🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

101. بَابُ بِنْتُ امْرِئِ الْقَيْسِ: كَلْبِيَّةٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحُسَيْنِ لِأُمِّ وَلَدٍ، وَالْقَاسِمُ بْنُ الْحُسَيْنِ لِأُمِّ وَلَدٍ، وَعَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَمُسْلِمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَسُلَيْمَانُ مَوْلَى الْحُسَيْنِ . وَقُتِلُ الْحُسَيْنُ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ سَنَةً - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِيهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15169
وَعَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: تُوُفِّيَ مُعَاوِيَةُ فِي رَجَبٍ لِأَرْبَعِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنْهُ، وَاسْتُخْلِفَ يَزِيدُ سَنَةَ سِتِّينَ، وَفِي سَنَةِ إِحْدَى وَسِتِّينَ قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ وَأَصْحَابُهُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - لِعَشْرِ لَيَالٍ خَلَوْنَ مِنَ الْمُحَرَّمِ يَوْمَ عَاشُورَاءَ، وَقُتِلَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَأُمُّهُ أُمُّ الْبَنِينَ: عَامِرِيَّةٌ وَجَعْفَرُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَأُمُّهُ لَيْلَى بِنْتُ مَسْعُودٍ: نَهْشَلِيَّةٌ، وَعَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ الْأَكْبَرُ، وَأُمُّهُ لَيْلَى: ثَقَفِيَّةٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ، وَأُمُّهُ: الرَّبَابُ بِنْتُ امْرِئِ الْقَيْسِ: كَلْبِيَّةٌ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحُسَيْنِ لِأُمِّ وَلَدٍ، وَالْقَاسِمُ بْنُ الْحُسَيْنِ لِأُمِّ وَلَدٍ، وَعَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَجَعْفَرُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَمُسْلِمُ بْنُ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَسُلَيْمَانُ مَوْلَى الْحُسَيْنِ. وَقُتِلُ الْحُسَيْنُ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ سَنَةً - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ إِلَى قَائِلِيهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
لیث بن سعد بیان کرتے ہیں: رجب کے جب چار دن باقی رہ گئے تھے، تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا، اور ساٹھ ہجری میں یزید خلیفہ بن گیا۔ اکسٹھ ہجری میں امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما اور ان کے ساتھیوں کو شہید کر دیا گیا۔ یہ محرم کے دس دن گزرنے کے بعد عاشورہ کے دن کی بات ہے۔ سیدنا عباس بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہما کو شہید کیا گیا۔ ان کی والدہ سیدہ ام البنین عامریہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ سیدنا جعفر بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہما کو شہید کیا گیا، سیدنا عبداللہ بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہما کو، سیدنا عثمان بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو، سیدنا ابوبکر بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، ان کی والدہ سیدہ لیلیٰ بنت مسعود نہشلیہ رضی اللہ عنہا ہیں میں، امام حسین بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے علی اکبر کو شہید کیا گیا، ان کی والدہ لیلیٰ ثقفیہ ہیں، سیدنا عبداللہ بن حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، ان کی والدہ رباب ہیں جو امرء القیس کی صاحبزادی ہیں، اور بنو کلب سے تعلق رکھتی ہیں، ابوبکر بن حسین کو شہید کیا گیا جو ایک اُم ولد کے صاحبزادے تھے، قاسم بن حسین کو شہید کیا گیا جو ایک اُم ولد کے صاحبزادے تھے، عون بن عبداللہ بن جعفر بن ابوطالب کو شہید کیا گیا، محمد بن عبداللہ بن جعفر بن ابوطالب کو شہید کیا گیا، جعفر بن عقیل بن ابوطالب کو شہید کیا گیا، مسلم بن عقیل بن ابوطالب کو شہید کیا گیا، امام حسین کے غلام سلیمان کو شہید کیا گیا اور امام حسین کے دودھ پیتے بچے عبداللہ کو شہید کیا گیا، جب امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، اس وقت ان کی عمر اٹھاون سال تھی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس قول کے قائل تک اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15169]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2803)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15170
وَعَنْ مُنْذِرٍ الثَّوْرِيِّ قَالَ: كُنَّا إِذَا ذَكَرْنَا حُسَيْنًا وَمَنْ قُتِلَ مَعَهُ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَنَفِيَّةِ: قُتِلَ مَعَهُ سَبْعَةَ عَشَرَ [ شَابًّا ] ، كُلُّهُمِ ارْتَكَضَ فِي رَحِمِ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَعَنْهُمْ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.
مندر ثوری بیان کرتے ہیں: جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھ شہید ہونے والوں کا ہم ذکر کرتے تھے، تو محمد بن حنفیہ کہتے تھے: ان کے ساتھ سترہ ایسے نوجوان شہید ہوئے تھے جو سب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد سے تعلق رکھتے تھے اللہ تعالی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے اور ان لوگوں سے راضی ہو۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے، اور ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15170]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2855)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15171
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ: قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
امام محمد باقر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: جب سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو شہید کیا گیا تو ان کی عمر اٹھاون سال تھی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15171]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2804)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15172
وَعَنِ الْحَسَنِ - يَعْنِي الْبَصْرِيَّ - قَالَ: قُتِلَ مَعَ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ سِتَّةَ عَشَرَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ، وَاللَّهِ مَا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ يَوْمَئِذٍ أَهْلُ بَيْتٍ يُشْبِهُونَهُمْ. قَالَ سُفْيَانُ: وَمَنْ يَشُكُّ فِي هَذَا؟.
حسن بصری بیان کرتے ہیں: امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے ساتھ ان کے اہلِ خانہ میں سے سولہ افراد شہید کیے گئے اور اس وقت اللہ کی قسم! روئے زمین پر کوئی گھرانہ ایسا نہیں تھا، جو ان لوگوں کی مانند ہو۔ سفیان کہتے ہیں: اس میں شک بھی کس کو ہو سکتا ہے؟ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15172]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2854)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15173
عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ: قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ يَوْمَ عَاشُورَاءَ فِي سَنَةَ إِحْدَى وَسِتِّينَ، وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ، وَكَانَ يَخْضِبُ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.
ابوبکر بن ابوشیبہ بیان کرتے ہیں: امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو عاشورہ کے دن اکسٹھ ہجری میں شہید کیا گیا، اس وقت ان کی عمر اٹھاون سال تھی انہوں نے مہندی اور کتم خضاب کے طور پر لگایا ہوا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15173]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2783)»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15174
وَعَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَلِيًّا قُتِلَ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانٍ وَخَمْسِينَ، وَقُتِلَ الْحُسَيْنُ كَذَلِكَ، وَمَاتَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ وَهُوَ كَذَلِكَ.
امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد (امام باقر رحمہ اللہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تھے اس وقت ان کی عمر اٹھاون سال تھی اور جب امام حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو اس وقت ان کی عمر بھی اتنی ہی تھی اور جب امام زین العابدین رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو اس وقت ان کی عمر بھی اتنی ہی تھی۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15174]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2784)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15175
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ: قُتِلَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ كَثِيرٌ، فَبَاعَ فِيهَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ عَيْنَ كَذَا وَعَيْنَ كَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ نُوحُ بْنُ دَرَّاجٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
امام زین العابدین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب سیدنا امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کو شہید کر دیا گیا، تو ان کے ذمہ بہت سا قرض تھا، تو امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے فلاں فلاں جگہ کو فروخت کر کے وہ قرض ادا کیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی نوح بن دراج ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15175]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2871)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15176
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمَخْزُومِيِّ قَالَ: لَمَّا أُدْخِلَ ثَقَلُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَى يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ وَوُضِعَ رَأْسُهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، بَكَى يَزِيدُ، وَقَالَ:
نُفَلِّقُ هَامًا مِنْ رِجَالٍ أَحِبَّةٍ إِلَيْنَا وَهُمْ كَانُوا أَعَقَّ وَأَظْلَمَا.
أَمَا وَاللَّهِ لَوْ كُنْتُ صَاحِبَكَ مَا قَتَلْتُكَ أَبَدًا. فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ: لَيْسَ هَكَذَا. قَالَ يَزِيدُ: كَيْفَ يَا ابْنَ أُمِّ؟ قَالَ: (مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ) . وَعِنْدَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أُمِّ الْحَكَمِ، فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ - يَعْنِي ابْنَ أُمِّ الْحَكَمِ -:
لَهَامٌ بِجَنْبِ الطَّفِّ أَدْنَى قَرَابَةً مِنِ ابْنِ زِيَادِ الْعَبْدِ ذِي النَّسَبِ الْوَغْلِ
سُمَيَّةُ أَمْسَى نَسْلُهَا عَدَدَ الْحَصَى وَبِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ لَيْسَ لَهَا نَسْلُ
.
فَرَفَعَ يَزِيدُ يَدَهُ، فَضَرَبَ صَدْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَقَالَ: اسْكُتْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ هُوَ ابْنُ زُبَالَةَ، ضَعِيفٌ.
محمد بن حسن مخزومی بیان کرتے ہیں: جب امام حسین بن علی رضی اللہ عنہما کے اہل خانہ کو یزید بن معاویہ کے پاس لایا گیا، اور ان کا سر اس کے سامنے رکھا گیا، تو یزید رو پڑا اور اس نے یہ شعر پڑھا: ہم اپنے نزدیک چند محبوب لوگوں کی وجہ سے سر کٹوا لیتے ہیں، حالانکہ وہ لوگ زیادہ نافرمان اور زیادہ ظالم ہوتے ہیں۔ پھر اس نے کہا: اللہ کی قسم! اگر میں آپ کے سامنے ہوتا تو میں آپ کو کبھی شہید نہ کرتا، تو امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے کہا: ایسا نہیں ہے، یزید نے کہا: وہ کیسے؟ امام زین العابدین رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی: زمین میں، یا تمہارے وجودوں میں جو مصیبت لاحق ہوتی ہے، تو وہ ایک تحریر میں ہے، اس سے پہلے کہ ہم اس کو پیدا کریں، اور یہ (سب پہلے سے تحریر کر دینا) اللہ تعالیٰ کے لئے آسان ہے۔ اس وقت وہاں عبدالرحمن بن ام حکم موجود تھے، تو عبدالرحمن بن ام حکم نے یہ اشعار پڑھے: طف کے مقام پر موجود سر، زیادہ قریب کی رشتہ داری رکھتا تھا، ابن زیاد غلام کی بہ نسبت، جس کا نسب ہی مشکوک ہے، سمیہ کی اولاد، تو کنکریوں کی تعداد میں بے شمار ہو گئی ہے، لیکن اللہ کے رسول کی صاحبزادی کی نسل (یعنی) اولاد زندہ نہیں رہی۔ یزید نے ہاتھ اٹھا کر عبدالرحمن کے سینے پر مارا اور بولا: تم خاموش رہو۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے محمد بن حسن نامی راوی سے مراد محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15176]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2848)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15177
وَعَنْ أَبِي قَبِيلٍ قَالَ: لَمَّا قُتِلَ الْحُسَيْنُ احْتَزُّوا رَأَسَهُ، وَقَعَدُوا فِي أَوَّلِ مَرْحَلَةٍ يَشْرَبُونَ النَّبِيذَ، يَتَحَيَّوْنَ بِالرَّأْسِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ قَلَمٌ مِنْ حَدِيدٍ مِنْ حَائِطٍ، فَكَتَبَ بِسَطْرِ دَمٍ:
أَتَرْجُو أُمَّةٌ قَتَلَتْ حُسَيْنًا شَفَاعَةَ جَدِّهِ يَوْمَ الْحِسَابِ.
فَهَرَبُوا وَتَرَكُوا الرَّأْسَ، ثُمَّ رَجَعُوا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
ابوقبیل بیان کرتے ہیں: جب امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا، تو لوگوں نے ان کا سر اتار لیا، وہ لوگ پہلے مرحلے پر بیٹھ کر نبیذ پینے لگے اور امام حسین رضی اللہ عنہ کے سر کے حوالے سے ذکر کرنے لگے، تو لوہے کا ایک قلم نکل کر ان کے سامنے آیا اور اس نے خون کے ساتھ دیوار پر یہ شعر لکھا: وہ امت جس نے حسین کو شہید کیا ہے، کیا وہ قیامت کے دن ان کے نانا کی شفاعت کی امید رکھے گی؟ تو وہ لوگ بھاگ گئے اور سر کو وہاں چھوڑ دیا پھر وہ لوگ واپس آئے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15177]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2873)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15178
وَعَنْ إِمَامٍ لِبَنِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَشْيَاخٍ لَهُ قَالَ: غَزَوْنَا الرُّومَ، فَنَزَلُوا فِي كَنِيسَةٍ مِنْ كَنَائِسِهِمْ، قَرَأُوا فِي حَجَرٍ مَكْتُوبٍ:
أَتَرْجُو أُمَّةٌ قَتَلَتْ حُسَيْنًا شَفَاعَةَ جَدِّهِ يَوْمَ الْحِسَابِ.
فَسَأَلْنَاهُمْ: مُنْذُ كَمْ بُنِيَتْ هَذِهِ الْكَنِيسَةُ؟ قَالُوا: قَبْلَ أَنْ يُبْعَثَ نَبِيُّكُمْ بِثَلَاثِ مِائَةِ سَنَةٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
بنو سلیمان کے امام اپنے بزرگوں کے حوالے سے یہ بات بیان کرتے ہیں: ہم لوگ روم کی سرزمین پر جنگ میں حصہ لے رہے تھے۔ ان لوگوں نے ایک گرجے میں رہائش اختیار کی وہاں ایک پتھر پر یہ شعر لکھا ہوا تھا: وہ امت جس نے حسین کو شہید کیا ہو، کیا وہ قیامت کے دن ان کے نانا سے شفاعت کی امید رکھے گی؟ راوی کہتے ہیں: ہم نے ان لوگوں سے دریافت کیا کہ یہ گرجا کب بنا تھا؟ تو لوگوں نے بتایا: یہ تم لوگوں کے نبی کی بعثت سے تین سو سال کا پہلے کا بنا ہوا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15178]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2874)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں