السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
135. جماع أبواب الحدث -- باب: الوضوء من البول والغائط
حدث (بے وضو ہونے) کے احکام کے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: پیشاب اور پاخانے کی وجہ سے وضو کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 555
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، وَغَيْرُهُمَا قَالُوا: أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ، أنا الزُّهْرِيُّ، ⦗١٨٤⦘ أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللهِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: شُكِيَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلِمَ الرَّجُلُ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ الشَّيْءُ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ:" لَا يَنْفَتِلْ حَتَّى يَسْمَعَ صَوْتًا أَوْ يَجِدَ رِيحًا". قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي رِوَايَةِ أَبِي سَعِيدٍ: فَلَمَّا دَلَّتِ السُّنَّةُ عَلَى أَنَّ الرَّجُلَ يَنْصَرِفُ مِنَ الصَّلَاةِ بِالرِّيحِ كَانَتِ الرِّيحُ مِنْ سَبِيلِ الْغَائِطِ، وَكَانَ الْغَائِطُ أَكْثَرَ مِنْهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، وَغَيْرِهِ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ وَغَيْرِهِ، كُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ.
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کی شکایت کی گئی جسے نماز میں کسی چیز کا خیال آ جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ نہ پھرے یہاں تک کہ آواز سن لے یا بدبو پا لے۔“
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ہوا خارج ہو جائے تو نماز چھوڑ دینا سنت ہے۔ یہ بھی بول براز کی طرح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 555]
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب ہوا خارج ہو جائے تو نماز چھوڑ دینا سنت ہے۔ یہ بھی بول براز کی طرح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 555]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 137»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 556
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ الشَّرْقِيِّ، نا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَرَّاءُ، وَقَطَنُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ هَمَّامٍ، قَالَ: بَالَ جَرِيرٌ ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ فَقِيلَ لَهُ: تَفْعَلُ هَذَا وَقَدْ بُلْتَ؟ قَالَ:" نَعَمْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَالَ وَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ". قَالَ إِبْرَاهِيمُ: فَكَانَ يعْجِبُهُمْ هَذَا الْحَدِيثُ لِأَنَّ إِسْلَامَ جَرِيرٍ كَانَ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ. لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ طَهْمَانَ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ أَنَّهُ بَالَ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقُلْنَا لَهُ: مَا هَذَا الَّذِي صَنَعْتَ؟ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ الَّذِي صَنَعْتُ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ. وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنِ الْأَعْمَشِ.
ہمام رحمہ اللہ کہتے ہیں: (الف) سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا تو ان سے کہا گیا: آپ یہ کرتے ہیں حالانکہ آپ نے پیشاب کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ”جی ہاں! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔“ ابراہیم رحمہ اللہ کہتے ہیں: لوگوں کو یہ حدیث بہت پسند تھی، کیونکہ سیدنا جریر رضی اللہ عنہ کا اسلام سورۂ مائدہ کے نزول کے بعد کا تھا۔
(ب) سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ ہم نے ان سے کہا: آپ نے یہ کیا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا جیسے میں نے کیا۔“
(ج) امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ روایت اعمش رحمہ اللہ سے دوسری سند کے ساتھ نقل کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 556]
(ب) سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے پیشاب کیا، پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا۔ ہم نے ان سے کہا: آپ نے یہ کیا کیا ہے؟ انہوں نے کہا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا جیسے میں نے کیا۔“
(ج) امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ روایت اعمش رحمہ اللہ سے دوسری سند کے ساتھ نقل کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 556]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 380»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 557
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ الْبَيْرُوتِيُّ، أنا أَبُو شُعَيْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَاصِمِ ابْنِ بَهْدَلَةَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي النَّجُودِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، قَالَ: أَتَيْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّكَ كُنْتَ امْرَأً مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنَّهُ قَدْ حَاكَ فِي صَدْرِي الْمَسْحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ مِنَ الْبَوْلِ وَالْغَائِطِ، فَأَخْبِرْنِي بِشَيْءٍ إِنْ كُنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ ⦗١٨٥⦘ قَالَ:" كَانَ يَأْمُرُنَا إِذَا كُنَّا سَفَرًا أَوْ مُسَافِرِينَ أَنْ لَا نَخْلَعَ خِفَافَنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَلَيَالِيَهِنَّ إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، لَكِنْ مِنْ بَوْلٍ أَوْ غَائِطٍ أَوْ نَوْمٍ".
زر بن حبیش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے کہا: آپ اصحابِ رسول میں سے ہیں، میرے سینے میں یہ بات کھٹکتی ہے کہ قضائے حاجت اور پیشاب کرنے سے موزوں پر مسح درست ہے یا نہیں، مجھے اس کے بارے میں خبر دیجیے؛ اگر آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ سنا ہے۔ انہوں نے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو حکم دیا کرتے تھے کہ ”جب تم سفر میں ہو تو سوائے جنابت کے اپنے موزوں کو تین دن اور تین راتیں نہ اتارو لیکن پیشاب، قضائے حاجت اور نیند سے نہ اتارنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 557]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه الترمذي 3535»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 558
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ شِيرَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ، قَالَ:" رَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ لِلْمُسَافِرِ ثَلَاثًا إِلَّا مِنْ جَنَابَةٍ، وَلَكِنْ مِنْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ أَوْ رِيحٍ". قَالَ أَبُو الْوَلِيدِ: لَمْ يَقُلْ: أَوْ رِيحٍ غَيْرُ مِسْعَرٍ.
سیدنا صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسح کرنے میں رخصت دی، مسافر کے لیے تین دن تک، مگر جنابت سے (اتارے جائیں گے) اور قضائے حاجت، پیشاب اور ہوا کے خارج ہونے سے نہیں اتارے جائیں گے۔“
(ب) ابو ولید کہتے ہیں کہ «أَوْ رِيحٍ» کے الفاظ مسعر کے علاوہ کسی نے نہیں کہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 558]
(ب) ابو ولید کہتے ہیں کہ «أَوْ رِيحٍ» کے الفاظ مسعر کے علاوہ کسی نے نہیں کہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 558]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 559
وَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الْحَارِثِيُّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُبَشِّرٍ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ بِوَاسِطَ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَ عَلِيٌّ: وَحَدَّثَنَا أَبُو الطَّيِّبِ يَزِيدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ يَزِيدَ الْبَزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْحَسَّانِيُّ، قَالَا: نا وَكِيعٌ، نا مِسْعَرٌ، فَذَكَرَهُ بِمِثْلِهِ. قَالَ عَلِيٌّ: لَمْ يَقُلْ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: أَوْ رِيحٍ غَيْرُ وَكِيعٍ، عَنْ مِسْعَرٍ.
مسعر رحمہ اللہ نے اسی طرح بیان کیا ہے۔ علی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث میں «أَوْ رِيحٍ» کے الفاظ وکیع عن مسعر کی روایت سے کسی اور نے نہیں کہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 559]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن