السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
596. -- باب: من قال لا يقرأ خلف الإمام على الإطلاق
-- باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے مطلقا قراءت نہ کی جائے
حدیث نمبر: 2906
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَبِي أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمًا الظُّهْرَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَرَأَ خَلْفَهُ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} [الأعلى: ١] فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ:" أَيُّكُمُ الْقَارِئُ؟" قَالَ: أَنَا قَالَ:" قَدْ ظَنَنْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ بِهَذَا الْمَعْنَى مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَأَبِي عَوَانَةَ وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ظہر کی نماز پڑھائی تو ایک شخص آپ کے پیچھے (جماعت میں) کھڑا ہو گیا، اس نے ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] پڑھی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”پڑھنے والا کون تھا؟“ اس شخص نے عرض کیا: میں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جان لیا تھا کہ تم میں سے کوئی اسے مجھ سے چھین رہا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2906]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الحميدي 835»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2907
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ هُوَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي الْوَلِيدِ وَفِي آخِرِهِ قَالَ: شُعْبَةُ فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ كَأَنَّهُ كَرِهَهُ، فَقَالَ: لَوْ كَرِهَهُ لَنَهَى عَنْهُ وَرُوِّينَا عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهُ قَالَ:" لَا تَجُوزُ صَلَاةٌ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَرِهَ مِنَ الْقَارِئِ خَلْفَهُ شَيْئًا كَرِهَ الْجَهْرَ بِالْقِرَاءَةِ دُونَ الْقِرَاءَةِ نَفْسِهَا وَهُوَ مِثْلُ مَا".
(ا) شعبہ کہتے ہیں: ”میں نے قتادہ سے کہا: شاید کہ آپ نے امام کے پیچھے قراءت کو اچھا نہیں سمجھا ہوگا؟“ تو انھوں نے فرمایا: ”اگر اس کو اچھا نہ سمجھتے تو ضرور منع فرما دیتے۔“
(ب) عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے ہمیں روایت بیان کی گئی ہے کہ انھوں نے فرمایا: ”سورہ فاتحہ کے بغیر نماز جائز نہیں ہے۔“ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے پڑھنے والے کو اچھا نہیں سمجھا تو اس کے اونچا پڑھنے کو ناپسند کیا ہے نہ کہ دل میں پڑھنے کو (یعنی اس کے پڑھنے کو آپ نے اس لیے اچھا نہیں سمجھا کہ وہ اونچی آواز سے پڑھ رہا تھا جس کی وجہ سے آپ کی قراءت میں خلل واقع ہو رہا تھا)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2907]
(ب) عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے ہمیں روایت بیان کی گئی ہے کہ انھوں نے فرمایا: ”سورہ فاتحہ کے بغیر نماز جائز نہیں ہے۔“ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیچھے پڑھنے والے کو اچھا نہیں سمجھا تو اس کے اونچا پڑھنے کو ناپسند کیا ہے نہ کہ دل میں پڑھنے کو (یعنی اس کے پڑھنے کو آپ نے اس لیے اچھا نہیں سمجھا کہ وہ اونچی آواز سے پڑھ رہا تھا جس کی وجہ سے آپ کی قراءت میں خلل واقع ہو رہا تھا)۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2907]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم في 2905، 2906»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2908
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، أنبأ أَبِي، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ حُذَافَةَ، صَلَّى فَجَهَرَ بِالْقِرَاءَةِ، فَقَالَ: لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا ابْنَ حُذَافَةَ لَا تُسْمِعْنِي وَأَسْمِعِ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی اور اونچی آواز میں پڑھنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن حذافہ! ہمیں نہ سناؤ بلکہ اللہ کو سناؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2908]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ قال الشوكاني في النيل 3/ 72»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 2909
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الزَّاهِرِيَّةِ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَفِي كُلِّ صَلَاةٍ قِرَاءَةٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ" فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: وَجَبَتْ هَذِهِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ أَقْرَبَ الْقَوْمِ إِلَيْهِ:" مَا أَرَى الْإِمَامَ إِذَا أَمَّ الْقَوْمَ إِلَّا قَدْ كَفَاهُمْ" كَذَا رَوَاهُ أَبُو صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ وَغَلَطَ فِيهِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْهُ، وَأَخْطَأَ فِيهِ، وَالصَّوَابُ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ قَالَ ذَلِكَ لَكَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ.
کثیر بن مرہ حضرمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کیا ہر نماز میں قراءت (ضروری) ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں (ضروری ہے)“ تو انصار کے ایک شخص نے کہا کہ قراءت واجب ہوگئی۔ میں سب لوگوں سے زیادہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا خیال یہ ہے کہ امام کی قراءت مقتدیوں کے لیے کافی ہے۔“
ابوصالح کاتب لیث نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے اور اس میں غلطی کی ہے، اسی طرح زید بن حباب نے بھی ان سے مروی دو روایتوں میں سے ایک میں اسے اسی طرح روایت کیا ہے اور اس میں خطا کی ہے، درست یہ ہے کہ ابودرداء رضی اللہ عنہ نے یہ بات کثیر بن مرہ سے کہی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2909]
ابوصالح کاتب لیث نے اسے اسی طرح روایت کیا ہے اور اس میں غلطی کی ہے، اسی طرح زید بن حباب نے بھی ان سے مروی دو روایتوں میں سے ایک میں اسے اسی طرح روایت کیا ہے اور اس میں خطا کی ہے، درست یہ ہے کہ ابودرداء رضی اللہ عنہ نے یہ بات کثیر بن مرہ سے کہی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2909]
تخریج الحدیث: «منكر۔ قال الدار قطني والنسائي الصحيح انه موقوف»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 2910
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ قَالَا: ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَامَ رَجُلٌ فَقَالَ:" يَا رَسُولَ اللهِ، أَفِي كُلِّ صَلَاةٍ قُرْآنٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ" فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: وَجَبَ هَذَا، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: يَا كَثِيرُ وَأَنَا إِلَى جَنْبِهِ: لَا أَرَى الْإِمَامَ إِذَا أَمَّ الْقَوْمَ أَنْ قَدْ كَفَاهُمْ" قَالَ عَلِيٌّ: الصَّوَابُ: إِنَّهُ مِنْ قَوْلِ أَبِي الدَّرْدَاءِ كَمَا قَالَ ابْنُ وَهْبٍ: وَهِمَ فِيهِ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابُ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رَوَى زَيْدٌ كَمَا رَوَاهُ ابْنُ وَهْبٍ وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَهُوَ إِمَامٌ حَافِظٌ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ فَجَعَلَهُ مِنْ قَوْلِ أَبِي الدَّرْدَاءِ، وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّهُ كَانَ يَرَى الْقِرَاءَةَ خَلْفَ الْإِمَامِ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ كَانَ لَا يَرَاهَا مَعَ الْإِمَامِ.
(ا) سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ہر نماز میں قرات ضروری ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: قرات واجب ہوگئی۔ تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا، جبکہ میں ان کے پہلو میں تھا: ”اے کثیر! (یہ راوی کا نام ہے) میرا خیال یہ ہے کہ امام کی قرات مقتدیوں کے لیے کافی ہے۔“
(ب) علی کہتے ہیں کہ درست بات یہ ہے کہ یہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کا اپنا قول ہے جیسا کہ ابن وہب نے روایت کیا ہے، اس میں زید بن حباب کو وہم ہوا ہے۔ زید نے بھی اسے ابن وہب کی طرح روایت کیا ہے، اور عبدالرحمن بن مہدی نے، جو امام اور حافظ ہیں، اسے معاویہ بن صالح سے روایت کر کے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کا قول قرار دیا ہے۔ ہمیں سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے روایت بیان کی گئی ہے کہ وہ امام کے پیچھے قرات کے قائل تھے اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ امام کے پیچھے قرات کے قائل نہ تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2910]
(ب) علی کہتے ہیں کہ درست بات یہ ہے کہ یہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کا اپنا قول ہے جیسا کہ ابن وہب نے روایت کیا ہے، اس میں زید بن حباب کو وہم ہوا ہے۔ زید نے بھی اسے ابن وہب کی طرح روایت کیا ہے، اور عبدالرحمن بن مہدی نے، جو امام اور حافظ ہیں، اسے معاویہ بن صالح سے روایت کر کے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کا قول قرار دیا ہے۔ ہمیں سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے روایت بیان کی گئی ہے کہ وہ امام کے پیچھے قرات کے قائل تھے اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ امام کے پیچھے قرات کے قائل نہ تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2910]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد تقدم الكلام عليه في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2911
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُصَيْفَةَ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَأَلَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ الْإِمَامِ، فَقَالَ:" لَا أَقْرَأُ مَعَ الْإِمَامِ فِي شَيْءٍ" ⦗٢٣٣⦘ أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَهُوَ مَحْمُولٌ عَلَى الْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ مَعَ الْإِمَامِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
(ا) عطا بن یسار بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے امام کے پیچھے قراءت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: میں امام کے ساتھ کسی چیز میں قراءت نہیں کرتا۔
(ب) یہ امام کے ساتھ اونچی آواز سے قراءت کرنے پر محمول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2911]
(ب) یہ امام کے ساتھ اونچی آواز سے قراءت کرنے پر محمول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2911]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 577»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 2912
وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ:" مَنْ قَرَأَ وَرَاءَ الْإِمَامِ فَلَا صَلَاةَ" وَهَذَا إِنْ صَحَّ بِهَذَا اللَّفْظِ وَفِيهِ نَظَرٌ فَمَحْمُولٌ عَلَى الْجَهْرِ بِالْقِرَاءَةِ وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ، وَقَدْ خَالَفَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْعَدَنِيُّ فَرَوَاهُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدٍ لَمْ يَذْكُرْ أَبَاهُ فِي إِسْنَادِهِ قَالَ: الْبُخَارِيُّ لَا يُعْرَفُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ سَمَاعُ بَعْضِهِمْ مِنْ بَعْضٍ وَلَا يَصِحُّ مِثْلُهُ.
(ا) سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس نے امام کے پیچھے قرأت کی، اس کی نماز نہیں ہوگی۔
(ب) یہ حدیث اگر ان الفاظ کے ساتھ صحیح ہو، اور اس میں نظر ہے، تو اس کو جہری قرأت پر محمول کیا جائے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
عبداللہ بن ولید عدنی نے اس کی مخالفت کی ہے اور اسے سفیان عن عمر بن محمد عن موسیٰ بن سعد عن زید کی سند سے روایت کیا ہے، اس کی سند میں ان کے والد کا ذکر نہیں کیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس سند کے ساتھ ان کا ایک دوسرے سے سماع معروف نہیں ہے اور اس جیسی روایت صحیح نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2912]
(ب) یہ حدیث اگر ان الفاظ کے ساتھ صحیح ہو، اور اس میں نظر ہے، تو اس کو جہری قرأت پر محمول کیا جائے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
عبداللہ بن ولید عدنی نے اس کی مخالفت کی ہے اور اسے سفیان عن عمر بن محمد عن موسیٰ بن سعد عن زید کی سند سے روایت کیا ہے، اس کی سند میں ان کے والد کا ذکر نہیں کیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس سند کے ساتھ ان کا ایک دوسرے سے سماع معروف نہیں ہے اور اس جیسی روایت صحیح نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2912]
تخریج الحدیث: «ضعيف جدا»
الحكم على الحديث: ضعيف جدا