السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
422. -- باب: تعجيل صلاة العصر
-- باب: عصر کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2072
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ ثنا الْقَعْنَبِيُّ فِيمَا قَرَأَ عَلَى مَالِكٍ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ:" كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى قُبَاءَ فَيَأْتِيهِمْ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم عصر کی نماز اتنی جلدی پڑھ لیتے تھے کہ کوئی شخص قبا جا کر ان کے پاس پہنچ جاتا تھا اور سورج ابھی بلند ہوتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2072]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 52»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2073
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ ثنا أَبُو دَاوُدَ ثنا قُتَيْبَةُ ثنا اللَّيْثُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ وَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدِ بْنِ الرُّمْحِ وَرَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ يُونُسَ عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز (اس وقت) پڑھتے تھے کہ سورج واضح بلند اور چمک رہا ہوتا تھا اور کوئی جانے والا بالائی مدینہ کو چلا جاتا تب بھی سورج واضح چمک رہا ہوتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2073]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 525»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2074
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ لَطِيفٍ الْمِصْرِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ خَرُوفٍ أَبُو كَامِلٍ الْمَدِينِيُّ إِمْلَاءً بِمِصْرَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ بُكَيْرٍ الْحَمْرَاوِيُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يُونُسَ أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي صَلَاةَ الْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ وَبَعْضُ الْعَوَالِي مِنَ الْمَدِينَةِ عَلَى أَرْبَعَةِ أَمْيَالٍ أَوْ ثَلَاثَةٍ قَالَ الْبُخَارِيُّ: زَادَ اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ وَبُعْدُ الْعَوَالِي أَرْبَعَةُ أَمْيَالٍ أَوْ ثَلَاثَةُ".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز (ایسے وقت میں) پڑھاتے تھے کہ سورج اچھا خاصا بلند ہوتا (یعنی اس کی سفیدی باقی ہوتی) اور کوئی جانے والا مدینہ کے بالائی حصے میں بھی چلا جاتا پھر بھی آفتاب بلند ہوتا اور مدینہ کا بالائی علاقہ مدینہ سے تین یا چار میل کی مسافت پر ہے۔
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لیث نے یونس کے واسطے سے یہ اضافہ کیا ہے کہ بالائی مدینہ کی مسافت تین یا چار میل کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2074]
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لیث نے یونس کے واسطے سے یہ اضافہ کیا ہے کہ بالائی مدینہ کی مسافت تین یا چار میل کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2074]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ اخرجه الطبراني في مسند الشايين 67»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 2075
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ ثنا أَبُو الْيَمَانِ أنبأ شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُصَلِّي صَلَاةَ الْعَصْرِ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي فَيَأْتِيهَا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ وَبَعْضُ الْعَوَالِي مِنَ الْمَدِينَةِ عَلَى أَرْبَعَةِ أَمْيَالٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ وَقَالَ: وَبَعْضُ الْعَوَالِي مِنَ الْمَدِينَةِ أَرْبَعَةُ أَمْيَالٍ وَنَحْوِهِ وَهَذَا مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ ذَكَرَهُ مَعْمَرٌ عَنْهُ مِنْ قَوْلِهِ.
(ا) زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز سورج کے بلند اور روشن ہوتے ہوئے ادا فرماتے تھے اور جانے والا بالائی مدینہ چلا جاتا اور (ابھی) سورج اونچا ہوتا تھا اور بالائی حصے کی مسافت مدینہ سے چار میل ہے۔
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں ابو یمان سے روایت نقل کی اور فرمایا کہ بالائی مدینہ، شہر سے کم و بیش چار میل کی مسافت پر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2075]
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی کتاب صحیح بخاری میں ابو یمان سے روایت نقل کی اور فرمایا کہ بالائی مدینہ، شہر سے کم و بیش چار میل کی مسافت پر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2075]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري 525»
الحكم على الحديث: اخرجه البخاري 525
حدیث نمبر: 2076
أَخْبَرَنَا بِصِحَّةِ ذَلِكَ أَبُو صَالِحِ ابْنُ ابْنَةِ يَحْيَى بْنِ مَنْصُورٍ الْقَاضِي أنا جَدِّي ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَالْعَوَالِي مِنَ الْمَدِينَةِ عَلَى مِيلَيْنِ وَثَلَاثَةٍ وَأَحْسَبُهُ قَالَ: وَأَرْبَعَةٌ".
(ا) زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھاتے تھے اور کوئی جانے والا بالائی مدینہ تک پہنچ جاتا اور سورج ابھی روشن ہوتا۔
(ب) امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بالائی مدینہ کا فاصلہ مدینہ سے دو میل یا تین میل ہے اور میرا خیال ہے کہ انہوں نے چار میل فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2076]
(ب) امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بالائی مدینہ کا فاصلہ مدینہ سے دو میل یا تین میل ہے اور میرا خیال ہے کہ انہوں نے چار میل فرمایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2076]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابوداود 405»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2077
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ ثنا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أنبأ جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ قَالَ:" تَذَاكَرْنَا عِنْدَ خثيمَةَ وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ حَيَّةٌ فَقَالَ:" حَيَاتُهَا أَنْ تَجِدَ حَرَّهَا".
حضرت منصور رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے خیثمہ رحمہ اللہ سے سورج کے زندہ ہونے سے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ سورج کی گرمی کا محسوس ہونا اس کا زندہ ہونا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2077]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 406»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2078
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ الْبَزَّارُ ثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ ثنا اللَّيْثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ ⦗٦٤٨⦘ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ وَرُبَّمَا أَخَّرَهَا فِي شِدَّةِ الْحَرِّ، وَالْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ يَسِيرُ الرَّجُلُ حِينَ يَنْصَرِفُ مِنْهَا إِلَى ذِي الْحُلَيْفَةِ سِتَّةَ أَمْيَالٍ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ ظہر کی نماز سورج ڈھلنے کے بعد پڑھتے تھے، البتہ کبھی کبھار سخت گرمی میں تھوڑا مؤخر بھی کر لیا کرتے تھے اور عصر ایسے وقت میں پڑھتے تھے کہ سورج بالکل واضح ہوتا (یعنی اس کی تپش موجود ہوتی تھی)۔ آدمی نماز سے فارغ ہونے کے بعد ذوالحلیفہ تک غروبِ آفتاب سے پہلے پہنچ جاتا جب کہ وہ مدینہ سے چھ میل کی مسافت پر ہے۔ پھر مکمل حدیث ذکر کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2078]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2079
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمُزَنِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْخُزَاعِيُّ أنبأ أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ الْحِمْصِيُّ فِي سَنَةِ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ حَدَّثَنِي أَبُو بِشْرٍ شُعَيْبُ بْنُ دِينَارٍ أَبُو حَمْزَةَ الْقُرَشِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي إِمَارَتِهِ وَكَانَ عُمَرُ يُؤَخِّرُ الصَّلَاةَ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ: أَخَّرَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ صَلَاةَ الْعَصْرِ يَوْمًا وَهُوَ أَمِيرُ الْكُوفَةِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ وَهُوَ جَدُّ زَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ أَبُو أُمِّهِ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا فَقَالَ: مَا هَذَا يَا مُغِيرَةُ أَمَا وَاللهِ لَقَدْ عَلِمْتُ لَقَدْ نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَصَلَّى فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ صَلَّى فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسَ صَلَوَاتٍ ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا أُمِرْتُ فَفَزِعَ عُمَرُ حِينَ حَدَّثَهُ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ بِذَلِكَ وَقَالَ: اعْلَمْ مَا تُحَدِّثُ بِهِ يَا عُرْوَةُ، إِنَّ جِبْرِيلَ لَهُوَ أَقَامَ لَهُمْ وَقْتَ الصَّلَاةِ؟ قَالَ عُرْوَةُ: كَذَلِكَ كَانَ بَشِيرُ بْنُ أَبِي مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ. قَالَ عُرْوَةُ: وَلَقَدْ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي صَلَاةَ الْعَصْرِ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ الشَّمْسُ" فَلَمْ يَزَلْ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ يَتَعَلَّمُ وَقْتَ الصَّلَاةِ بِعَلَامَةٍ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا".
امام زہری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عروہ بن زبیر رحمہ اللہ کو عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے دور خلافت میں ان سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، جب کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ اس زمانے میں عصر کی نماز مؤخر کر کے پڑھا کرتے تھے۔ عروہ رحمہ اللہ نے ان سے کہا: ایک دن مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے عصر کی نماز مؤخر کر کے ادا کی جب کہ وہ کوفہ کے امیر تھے۔ ان کے پاس ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ، جو زید بن حسن کے نانا تھے اور بدری صحابی تھے، تشریف لائے اور فرمانے لگے: مغیرہ! یہ کیا ماجرا ہے؟ اللہ کی قسم! آپ جانتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے تھے اور انہوں نے نماز پڑھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز پڑھی۔ انہوں نے پھر نماز پڑھی اور آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی پانچ نمازیں ادا کیں۔ پھر جبرائیل علیہ السلام کہنے لگے: ”مجھے اسی طرح حکم دیا گیا ہے“۔ جب عروہ بن زبیر رحمہ اللہ نے عمر رحمہ اللہ کے سامنے یہ حدیث بیان کی تو عمر رحمہ اللہ پریشان ہو گئے اور کہنے لگے: اے عروہ! غور کرو! جو تم بیان کرتے ہو کیا واقعی یقیناً جبرائیل علیہ السلام نے ان کے لیے نماز کے اوقات مقرر کیے تھے؟ عروہ رحمہ اللہ نے کہا: ہاں! بشیر بن ابو مسعود رحمہ اللہ بھی اپنے والد سے اسی طرح نقل فرماتے ہیں۔
حضرت عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھاتے تھے اور سورج (کی شعاعیں) ان کے حجرے میں ہوتی تھیں، یعنی سورج کا سایہ ظاہر ہونے سے پہلے۔ اس دن کے بعد عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نماز کا وقت سورج کی اسی نشانی سے پہچانتے تھے حتیٰ کہ اس دنیا سے کوچ کر گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2079]
حضرت عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھاتے تھے اور سورج (کی شعاعیں) ان کے حجرے میں ہوتی تھیں، یعنی سورج کا سایہ ظاہر ہونے سے پہلے۔ اس دن کے بعد عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نماز کا وقت سورج کی اسی نشانی سے پہچانتے تھے حتیٰ کہ اس دنیا سے کوچ کر گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2079]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2080
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ثنا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ فَأَخْبَرَهُ أَنَّ الْمُغِيرَةِ بْنَ شُعْبَةَ أَخَّرَ الصَّلَاةَ يَوْمًا وَهُوَ بِالْكُوفَةِ فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ فَقَالَ: مَا هَذَا يَا مُغِيرَةُ، أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ نَزَلَ فَصَلَّى فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ قَالَ عُرْوَةُ وَلَقَدْ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا قَبْلَ أَنْ تَظْهَرَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ وَعَنِ الْقَعْنَبِيِّ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، ⦗٦٤٩⦘ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ وَقَالَ يُونُسُ: وَاللَّيْثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِهَا لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ مِنْ حُجْرَتِهَا وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِيِّ: وَالشَّمْسُ طَالِعَةٌ فِي حُجْرَتِي لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءَ بَعْدُ، وَقَالَ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: وَالشَّمْسُ لَمْ تَخْرُجْ مِنْ حُجْرَتِهَا قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ: مِنْ قَعْرِ حُجْرَتِهَا.
ابن شہاب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک دن عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے نماز تاخیر سے ادا کی، چنانچہ عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں ایک دن نماز مؤخر کی تھی تو ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: مغیرہ! کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے تھے اور انہوں نے نماز پڑھی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی نماز پڑھی تھی، اسی طرح مکمل حدیث ذکر کی۔
عروہ فرماتے ہیں کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ایسے وقت میں ادا فرماتے تھے کہ سورج ان (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) کے حجرے میں ہوتا۔
یونس اور لیث امام زہری رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ سورج ان کے حجرے میں ہوتا، یعنی ان کے حجرے سے سایہ ظاہر نہ ہوتا تھا۔
ابن عیینہ امام زہری رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ آفتاب میرے کمرے میں چمک رہا ہوتا اور سایہ ظاہر نہ ہوتا تھا۔
ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: سورج ان کے حجرے سے باہر نہیں نکلا ہوتا تھا، (یعنی حجرے میں دھوپ ہوتی تھی)۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابواسامہ ہشام سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے گھر کے اندرونی حصہ میں (سورج کی شعاعیں ہوتی تھیں)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2080]
عروہ فرماتے ہیں کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ایسے وقت میں ادا فرماتے تھے کہ سورج ان (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) کے حجرے میں ہوتا۔
یونس اور لیث امام زہری رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ سورج ان کے حجرے میں ہوتا، یعنی ان کے حجرے سے سایہ ظاہر نہ ہوتا تھا۔
ابن عیینہ امام زہری رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ آفتاب میرے کمرے میں چمک رہا ہوتا اور سایہ ظاہر نہ ہوتا تھا۔
ہشام بن عروہ اپنے والد سے اور وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: سورج ان کے حجرے سے باہر نہیں نکلا ہوتا تھا، (یعنی حجرے میں دھوپ ہوتی تھی)۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابواسامہ ہشام سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے گھر کے اندرونی حصہ میں (سورج کی شعاعیں ہوتی تھیں)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2080]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2081
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ ثنا ابْنُ نَاجِيَةَ ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ثنا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي قَعْرِ حُجْرَتِي".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا کر رہے ہوتے اور سورج کی شعاعیں میرے کمرے کے اندرونی کونے میں لگ رہی ہوتیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2081]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 520»
الحكم على الحديث: صحيح