السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
232. -- باب: الرجل يعزب عن الماء ومعه أهله فيصيبها إن شاء، ثم يتيمم
-- باب: اس آدمی کا بیان جو پانی سے دور ہو اور اس کی بیوی اس کے ساتھ ہو، تو اگر چاہے اس سے صحبت کرے اور پھر تیمم کر لے
حدیث نمبر: 1042
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَامِرٍ، قَالَ: دَخَلْتُ فِي الْإِسْلَامِ فَهَمَّنِي دِينِي فَأَتَيْتُ أَبَا ذَرٍّ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: اجْتَوَيْتُ الْمَدِينَةَ فَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَوْدٍ وَبِغَنَمٍ فَقَالَ لِيَ: اشْرَبْ مِنْ أَلْبَانِهَا، قَالَ حَمَّادٌ: وَأَشُكُّ فِي أَبْوَالِهَا فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَكُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ وَمَعِي أَهْلِي فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأُصَلِّي بِغَيْرِ طَهُورٍ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنِصْفِ النَّهَارِ وَهُوَ فِي رَهْطٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَهُوَ فِي ظِلِّ الْمَسْجِدِ فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ: فَقُلْتُ: نَعَمْ هَلَكْتُ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: وَمَا أَهْلَكَكَ، قَالَ: إِنِّي كُنْتُ أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ وَمَعِي أَهْلِي فَتُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأُصَلِّي بِغَيْرِ طَهُورٍ فَأَمَرَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَجَاءَتْ بِهِ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ بِعُسٍّ يَتَخَضْخَضُ مَا هُوَ بِمَلْآنَ فَتَسَتَّرْتُ إِلَى بَعِيرِي فَاغْتَسَلْتُ، ثُمَّ جِئْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ طَهُورٌ، وَإِنْ لَمْ تَجِدِ الْمَاءَ إِلَى عَشْرِ سِنِينَ فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمْسِسْهُ جِلْدَكَ".
ابو قلابہ رحمہ اللہ بنی عامر قبیلے کے ایک شخص سے نقل فرماتے ہیں کہ میں اسلام میں داخل ہوا تو میرے دین نے مجھے فکر میں ڈال دیا، میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: مدینہ کی آب و ہوا کو میں نے اپنے لیے ناموافق پایا، مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ اور بکریوں کا حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کا دودھ پیو۔“ حماد رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے شک ہے کہ اس میں پیشاب کا بیان ہے یا نہیں۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں پانی سے دور تھا اور میرے ساتھ میری بیوی تھی، میں جنبی ہو گیا تو میں نے بغیر وضو کے نماز پڑھ لی، میں دوپہر کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے ساتھ مسجد کے سایہ میں تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر!“ میں نے کہا: جی اے اللہ کے رسول! میں ہلاک ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کس چیز نے تجھے ہلاک کر دیا؟“ میں نے کہا: میں پانی سے دور تھا اور میری بیوی میرے ساتھ تھی، میں جنبی ہو گیا۔ میں نے بغیر وضو کے نماز پڑھ لی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے پانی لانے کا حکم دیا، سیاہ رنگ کی لونڈی برتن لے کر آئی جس میں پانی چھلک رہا تھا۔ میں نے اونٹ کی اوٹ میں پردہ کیا اور غسل کیا، پھر میں آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوذر! پاک مٹی پاک کرنے والی ہے، اگرچہ تجھے دس سال بھی پانی نہ ملے۔ جب پانی مل جائے تو اسے اپنے جسم پر ڈالو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1042]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ أخرجه ابو داؤد 333»
الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
حدیث نمبر: 1043
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: الرَّجُلُ يَغِيبُ لَا يَقْدِرُ عَلَى الْمَاءِ أَيُصِيبُ أَهْلَهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ". وَمِثْلُ هَذَا بِالشَّوَاهِدِ يَقْوَى وَحَدِيثُ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ الثَّابِتُ عَنْهُمَا شَاهِدٌ لِهَذَيْنِ.
عمرو بن شعیب اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: ”کوئی شخص کسی دور جگہ میں ہو جہاں پانی نہ ہو تو کیا وہ اپنی بیوی سے جماع کرلے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“
اس جیسی روایت شواہد سے قوی ہو جاتی ہے، اور سیدنا عمار بن یاسر اور سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کی حدیث، جو ان سے ثابت ہے، ان دونوں روایات کی شاہد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1043]
اس جیسی روایت شواہد سے قوی ہو جاتی ہے، اور سیدنا عمار بن یاسر اور سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کی حدیث، جو ان سے ثابت ہے، ان دونوں روایات کی شاہد ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1043]
تخریج الحدیث: «منكر۔ أخرجه احمد 2/225»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 1044
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَبَّانَ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو عَامِرٍ مُوسَى بْنُ عَامِرٍ، ثنا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ، ثنا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَغِيبُ عَنِ الْمَاءِ وَمَعِي أَهْلِي أَفَأُصِيبُ مِنْهَا؟، قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي أَغِيبُ أَشْهُرٌ فَقَالَ:" وَإِنْ مَكَثْتَ ثَلَاثَ سِنِينَ". يُقَالُ عَمُّهُ حَكِيمُ بْنُ مُعَاوِيَةَ النُّمَيْرِيُّ.
معاویہ بن حکیم رحمہ اللہ اپنے چچا سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں پانی سے دور ہوتا ہوں اور میرے ساتھ میری اہلیہ ہوتی ہے، کیا میں اس سے جماع کر سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں کئی مہینے غائب رہتا ہوں (یعنی گھر سے باہر رہتا ہوں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگرچہ تو تین سال بھی رہے۔“ اس کے چچا کا نام حکیم بن معاویہ نمیری رضی اللہ عنہ تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1044]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 1045
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ" أَنَّهُ أَصَابَ مِنْ جَارِيَتِهِ، وَأَنَّهُ تَيَمَّمَ فَصَلَّى بِهِمْ وَهُوَ مُتَيَمِّمٌ". ⦗٣٣٥⦘ وَأَمَّا غَسْلُ الْفَرْجِ وَالْكَلَامُ فِي رُطُوبَةِ فَرْجِ الْمَرْأَةِ فَقَدْ نَقَلْنَاهُ فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ فِي بَابِ الْأَنْجَاسِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ اپنی لونڈی کے پاس گئے، پھر انہوں نے تیمم کیا اور تیمم کی حالت میں ہی نماز پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1045]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن أبي شيبة 1/36»
الحكم على الحديث: صحيح