🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

183. بَابُ مَا جَاءَ فِي فَضْلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -
حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی فضٰلت کے بارے میں، جو کچھ منقول ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15697
وَعَنْ مُعَيْقِيبٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ الْعَنْبَرِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ: يَغْرُبُ، وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَأَبُو زُرْعَةَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا معیقیب رضی اللہ عنہ میرا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: سعد بن معاذ کی موت پر عرش ہل گیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن مالک عنبری ہے، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے، وہ کہتے ہیں: یہ غریب روایات نقل کرتا ہے، ابوحاتم اور ابوزرعہ نے اسے ضعیف کہا: ہے، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15697]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5341)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15698
وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَاصٍ - قَالَ: مَرَّتْ جِنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَقَدِ اهْتَزَّ لَهُ الْعَرْشُ". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَوُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ، وَصَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَالِحٍ التَّمَّارُ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا جنازہ گزرا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کے لئے عرش ہل گیا ہے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن محمد زہری ہے، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے، اور اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے، اس میں ایک راوی صالح بن محمد بن صالح نمار ہے، اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15698]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2700)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15699
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: لَمَّا مَاتَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ بَكَى أَبُو بَكْرٍ، وَبَكَى عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - حَتَّى عُرِفَ بُكَاءُ أَبِي بَكْرٍ، مِنْ بُكَاءِ عُمَرَ، وَبُكَاءُ عُمَرَ مِنْ بُكَاءِ أَبِي بَكْرٍ، فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْكِي؟ قَالَتْ: لَا، وَلَكِنَّهُ كَانَ يَقْبِضُ عَلَى لِحْيَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی رونے لگے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی رونے لگے، یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا، اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا رونا، نمایاں محسوس ہو رہا تھا، راوی کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رو رہے تھے؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: جی نہیں! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی داڑھی مبارک مٹھی میں لی ہوئی تھی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں، اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15699]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5530)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15700
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ جِنَازَةِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ وَدُمُوعُهُ تُحَادِرُ عَلَى لِحْيَتِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سَهْلٌ أَبُو حُرَيْزٍ ضَعِيفٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے جنازے سے واپس تشریف لائے، تو آپ کے آنسو آپ کی داڑھی پر گر رہے تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سہل ابوحریز ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15700]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (15/18)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15701
وَعَنْ عُطَارِدٍ: أَنَّهُ أُهْدِيَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَوْبُ دِيبَاجٍ كَسَاهُ إِيَّاهُ كِسْرَى، فَدَخَلَ أَصْحَابُهُ فَقَالُوا: أُنْزِلَتْ عَلَيْكَ مِنَ السَّمَاءِ؟ فَقَالَ:" وَمَا تَعْجَبُونَ مِنْ ذَا؟ لَمِنْدِيلٌ مِنْ مَنَادِيلِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْ هَذَا". ثُمَّ قَالَ:" يَا غُلَامُ، اذْهَبْ بِهِ إِلَى أَبِي جَهْمِ بْنِ حُذَيْفَةَ وَقُلْ لَهُ يَبْعَثُ إِلَيَّ بِالْخَمِيصَةِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
عطارد کے بارے میں یہ بات منقول ہے: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیباج کا کپڑا تحفے کے طور پر دیا، جو کسریٰ نے انہیں پہننے کے لئے دیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے پاس تشریف لائے، تو انہوں نے عرض کی: کیا یہ آسمان سے آپ پر نازل ہوا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اس پر حیران ہو رہے ہو؟ جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے زیادہ بہتر ہیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے لڑکے! تم اس کپڑے کو ابوجہم بن حذیفہ کے پاس لے جاؤ، اور اُس سے کہو کہ وہ حمیصہ نامی چادر میری طرف بھجوا دے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، صرف عبدالرحمن بن عمرو بن سعد بن معاذ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15701]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15702
وَعَنْ أَنَسٍ: أَنْ أُكَيْدِرَ الدَّوْمَةِ بَعَثَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جُبَّةَ سُنْدُسٍ، فَلَبِسَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَعَجَّبَ النَّاسُ مِنْهَا، فَقَالَ:" أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذِهِ! فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنْهَا". ثُمَّ أَهْدَاهَا إِلَى عُمَرَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَكْرَهُهَا وَأَلْبَسُهَا! قَالَ:" يَا عُمَرُ، إِنَّمَا أَرْسَلْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَبْعَثَهَا وَجْهًا فَتُصِيبَ بِهَا مَالًا". وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُنْهَى عَنِ الْحَرِيرِ. قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ بَعَثَهَا إِلَى عُمَرَ إِلَى آخِرِهِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: دومہ کے (حکمران) اکیدر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سندس سے بنا ہوا جبہ بھیجا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہن لیا، لوگ اس پر حیران ہوئے (یعنی انہیں وہ بہت زیادہ پسند آیا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس پر حیران ہو رہے ہو؟ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے زیادہ بہتر ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیا، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے اسے ناپسند کیا ہے، تو کیا میں اس کو پہن لوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عمر! یہ میں نے تمہاری طرف اس لئے بھجوایا ہے تاکہ تم یہ کسی کو دے کر اس کے عوض میں مال حاصل کر لو۔ راوی کہتے ہیں: یہ ریشم کی ممانعت سے پہلے کی بات ہے۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے، جس میں صرف یہ ذکر ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ جبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیا تھا، اس کے بعد سے لے کر آخر تک کا حصہ مذکور ہے،
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15702]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2702)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15703
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: ثَلَاثَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ كُلُّهُمْ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ يَعْتَدُّ عَلَيْهِمْ فَضْلًا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا: أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
سیده عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والے تین افراد ہیں، ان تینوں کا تعلق بنو عبدالاشہل سے ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی ایک کی ان پر فضیلت شمار نہیں کی جاتی، سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عباد بن بشر رضی اللہ عنہ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں، البتہ ابن اسحاق نامی راوی مدلس ہے اور وہ ثقہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15703]
تخریج الحدیث: «اخرجه أبو يعلى فى المسند (4389) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (900)»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15704
عَنْ أُمِّ سَعْدٍ بِنْتِ سَعْدِ بْنِ الرَّبِيعِ: أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَأَلْقَى لَهَا ثَوْبًا حَتَّى جَلَسَتْ عَلَيْهِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَقَالَ: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ، مَنْ هَذِهِ؟ قَالَ: هَذِهِ بِنْتُ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي وَمِنْكَ إِلَّا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ قُبِضَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ تَبَوَّأَ مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ ] وَبَقِيتُ أَنَا وَأَنْتَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زَيْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدہ ام سعد بنت سعد بن ربیع رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئیں، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے کپڑا بچھا دیا، تو وہ اس پر بیٹھ گئیں، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول کے خلیفہ! یہ خاتون کون ہے؟ تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: یہ اس شخص کی صاحبزادی ہے، جو مجھ سے اور تم سے بہتر ہے، البتہ اللہ کے رسول کا معاملہ مختلف ہے، وہ ایک ایسا فرد ہے، جس کا انتقال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہو گیا تھا، اور اس نے جنت میں اپنا ٹھکانہ بنا لیا اور میں اور تم باقی رہ گئے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن قیس بن سعد بن زید ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15704]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5410)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15705
قَدْ رَوَى الطَّبَرَانِيُّ: أَنَّهُ شَهِدَ الْعَقَبَةَ وَهُوَ نَقِيبٌ بَدْرِيٌّ. وَقَدْ تَقَدَّمَ.
امام طبرانی نے یہ بات نقل کی ہے: انہیں بیعت عقبہ میں شرکت کا شرف حاصل ہے، یہ نقیب ہیں اور انہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے، یہ بات اس سے پہلے گزر چکی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15705]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (547)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں