مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
108. بَابُ فَضْلِ خَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ زَوْجَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -
نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 15260
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ، وَهِيَ أَوَّلُ امْرَأَةٍ تَزَوَّجَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهِيَ أُمُّ وَلَدِهِ الذُّكُورِ وَالْإِنَاثِ، إِلَّا إِبْرَاهِيمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَإِنَّهُ مِنْ سُرِّيَّتِهِ مَارِيَةَ الْقِبْطِيَّةِ.
امام طبرانی بیان کرتے ہیں: سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی، یہ وہ پہلی خاتون ہیں جس کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کی تھی اور یہ آپ کی تمام مذکر اور مؤنث اولاد کی والدہ ہیں، صرف سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کا معاملہ مختلف ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کنیز سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا کے ہاں پیدا ہوئے تھے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15260]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (444/22)»
الحكم على الحديث: حدیث صحیح
حدیث نمبر: 15261
وَعَنْ قَتَادَةَ بْنِ دِعَامَةَ قَالَ: تُوُفِّيَتْ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ قَبْلَ الْهِجْرَةِ بِثَلَاثِ سِنِينَ، وَهِيَ أَوَّلُ مَنْ آمَنَ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ النِّسَاءِ وَالرِّجَالِ، وَلَمْ يَتَزَوَّجْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ غَيْرَهَا، وَلَمْ يَلِدْ لَهُ مِنَ الْمَهَايِرِ غَيْرُهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ زُهَيْرُ بْنُ الْعَلَاءِ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ نَحْوَهُ بِاخْتِصَارٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
قتادہ بن دعامہ بیان کرتے ہیں: سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کا انتقال ہجرت سے تین سال پہلے ہو گیا تھا، وہ خاتون، مردوں اور عورتوں میں سب سے پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائیں تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمانہ جاہلیت میں (یعنی اعلان نبوت سے پہلے) ان کے علاوہ اور کسی خاتون کے ساتھ شادی نہیں کی اور ان کے علاوہ اور کسی (زوجہ محترمہ) سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد نہیں ہوئی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زہیر بن العلاء ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے۔ امام طبرانی نے اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ عروہ بن زبیر کے حوالے سے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15261]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زہیر بن العلاء ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے۔ امام طبرانی نے اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ عروہ بن زبیر کے حوالے سے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15261]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (450/22)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15262
وَعَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: لَمْ يَتَزَوَّجْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى خَدِيجَةَ حَتَّى مَاتَتْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
زہری بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ہوتے ہوئے اور کسی خاتون کے ساتھ شادی نہیں کی یہاں تک کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15262]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15262]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (450/22)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15263
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: تُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تُفْرَضَ الصَّلَاةُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نماز کی فرضیت کا حکم نازل ہونے سے پہلے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15263]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15263]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (451/22)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15264
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - فِيمَا يَحْسَبُ حَمَّادٌ -: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ خَدِيجَةَ وَكَانَ أَبُوهَا يَرْغَبُ عَنْ أَنْ يُزَوِّجَهُ، فَصَنَعَتْ طَعَامًا وَشَرَابًا، فَدَعَتْ أَبَاهَا وَنَفَرًا مِنْ قُرَيْشٍ، فَطَعِمُوا وَشَرِبُوا حَتَّى ثَمِلُوا، فَقَالَتْ خَدِيجَةُ: إِنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَخْطُبُنِي، فَزَوِّجْنِي إِيَّاهُ. فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ، فَخَلَّفَتْهُ وَأَلْبَسَتْهُ حُلَّةً، وَكَذَلِكَ كَانُوا يَفْعَلُونَ بِالْآبَاءِ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ سُكْرُهُ نَظَرَ فَإِذَا هُوَ مُخَلَّقٌ وَعَلَيْهِ حُلَّةً، فَقَالَ: مَا شَأْنِي؟! مَا هَذَا؟! قَالَتْ: زَوَّجْتَنِي مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: أَنَا أُزَوِّجُ يَتِيمَ أَبِي طَالِبٍ؟ لَا لَعَمْرِي. قَالَتْ خَدِيجَةُ: أَلَا تَسْتَحْيِي؟ تُرِيدُ أَنْ تُسَفِّهَ نَفْسَكَ عِنْدَ قُرَيْشٍ؟ تُخْبِرُ النَّاسَ أَنَّكَ كُنْتَ سَكْرَانَ؟! فَلَمْ تَزَلْ بِهِ حَتَّى رَضِيَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَالطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو شادی کا پیغام بھیجا ان کے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی شادی نہیں کرنا چاہتے تھے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کھانا اور مشروب تیار کیا انہوں نے اپنے والد اور قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کی دعوت کی ان لوگوں نے کھانا کھایا اور شراب پی لی یہاں تک کہ وہ لوگ مدہوش ہو گئے تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: محمد بن عبداللہ نے مجھے شادی کا پیغام بھیجا ہے میری شادی اس کے ساتھ کروا دیں تو ان کے والد نے ان کی شادی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کروا دی پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خوشبو لگائی اور حلہ پہنے کے لئے دیا وہ لوگ اپنے آباؤ اجداد کے ساتھ اسی طرح کیا کرتے تھے جب ان صاحب کا نشہ ختم ہوا تو انہوں نے دیکھا کہ انہیں خوشبو بھی لگی ہوئی تھی اور ان کے جسم پر حلہ بھی تھا، انہوں نے کہا: کیا معاملہ ہے یہ کس وجہ سے ہے، تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ آپ نے میری شادی محمد بن عبداللہ سے کروا دی ہے، تو ان کے والد نے کہا: کیا میں ابوطالب کے زیر پرورش یتیم لڑکے سے شادی کراؤں گا؟ جی نہیں! میری زندگی کی قسم (ایسا نہیں ہو سکتا) سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کیا آپ کو حیاء محسوس نہیں ہوتی؟ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ قریش کے سامنے اپنے آپ کو بے وقوف قرار دیں اور لوگوں کو بتائیں کہ آپ نشے کے عالم میں تھے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا مسلسل انہیں سمجھاتی رہیں یہاں تک کہ وہ شخص راضی ہو گئے۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام أحمد اور امام طبرانی کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15264]
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام أحمد اور امام طبرانی کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15264]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12838) اخرجه احمد فى المسند (2851)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15265
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَمِعَ مَا يَتَحَدَّثُ بِهِ النَّاسُ مِنْ تَزْوِيجِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَدِيجَةَ، يَقُولُ: أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِتَزْوِيجِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِيَّاهَا: كُنْتُ مِنْ إِخْوَانِهِ، فَكُنْتُ لَهُ خِدْنًا وَإِلْفًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَإِنِّي خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ حَتَّى مَرَرْنَا عَلَى أُخْتِ خَدِيجَةَ، وَهِيَ جَالِسَةٌ عَلَى أَدَمٍ لَهَا، فَنَادَتْنِي فَانْصَرَفْتُ إِلَيْهَا، وَوَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: أَمَا لِصَاحِبِكَ فِي تَزْوِيجِ خَدِيجَةَ حَاجَةٌ؟ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ:" بَلَى لَعَمْرِي". فَرَجَعْتُ إِلَيْهَا فَأَخْبَرْتُهَا بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: اغْدُ عَلَيْنَا إِذَا أَصْبَحْتَ غَدًا، فَغَدَوْنَا عَلَيْهِمْ، فَوَجَدْنَاهُمْ قَدْ ذَبَحُوا بَقَرَةً، وَأَلْبَسُوا أَبَا خَدِيجَةَ حُلَّةً، وَضَرَبُوا عَلَيْهِ قُبَّةً، فَكَلَّمْتُ أَخَاهَا، فَكَلَّمَ أَبَاهَا، وَأَخْبَرْتُهُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِمَكَانِهِ، وَأَنَّهُ سَأَلَ أَنْ يُزَوِّجَهُ خَدِيجَةَ، فَزَوَّجَهُ، فَصَنَعُوا مِنَ الْبَقَرَةِ طَعَامًا فَأَكَلْنَا مِنْهُ، وَنَامَ أَبُوهَا ثُمَّ اسْتَيْقَظَ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ الْحُلَّةُ، وَهَذِهِ الْقُبَّةُ، وَهَذَا الطَّعَامُ؟! قَالَتْ لَهُ ابْنَتُهُ الَّتِي كَلَّمَتْ عَمَّارًا: هَذِهِ الْحُلَّةُ كَسَاكَهَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ خَتَنُكَ، وَهَذِهِ بَقَرَةٌ أَهْدَاهَا لَكَ فَذَبَحْنَاهَا حِينَ زَوَّجْتَهُ خَدِيجَةَ، فَأَنْكَرَ أَنْ يَكُونَ زَوَّجَهُ، وَخَرَجَ حَتَّى جَاءَ الْحِجْرَ، وَجَاءَتْ بَنُو هَاشِمٍ حِينَ جَاءُوا، فَقَالَ: أَيْنَ صَاحِبُكُمُ الَّذِي تَزْعُمُونَ أَنِّي زَوَّجْتُهُ؟ فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَظَرَ إِلَيْهِ قَالَ: إِنْ كُنْتُ زَوَّجْتُهُ وَإِلَّا فَقَدْ زَوَّجْتُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُؤَمَّلِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ جب وہ لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کرنے کے بارے میں سنتے تھے تو یہ فرمایا کرتے تھے میں اس خاتون کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی کے بارے میں سب سے زیاہ علم رکھتا ہوں زمانہ جاہلیت میں، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قریبی ساتھی تھا، ایک دن میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا ہمارا گزر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن کے پاس سے ہوا جو اپنے چمڑے کے ایک خیمے میں موجود تھیں، انہوں نے مجھے بلایا، میں ان کے پاس چلا گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں رک گئے۔ اس خاتون نے کہا: کیا آپ کے ساتھی (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ) خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں؟ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے فرمایا: جی ہاں مجھے اپنی زندگی کی قسم، میں اس خاتون کے پاس واپس گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کہی ہوئی بات کے بارے میں اسے بتایا تو اس خاتون نے کہا: جب کل صبح ہو تو آپ ہمارے پاس آ جائیں، ہم اگلے دن ان لوگوں کے پاس گئے تو ہم نے ان لوگوں کو پایا کہ ان لوگوں نے ایک گائے ذبح کی ہوئی تھی اور انہوں نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد کو حلہ پہنایا ہوا تھا اور وہاں ایک قبہ لگایا ہوا تھا، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بھائی کے ساتھ بات چیت کی، ان کے بھائی نے ان کے والد کے ساتھ بات چیت کی اور انہوں نے انہیں اللہ کے رسول اور ان کی حیثیت کے بارے میں بتایا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ کہا: کہ وہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ان کی شادی کر دیں، تو ان لوگوں نے ان کی شادی کروا دی، ان لوگوں نے گائے کے گوشت کا کھانا پکوایا، ہم نے اسے کھایا، پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے والد سو گئے، جب وہ بیدار ہوئے تو انہوں نے دریافت کیا: یہ حلہ کہاں سے آیا ہے، اور یہ خیمہ کس لئے لگا ہے، اور یہ کھانا کس وجہ سے ہے؟ تو ان کی اس صاحبزادی نے جس نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے ساتھ بات چیت کی تھی، انہیں بتایا کہ یہ حلہ آپ کو محمد بن عبداللہ نے پہنایا ہے جو آپ کے داماد ہیں اور یہ گائے انہوں نے آپ کو تحفے کے طور پر دی ہے، جب آپ نے ان کے ساتھ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی شادی کی تو اس وقت ہم نے انہیں قربان کیا تھا، تو ان صاحب نے اس بات کا انکار کیا کہ انہوں نے یہ شادی کروائی ہے، وہ وہاں سے نکل کر حطیم کے پاس آئے، جب بنو ہاشم آئے تو ان صاحب نے دریافت کیا: تمہارا وہ فرد کہاں ہے جس کے بارے میں تم لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ میں نے اس کی شادی کروائی ہے، جب ان صاحب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی طرف دیکھا تو ان صاحب نے کہا: اگر میں ان کی شادی کروا چکا ہوں تو ٹھیک ہے، ورنہ میں اب ان کی شادی کروا دیتا ہوں۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابوبکر مؤملی ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15265]
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابوبکر مؤملی ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15265]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2656)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جدا
حدیث نمبر: 15266
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ - أَوْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَرْعَى غَنَمًا فَاسْتَعْلَى الْغَنَمُ، فَكَانَ فِي الْإِبِلِ هُوَ وَشَرِيكٌ لَهُ، فَأَكْرَيَا أُخْتَ خَدِيجَةَ، فَلَمَّا قَضَوُا السَّفَرَ بَقِيَ لَهُمْ عَلَيْهَا شَيْءٌ، فَجَعَلَ شَرِيكُهُمْ يَأْتِيهَا فَيْتَقَاضَاهُمْ، وَيَقُولُ لِمُحَمَّدٍ: انْطَلَقَ، فَيَقُولُ:" اذْهَبْ أَنْتَ ; فَإِنِّي أَسْتَحِي". فَقَالَتْ مَرَّةً وَأَتَاهُمْ: فَأَيْنَ مُحَمَّدٌ؟ قَالَ: قَدْ قُلْتُ لَهُ، فَزَعَمَ أَنَّهُ يَسْتَحِي، فَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشَدَّ حَيَاءً، وَلَا أَعَفَّ، وَلَا وَلَا، فَوَقَعَ فِي نَفْسِ أُخْتِهَا خَدِيجَةَ، فَبَعَثَتْ إِلَيْهِ، فَقَالَتْ: ائْتِ أَبِي فَاخْطُبْنِي، قَالَ:" أَبُوكِ رَجُلٌ كَثِيرُ الْمَالِ، وَهُوَ لَا يَفْعَلُ". قَالَتْ: انْطَلِقْ فَالْقَهُ فَكَلِّمْهُ فَأَنَا أَكْفِيكَ، وَائْتِ عِنْدَ سُكْرِهِ، فَفَعَلَ، فَأَتَاهُ فَزَوَّجَهُ، فَلَمَّا أَصْبَحَ جَلَسَ فِي الْمَجْلِسِ، فَقِيلَ لَهُ: أَحْسَنْتَ زَوَّجْتَ مُحَمَّدًا، فَقَالَ: أَوَقَدْ فَعَلْتُ؟ قَالُوا: نَعَمْ، فَقَامَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا، فَقَالَ: إِنَّ النَّاسَ يَقُولُونَ: إِنِّي قَدْ زَوَّجْتُ مُحَمَّدًا قَالَتْ: بَلَى، فَلَا تُسَفِّهَنَّ رَأْيَكَ، فَإِنَّ مُحَمَّدًا كَذَا، فَلَمْ تَزَلْ بِهِ حَتَّى رَضِيَ، ثُمَّ بَعَثَتْ إِلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِوَقِيَّتَيْنِ مِنْ فِضَّةٍ أَوْ ذَهَبٍ، وَقَالَتْ: اشْتَرِ حُلَّةً وَاهْدِهَا لِي، وَكَبْشًا، وَكَذَا وَكَذَا، فَفَعَلَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ أَيْضًا إِلَّا أَنَّ شَيْخَهُ أَحْمَدَ بْنَ يَحْيَى الصُّوفِيَّ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ لَيْسَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ. وَقَالَ فِيهِ: قَالَتْ:"وَأْتِهِ غَيْرَ مُكْرَهٍ". بَدَلَ:"سُكْرُهُ". وَقَالَتْ فِي الْحُلَّةِ:"فَأَهْدِهَا إِلَيْهِ". بَدَلَ:"إِلَيَّ".
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ یا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے ایک اور صاحب بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے بکریاں چرایا کرتے تھے، پھر آپ نے بکریاں چرانا چھوڑ کر اونٹوں کو چرانا شروع کر دیا، آپ ایسا کرتے تھے آپ کے ساتھ آپ کا ایک شراکت دار ہوتا تھا، پھر ان دونوں نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن کے لئے کام کرنا شروع کیا جب ان لوگوں نے اپنا تجارتی سفر مکمل کیا تو ان لوگوں کا اس خاتون کے ذمہ کچھ معاوضہ رہ گیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا شراکت دار ان لوگوں کے پاس جاتا تھا اور ان سے تقاضا کرتا تھا، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کرتا تھا کہ آ جائیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ کہتے تھے: تم چلے جاؤ کیونکہ مجھے شرم آتی ہے، ایک دن جب وہ شخص ان لوگوں کے پاس تقاضا کرنے کے لئے گیا تو اس خاتون نے کہا: محمد کہاں ہیں، تو اس شخص نے بتایا کہ میں نے ان سے کہا: تھا (کہ آپ بھی چلیں) لیکن ان کا یہ کہنا تھا کہ انہیں شرم آتی ہے، تو اس خاتون نے کہا: میں نے ان سے زیادہ شرم والا شخص کوئی نہیں دیکھا اور ان سے زیادہ بہتر طور پر نگرانی کرنے والا کوئی نہیں دیکھا، پھر سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن کے دل میں یہ خیال آیا کہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی ان کے ساتھ شادی ہونی چاہیے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا اور یہ کہا: کہ آپ میرے والد کے پاس آئیں اور شادی کا پیغام دیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ کے والد ایک ایسے شخص ہیں جن کے پاس مال بہت زیادہ ہے، وہ ایسا نہیں کریں گے، تو انہوں نے کہا: آپ جائیں ان سے ملاقات کریں اور ان سے بات چیت کریں، میں سنبھال لوں گی، آپ ان کے پاس اس وقت جائیں جب وہ نشے کے عالم میں ہوں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس گئے، ان صاحب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی کروا دی، جب صبح ہوئی اور وہ محفل میں بیٹھے تو ان سے کہا: گیا آپ نے اچھا کیا جو سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھ شادی کروا دی، انہوں نے دریافت کیا: کیا میں نے ایسا کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، تو وہ صاحب کھڑے ہوئے اور سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور کہا: لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ میں نے محمد کے ساتھ شادی کروا دی ہے۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں، اب آپ اپنی رائے کو بے وقوفی ظاہر نہ کیجئے گا کیونکہ سیدنا محمد اس اس طرح کے آدمی ہیں۔ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا مسلسل انہیں سمجھاتی رہیں یہاں تک کہ وہ صاحب راضی ہو گئے، پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغام بھیجا اور انہیں سونے یا چاندی کے دو اوقیہ بھیجے اور یہ کہا: کہ آپ اس کے ذریعے حلہ خریدیں اور اس حلے کو مجھے تحفے کے طور پر دیں اور ایک دنبہ خریدیں اور اس اس طرح کر لیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے ایسا ہی کیا۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں صرف ابوخالد والبی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے امام بزار کے رجال بھی اسی طرح ہیں تاہم ان کے استاد أحمد بن یحیی صوفی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ صحیح کے رجال میں سے نہیں ہے لیکن انہوں نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ ان کے پاس ایسے جائیں کہ زبردستی نہ ہو، انہوں نے لفظ نشے کی جگہ یہ لفظ نقل کیا ہے، اور حلے کے بارے میں یہ کہا: ہے کہ آپ یہ حلہ انہیں تحفے کے طور پر دیں۔ یعنی یہ نہیں کہا: کہ مجھے تحفے کے طور پر دیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15266]
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے امام طبرانی کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں صرف ابوخالد والبی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے امام بزار کے رجال بھی اسی طرح ہیں تاہم ان کے استاد أحمد بن یحیی صوفی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ صحیح کے رجال میں سے نہیں ہے لیکن انہوں نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں: سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ ان کے پاس ایسے جائیں کہ زبردستی نہ ہو، انہوں نے لفظ نشے کی جگہ یہ لفظ نقل کیا ہے، اور حلے کے بارے میں یہ کہا: ہے کہ آپ یہ حلہ انہیں تحفے کے طور پر دیں۔ یعنی یہ نہیں کہا: کہ مجھے تحفے کے طور پر دیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15266]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2657) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1858)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15267
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: أَوَّلُ شَيْءٍ عَلِمْتُ مِنْ أَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِمْتُ مَكَّةَ فِي عُمُومَةٍ لِي، فَأُرْشِدْنَا عَلَى الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِ وَهُوَ جَالِسٌ فِي زَمْزَمَ، فَجَلَسْنَا إِلَيْهِ، فَبَيْنَا نَحْنُ عِنْدَهُ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنْ بَابِ الصَّفَا أَبْيَضُ تَعْلُوهُ حُمْرَةٌ، لَهُ وَفْرَةٌ جَعْدَةٌ إِلَى أَطْرَافِ أُذُنَيْهِ، أَشَمُّ، أَقْنَى الْأَنْفِ، بَرَّاقُ الثَّنَايَا، أَدْعَجُ الْعَيْنَيْنِ، كَثُّ اللِّحْيَةِ، دَقِيقُ الْمَسْرُبَةِ، شَثْنُ الْكَفَّيْنِ وَالْقَدَمَيْنِ، عَلَيْهِ ثَوْبَانِ أَبْيَضَانِ، كَأَنَّهُ الْقَمَرُ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، يَمْشِي عَنْ يَمِينِهِ غُلَامٌ أَمَرَدُ، حَسَنُ الْوَجْهِ، مُرَاهِقٌ أَوْ مُحْتَلِمٌ، تَقْفُوهُمُ امْرَأَةٌ قَدْ سَتَرَتْ مَحَاسِنَهَا، حَتَّى قَصَدَ نَحْوَ الْحَجَرَ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ اسْتَلَمَهُ الْغُلَامُ وَاسْتَلَمَتِ الْمَرْأَةُ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا، وَالْغُلَامُ وَالْمَرْأَةُ يَطُوفُونَ مَعَهُ، ثُمَّ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَكَبَّرَ، وَقَامَ الْغُلَامُ عَنْ يَمِينِهِ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَكَبَّرَ، وَقَامَتِ الْمَرْأَةُ خَلْفَهُمَا، وَرَفَعَتْ يَدَيْهَا وَكَبَّرَتْ، وَأَطَالَ الْقُنُوتَ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، فَقَنَتَ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الْغُلَامُ وَالْمَرْأَةُ مَعَهُ، يَصْنَعَانِ مِثْلَ مَا يَصْنَعُ يَتْبَعَانِهِ.
قَالَ: فَرَأَيْنَا شَيْئًا لَمْ نَكُنْ نَعْرِفُهُ بِمَكَّةَ، فَأَنْكَرْنَا، فَأَقْبَلْنَا عَلَى الْعَبَّاسِ، فَقُلْنَا: يَا أَبَا الْفَضْلِ، إِنَّ هَذَا الدِّينَ لَمْ نَكُنْ نَعْرِفُهُ فِيكُمْ، أَشَيْءٌ حَدَثَ؟ قَالَ: أَجَلْ وَاللَّهِ، أَمَا تَعْرِفُونَ هَذَا؟ قُلْنَا: لَا. قَالَ: هَذَا ابْنُ أَخِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْغُلَامُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَالْمَرْأَةُ: خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، أَمَا وَاللَّهِ مَا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَى هَذَا الدِّينِ إِلَّا هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ اثْنَانِ أَحَدُهُمَا: يَحْيَى بْنُ حَاتِمٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَالْآخَرُ: بِشْرُ بْنُ مِهْرَانَ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
وَقَدْ تَقَدَّمَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ عَفِيفٍ الْكِنْدِيِّ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
قَالَ: فَرَأَيْنَا شَيْئًا لَمْ نَكُنْ نَعْرِفُهُ بِمَكَّةَ، فَأَنْكَرْنَا، فَأَقْبَلْنَا عَلَى الْعَبَّاسِ، فَقُلْنَا: يَا أَبَا الْفَضْلِ، إِنَّ هَذَا الدِّينَ لَمْ نَكُنْ نَعْرِفُهُ فِيكُمْ، أَشَيْءٌ حَدَثَ؟ قَالَ: أَجَلْ وَاللَّهِ، أَمَا تَعْرِفُونَ هَذَا؟ قُلْنَا: لَا. قَالَ: هَذَا ابْنُ أَخِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْغُلَامُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، وَالْمَرْأَةُ: خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، أَمَا وَاللَّهِ مَا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَى هَذَا الدِّينِ إِلَّا هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ اثْنَانِ أَحَدُهُمَا: يَحْيَى بْنُ حَاتِمٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَالْآخَرُ: بِشْرُ بْنُ مِهْرَانَ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
وَقَدْ تَقَدَّمَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ عَفِيفٍ الْكِنْدِيِّ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو چیز مجھے سب سے پہلے پتہ چلی وہ یہ ہے کہ میں اپنے چچاؤں کے ساتھ مکہ آیا تو ہماری رہنمائی سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی طرف کی گئی، ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ زم زم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، ہم ان کے پاس بیٹھ گئے، ہم ان کے پاس موجود تھے اسی دوران صفا والے دروازے کی طرف سے ایک شخص آیا جس کا رنگ گورا تھا اس پر سرخی غالب تھی اس کے بال لمبے تھے اور گھنگھریالے تھے اور کانوں کے کونوں تک آ رہے تھے وہ اٹھی ہوئی ناک کا مالک شخص تھا اور اس کے سامنے کے دانت چمک دار تھے اس کی آنکھوں کے سفید اور سیاہ رنگ میں چمک تھی اس کی داڑھی گھنی تھی سینے پر پتلے سے بال تھے ہتھیلی اور پاؤں پُر گوشت تھے اس نے دو سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے یوں لگ رہا تھا جیسے وہ چودھویں رات کا چاند ہو اس کے دائیں طرف ایک نوجوان چلتا ہوا آ رہا تھا جس کی داڑھی نہیں نکلی تھی اس کا چہرہ بھی خوبصورت تھا اور وہ قریب البلوغ تھا ان کے پیچھے ایک خاتون آ رہی تھی جس نے اپنی خوبصورتی کو پردے میں رکھا ہوا تھا یہ لوگ حجر اسود کے پاس آئے انہوں نے اس کا استلام کیا پھر اس لڑکے نے استلام کیا پھر اس خاتون نے استلام کیا پھر انہوں نے بیت اللہ کے سات چکر لگائے وہ لڑکا اور خاتون ان صاحب کے ساتھ چکر لگا رہے تھے جب بھی وہ رکن کا استلام کرتے تھے تو دونوں ہاتھ بلند کر کے تکبیر کہتے تھے پھر جب انہوں نے رکن کا استلام کر لیا تو انہوں نے دونوں ہاتھ بلند کر کے تکبیر کہی لڑکا ان کے دائیں طرف کھڑا ہو گیا اس نے دونوں ہاتھ بلند کر کے تکبیر کہی خاتون ان دونوں کے پیچھے کھڑی ہو گئی اس نے بھی دونوں ہاتھ بلند کر کے تکبیر کہی یہ لوگ خاصی دیر کھڑے رہے پھر یہ رکوع میں گئے تو خاصی دیر رکوع میں رہے پھر انہوں نے رکوع سے سر اٹھایا اور کھڑے رہے وہ سیدھے کھڑے رہے پھر وہ سجدے میں چلے گئے لڑکا اور عورت بھی ان کے ساتھ سجدے میں چلے گئے اور وہ اسی طرح کرتے رہے جس طرح وہ صاحب کرتے رہے وہ دونوں ان صاحب کی پیروی کر رہے تھے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نے ایک ایسی چیز دیکھی تھی جو ہم نے اُس سے پہلے مکہ میں نہیں دیکھی تھی، تو ہمیں یہ بڑی حیران کن لگی ہم سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے ہم نے کہا: اے ابوالفضل اس دین کے پہلے آپ کے درمیان مکہ میں موجود ہونے کے حوالے سے ہم واقف نہیں تھے کیا یہ کوئی نئی چیز آئی ہے تو انہوں نے بتایا اللہ کی قسم! جی ہاں! کیا تم انہیں نہیں جانتے؟ ہم نے جواب دیا: جی نہیں، انہوں نے کہا: یہ ہمارا بھتیجا محمد بن عبداللہ ہے، اور وہ لڑکا علی بن ابوطالب ہے، اور وہ عورت خدیجہ بنت خویلد ہے، اللہ کی قسم! اس دین کے مطابق روئے زمین پر اللہ کی عبادت کرنے والا اور کوئی نہیں ہے، صرف یہی تین افراد ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں دو راوی ہیں، ان میں سے ایک یحیی بن حاتم ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اور دوسرا راوی بشر بن مہران ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ابوحاتم نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ اس سے پہلے عفیف کندی کی نقل کردہ روایت اس بارے میں گزر چکی ہے جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے نقل کیا ہے، اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15267]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں دو راوی ہیں، ان میں سے ایک یحیی بن حاتم ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اور دوسرا راوی بشر بن مہران ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ابوحاتم نے اسے ضعیف کہا: ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ اس سے پہلے عفیف کندی کی نقل کردہ روایت اس بارے میں گزر چکی ہے جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے نقل کیا ہے، اور اس روایت کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15267]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10397)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15268
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَطَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْأَرْضِ أَرْبَعَةَ خُطُوطٍ، فَقَالَ:" أَتَدْرُونَ مَا هَذَا؟". فَقَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَفْضَلُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ خَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَرْيَمُ ابْنَةُ عِمْرَانَ، وَآسِيَةُ ابْنَةُ مُزَاحِمٍ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین پر چار لکیریں لگائیں، آپ نے دریافت کیا: کیا تم لوگ جانتے ہو؟ یہ کیا ہے، لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اہل جنت کی خواتین میں سب سے زیادہ فضیلت والی خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد، مریم بنت عمران اور آسیہ بنت مزاحم رضی اللہ عنہن ہیں جو فرعون کی اہلیہ تھیں۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15268]
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15268]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (2722) أخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11928) اخرجه احمد فى المسند (2668)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15269
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" بِحَسْبِكَ مِنْ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ أَرْبَعٌ: فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ، وَخَدِيجَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ، وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، وَآسِيَةُ بِنْتُ مُزَاحِمٍ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ الشَّاذَكُونِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تمام خواتین میں تمہارے لئے چار کافی ہیں (یعنی یہ چار نمایاں حیثیت رکھتی ہیں) فاطمہ بنت محمد، خدیجہ بنت خویلد، مریم بنت عمران اور آسیہ بنت مزاحم رضی اللہ عنہن۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن شاذ کونی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15269]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن شاذ کونی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15269]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف