مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
112. بَابٌ جَامِعٌ فِيمَا بَقِيَ مِنْ فَضْلِهَا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل میں سے جو باقی رہ گیا ہے ان کا مجموعہ
حدیث نمبر: 15327
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا رَأَيْتُ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طِيبَ نَفْسٍ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ لِي قَالَ:" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَائِشَةَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهَا وَمَا تَأَخَّرَ، وَمَا أَسَرَّتْ وَمَا أَعْلَنَتْ".
فَضَحِكَتْ عَائِشَةُ حَتَّى سَقَطَ رَأْسُهَا فِي حِجْرِهَا مِنَ الضَّحِكِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَيَسُرُّكِ دُعَائِي؟". فَقَالَتْ: وَمَا لِي لَا يَسُرُّنِي دُعَاؤُكَ؟ فَقَالَ:" وَاللَّهِ إِنَّهَا لَدَعْوَتِي لِأُمَّتِي فِي كُلِّ صَلَاةٍ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيَّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
فَضَحِكَتْ عَائِشَةُ حَتَّى سَقَطَ رَأْسُهَا فِي حِجْرِهَا مِنَ الضَّحِكِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَيَسُرُّكِ دُعَائِي؟". فَقَالَتْ: وَمَا لِي لَا يَسُرُّنِي دُعَاؤُكَ؟ فَقَالَ:" وَاللَّهِ إِنَّهَا لَدَعْوَتِي لِأُمَّتِي فِي كُلِّ صَلَاةٍ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَحْمَدَ بْنِ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيَّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک دن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزاج کو خوشگوار دیکھا تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لئے دعا کیجئے، آپ نے فرمایا: ”اے اللہ! تو عائشہ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دے اور جو اس نے پوشیدہ طور پر کیا یا جو اعلانیہ طور پر کیا (اس کی بھی مغفرت کر دے)۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہنس پڑیں، یہاں تک کہ ہنسنے کی شدت کی وجہ سے ان کا سر ان کی گود میں آ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میری دعا تمہیں پسند آئی ہے، انہوں نے جواب دیا: کیا وجہ ہے مجھے آپ کی دعا کیوں اچھی نہ لگے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں ہر نماز میں اپنی امت کے لئے یہ دعا کرتا ہوں۔“
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں صرف أحمد بن منصور مادی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15327]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں صرف أحمد بن منصور مادی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15327]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2658)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15328
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ [أَنَّهُ] قَالَ [لَهَا] :"
إِنَّمَا سُمِّيتِ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ لِتَسْعَدِي، وَإِنَّهُ لَاسْمُكِ قَبْلَ أَنْ تُولَدِي". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ.
إِنَّمَا سُمِّيتِ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ لِتَسْعَدِي، وَإِنَّهُ لَاسْمُكِ قَبْلَ أَنْ تُولَدِي". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ شعر کہا: ”آپ کا نام اُم المؤمنین رکھا گیا ہے تاکہ آپ کی سعادت ظاہر ہوا اور آپ کا یہ نام آپ کی پیدائش سے پہلے تجویز کر دیا گیا تھا۔“
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15328]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15328]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (1906)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف