🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

108. بَابُ فَضْلِ خَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ زَوْجَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -
نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15270
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَقَدْ فُضِّلَتْ خَدِيجَةُ عَلَى نِسَاءِ أُمَّتِي كَمَا فُضِّلَتْ مَرْيَمُ عَلَى نِسَاءِ الْعَالَمِينَ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَبُو يَزِيدَ الْحِمْيَرِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خدیجہ کو میری امت کی خواتین پر اسی طرح فضیلت دی گئی ہے جس طرح مریم کو تمام جہانوں کی خواتین پر فضیلت دی گئی ہے۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابویزید حمیری ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15270]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2655)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15271
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" سَيِّدَاتُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ: مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ، ثُمَّ فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ، ثُمَّ خَدِيجَةُ، ثُمَّ آسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اہل جنت کی خواتین کی سردار مریم بنت عمران ہیں پھر فاطمہ بنت محمد ہیں پھر خدیجہ بنت خویلد ہیں پھر آسیہ ہیں، جو فرعون کی اہلیہ تھیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15271]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12178)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15272
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أُمِرْتُ أَنْ أُبَشِّرَ خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ، لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ وَقَدْ صَرَّعَ بِالسَّمَاعِ.
سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں خدیجہ کو کھوکھلے موتی سے بنے ہوئے گھر کی خوشخبری دے دوں جس میں کوئی شور شرابہ اور کوئی پریشانی نہیں ہو گی۔
یہ روایت امام أحمد، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15272]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى المسند (6795) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10/23) أخرجه احمد فى المسند (1758)»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15273
وَعَنْ فَاطِمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَيْنَ أَمُّنَا خَدِيجَةُ؟ قَالَ:" فِي بَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ، لَا لَغْوَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ، بَيْنَ مَرْيَمَ وَآسِيَةَ". قَالَتْ: مِنْ هَذَا الْقَصَبُ؟ قَالَ:" لَا. بَلْ مِنَ الْقَصَبِ الْمَنْظُومِ بِالدُّرِّ وَاللُّؤْلُؤِ وَالْيَاقُوتِ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ طَرِيقِ مُهَاجِرِ بْنِ مَيْمُونٍ عَنْهَا، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَلَا أَظُنْهُ سَمِعَ مِنْهَا، وَاللَّهُ أَعْلَمُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی: ہماری والدہ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کہاں ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موتی سے بنے ہوئے کھوکھلے گھر میں ہے، جس میں کوئی شور شرابہ اور کوئی پریشانی نہیں ہو گی وہ مریم اور آسیہ کے درمیان ہیں۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: اس موتی سے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں بلکہ ایسے موتی سے، جس میں قیمتی پتھر اور موتی اور یاقوت پروئے ہوئے ہوتے ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں مہاجر بن میمون کے حوالے سے خاتون سے نقل کی ہے اور میں مہاجر سے واقف نہیں ہوں، میرا خیال ہے اس نے اس خاتون سے سماع نہیں کیا ہو گا۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15273]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (443)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15274
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُئِلَ عَنْ خَدِيجَةَ أَنَّهَا مَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَنْزِلَ الْفَرَائِضَ وَالْأَحْكَامَ؟ قَالَ:" أَبْصَرْتُهَا عَلَى نَهَرٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ، فِي بَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ لَا لَغْوَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ".
وَسُئِلَ عَنْ أَبِي طَالِبٍ: هَلْ نَفَعْتُهُ؟ قَالَ:" أَخْرَجْتُهُ مِنْ جَهَنَّمَ إِلَى ضَحْضَاحٍ مِنْهَا". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، وَقَدْ وُثِّقَ وَخَاصَّةً فِي أَحَادِيثِ جَابِرٍ.
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں دریافت کیا گیا کیونکہ ان کا انتقال فرائض اور احکام کا حکم نازل ہونے سے پہلے ہو گیا تھا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اسے نہر کے کنارے جنت میں موجود کھوکھلے موتی سے بنے ہوئے گھر میں دیکھا ہے جس میں کوئی شور شرابہ اور کوئی پریشانی نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جناب ابوطالب کے بارے میں دریافت کیا گیا کہ کیا آپ نے انہیں کوئی نفع پہنچایا ہے؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں انہیں جہنم سے نکال کر اس کے سب سے اوپر والے حصے میں لے کے آیا ہوں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف سعید بن مجالد کا معاملہ مختلف ہے، اور اس کی توثیق کی گئی ہے خاص طور پر ان احادیث میں کی گئی ہے جو سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15274]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8/23)»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15275
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ قَالَا: بَشَّرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ، لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ. قُلْتُ: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الصَّحِيحِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّهَيْرِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت میں کھوکھلے موتی سے بنے ہوئے گھر کی خوشخبری دی تھی جس میں کوئی شور شرابہ اور کوئی پریشانی نہیں ہو گی۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث صحیح میں مذکور ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ زہری ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15275]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1768)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15276
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ رِئَابٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِخَدِيجَةَ: إِنَّ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - أَتَانِي، فَقَالَ: بَشِّرْ خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ، لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا جابر بن رئاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے یہ کہا: کہ آپ خدیجہ کو کھوکھلے موتی سے بنے ہوئے گھر کی خوشخبری سنا دیں جس میں کوئی شور شرابہ اور کوئی پریشانی نہیں ہو گی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی وازع بن نافع ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15276]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11818)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15277
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ مَعَ خَدِيجَةَ، إِذْ أَتَاهُ جِبْرِيلُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، أَقْرِئْ خَدِيجَةَ السَّلَامَ، وَبَشِّرْهَا فِي الْجَنَّةِ بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبٍ، لَا أَذًى فِيهِ وَلَا نَصَبَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے اور بولے: اے سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو سلام کہہ دیں، اور جنت میں موجود ایک گھر کی خوشخبری سنا دیں جو کھوکھلے موتی سے بنا ہوا ہو گا اس میں کوئی تکلیف اور کوئی پریشانی نہیں ہو گی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15277]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15278
وَعَنِ ابْنِ أَبِي أَوْفَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" قَالَ لِي جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: بَشِّرْ خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ مِنْ قَصَبٍ، لَا صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَبَ". يَعْنِي قَصَبَ اللُّؤْلُؤِ. قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي سَمِينَةَ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ.
سیدنا ابن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جبرائیل نے مجھ سے کہا: سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت میں موجود ایک گھر کی خوشخبری دے دیں جو کھوکھلے موتی سے بنا ہوا ہو گا اور اس میں کوئی شور شرابہ اور کوئی پریشانی نہیں ہو گی۔ راوی کہتے ہیں: اس سے مراد کھوکھلا موتی ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں صحیح میں اس کا کچھ مذکور ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن ابوسمینہ کا معاملہ مختلف ہے، ایک سے زیادہ افراد نے اس کو ثقہ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15278]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (19)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15279
وَعَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُكْثِرُ ذِكْرَ خَدِيجَةَ، فَقُلْتُ: مَا أَكْثَرَ مَا تُكْثِرُ مِنْ ذِكْرِ خَدِيجَةَ، وَقَدْ أَخْلَفَ اللَّهُ تَعَالَى لَكَ مِنْ عَجُوزٍ حَمْرَاءِ الشِّدْقَيْنِ، وَقَدْ هَلَكَتْ فِي دَهْرٍ؟! فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَضَبًا مَا رَأَيْتُهُ غَضِبَ مِثْلَهُ قَطُّ وَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ رَزَقَهَا مِنِّي مَا لَمْ يَرْزُقْ أَحَدًا مِنْكُنَّ". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اعْفُ عَنِّي، وَاللَّهِ لَا تَسْمَعُنِي أَذْكُرُ خَدِيجَةَ بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ بِشَيْءٍ تَكْرَهُهُ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اکثر ذکر کیا کرتے تھے، میں نے کہا: کیا وجہ ہے کہ آپ سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اکثر ذکر کرتے رہتے ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ نے اس سرخ ہونٹوں والی بوڑھی عورت کی جگہ آپ کو دوسری بیویاں دے دی ہیں اور اس عورت کو انتقال کیے ہوئے بھی ایک زمانہ گزر گیا ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آ گئے، میں نے آپ کو اس طرح غصے میں کبھی نہیں دیکھا، آپ نے ارشاد فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ نے اسے مجھ سے وہ چیز عطا کی جو تم میں سے کسی کو عطا نہیں کی، میں نے عرض کی یا رسول اللہ! آپ مجھے معاف کر دیں، اللہ کی قسم! آج کے دن بعد آپ مجھے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا اس حوالے سے ذکر کرتے ہوئے نہیں سنیں گے جو آپ کو ناپسند ہو۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15279]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11/23)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں