مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
112. بَابٌ جَامِعٌ فِيمَا بَقِيَ مِنْ فَضْلِهَا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے فضائل میں سے جو باقی رہ گیا ہے ان کا مجموعہ
حدیث نمبر: 15317
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ: مَا رَأَيْتُ امْرَأَةً أَعْلَمَ بِطِبٍّ، وَلَا بِفِقْهٍ، وَلَا بِشِعْرٍ مِنْ عَائِشَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادِ الَّذِي قَبْلَهُ.
عروہ بیان کرتے ہیں: میں نے ایسی کوئی خاتون نہیں دیکھی جو علم طب، علم فقہ اور شاعری کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ علم رکھتی ہو۔
یہ روایت امام طبرانی نے اسی سند کے ساتھ نقل کی ہے جو اس سے پہلے والی روایت کی سند ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15317]
یہ روایت امام طبرانی نے اسی سند کے ساتھ نقل کی ہے جو اس سے پہلے والی روایت کی سند ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15317]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (182/23)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 15318
وَعَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" لَوْ جُمِعَ عِلْمُ نِسَاءِ هَذِهِ الْأُمَّةِ فِيهِنَّ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ عِلْمُ عَائِشَةَ أَكْثَرَ مِنْ عِلْمِهِنَّ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
عروہ بیان کرتے ہیں: میں نے ایسی کوئی خاتون نہیں دیکھی جو علم طب، علم فقہ اور شاعری کے بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ علم رکھتی ہو۔
یہ روایت امام طبرانی نے اسی سند کے ساتھ نقل کی ہے جو اس سے پہلے والی روایت کی سند ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15318]
یہ روایت امام طبرانی نے اسی سند کے ساتھ نقل کی ہے جو اس سے پہلے والی روایت کی سند ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15318]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (184/23)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15319
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ خَطِيبًا قَطُّ أَبْلَغَ وَلَا أَفْصَحَ وَلَا أَفْطَنَ مِنْ عَائِشَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اللہ کی قسم! میں نے کبھی کوئی ایسا خطیب نہیں دیکھا جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ فصیح اور سمجھ دار ہو۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15319]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15319]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (183/23)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15320
وَعَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَفْصَحَ مِنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ خُطْبَتُهَا فِي مَنَاقِبِ أَبِيهَا.
موسیٰ بن طلحہ بیان کرتے ہیں: میں نے کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ فصیح ہو۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: اس سے پہلے ان کے والد کے مناقب سے متعلق باب میں ان کے خطبے کے بارے میں روایات گزر چکی ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15320]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: اس سے پہلے ان کے والد کے مناقب سے متعلق باب میں ان کے خطبے کے بارے میں روایات گزر چکی ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15320]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (182/23)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15321
وَعَنْ مُعَاوِيَةَ: أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: وَاللَّهِ مَا هِبْتُ الْكَلَامَ عِنْدَ أَحَدٍ هَيْبَتِي عِنْدَ عَائِشَةَ، وَمَا سَمِعْتُ كَلَامَهَا إِلَّا ذَكَرْتُ كَلَامَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ [الْكَلْبِيُّ] ، وَهُوَ كَذَّابٌ.
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ یہ فرماتے تھے: اللہ کی قسم! میں کسی کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اتنا ہیبت زدہ نہیں ہوتا، جتنا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس رہ کر ہیبت زدہ ہوتا ہوں، میں نے جب بھی ان کی گفتگو سنی، تو مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام یاد آ گیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سائب کلبی ہے اور وہ کذاب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15321]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سائب کلبی ہے اور وہ کذاب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15321]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (332/19)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً
حدیث نمبر: 15322
وَعَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: كُلُّ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ عَائِشَةَ، قُلْتُ لَهُ: أَمَّا أَنْتَ فَقَدَ خَالَفْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; هِيَ كَانَتْ أَحَبَّهُنَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
عامر شعبی بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے کہا: میرے نزدیک تمام امہات المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ محبوب ہیں، تو میں نے اس سے کہا: تم نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے برخلاف کیا ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک تمام امہات المؤمنین سے زیادہ محبوب تھیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15322]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15322]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (182/23)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15323
وَعَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، فَقُلْتُ: أَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقَالَتْ: فِي الْبَيْتِ يُوحَى إِلَيْهِ، ثُمَّ مَكَثْتُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ أَمْكُثَ، ثُمَّ سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدُ يَقُولُ:" يَا عَائِشَةُ، هَذَا جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گھر آئی۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول کہاں ہیں؟ انہوں نے بتایا گھر کے اندر ہیں، اور آپ کی طرف وحی نازل ہو رہی ہے، پھر جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا، میں وہاں ٹھہری رہی پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بعد میں یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”اے عائشہ! یہ جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہا ہے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15323]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15323]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (127/24)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15324
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ.
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عائشہ کو تمام خواتین پر وہی فضیلت حاصل ہے جو ثرید کو تمام کھانوں پر حاصل ہے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں البتہ ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے اپنے والد (سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ) سے سماع نہیں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15324]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں البتہ ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے اپنے والد (سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ) سے سماع نہیں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15324]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (42/23)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 15325
وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدٍ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" إِنَّ عَائِشَةَ تُفَضَّلُ عَلَى النِّسَاءِ كَمَا يُفَضَّلُ الثَّرِيدُ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
مصعب بن سعد نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات نقل کی ہے آپ نے ارشاد فرمایا ہے: ”عائشہ کو تمام خواتین پر وہی فضیلت حاصل ہے جو فضیلت ثرید کو تمام کھانوں پر حاصل ہے۔“
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15325]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15325]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1999)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 15326
وَعَنْ قُرَّةَ بْنِ إِيَاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدنا قرہ بن ایاس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عائشہ کو تمام خواتین پر وہی فضیلت حاصل ہے جو فضیلت ثرید کو تمام کھانوں پر حاصل ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15326]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15326]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (28/19)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔