🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

422. -- باب: تعجيل صلاة العصر
-- باب: عصر کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2082
وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ ثنا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ فَذَكَرَهُ وَقَالَ: وَالشَّمْسُ بَيْضَاءُ فِي قَعْرِ حُجْرَتِي" قَالَ الشَّافِعِيُّ عَقِيبَ حَدِيثِ مَالِكٍ: وَهَذَا مِنْ أَبْيَنِ مَا رُوِيَ فِي أَوَّلِ الْوَقْتِ لِأَنَّ حُجْرَةَ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَوْضِعٍ مُنْخَفِضٍ مِنَ الْمَدِينَةِ وَلَيْسَتْ بِالْوَاسِعَةِ وَذَلِكَ أَقْرَبُ لَهَا مِنْ أَنْ يَرْتَفِعَ الشَّمْسُ مِنْهَا فِي أَوَّلِ وَقْتِ الْعَصْرِ.
(ا) ہشام بن عروہ رحمہ اللہ نے ہمیں مکمل حدیث ذکر کی۔ نیز فرمایا: سورج روشن ہوتا، یعنی میرے حجرے میں چمک رہا ہوتا۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ، مالک رحمہ اللہ کی حدیث ذکر کر کے فرماتے ہیں کہ اول وقت کے بارے میں جتنی روایات ہیں ان میں یہ روایت سب سے واضح ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن کے حجرے ایسے مقام پر تھے جو مدینہ کا نشیبی علاقہ تھا نہ کہ کسی وسیع و عریض اور بلند مقام پر، اسی وجہ سے سورج عصر کے ابتدائی وقت میں بلند معلوم ہوتا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2082]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 520»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2083
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ثنا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ السَّرْحِيُّ ثنا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ مُوسَى بْنَ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَالَ:" صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمَةَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّا نُرِيدُ نَنْحَرُ جَزُورًا لَنَا وَنُحِبُّ أَنْ تَحْضُرَهَا قَالَ:" نَعَمْ" فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْنَا مَعَهُ فَوَجَدْنَا الْجَزُورَ لَمْ تُنْحَرْ فَنُحِرَتْ ثُمَّ قُطِعَتْ ثُمَّ طُبِخَ مِنْهَا ثُمَّ أَكَلْنَا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَوَّادٍ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز ادا کی۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو بنی سلمہ قبیلے کا ایک شخص آیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہم اپنے لیے ایک اونٹ ذبح کرنا چاہتے ہیں اور ہماری خواہش ہے کہ آپ بھی موجود ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے۔“ چنانچہ آپ چلے اور ہم بھی آپ کے ساتھ ساتھ چلنے لگے۔ (جب ہم پہنچے) تو ابھی اونٹ ذبح نہیں کیا گیا تھا۔ (ہمارے پہنچنے کے بعد) اونٹ ذبح کیا گیا۔ پھر اس کو ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا، پھر اس سے کچھ گوشت پکایا گیا اور ہم نے سورج غروب ہونے سے پہلے کھا بھی لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2083]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 624»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2084
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللهِ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ السُّوسِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ ثنا الْأَوْزَاعِيُّ ح. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو عَبْدِ اللهِ السُّوسِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ ثنا سَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ حَدَّثَنِي الْأَوْزَاعِيُّ حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ حَدَّثَنِي ⦗٦٥٠⦘ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ قَالَ:" كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْعَصْرِ ثُمَّ تُنْحَرُ الْجَزُورُ فَتُقْسَمُ عَشْرَ قِسَمٍ ثُمَّ نَطْبُخُ فَنَأْكُلُ لَحْمًا نَضِيجًا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مِهْرَانَ الرَّازِيِّ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ الصَّحِيحَةُ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ تَدُلُّ عَلَى خَطَأِ مَا رَوَاهُ عَبْدُ الْوَاحِدِ أَوْ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ نَافِعٍ أَوْ نُفَيْعٌ الْكِلَابِيُّ عَنِ ابْنِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُهُمْ بِتَأْخِيرِ الْعَصْرِ وَهُوَ مُخْتَلِفٌ فِي اسْمِهِ وَاسْمِ أَبِيهِ وَاخْتُلِفَ عَلَيْهِ فِي اسْمِ ابْنِ رَافِعٍ فَقِيلَ فِيهِ: عَبْدُ اللهِ وَقِيلَ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ الْبُخَارِيُّ: لَا يُتَابَعُ عَلَيْهِ وَاحْتَجَّ عَلَى خَطَائِهِ بِحَدِيثِ أَبِي النَّجَاشِيِّ، عَنْ رَافِعٍ وَقَالَ أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ فِيمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ عَنْهُ: هَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفُ الْإِسْنَادِ وَالصَّحِيحُ عَنْ رَافِعٍ وَغَيْرِهِ ضِدَّ هَذَا.
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز ادا کرتے، پھر اونٹ ذبح کیا جاتا اور اس کو دس حصوں میں تقسیم کر دیا جاتا، پھر اس کو پکایا جاتا اور ہم سورج غروب ہونے سے پہلے گوشت کھا لیا کرتے تھے۔
(ب) رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی یہ روایت صحیح ہے اور وہ روایت درست نہیں جسے عبدالواحد یا عبدالحمید بن نافع یا نفیع کلابی نے ابن رافع بن خدیج سے اور اس نے اپنے باپ سے روایت کیا ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”عصر کی نماز کو تاخیر کے ساتھ ادا کرنے کا حکم فرماتے تھے“، کیونکہ اس راوی اور اس کے باپ کے نام میں اختلاف ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کی متابعت نہیں کی گئی، اور انہوں نے اس کی غلطی پر ابو النجاشی کی رافع سے روایت کو دلیل بنایا ہے۔ امام ابو الحسن دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث کی سند ضعیف ہے اور رافع وغیرہ سے صحیح روایت اس کے برعکس ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2084]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 2353»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2085
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى ⦗٦٥١⦘ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ:" كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ ثُمَّ يَخْرُجُ الْإِنْسَانُ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ فَيَجِدُهُمْ لَمْ يُصَلُّوا الْعَصْرَ" لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَفِي حَدِيثِ الْقَعْنَبِيِّ فَيَخْرُجُ الْإِنْسَانُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيِّ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم عصر کی نماز ادا کرتے، پھر ہم میں سے کوئی شخص قبیلہ بنی عمرو بن عوف کے ہاں جاتا تو انہیں اس حال میں پاتا کہ انہوں نے ابھی عصر کی نماز ادا نہیں کی ہوتی تھی۔
قعنبی کی حدیث میں «ثُمَّ يَخْرُجُ الْإِنْسَانُ» کی جگہ «فَيَخْرُجُ الْإِنْسَانُ» ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2085]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2086
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَرْفِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِيُّ ثنا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ثنا فُلَيْحٌ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ بِقَدْرِ مَا تُنْحَرُ الْجَزُورُ ثُمَّ نَعَضُّهَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ وَقَدْرِ أَنْ يَذْهَبَ إِلَى بَنِي حَارِثَةَ بْنِ الْحَارِثِ فَيَرْجِعُ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ".
عثمان بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے انھیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز غروب آفتاب سے تقریباً اتنا پہلے ادا فرماتے تھے کہ اتنی دیر میں اونٹ کو ذبح کیا جائے، پھر ہم اس کو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیں اور اتنا پہلے کہ غروب آفتاب سے پہلے آدمی بنی حارثہ بن حارث سے ہو کر آ جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2086]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه ابويعلي 4330»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں