السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
339. -- باب: من قال: للمغرب وقتان
-- باب: جس نے یہ کہا کہ ”مغرب کے دو وقت ہیں“ اس کا بیان
حدیث نمبر: 1732
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ ثنا قَبِيصَةُ ثنا سُفْيَانُ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ الْعَنْبَرِيُّ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِهِ، ثنا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي ٢ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ثنا أَبُو قُدَامَةَ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ سَعِيدٍ الْيَشْكُرِيُّ وَأَبُو أَيُّوبَ النَّهْرَوَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ الْأَنْصَارِيُّ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ ثنا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ فَقَالَ:" صَلِّ مَعَنْا هَذَيْنِ" فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ يَعْنِي الظُّهْرَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ فَأَبْرَدَ بِهَا فَأَنْعَمَ أَنْ يُبْرِدَ بِهَا، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ فَأَخَّرَهَا فَوْقَ ذَلِكَ الَّذِي كَانَ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ قَبْلَ أَنْ يَغِيبَ الشَّفَقُ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءُ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْفَجْرُ فَأَسْفَرَ بِهَا ثُمَّ قَالَ:" وَقْتُ صَلَاتِكُمْ كَمَا رَأَيْتُمْ" زَادَ أَبُو أَيُّوبَ فِي حَدِيثِهِ ثُمَّ قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ؟" فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:" وَقْتُ صَلَاتِكُمْ بَيْنَ مَا رَأَيْتُمْ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ رَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي قُدَامَةَ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدٍ وَفِي عِلَلِ أَبِي عِيسَى التِّرْمِذِيِّ عَنِ الْبُخَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ: حَدِيثُ أَبِي مُوسَى حَسَنٌ وَحَدِيثُ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ فِي الْمَوَاقِيتِ هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ.
سیدنا سلیمان بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور نماز کے اوقات کے متعلق سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے ساتھ ان دو وقتوں میں نماز پڑھیں۔“ جب سورج ڈھل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اذان کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا، انہوں نے ظہر کی اقامت کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو انہوں نے عصر کی اقامت کہی اور سورج بلند، سفید اور صاف تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی، جس وقت سورج کا کنارہ غائب ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو انہوں نے عشا کی اقامت کہی جس وقت سرخی غائب ہو گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو انہوں نے فجر کی اقامت کہی جس وقت فجر طلوع ہو گئی، جب اگلا دن ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو انہوں نے ظہر کی اقامت کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو خوب اچھی طرح ٹھنڈا کیا، پھر حکم دیا تو انہوں نے عصر کی اقامت کہی اور سورج سفید تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو پہلے سے زیادہ مؤخر کیا اور حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی، سرخی غائب ہونے سے پہلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو انہوں نے عشا کی اقامت کہی جس وقت تہائی رات کا وقت چلا گیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو انہوں نے فجر کی اقامت کہی اور اس کو روشن کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(یہ ہے) تمہاری نماز کا وقت جس طرح تم نے دیکھا ہے۔“
ابو ایوب نے اپنی حدیث میں زیادہ کیا ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہاں ہے نماز کے وقت کا سوال کرنے والا؟“ اس شخص نے کہا: میں (یہاں) ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری نماز کا وقت اس کے درمیان ہے جو تم نے دیکھا ہے۔“
امام ابوعیسیٰ ترمذی کی کتاب العلل میں امام بخاری سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا: ابوموسیٰ کی حدیث حسن ہے، اور اوقات کے بارے میں ثوری کی علقمہ بن مرثد سے، انہوں نے ابن بریدہ سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کردہ حدیث بھی حسن حدیث ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1732]
ابو ایوب نے اپنی حدیث میں زیادہ کیا ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہاں ہے نماز کے وقت کا سوال کرنے والا؟“ اس شخص نے کہا: میں (یہاں) ہوں، اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہاری نماز کا وقت اس کے درمیان ہے جو تم نے دیکھا ہے۔“
امام ابوعیسیٰ ترمذی کی کتاب العلل میں امام بخاری سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا: ابوموسیٰ کی حدیث حسن ہے، اور اوقات کے بارے میں ثوری کی علقمہ بن مرثد سے، انہوں نے ابن بریدہ سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کردہ حدیث بھی حسن حدیث ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1732]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 613»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1732 in Urdu