السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
344. -- باب: آخر وقت العشاء وفيه قولان أحدهما ثلث الليل، والآخر نصفه فمن قال: بالأول احتج بما
-- باب: عشاء کے آخری وقت کا بیان، اور اس میں دو اقوال ہیں ایک تہائی رات اور دوسرا آدھی رات، پس جس نے پہلے قول کو اپنایا اس نے جس چیز سے استدلال کیا اس کا بیان
حدیث نمبر: Q1749
ب وَفِيهِ قَوْلَانِ أَحَدُهُمَا ثُلُثُ اللَّيْلِ، وَالْآخَرُ نِصْفُهُ فَمَنْ قَالَ: بِالْأَوَّلِ احْتَجَّ بِمَا.
اور اس میں دو اقوال ہیں: پہلا تہائی رات ہے، اور دوسرا آدھی رات ہے۔ پس جس نے پہلا قول اختیار کیا، اس نے اس بات سے استدلال کیا کہ... [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: Q1749]
حدیث نمبر: 1749
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي أنا حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ الطُّوسِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ هَاشِمٍ ثنا وَكِيعٌ ثنا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّنِي جِبْرِيلُ عِنْدَ الْبَيْتِ مَرَّتَيْنِ" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَفِيهِ وَصَلَّى بِيَ الْعِشَاءَ ثُلُثَ اللَّيْلِ الْأَوَّلَ يَعْنِي فِي الْمَرَّةِ الْآخِرَةِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل علیہ السلام نے بیت اللہ کے پاس دو مرتبہ میری امامت کرائی۔۔۔“ اس میں ہے کہ ”مجھ کو عشاء کی نماز رات کے پہلے تہائی حصے میں پڑھائی، یعنی دوسری مرتبہ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1749]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 1750
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا مُسَدَّدٌ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ دَاوُدَ عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِي مُوسَى، أَنَّ سَائِلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ شَيْئًا حَتَّى أَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ: وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ غَابَ الشَّفَقُ فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ: وَصَلَّى الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ ثُمَّ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ:" الْوَقْتُ فِيمَا بَيْنَ هَذَيْنِ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ بَدْرِ بْنِ عُثْمَانَ.
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سائل نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا، پھر بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اقامت کہی۔۔۔ اس میں ہے کہ بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا: انہوں نے عشاء کی اقامت کہی، جس وقت سرخی غائب ہوچکی تھی پھر جب دوسرا دن آیا۔ اس میں ہے کہ عشاء کی نماز تہائی رات تک پڑھائی، پھر فرمایا: ”نماز کے اوقات کے متعلق سوال کرنے والا کہاں ہے؟ وقت ان دونوں کے درمیان ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1750]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1751
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ الْفَقِيهُ فِي مَسْجِدِ الرَّصَافَةِ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ النَّجَّادُ ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ثنا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ ثنا شُعْبَةُ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ عَنْ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ فَقَالَ:" اشْهَدْ مَعَنْا الصَّلَاةَ" فَأَمَرَ ⦗٥٥٠⦘ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَالًا فَأَذَّنَ بِغَلَسٍ فَصَلَّى الصُّبْحَ ثُمَّ أَمَرَهُ بِالظُّهْرِ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ عَنْ بَطْنِ السَّمَاءِ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْمَغْرِبِ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعَشَاءِ حِينَ وَجَبَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْغَدِ فَنَوَّرَ بِالصُّبْحِ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالظُّهْرِ فَأَبْرَدَ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعَصْرِ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ نَقِيَّةٌ لَمْ يُخَالِطْهَا صُفْرَةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْمَغْرِبِ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ بِالْعِشَاءِ عِنْدَ ذَهَابِ ثُلُثِ اللَّيْلِ أَوْ بَعْضِهِ شَكَّ أَبُو رَوْحٍ فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ؟ مَا بَيْنَ مَا رَأَيْتَ وَقْتٌ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ، عَنْ حَرَمِيِّ بْنِ عُمَارَةَ أَبِي رَوْحٍ وَقَدْ رُوِّينَاهُ مِنْ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ قَالَ: فَأَقَامَ الْعِشَاءُ حِينَ ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ.
(الف) سلیمان بن بریدہ اپنے والد (بریدہ رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے نماز کے اوقات کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے ساتھ نماز میں حاضر ہو“، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اندھیرے میں اذان دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کا حکم دیا جس وقت سورج آسمان کے درمیان سے ڈھل گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کا حکم دیا جبکہ سورج بلند تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کا حکم دیا جس وقت سورج غروب ہو گیا، پھر عشاء کا حکم دیا جس وقت سرخی غائب ہو گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرے روز حکم دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کو روشن کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کا حکم دیا، اس کو ٹھنڈا کیا، پھر عصر کا حکم دیا اور سورج سفید صاف تھا اس کے ساتھ زردی نہیں ملی تھی، پھر سرخی غائب ہونے سے پہلے مغرب کا حکم دیا، پھر ایک تہائی رات گزرنے کے وقت عشاء کا حکم دیا یا بعض رات گزرنے کے وقت۔ ابو روح کو شک ہوا ہے۔ جب صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سائل کہاں ہے؟ جو تو نے دیکھا ہے اس کے درمیان نماز کا وقت ہے۔“
(ب) علقمہ بن مرثد سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی اقامت کہی جب رات کا ایک تہائی حصہ گزر گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1751]
(ب) علقمہ بن مرثد سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی اقامت کہی جب رات کا ایک تہائی حصہ گزر گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1751]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1752
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ أنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اعْتَمَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعَتَمَةِ حَتَّى نَادَاهُ عُمَرُ فَقَالَ: الصَّلَاةَ نَامَ النِّسَاءُ وَالصِّبْيَانُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَا يَنْتَظِرُهَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ غَيْرُكُمْ" وَلَا تُصَلَّى يَوْمَئِذٍ إِلَّا بِالْمَدِينَةِ وَكَانُوا يُصَلُّونَ الْعَتَمَةُ فِيمَا بَيْنَ أَنْ يَغِيبَ شَفَقُ اللَّيْلِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَكَذَلِكَ أَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ عَنِ الزُّهْرِيِّ. وَمَنْ قَالَ: بِالْقَوْلِ الثَّانِي احْتَجَّ.
زہری کہتے ہیں کہ مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز اندھیرے میں ادا کی، یہاں تک کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آواز دی کہ نماز! بچے اور عورتیں سو گئی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے اور فرمایا: ”تمہارے علاوہ اہل زمین سے کوئی بھی اس کا انتظار نہیں کر رہا۔“ ان دنوں یہ نماز صرف مدینہ ہی میں پڑھی جاتی تھی اور وہ عشاء کی نماز رات کی سرخی غروب ہونے سے لے کر ایک تہائی رات تک پڑھتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1752]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 1544»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1753
بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا تَمْتَامٌ ثنا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ثنا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْعَتَكِيِّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ:" قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ:" وَقْتُ صَلَاةِ الْعِشَاءِ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ هَمَّامٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ قَتَادَةَ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ الْأَوْسَطِ وَفِي حَدِيثِ هِشَامٍ، عَنْ قَتَادَةَ فَإِذَا صَلَّيْتُمُ الْعِشَاءَ فَإِنَّهُ وَقْتٌ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ.
(الف) سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عشاء کی نماز کا وقت آدھی رات تک ہے۔“
(ب) قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ درمیانی آدھی رات تک۔
(ج) اور ہشام کی حدیث میں قتادہ رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ: ”جب تم عشاء کی نماز پڑھو تو اس کا وقت نصف رات تک ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1753]
(ب) قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ درمیانی آدھی رات تک۔
(ج) اور ہشام کی حدیث میں قتادہ رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ: ”جب تم عشاء کی نماز پڑھو تو اس کا وقت نصف رات تک ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1753]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 1612»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1754
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَ آبَاذِيُّ أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ السَّعْدِيُّ ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ عَنْ أَنَسِ بْنِ ⦗٥٥١⦘ مَالِكٍ، أَنَّهُ سُئِلَ: هَلِ اصْطَنَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا؟ فَقَالَ: نَعَمْ" أَخَّرَ الصَّلَاةَ صَلَاةَ الْعِشَاءِ ذَاتَ لَيْلَةٍ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ فَلَمَّا صَلَّى أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ:" النَّاسُ قَدْ صَلُّوا وَرَقَدُوا وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي الصَّلَاةِ مُنْذُ انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ" فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيضِ خَاتَمِهِ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُنِيرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے سوال کیا گیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنائی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشا کی نماز نصف رات تک مؤخر کر دی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی تو آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”لوگوں نے نماز پڑھ لی اور سو گئے اور تم نماز میں ہی رہے ہو جب سے نماز کا انتظار کر رہے ہو۔“ گویا میں آپ کی انگوٹھی کی چمک کی طرف دیکھ رہا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1754]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 5531»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1755
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا قُرَّةُ، ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ ثنا أَبُو عَمْرٍو أَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ وَعَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الصَّبَّاحِ الْعَطَّارُ ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْحَنَفِيُّ ثنا قُرَّةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ:" نَظَرْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً حَتَّى كَانَ قَرِيبًا مِنْ نِصْفِ اللَّيْلِ فَجَاءَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى قَالَ: فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى وَبِيضِ خَاتَمِهِ حَلْقَةُ فِضَّةٍ" وَفِي رِوَايَةِ أَبِي دَاوُدَ حَتَّى مَضَى شَطْرُ اللَّيْلِ وَالْبَاقِي بِمَعْنَاهُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّبَّاحِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک رات ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کیا یہاں تک کہ تقریباً نصف رات ہوگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور نماز پڑھائی۔ گویا میں چاندی کے حلقے کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کی چمک کو دیکھ رہا ہوں۔ ابوداؤد کی ایک روایت میں ہے کہ نصف رات گزر گئی اور باقی اسی کے ہم معنی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1755]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1756
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ثنا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: سُئِلَ: هَلْ كَانَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَخَّرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَقَدْ كَادَ يَذْهَبُ شَطْرُ اللَّيْلِ أَوْ عِنْدَ شَطْرِ اللَّيْلِ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ:" إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلُّوا وَنَامُوا وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي الصَّلَاةِ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ" قَالَ أَنَسٌ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيضِ خَاتَمِهِ مِنْ فِضَّةٍ وَأَشَارَ بِيَدِهِ الْيُسْرَى وَوَصَفَ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا گیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں، ایک رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشا کو مؤخر کر دیا، آدھی رات یا اس کے قریب قریب وقت گزر گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور فرمایا: ”لوگوں نے نماز پڑھی اور سو گئے اور تم نماز میں رہے ہو جب سے تم نماز کا انتظار کرتے رہے ہو۔“
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں گویا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چاندی کی انگوٹھی کی چمک کی طرف دیکھ رہا ہوں اور بائیں ہاتھ سے اشارہ کیا اور اس کی تعریف کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1756]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں گویا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی چاندی کی انگوٹھی کی چمک کی طرف دیکھ رہا ہوں اور بائیں ہاتھ سے اشارہ کیا اور اس کی تعریف کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1756]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 1757
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا زَيْدٌ الْعَمِّيُّ ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ، أَنَّهُمْ سَأَلُوا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، عَنْ خَاتَمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَرَفَعَ أُصْبُعَهُ الْيُسْرَى الْخِنْصَرَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ نَافِعٍ.
ثابت رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی کے متعلق سوال کیا۔۔۔ باقی حدیث اسی طرح ہے، صرف یہ ہے کہ انہوں نے اپنی بائیں چھوٹی انگلی اٹھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1757]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم 640»
الحكم على الحديث: صحيح