الجامع الكامل سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4732. 5- باب قوله: إِذْ قَالَتِ امْرَأَتُ عِمْرَانَ رَبِّ إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّي إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ (35) فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ إِنِّي وَضَعْتُهَا أُنْثَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنْثَى وَإِنِّي سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ (36)
اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بیان میں کہ: ”جب عمران کی اہلیہ نے عرض کیا کہ اے میرے پروردگار! جو کچھ میرے بطن میں ہے، میں نے اسے تیرے لیے (دنیاوی علائق سے) آزاد یعنی خالص تیری خدمت کے لیے وقف کرنے کی نذر مانی ہے، پس تو اسے میری جانب سے قبول فرما لے، بے شک تو ہی سب کچھ سننے والا اور خوب جاننے والا ہے، پھر جب انہوں نے اس بچی کو جنم دیا تو (حسرت سے) عرض کیا کہ اے میرے رب! میں نے تو لڑکی جنی ہے—حالانکہ اللہ خوب جانتا تھا کہ انہوں نے کیا جنا ہے—اور وہ لڑکا (جس کی وہ تمنا کر رہی تھیں) اس لڑکی جیسا (باعظمت) نہیں ہو سکتا، اور میں نے اس کا نام مریم رکھا ہے، اور میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود کے شر سے تیری پناہ میں دیتی ہوں“۔
حدیث نمبر: Q12069
عمران: هو والد مريم، وكان اسم والد موسى وهارون أيضا عمران، فلعله سمى به تيمّنا، كما أن امرأة عمران سمّت المولودة باسم مريم تيمّنا بتسمية أخت موسى وهارون.
قوله: مُحَرَّرًا أي: مخلصا ومفرغا للعبادة، ولخدمة بيت المقدس.
وقوله: إخبارا عن أم مريم: وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ فاستجاب الله دعاءها كما جاء في الحديث الصحيح:
قوله: مُحَرَّرًا أي: مخلصا ومفرغا للعبادة، ولخدمة بيت المقدس.
وقوله: إخبارا عن أم مريم: وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ فاستجاب الله دعاءها كما جاء في الحديث الصحيح:
حدیث نمبر: 12069
12069- عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ما من مولود إلا والشيطان يمسُّه حين يولد، فيستهل صارخا من مس الشيطان إياه، إلا مريم وابنها ثم يقول أبو هريرة: واقرؤوا إن شئتم: وَإِنِّي أُعِيذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ.
تخریج الحدیث: «متفق عليه: رواه البخاري في التفسير (4548) ومسلم في الفضائل (2366) كلاهما من طريق معمر، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، عن أبي هريرة، فذكره، واللفظ للبخاري،ولفظ مسلم نحوه.»
الحكم على الحديث: متفق عليه