ روایت یہاں ختم ہو جاتی ہے۔ اس حدیث میں یہ بات اضافی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ کی قسم! اللہ کے رسول کی صاحبزادی، اللہ کے دشمن کی بیٹی ایک ہی شخص کے نکاح میں اکٹھی نہیں ہوں گی۔“
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے۔ انہوں نے معجم کبیر میں اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے، امام بزار نے بھی اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن تمام ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15201]
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے۔ انہوں نے معجم کبیر میں اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے، امام بزار نے بھی اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن تمام ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15201]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (804) أخرجه البزار فى المسند (2652) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير 11975»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15202
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ: خَطَبَنِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَبَلَغَ ذَلِكَ فَاطِمَةَ فَأَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: إِنَّ أَسْمَاءَ مُتَزَوِّجَةٌ عَلِيًّا، فَقَالَ لَهَا:" مَا كَانَ لَهَا أَنْ تُؤْذِيَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِمَا مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے مجھے شادی کا پیغام بھیجا، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اس بات کی اطلاع ملی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں، انہوں نے عرض کی: اسماء، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شادی کرنے لگی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اس عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت پہنچائے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور ان دونوں کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15202]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور ان دونوں کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15202]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (405/22)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15203
وَعَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ: أَنَّ حَسَنَ بْنَ حَسَنٍ بَعَثَ إِلَى الْمِسْوَرِ يَخْطُبُ ابْنَةً لَهُ، فَقَالَ: قُلْ لَهُ يُوَافِينِي فِي وَقْتٍ ذَكَرَهُ، فَلَقِيَهُ فَحَمِدَ اللَّهَ الْمِسْوَرُ، وَقَالَ: مَا مِنْ سَبَبٍ، وَلَا نَسَبٍ، وَلَا صِهْرٍ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَسَبِكُمْ وَصِهْرِكُمْ، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" فَاطِمَةُ شِجْنَةٌ مِنِّي ; يَبْسُطُنِي مَا يَبْسُطُهَا، وَيَقْبِضُنِي مَا يَقْبِضُهَا، وَإِنَّهُ تَنْقَطِعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْأَنْسَابُ إِلَّا نَسَبِي وَسَبَبِي". وَتَحْتُكَ ابْنَتَهَا، فَلَوْ زَوَّجْتُكَ قَبَضَهَا ذَلِكَ، فَذَهَبَ عَاذِرًا لَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أُمُّ بَكْرٍ بِنْتُ الْمِسْوَرِ، وَلَمْ يُجَرِّحْهَا أَحَدٌ وَلَمْ يُوَثِّقْهَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ سیدنا حسن بن حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا مسور رضی اللہ عنہ کو ان کی صاحبزادی کے لئے شادی کا پیغام دیا، تو انہوں نے (قاصد سے) کہا: تم ان سے کہہ دو کہ وہ میرے ساتھ ملاقات کا وقت طے کر لیں جب ان کی ان سے ملاقات ہوئی، تو سیدنا مسور رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی اور یہ بات بیان کی کہ آپ کے نسب اور آپ کے ساتھ سسرالی رشتے کے حوالے سے جو تعلق ہو گا میرے نزدیک کوئی سبب کوئی نسب اور کوئی سسرالی رشتہ اس سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”فاطمہ میرے وجود کا حصہ ہے، وہ چیز مجھے خوش کرتی ہے، جو اسے خوش کرتی ہے، اور وہ مجھے ناگوار گزرتی ہے، جو اسے ناگوار گزرتی ہے، اور قیامت کے دن میرے سبب اور میرے نسب کے علاوہ تمام نسب منقطع ہو جائیں گے۔“ پھر سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اُن کی اولاد میں سے ایک صاحبزادی آپ کی اہلیہ ہیں، اگر میں نے آپ کی شادی اپنی بیٹی سے کروا دی، تو اس صاحبزادی کو دکھ ہو گا، یہ عذر بیان کر کے وہ تشریف لے گئے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ام بکر بنت مسور ہے کسی نے اس پر جرح نہیں کی اور کسی نے اس کی توثیق بھی نہیں کی۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15203]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ام بکر بنت مسور ہے کسی نے اس پر جرح نہیں کی اور کسی نے اس کی توثیق بھی نہیں کی۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15203]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (25/20) احمد (323/4)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15204
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" [ لِفَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - ] إِنَّ اللَّهَ يَغْضَبُ لِغَضَبِكِ، وَيَرْضَى لِرِضَاكِ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ تمہارے غضب کی وجہ سے غضبناک ہوتا ہے اور تمہاری رضامندی کی وجہ سے راضی ہوتا ہے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15204]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15204]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (182)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 15205
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: إِنِّي لَجَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ أَقْبَلَتْ فَاطِمَةُ، فَقَامَتْ بِحِذَاءِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُقَابِلَهُ، فَقَالَ:" ادْنِي يَا فَاطِمَةُ". فَدَنَتْ دَنْوَةً، ثُمَّ قَالَ:" ادْنِي يَا فَاطِمَةُ". فَدَنَتْ دَنْوَةً، ثُمَّ قَالَ:" ادْنِي يَا فَاطِمَةُ". فَدَنَتْ دَنْوَةً حَتَّى قَامَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ. قَالَ عِمْرَانُ: فَرَأَيْتُ صُفْرَةً قَدْ ظَهَرَتْ عَلَى وَجْهِهَا، وَذَهَبَ الدَّمُ، فَبَسَطَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ أَصَابِعِهِ، ثُمَّ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ تَرَائِبِهَا، فَرَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ:" اللَّهُمَّ مُشْبِعَ الْجَوْعَةِ، وَقَاضِي الْحَاجَةِ، وَرَافِعَ الْوَضَعَةِ، لَا تُجِعْ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ". فَرَأَيْتُ صُفْرَةَ الْجُوعِ قَدْ ذَهَبَتْ عَنْ وَجْهِهَا وَظَهَرَ الدَّمُ، ثُمَّ سَأَلْتُهَا بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: مَا جُعْتُ بَعْدَ ذَلِكَ يَا عِمْرَانَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُتْبَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا اسی دوران سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ قریب آ جاؤ، وہ قریب آ گئیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ قریب آ جاؤ، وہ مزید قریب آ گئیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ قریب آ جاؤ، وہ اور قریب آ گئیں، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑی ہو گئیں۔ سیدنا عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے ان کے چہرے پر زردی دیکھی، ان کا خون کم ہو چکا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں بڑھائیں اور پھر اپنا ہاتھ ان کے سینے پر رکھا، پھر آپ نے سر اٹھا کر یہ دعا کی: ”اے اللہ! بھوک کو ختم کرنے والے! حاجت کو پوری کرنے والے! پست کو بلندی عطا کرنے والے! تو فاطمہ بنت محمد کو بھوکا نہ رکھ۔“ راوی کہتے ہیں: تو میں نے دیکھا کہ ان کے چہرے سے بھوک کی زردی ختم ہو گئی اور خون ظاہر ہوا، اس کے بعد میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: اے عمران! اس کے بعد مجھے کبھی بھوک محسوس نہیں ہوئی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عقبہ بن حمید ہے، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15205]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عقبہ بن حمید ہے، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15205]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن