السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
436. -- باب: من قال: هي الصبح
-- باب: جس نے کہا: ”یہ صبح (فجر) کی نماز ہے“ اس کا بیان
حدیث نمبر: Q2168
وَإِلَيْهِ مَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى.
اور امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ کا میلان اسی جانب ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: Q2168]
حدیث نمبر: 2168
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ ثنا مَالِكٌ أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ كَانَا يَقُولَانِ:" الصَّلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الصُّبْحِ" قَالَ مَالِكٌ: وَذَلِكَ رَأَيٌ.
(ا) امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہیں سیدنا علی بن ابی طالب اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ روایت پہنچی ہے کہ وہ دونوں درمیانی نماز سے مراد صبح کی نماز لیتے تھے۔
(ب) امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہی میری رائے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2168]
(ب) امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہی میری رائے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2168]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدًا۔ اخرجه مالك بلاغا 316»
الحكم على الحديث: ضعيف جدًا
حدیث نمبر: 2169
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ ثنا عَفَّانُ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" صَلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الْفَجْرِ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ درمیانی نماز فجر کی نماز ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2169]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه ابن جرير في تفسيره 2/578»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2170
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ السَّمْحِ ثنا سَهْلُ بْنُ تَمَّامٍ ثنا أَبُو الْأَشْهَبِ وَسَلْمُ بْنُ زُرَيْرٍ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيِّ قَالَ:" صَلَّى بِنَا ابْنُ عَبَّاسٍ صَلَاةَ الصُّبْحِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْبَصْرَةِ فَقَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى لَوْ أَنَّ رَجُلًا بَيْنَ يَدَيْهِ لَرَأَى بَيَاضَ إِبْطَيْهِ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ:" هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي ذَكَرَهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي كِتَابِهِ {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} [البقرة: ٢٣٨] " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَوْفٌ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ.
ابو رجا عطاردی سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی اور وہ بصرہ کے حکمران تھے۔ انہوں نے رکوع سے پہلے قنوت پڑھی اور اپنے ہاتھوں کو بلند کیا حتیٰ کہ اگر کوئی آدمی ان کے سامنے ہوتا تو وہ ان کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لیتا۔ جب انہوں نے نماز مکمل کی تو ہماری طرف رخ کر کے فرمایا: یہ ہے وہ نماز جس کے بارے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمایا ہے: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾ [سورة البقرة: 238] ”نمازوں پر محافظت کرو خصوصاً درمیانی نماز کی اور اللہ کے لیے فرماں بردار ہو کر کھڑے ہو جاؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2170]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ هذا اسناد حسن»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2171
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ ثنا عَمْرُو بْنُ حَبِيبٍ عَنْ عَوْفٍ عَنْ أَبِي رَجَاءٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا ابْنُ عَبَّاسٍ صَلَاةَ الصُّبْحِ فَقَنَتَ قَبْلَ الرُّكُوعِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" هَذِهِ صَلَاةُ الْوُسْطَى الَّتِي قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا {وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} [البقرة: ٢٣٨] ".
ابو رجاء سے روایت ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی تو رکوع سے پہلے قنوت پڑھی۔ جب نماز سے سلام پھیرا تو فرمانے لگے: یہ وہ درمیانی نماز ہے جس کے بارے میں باری تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾ [سورة البقرة: 238] اور اللہ کے لیے فرمان بردار ہو کر کھڑے رہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2171]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ هذا اسناد صعيف»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2172
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ثنا أَبُو النَّضْرِ ثنا دَاوُدُ الْعَطَّارُ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:" الصَّلَاةُ الْوُسْطَى الصُّبْحُ" وَرُوِّينَا أَيْضًا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ وَاحْتَجَّ بِمَا احْتَجَّ بِهِ ابْنُ عَبَّاسٍ وَهُوَ قَوْلُ عَطَاءٍ وَطَاوُسٍ وَمُجَاهِدٍ وَعِكْرِمَةَ وَمَنْ قَالَ بِهِ احْتَجَّ.
(ا) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ درمیانی نماز صبح کی نماز ہے۔
(ب) اسی طرح یہ روایت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے اور انہوں نے بھی اس سے وہ دلیل حاصل کی ہے جو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حاصل کی ہے۔ طاؤس، مجاہد، عکرمہ اور عطا رحمہم اللہ کا بھی یہی قول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2172]
(ب) اسی طرح یہ روایت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بھی منقول ہے اور انہوں نے بھی اس سے وہ دلیل حاصل کی ہے جو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حاصل کی ہے۔ طاؤس، مجاہد، عکرمہ اور عطا رحمہم اللہ کا بھی یہی قول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2172]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه ابن ابي شبية 8616»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2173
بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ أنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الصَّفَّارُ ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ أَنَّهُ قَالَ: أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا ثُمَّ قَالَتْ: إِذَا بَلَغَتْ هَذِهِ الْآيَةَ فَآذِنِّي {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى} [البقرة: ٢٣٨] فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا فَأَمْلَتْ عَلَيَّ" حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا للَّهِ قَانِتِينَ" وَقَالَتْ عَائِشَةُ: سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَفِيهِ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ الْوُسْطَى غَيْرُ الْعَصْرِ.
(ا) ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابو یونس سے روایت ہے کہ انہوں نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے لیے ایک مصحف لکھوں، پھر فرمانے لگیں کہ ”جب تم اس آیت ﴿حٰفِظُوْا عَلَی الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوۃِ الْوُسْطٰی﴾ [سورة البقرة: 238] پر پہنچو تو مجھے بتانا“۔ ”نمازوں کی حفاظت کرو خصوصاً درمیانی نماز کی“۔ جب میں اس مقام پر پہنچا تو میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے مجھے لکھوایا: «حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ» ”نمازوں کی حفاظت کرو خصوصاً درمیانی نماز کی اور عصر کی نماز کی بھی اور اللہ کے لیے فرمانبردار ہو کر کھڑے ہو جاؤ“۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”میں نے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے“۔
(ب) اس میں دلیل ہے کہ عصر کی نماز الگ ہے اور درمیانی نماز الگ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2173]
(ب) اس میں دلیل ہے کہ عصر کی نماز الگ ہے اور درمیانی نماز الگ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2173]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 629»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2174
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ الْعَدْلُ ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا ⦗٦٧٨⦘ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ ثنا مَالِكٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَمْرِو بْنِ رَافِعٍ أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ مُصْحَفًا لِحَفْصَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الْآيَةَ فَآذِنِّي {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى} [البقرة: ٢٣٨] فَلَمَّا بَلَغْتُهَا آذَنْتُهَا فَأَمْلَتْ عَلَيَّ" حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ" قَانِتِينَ".
حضرت عمرو بن رافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کے لیے مصحف لکھ رہا تھا تو انہوں نے فرمایا: جب اس آیت ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى﴾ [سورة البقرة: 238] پر پہنچو تو مجھے بتانا، نمازیں پابندی سے ادا کرو خصوصاً درمیانی نماز۔ میں جب اس آیت پر پہنچا تو میں نے آپ رضی اللہ عنہا کو بتایا تو انہوں نے مجھ سے یہ لکھوایا: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾ نمازوں پر محافظت کرو اور درمیانی نماز پر اور نماز عصر پر اور اللہ کے لیے فرمانبردار ہو جاؤ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2174]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه مالك 314»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 2175
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ:" أَمَرَتْ حَفْصَةُ بِمُصْحَفٍ يُكْتَبُ لَهَا فَقَالَتْ لِلَّذِي يَكْتُبُ: إِذَا أَتَيْتَ عَلَى ذِكْرِ الصَّلَاةِ فَذَرْ مَوْضِعَهَا حَتَّى أُعَلِّمَكَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللهْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فَفَعَلَ فَكَتَبَ" حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ" قَالَ نَافِعٌ: فَرَأَيْتُ الْوَاوَ مُعَلَّقَةَ وَهَذَا مُسْنَدٌ إِلَّا أَنَّ فِيهِ إِرْسَالًا مِنْ جِهَةِ نَافِعٍ ثُمَّ أَكَّدَهُ بِمَا أَخْبَرَ عَنْ رُؤْيَتِهِ وَحَدِيثِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَمْرٍو الْكَاتِبِ مَوْصُولٌ وَإِنْ كَانَ مَوْقُوفًا فَهُوَ شَاهِدٌ لِصِحَّةِ رِوَايَةِ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ وَقَدْ رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ وَنَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ كِلَاهُمَا عَنْ عُمَرَ بْنِ رَافِعٍ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كُنْتُ أَكْتُبُ الْمَصَاحِفَ فِي زَمَانِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَكْتَبَتْنِي حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ مُصْحَفًا لَهَا فَقَالَتْ لِي: أَيْ بُنِيَّ إِذَا انْتَهَيْتَ إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى} [البقرة: ٢٣٨] فَلَا تَكْتُبْهَا حَتَّى تَأْتِيَنِي فَأُمْلِيَهَا عَلَيْكَ كَمَا حَفِظْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا انْتَهَيْتُ إِلَيْهَا حَمَلْتُ الْوَرَقَةَ وَالدَّوَاةَ حَتَّى جِئْتُهَا فَقَالَتِ: اكْتُبْ" حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ".
نافع سے روایت ہے کہ ام المومنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کاتب کو اس مصحف کے بارے میں حکم دیا جو ان کے لیے لکھا جا رہا تھا کہ ”جب تو نماز کے ذکر تک پہنچے تو اس کی جگہ خالی چھوڑ دینا، تاکہ میں تجھے وہ بتاؤں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے ہوئے سنا“، چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا۔ آپ رضی اللہ عنہا نے لکھوایا: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ﴾ ”نماز پر محافظت کرو، درمیانی نماز اور عصر کی نماز پر بھی محافظت کرو۔“ نافع کہتے ہیں: میں نے واؤ کو معلق دیکھا ہے۔
یہ روایت مسند ہے مگر اس میں نافع کی جانب سے ارسال ہے، اس کی تاکید انھوں نے اپنے مشاہدے سے بھی کی اور زید بن اسلم کی روایت عمرو کاتب کے واسطے سے موصول ہے۔ اگرچہ وہ موقوف ہے لیکن وہ عبیداللہ بن عمر عن نافع کی روایت کے صحیح ہونے کی شاہد ہے۔
ایک اور سند کے ساتھ عمر بن رافع جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں سے منقول ہے کہ میں ازواجِ مطہرات کے دور میں مصاحف لکھا کرتا تھا تو سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما مجھ سے اپنے مصحف میں لکھوایا کرتی تھیں۔ انھوں نے مجھے فرمایا: ”اے بیٹے! جب تو اس آیت ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ﴾ [سورة البقرة: 238] پر پہنچے تو اس کو مت لکھنا جب تک تو اس کو میرے پاس نہ لے آئے تو میں تجھے اس طرح لکھواؤں گی جس طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔“ وہ فرماتے ہیں کہ میں جب اس آیت پر پہنچا تو میں ورق اور قلم دوات ان کے پاس لے گیا۔ انھوں نے فرمایا: ”لکھو: «حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ» (نمازوں کی حفاظت کرو اور درمیانی نماز کی، جو عصر کی نماز ہے، اور اللہ کے لیے فرمانبردار ہو کر کھڑے ہو جاؤ)۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2175]
یہ روایت مسند ہے مگر اس میں نافع کی جانب سے ارسال ہے، اس کی تاکید انھوں نے اپنے مشاہدے سے بھی کی اور زید بن اسلم کی روایت عمرو کاتب کے واسطے سے موصول ہے۔ اگرچہ وہ موقوف ہے لیکن وہ عبیداللہ بن عمر عن نافع کی روایت کے صحیح ہونے کی شاہد ہے۔
ایک اور سند کے ساتھ عمر بن رافع جو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہیں سے منقول ہے کہ میں ازواجِ مطہرات کے دور میں مصاحف لکھا کرتا تھا تو سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہما مجھ سے اپنے مصحف میں لکھوایا کرتی تھیں۔ انھوں نے مجھے فرمایا: ”اے بیٹے! جب تو اس آیت ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ﴾ [سورة البقرة: 238] پر پہنچے تو اس کو مت لکھنا جب تک تو اس کو میرے پاس نہ لے آئے تو میں تجھے اس طرح لکھواؤں گی جس طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔“ وہ فرماتے ہیں کہ میں جب اس آیت پر پہنچا تو میں ورق اور قلم دوات ان کے پاس لے گیا۔ انھوں نے فرمایا: ”لکھو: «حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ» (نمازوں کی حفاظت کرو اور درمیانی نماز کی، جو عصر کی نماز ہے، اور اللہ کے لیے فرمانبردار ہو کر کھڑے ہو جاؤ)۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2175]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه ابن جرير 2/569»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 2176
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ثنا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ فَذَكَرَهُ فَخَالَفَ رِوَايَةَ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ وَعُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ فِي الْإِسْنَادِ وَالْمَتْنِ جَمِيعًا حَيْثُ قَالَ: عَنْ عُمَرَ بْنِ رَافِعٍ وَإِنَّمَا هُوَ عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ وَعُمَرُ لَا يَصِحُّ قَالَهُ الْبُخَارِيُّ وَحَيْثُ قَالَ: هِيَ ⦗٦٧٩⦘ صَلَاةُ الْعَصْرِ وَإِنَّمَا هُوَ وَصَلَاةُ الْعَصْرِ وَقَدْ خُولِفَ إِسْنَادُ حَدِيثِ عَائِشَةَ أَيْضًا فِي مَتْنِهِ وَالصَّحِيحُ مَا ذَكَرْنَاهُ وَقَدْ رُوِيَ بِوَفَاتِهِ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَرَأَ" حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ" أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ ١٦٥٥ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ بِذَلِكَ وَقَدْ جَاءَ الْكِتَابُ ثُمَّ السُّنَّةُ بِتَخْصِيصِ صَلَاةِ الصُّبْحِ بِزِيَادَةِ الْفَضِيلَةِ.
محمد بن اسحاق نے سند اور متن دونوں میں زید بن اسلم اور عبیداللہ بن عمر کی روایت کی مخالفت کی ہے: سند میں انہوں نے عمر بن رافع کہا حالانکہ وہ عمرو بن رافع ہے، عمر درست نہیں، یہ بات امام بخاری رحمہ اللہ نے فرمائی ہے۔ اور متن میں انہوں نے «هِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ» (وہ عصر کی نماز ہے) کہا حالانکہ درست «وَصَلَاةِ الْعَصْرِ» (اور عصر کی نماز) ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے متن میں بھی اختلاف کیا گیا ہے اور صحیح وہی ہے جو ہم نے ذکر کیا۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ انہوں نے ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ﴾ پڑھا۔
قرآن اور پھر سنت میں نمازِ فجر کو خصوصی طور پر زیادہ فضیلت دی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2176]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ انہوں نے ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ﴾ پڑھا۔
قرآن اور پھر سنت میں نمازِ فجر کو خصوصی طور پر زیادہ فضیلت دی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2176]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره