السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
339. -- باب: من قال: للمغرب وقتان
-- باب: جس نے یہ کہا کہ ”مغرب کے دو وقت ہیں“ اس کا بیان
حدیث نمبر: Q1731
وَقَدْ ذَكَرَهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى مُعَلَّقًا عَلَى ثُبُوتِ الْخَبَرِ.
اور امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس حدیث کے ثابت ہونے سے مشروط کرتے ہوئے ذکر کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: Q1731]
حدیث نمبر: 1731
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مُحَمَّدٍ أنا أَبُو نُعَيْمٍ، ح. وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَعْدٍ الْأَخْمِيمِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ ثنا أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ثنا بَدْرُ بْنُ عُثْمَانَ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ عَنْ أَبِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ⦗٥٤٥⦘ أَتَاهُ سَائِلٌ فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الْفَجْرَ حِينَ انْشَقَّ الْفَجْرُ وَالنَّاسُ لَا يَكَادُ يَعْرِفُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الظُّهْرَ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ وَالْقَائِلُ يَقُولُ: انْتَصَفَ النَّهَارُ وَهُوَ كَانَ أَعْلَمَ مِنْهُمْ، وَأَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِبَ حِينَ وَقَعَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ ثُمَّ أَخَّرَ الْفَجْرَ مِنَ الْغَدِ حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا وَالْقَائِلُ يَقُولُ: طَلَعَتِ الشَّمْسُ أَوْ كَادَتْ، ثُمَّ الظُّهْرَ حِينَ كَانَ قَرِيبًا مِنَ الْعَصْرِ، ثُمَّ أَخَّرَ الْعَصْرَ حَتَّى انْصَرَفَ مِنْهَا وَالْقَائِلُ يَقُولُ: احْمَرَّتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى كَانَ عِنْدَ سُقُوطِ الشَّفَقِ، ثُمَّ أَخَّرَ الْعِشَاءَ حَتَّى كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلُ، ثُمَّ أَصْبَحَ فَدَعَا السَّائِلَ ثُمَّ قَالَ:"" الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ"" لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ يُوسُفَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ بِهَذَا اللَّفْظِ.
سیدنا ابوبکر بن ابی موسیٰ اشعری کے والد رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک سائل آیا اور اس نے نماز کے اوقات کے متعلق سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے فجر کی اقامت کہی، جس وقت فجر پھوٹ گئی اور لوگ ایک دوسرے کو پہچان نہیں پائے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور ظہر کی اقامت کہی گئی جس وقت سورج ڈھل گیا اور کہنے والا کہتا تھا کہ آدھا دن ہو گیا ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے زیادہ جاننے والے تھے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو انہوں نے عصر کی اقامت کہی اس حال میں کہ سورج بلند تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو انہوں نے مغرب کی اقامت کہی اس وقت جب سورج غروب ہو چکا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو انہوں نے عشاء کی اقامت کہی جس وقت سرخی غائب ہو گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلے دن فجر کو مؤخر کر دیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس لوٹے اور کہنے والا کہہ رہا تھا کہ سورج طلوع ہو گیا یا ہونے کے قریب ہے، پھر ظہر اس وقت پڑھی جب عصر کا وقت قریب تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کو مؤخر کیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوئے تو کہنے والا کہہ رہا تھا، سورج سرخ ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کو مؤخر کیا، یہاں تک کہ سرخی غروب ہونے کے قریب ہو گئی، پھر عشاء کو مؤخر کیا یہاں تک کہ پہلی رات کا تہائی وقت ہو گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کے وقت سائل کو بلایا اور فرمایا: ”نماز کا وقت ان دونوں کے درمیان ہے“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصلاة/حدیث: 1731]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 614»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 1731 in Urdu