🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

339. -- باب: من قال: للمغرب وقتان
-- باب: جس نے یہ کہا کہ ”مغرب کے دو وقت ہیں“ اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1731
وَقَدْ ذَكَرَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى مُعَلَّقًا عَلَى ثُبُوتِ الْخَبَرِ.
اور امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس حدیث کے ثابت ہونے سے مشروط کرتے ہوئے ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: Q1731]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1731
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدٍ أنا أَبُو نُعَيْمٍ، ح. وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَعْدٍ الْأَخْمِيمِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ثنا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ⦗٥٤٥⦘ أَتَاهُ سَائِلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ وَالنَّاسُ لَا يَكَادُ يَعْرِفُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَالْقَائِلُ يَقُولُ: انْتَصَفَ النَّهَارُ وَهُوَ كَانَ أَعْلَمَ مِنْهُمْ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ وَقَعَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَخَّرَ الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا وَالْقَائِلُ يَقُولُ: طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ كَادَتْ، ثُمَّ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ قَرِيبًا مِنَ الْعَصْرِ، ثُمَّ أَخَّرَ الْعَصْرَ حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا وَالْقَائِلُ يَقُولُ: احْمَرَّتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى كَانَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ، ثُمَّ أَخَّرَ الْعِشَاءَ حَتَّى كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ، ثُمَّ أَصْبَحَ فَدَعَا السَّائِلَ ثُمَّ قَالَ:"" الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ"" لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ يُوسُفَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ بِهَذَا اللَّفْظِ.
سیدنا ابوبکر بن ابی موسیٰ اشعری کے والد رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سائل آیا اور اس نے نماز کے اوقات کے متعلق سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے فجر کی اقامت کہی، جس وقت فجر پھوٹ گئی اور لوگ ایک دوسرے کو پہچان نہیں پائے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور ظہر کی اقامت کہی گئی جس وقت سورج ڈھل گیا اور کہنے والا کہتا تھا کہ آدھا دن ہو گیا ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے زیادہ جاننے والے تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو انہوں نے عصر کی اقامت کہی اس حال میں کہ سورج بلند تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی اس وقت جب سورج غروب ہو چکا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو انہوں نے عشاء کی اقامت کہی جس وقت سرخی غائب ہو گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلے دن فجر کو مؤخر کر دیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس لوٹے اور کہنے والا کہہ رہا تھا کہ سورج طلوع ہو گیا یا ہونے کے قریب ہے، پھر ظہر اس وقت پڑھی جب عصر کا وقت قریب تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کو مؤخر کیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو کہنے والا کہہ رہا تھا، سورج سرخ ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کو مؤخر کیا، یہاں تک کہ سرخی غروب ہونے کے قریب ہو گئی، پھر عشاء کو مؤخر کیا یہاں تک کہ پہلی رات کا تہائی وقت ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے وقت سائل کو بلایا اور فرمایا: ”نماز کا وقت ان دونوں کے درمیان ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1731]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 614»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1732
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ ثنا قَبِيصَةُ ثنا سُفْيَانُ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِهِ، ثنا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ٢ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ثنا أَبُو قُدَامَةَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ الْيَشْكُرِيُّ وَأَبُو أَيُّوبَ النَّهْرَوَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْأَنْصَارِيُّ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ فَقَالَ:" صَلِّ مَعَنْا هَذَيْنِ" فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ يَعْنِي الظُّهْرَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ فَأَبْرَدَ بِهَا فَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ فَأَخَّرَهَا فَوْقَ ذَلِكَ الَّذِي كَانَ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءُ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرُ فَأَسْفَرَ بِهَا ثُمَّ قَالَ:" وَقْتُ صَلَاتِكُمْ كَمَا رَأَيْتُمْ" زَادَ أَبُو أَيُّوبَ فِي حَدِيثِهِ ثُمَّ قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ؟" فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:" وَقْتُ صَلَاتِكُمْ بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي قُدَامَةَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدٍ وَفِي عِلَلِ أَبِي عِيسَى التِّرْمِذِيِّ عَنِ الْبُخَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ: حَدِيثُ أَبِي مُوسَى حَسَنٌ وَحَدِيثُ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ فِي الْمَوَاقِيتِ هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ.
سیدنا سلیمان بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور نماز کے اوقات کے متعلق سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے ساتھ ان دو وقتوں میں نماز پڑھیں۔“ جب سورج ڈھل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، انہوں نے ظہر کی اقامت کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو انہوں نے عصر کی اقامت کہی اور سورج بلند، سفید اور صاف تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی، جس وقت سورج کا کنارہ غائب ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو انہوں نے عشا کی اقامت کہی جس وقت سرخی غائب ہو گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو انہوں نے فجر کی اقامت کہی جس وقت فجر طلوع ہو گئی، جب اگلا دن ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی اقامت کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو خوب اچھی طرح ٹھنڈا کیا، پھر حکم دیا تو انہوں نے عصر کی اقامت کہی اور سورج سفید تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پہلے سے زیادہ مؤخر کیا اور حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی، سرخی غائب ہونے سے پہلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو انہوں نے عشا کی اقامت کہی جس وقت تہائی رات کا وقت چلا گیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو انہوں نے فجر کی اقامت کہی اور اس کو روشن کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(یہ ہے) تمہاری نماز کا وقت جس طرح تم نے دیکھا ہے۔“
ابو ایوب نے اپنی حدیث میں زیادہ کیا ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہاں ہے نماز کے وقت کا سوال کرنے والا؟“ اس شخص نے کہا: میں (یہاں) ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری نماز کا وقت اس کے درمیان ہے جو تم نے دیکھا ہے۔“
امام ابوعیسیٰ ترمذی کی کتاب العلل میں امام بخاری سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا: ابوموسیٰ کی حدیث حسن ہے، اور اوقات کے بارے میں ثوری کی علقمہ بن مرثد سے، انہوں نے ابن بریدہ سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کردہ حدیث بھی حسن حدیث ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1732]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 613»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1733
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ الْمُقْرِئُ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ ⦗٥٤٦⦘ بْنِ إِسْحَاقَ الْإِسْفَرَايِينِيُّ ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ ثنا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ شُعْبَةُ وَكَانَ أَحْيَانًا يَرْفَعُهُ وَأَحْيَانًا لَا يَرْفَعُهُ قَالَ:" وَقْتُ الظُّهْرِ مَا لَمْ يَحْضُرِ الْعَصْرُ، وَوَقْتُ الْعَصْرِ مَا لَمْ يَحْضُرِ الْمَغْرِبُ، وَوَقْتُ الْمَغْرِبِ مَا لَمْ يَسْقُطْ ثَوْرُ الشَّفَقِ، وَوَقْتُ الْعِشَاءِ مَا لَمْ يَنْتَصِفِ اللَّيْلُ، وَوَقْتُ الصُّبْحِ مَا لَمْ تَطْلُعِ الشَّمْسُ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ شُعْبَةَ وَفِي بَعْضِهَا" لَمْ يَرْفَعْهُ مَرَّتَيْنِ وَرَفَعَهُ مَرَّةٌ" وَقَدْ رَوَاهُ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ وَهَمَّامُ بْنُ يَحْيَى وَالْحَجَّاجُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ قَتَادَةَ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ قتادہ کبھی اسے مرفوع بیان کرتے اور کبھی غیر مرفوع، وہ فرماتے ہیں کہ: ”نمازِ ظہر کا وقت جب تک عصر نہ ہو، اور عصر کا وقت جب تک مغرب نہ ہو، اور مغرب کا وقت جب تک سرخی ساقط نہ ہو جائے، اور عشاء کا وقت جب رات نصف نہ ہو جائے، اور صبح کا وقت جب تک سورج طلوع نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1733]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1734
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا صَلَّيْتُمُ الْفَجْرَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَطْلُعَ قَرْنُ الشَّمْسِ الْأَوَّلُ، ثُمَّ إِذَا صَلَّيْتُمُ الظُّهْرَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَحْضُرَ الْعَصْرُ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ تَصْفَرَّ الشَّمْسُ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْمَغْرِبَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى أَنْ يَسْقُطَ الشَّفَقُ، فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعِشَاءَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم فجر کی نماز پڑھو تو اس کا وقت سورج کے پہلے کنارے کے طلوع ہونے تک ہے، پھر جب تم ظہر کی نماز پڑھو تو اس کا وقت عصر کے حاضر ہونے تک ہے اور جب تم عصر کی نماز پڑھو تو اس کا وقت سورج زرد ہونے تک ہے اور جب تم مغرب کی نماز پڑھو تو اس کا وقت سرخی غائب ہونے تک ہے اور جب تم عشاء پڑھو تو اس کا وقت نصف رات تک ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1734]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 612»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1735
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ فَقَالَ:" صَلِّ مَعَنْا" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ وَقَالَ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي: ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ قَبْلَ غَيْبُوبَةِ الشَّفَقِ" وَرَوَاهُ بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ عَطَاءٍ فَذَكَرَ قِصَّةَ إِمَامَةِ جِبْرِيلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ وَقْتَ الْمَغْرِبِ وَاحِدًا وَتِلْكَ قِصَّةٌ وَسُؤَالُ السَّائِلِ عَنْ أَوْقَاتِ الصَّلَوَاتِ قِصَّةٌ أُخْرَى كَمَا نَظُنُّ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مِنْ قَوْلِهِ وَقْتُ الْمَغْرِبِ إِلَى الْعِشَاءِ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک شخص نے نماز کے اوقات کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے ساتھ نماز پڑھیں۔“۔۔۔ اس میں ہے پھر مغرب کی نماز پڑھی جب سورج غروب ہو چکا تھا اور دوسرے دن فرمایا: ”پھر مغرب کی نماز سرخی غائب ہونے سے پہلے پڑھی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1735]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں