مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
108. بَابُ فَضْلِ خَدِيجَةَ بِنْتِ خُوَيْلِدٍ زَوْجَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -
نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 15280
وَفِي رِوَايَةٍ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا ذَكَرَ خَدِيجَةَ لَمْ يَكُنْ يَسْأَمُ مِنْ ثَنَاءٍ عَلَيْهَا وَالِاسْتِغْفَارِ، قَالَ:" وَرُزِقَتْ مِنِّي الْوَلَدَ إِذْ حُرِمْتُنَّهُ مِنِّي". فَغَدَا عَلَيَّ بِهَا وَرَاحَ شَهْرًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَسَانِيدُهُ حَسَنَةٌ.
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کرتے تھے تو ہمیشہ ان کی تعریف کیا کرتے تھے اور ان کے لئے دعائے مغفرت کیا کرتے تھے آپ یہ فرماتے تھے: ”اسے مجھ سے اولاد نصیب ہوئی تھی جب کہ تم مجھ سے اولاد سے محروم رہی ہو۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس حوالے سے ایک ماہ تک ذکر کرتے رہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15280]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15280]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13/23)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 15281
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا ذَكَرَ خَدِيجَةَ أَثْنَى فَأَحْسَنَ الثَّنَاءَ، قَالَتْ: فَغِرْتُ يَوْمًا، فَقُلْتُ: مَا أَكْثَرَ مَا تَذْكُرُ حَمْرَاءَ الشِّدْقَيْنِ! قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ خَيْرًا مِنْهَا. قَالَ:" أَبْدَلَنِي اللَّهُ خَيْرًا مِنْهَا؟! قَدْ آمَنَتْ بِي إِذْ كَفَرَ بِيَ النَّاسُ، وَصَدَّقَتْنِي إِذْ كَذَّبَنِي النَّاسُ، وَوَاسَتْنِي بِمَالِهَا إِذْ حَرَمَنِي النَّاسُ، وَرَزَقَنِي اللَّهُ أَوْلَادَهَا وَحَرَمَنِي أَوْلَادَ النَّاسِ". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کا ذکر کرتے تھے تو ان کی اچھی طرح سے تعریف کرتے تھے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ایک دن مجھے غصہ آ گیا، میں نے کہا: آپ اس سرخ اونٹوں والی خاتون کا کتنا تذکرہ کرتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے بدلے میں زیادہ بہتر بیویاں عطا کر دی ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا اللہ تعالیٰ نے اس سے زیادہ بہتر مجھے عطا کی ہیں؟ وہ اس وقت مجھ پر ایمان لائی تھی جب لوگوں نے میرا انکار کیا تھا، اس نے اس وقت میری تصدیق کی تھی جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا تھا، اس نے اپنے مال کے ذریعے میرا اس وقت ساتھ دیا تھا جب لوگوں نے مجھے محروم رکھنا چاہا تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کے ذریعے اولاد عطا کی اور دوسرے لوگوں کے ذریعے اولاد عطا نہیں کی۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15281]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15281]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (117/6)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 15282
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، أَنَّ جِبْرِيلَ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَتْ خَدِيجَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" يَا جِبْرِيلُ، هَذِهِ خَدِيجَةُ". فَقَالَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -: أَقْرِئْهَا مِنَ اللَّهِ السَّلَامَ وَمِنِّي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
عبدالرحمن بن ابولیلیٰ بیان کرتے ہیں: سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اسی دوران سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آ گئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے جبرائیل! یہ خدیجہ ہے۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا: آپ انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور میری طرف سے سلام کہہ دیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15282]
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15282]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (15/23)»
الحكم على الحديث: مرسل، ولکن رجالُہ رجالُ الصحیح۔
حدیث نمبر: 15283
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرٍ قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ بِحِرَاءٍ، فَقَالَ: هَذِهِ خَدِيجَةُ قَدْ جَاءَتْ بِحَيْسٍ فِي غَرْزَتِهَا، فَقُلْ لَهَا: إِنَّ اللَّهَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ، فَلَمَّا جَاءَتْ قَالَ لَهَا:" إِنَّ جِبْرِيلَ أَعْلَمَنِي بِكِ وَبِالْحَيْسِ الَّذِي فِي غَرْزَتِكِ قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَ، فَقَالَ: اللَّهُ يُقْرِئُهَا السَّلَامُ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سعید بن کثیر بیان کرتے ہیں: سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت حرا میں موجود تھے، انہوں نے کہا: سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا حیس (نامی کھانا) لے کے آ رہی ہیں جو چمڑے کے برتن میں ہے، آپ ان سے یہ کہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام کہا: ہے، جب سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا آئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: جبرائیل نے مجھے بتایا اور اس حیس (نامی کھانے) کے بارے میں بتایا جو تمہارے چمڑے کے برتن میں ہے، ایسا تمہارے آنے سے پہلے ہوا اور جبرائیل نے یہ بھی بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں سلام کہا: ہے، تو سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے کہا: وہ سلامتی عطا کرنے والا ہے اسی سے سلامتی عطا ہوتی ہے، اور سیدنا جبرائیل کو بھی سلام ہو۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15283]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15283]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (15/23)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15284
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: أَطْعَمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَدِيجَةَ مِنْ عِنَبِ الْجَنَّةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کو جنت کا انگور کھلایا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15284]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15284]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف