🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

632. -- باب: لا تفريط على من نام عن صلاة، أو نسيها حتى ذهب وقتها، وعليه قضاؤها إذا ذكرها، لا كفارة لها إلا ذلك
-- باب: اس شخص پر کوئی کوتاہی نہیں جو نماز سے سو گیا، یا اسے بھول گیا یہاں تک کہ اس کا وقت نکل گیا، اور جب اسے یاد آئے تو اس پر اس کی قضا لازم ہے، اس کے سوا اس کا کوئی کفارہ نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3171
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي مَنِيعِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، وَشُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ، قَالَا: ثنا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ، أنبأ حُصَيْنٌ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: سَرَيْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ فِي سَفَرٍ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، لَوْ عَرَّسْتَ بِنَا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي نَوْمِهِمْ عَنِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللهَ قَبَضَ أَرْوَاحَكُمْ حِينَ شَاءَ، وَرَدَّهَا عَلَيْكُمْ حِينَ شَاءَ" ثُمَّ أَمَرَهُمْ فَانْتَشَرُوا لِحَاجَتِهِمْ وَتَوَضَّئُوا وَارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى بِهِمْ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَّامٍ، عَنْ هُشَيْمٍ.
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے تو ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! اگر آپ ہمیں قیام کی اجازت دے دیں؟“ پھر انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کی نیند کی وجہ سے نماز رہ جانے والی مکمل حدیث ذکر کی۔۔۔ اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جب تک چاہا تمہاری روحوں کو روکے رکھا اور جب چاہا چھوڑ دیا۔“ پھر آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ قضائے حاجت کو نکل گئے، پھر انہوں نے وضو کیا اور سورج بلند ہوچکا تھا۔ پھر آپ نے انہیں نماز پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3171]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 681»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3172
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ قَالَا: أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي مَسِيرِهِمْ قَالَ: فَمَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الطَّرِيقِ فَوَضَعَ رَأْسَهُ ثُمَّ قَالَ:" احْفَظُوا عَلَيْنَا صَلَاتَنَا" فَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالشَّمْسُ فِي ظَهْرِهِ فَقُمْنَا فَزِعِينَ فَقَالَ:" ارْكَبُوا" فَسِرْنَا حَتَّى ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ دَعَا بِمِيضَاةٍ كَانَتْ مَعِي فِيهَا شَيْءٌ مِنَ الْمَاءِ، فَتَوَضَّأْنَا مِنْهَا، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ: ثُمَّ نَادَى بِلَالٌ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ صَلَّى صَّلَاةَ الْغَدَاةِ فَصَنَعَ كَمَا كَانَ يَصْنَعُ كُلَّ يَوْمٍ، ثُمَّ رَكِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَكِبْنَا فَجَعَلَ بَعْضُنَا يَهْمِسُ إِلَى بَعْضٍ مَا كَفَّارَةُ مَا صَنَعْنَا بِتَفْرِيطِنَا فِي صَلَاتِنَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا هَذَا الَّذِي تَهْمِسُونَ دُونِي؟" فَقُلْنَا: يَا نَبِيَّ اللهِ تَفْرِيطُنَا فِي صَلَاتِنَا، فَقَالَ:" أَمَا لَكُمْ فِيَّ أُسْوَةٌ" ثُمَّ قَالَ:" إِنَّهُ لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ عَلَى مَنْ لَمْ يُصَلِّ الصَّلَاةَ حَتَّى يَجِيءَ وَقْتُ الْأُخْرَى، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ فَلْيُصَلِّهَا حِينَ يَسْتَيْقِظُ، فَإِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ فَلْيُصَلِّهَا عِنْدَ وَقْتِهَا" وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَبَاحٍ: إِنِّي لَأُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ، فَقَالَ لِي عِمْرَانُ بْنُ الْحُصَيْنِ: انْظُرْ أَيُّهَا الْفَتَى كَيْفَ تُحَدِّثُ، فَإِنِّي لَأَحَدُ الرَّكْبِ تِلْكَ اللَّيْلَةَ، قُلْتُ: يَا أَبَا نُجَيْدٍ، حَدِّثْ أَنْتَ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ قَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ بِالْحَدِيثِ، فَحَدَّثْتُ الْقَوْمَ، فَقَالَ عِمْرَانُ: لَقَدْ شَهِدْتُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ فَمَا شَعَرْتُ أَنَّ أَحَدًا حَفِظَهُ كَمَا حَفِظْتُهُ ⦗٣٠٧⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَقَالَ فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَلْيُصَلِّهَا حِينَ يَنْتَبِهُ لَهَا، فَإِذَا كَانَ الْغَدُ فَلْيُصَلِّهَا عِنْدَ وَقْتِهَا، وَإِنَّمَا أَرَادَ وَاللهُ أَعْلَمُ لِيُبَيِّنَ أَنَّ وَقْتَهَا لَمْ يَتَحَوَّلْ إِلَى مَا بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ، فَإِذَا كَانَ الْغَدُ صَلَّاهَا عِنْدَ وَقْتِهَا، يَعْنِي صَلَاةَ الْغَدِ، وَقَدْ حَمَلَهُ بَعْضُهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَبَاحٍ عَلَى الْوَهْمِ.
(ا) عبداللہ بن رباح نے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے صحابہ کے سفر والی مکمل حدیث ذکر کی۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم راستے سے تھوڑا ہٹ گئے، پھر اپنا سر مبارک رکھا (یعنی آرام کے لیے لیٹ گئے)، پھر فرمایا: ”ہماری نماز کا خیال رکھنا۔“ سب سے پہلے بیدار ہونے والے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور سورج بھی نکل چکا تھا۔ ہم بھی گھبرا کر بیدار ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چلو سواریوں پر سوار ہو کر نکلو۔“ ہم چل پڑے حتیٰ کہ سورج اچھی طرح روشن ہو گیا، پھر آپ نے وضو کا برتن منگوایا جو میرے پاس تھا۔ اس میں کچھ پانی تھا، پھر ہم سب نے اس سے وضو کیا۔ انہوں نے مکمل حدیث ذکر کرتے ہوئے فرمایا: پھر مؤذنِ رسول سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان کہی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز (فجر کی سنتیں) ادا کیں۔ پھر صبح کی نماز پڑھائی۔ آپ نے اسی طرح کیا جس طرح ہر روز کیا کرتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم سب اپنی اپنی سواریوں پر سوار ہو گئے۔ ہم میں سے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرنے لگے کہ ہم نے جو نماز میں کوتاہی کی ہے اس کا کفارہ کیا ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دیکھ کر پوچھا: ”تم کیا سرگوشیاں کر رہے ہو؟“ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! نماز میں ہماری کوتاہی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے لیے میری زندگی میں اسوہ حسنہ نہیں ہے؟“ پھر فرمایا: ”نیند کی وجہ سے نماز نہ پڑھنے سے کوتاہی نہیں ہوتی۔ کوتاہی تو اس شخص سے ہوتی ہے جو بیداری اور یادداشت میں نماز نہ پڑھے حتیٰ کہ دوسری نماز کا وقت آ جائے۔ جب کسی کے ساتھ اس طرح کا معاملہ پیش آئے تو اسے چاہیے کہ جب اٹھے تو اسی وقت پڑھ لے اور آئندہ وقت پر نماز ادا کرے۔“
پھر عبداللہ بن رباح بیان کرتے ہیں کہ میں ضرور اس حدیث کو جامع مسجد میں بیان کروں گا تو سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھے کہا: ارے نوجوان بھائی! دیکھ تو سہی تو کیسے بیان کرے گا؟ حالانکہ میں بھی اس رات کے قافلے کا ایک فرد تھا۔ میں نے عرض کیا: اے ابونجید! آپ بیان کیجیے، آپ اس حدیث کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: تمہارا تعلق کس سے ہے؟ میں نے عرض کیا: انصار سے۔ انہوں نے فرمایا: تم حدیث کے بارے میں زیادہ علم رکھتے ہو۔ میں نے لوگوں کے سامنے حدیث بیان کی تو سیدنا عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یقیناً میں اس رات موجود تھا لیکن میرا خیال نہیں کہ کسی ایک نے بھی اس طرح اس حدیث کو یاد رکھا ہو جس طرح آپ نے یاد کر رکھی ہے۔
(ب) امام مسلم رحمہ اللہ کی روایت میں ہے: ”جو اس طرح کرے تو جب اسے پتا چلے وہ نماز ادا کر لے، اور جب اگلا دن ہو تو اسے اس کے وقت پر ادا کرے۔“
(ج) اس سے مراد، واللہ اعلم، یہ واضح کرنا تھا کہ اس نماز کا وقت سورج نکلنے کے بعد کی طرف منتقل نہیں ہوا، لہٰذا جب اگلا دن ہو تو (اگلے دن کی) نماز کو اس کے وقت پر ادا کرے۔
بعض علماء نے اسے عبداللہ بن رباح کا وہم قرار دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3172]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 681»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3173
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، أنبأ أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سُمَيْرٍ قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَبَاحٍ الْأَنْصَارِيُّ وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ تُفَقِّهُهُ، فَحَدَّثَنَا قَالَ: ثنا أَبُو قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ فَارِسُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ قِصَّةَ نَوْمِهِمْ عَنِ الصَّلَاةِ إِلَى أَنْ قَالَ: فَمَا اسْتَيْقَظْنَا إِلَّا بِالشَّمْسِ طَالِعَةً عَلَيْنَا، فَقُمْنَا وَهِلِينَ لِصَلَاتِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" رُوَيْدًا رُوَيْدًا" حَتَّى تَعَالَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ قَالَ:" مَنْ كَانَ يُصَلِّي هَاتَيْنِ الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْغَدَاةِ فَلْيُصَلِّهِمَا" قَالَ: فَصَلَّاهُمَا مَنْ كَانَ يُصَلِّيهِمَا وَمَنْ كَانَ لَا يُصَلِّيهِمَا، ثُمَّ أَمَرَ فَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ ثُمَّ تَقَدَّمَ فَصَلَّى بِنَا فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ:" إِنَّا بِحَمْدِ اللهِ لَمْ نَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا شَغَلَنَا عَنْ صَلَاتِنَا، وَلَكِنَّ أَرْوَاحَنَا كَانَتْ بِيَدِ اللهِ أَرْسَلَهَا إِذَا شَاءَ فَمَنْ أَدْرَكَتْهُ هَذِهِ الصَّلَاةُ مِنْ غَدٍ صَالِحًا فَلْيُصَلّ مَعَهَا مِثْلَهَا" قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ: لَا يُتَابَعُ فِي قَوْلِهِ:" مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا وَلِوَقْتِهَا مِنَ الْغَدِ" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ الْفَارِسِيُّ، أنبأ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ قَالَ: قَالَ مُحَمَّدٌ فَذَكَرَهُ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَالَّذِي يَدُلُّ عَلَى ضَعْفِ هَذِهِ الْكَلِمَةِ وَأَنَّ الصَّحِيحَ مَا مَضَى مِنْ رِوَايَةِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ أَحَدُ الرَّكْبِ كَمَا حَدَّثَ عَبْدُ اللهِ بْنُ رَبَاحٍ عَنْهُ، وَقَدْ صَرَّحَ فِي رِوَايَةِ هَذَا الْحَدِيثِ بِأَنْ لَا يَجِبَ مَعَ الْقَضَاءِ غَيْرُهُ.
(ا) خالد بن سمیر روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ بن رباح انصاری رحمہ اللہ ہمارے پاس تشریف لائے، انصار انھیں فقیہ کہا کرتے تھے۔ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھڑ سوار ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں حدیث بیان کی۔
پھر انھوں نے نیند کی وجہ سے نماز رہ جانے والی مکمل حدیث ذکر کی اور فرمایا کہ جب سورج طلوع ہو کر کافی بلند ہو گیا تو ہم بیدار ہوئے، ہم نماز کے لیے جلدی کرنے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھہرو! تاکہ سورج اچھی طرح طلوع ہو جائے۔“ پھر جب سورج کافی بلند ہو گیا تو فرمایا: ”جو شخص فجر کی دو رکعتیں (سنتیں) پڑھتا ہے وہ پڑھ لے“ تو تمام لوگ کھڑے ہو گئے اور دو رکعتیں ادا کیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان کے لیے حکم دیا اور نماز کے لیے اذان کہی گئی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے اور ہمیں نماز پڑھائی۔ پھر جب نماز سے سلام پھیر کر فارغ ہوئے تو فرمایا: ”تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں (اللہ کا شکر ہے) کہ ہمیں کسی دنیوی کام کی مشغولیت نے نماز سے غافل نہیں کیا، ہماری روحیں تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں تھیں، اس ذات نے جب چاہا ان (روحوں) کو آزاد کر دیا“ اور فرمایا: ”جو شخص کل فجر کی نماز کو وقت پر پالے تو اس جیسی ایک نماز اور پڑھ لے۔“
(ب) امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے اس قول کا متابع موجود نہیں ہے کہ جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آئے نماز پڑھ لے اور آئندہ وقت پر ادا کرے۔
(ج) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وہ چیز جو اس کلمہ کے ضعف پر دلالت کرتی ہے اور صحیح بھی وہی ہے۔ یہ سلیمان بن مغیرہ کی حدیث میں گزر چکی ہے کہ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اسی قافلے کے ایک مسافر تھے جیسا کہ عبداللہ بن رباح نے بھی ان سے بیان کیا ہے اور انھوں نے اس حدیث کے بارے میں تصریح فرما دی کہ قضا کے علاوہ کچھ بھی واجب نہ ہو گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3173]
تخریج الحدیث: «شاذ۔ اخرجه ابوداود 438»

الحكم على الحديث: شاذ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3174
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، ثنا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا هِشَامٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" سَرَيْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ، أَوْ قَالَ: سَرِيَّةٍ، فَلَمَّا كَانَ فِي آخِرِ السَّحَرِ عَرَّسْنَا فَمَا اسْتَيْقَظْنَا حَتَّى أَيْقَظَنَا حَرُّ الشَّمْسِ، فَجَعَلَ الْقَوْمُ مِنَّا يَنْتَبِهُ فَزِعًا دَهِشًا، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمَرَنَا فَارْتَحَلْنَا، ثُمَّ سِرْنَا حَتَّى ارْتَفَعَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ نَزَلْنَا فَقَضَى الْقَوْمُ حَوَائِجَهُمْ، ثُمَّ أَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ فَصَلَّيْنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ، ثُمَّ صَلَّى الْغَدَاةَ، فَقُلْنَا: يَا نَبِيَّ اللهِ أَلَا نَقْضِيَهَا مِنَ الْغَدِ لِوَقْتِهَا" فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَنْهَاكُمُ اللهُ عَنِ الرِّبَا وَيَقْبَلُهُ مِنْكُمْ" ⦗٣٠٨⦘ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، عَنْ هِشَامٍ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوہ میں تھے یا سریہ کا لفظ بولا۔ جب رات کا آخری وقت ہوا تو ہم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈال دیا۔ پھر سورج کی تپش کی وجہ سے ہماری آنکھ کھلی تو ہم گھبرا گئے، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو ہمیں حکم دیا کہ یہاں سے آگے چلیں۔ پھر ہم چلے حتیٰ کہ سورج کافی بلند ہو گیا، پھر ہم ایک دوسری جگہ اترے۔ لوگ اپنی اپنی حاجتوں سے فارغ ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کہنے کا حکم دیا، انہوں نے اذان کہی تو ہم نے فجر کی دو سنتیں ادا کیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی۔ ہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے نبی! کیا ہم کل بھی اس کو اس کے وقت پر قضا کر کے ادا کریں؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا اللہ تعالیٰ تمہیں سود سے منع کرے اور پھر تم سے اسے قبول کر لے؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3174]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه احمد 4/ 441»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3175
وَرَوَاهُ زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ حَدَّثَهُ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ بَيَانٍ الْمُقْرِئُ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْمُهَلَّبِ، ثنا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، فَذَكَرَهُ.
ایک دوسری سند سے یہی حدیث منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3175]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3176
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَفَلَ مِنْ غَزْوَةِ خَيْبَرَ سَارَ لَيْلَةً حَتَّى إِذَا أَدْرَكَهُ الْكَرَى عَرَّسَ، وَقَالَ لِبِلَالٍ:" اكْلَأْ لَنَا اللَّيْلَ" فَصَلَّى بِلَالٌ مَا قُدِّرَ لَهُ وَنَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، فَلَمَّا تَقَارَبَ الْفَجْرُ اسْتَنَدَ بِلَالٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ مُوَاجِهَ الْفَجْرِ، فَغَلَبَتْ بِلَالًا عَيْنَاهُ وَهُوَ مُسْتَنِدٌ إِلَى رَاحِلَتِهِ فَلَمْ يَسْتَيْقِظْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا بِلَالٌ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِهِ حَتَّى ضَرَبَتْهُمُ الشَّمْسُ، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوَّلَهُمُ اسْتِيقَاظًا فَفَزِعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَيْ بِلَالُ" فَقَالَ بِلَالٌ: أَخَذَ بِنَفْسِي الَّذِي أَخَذَ بِنَفْسِكَ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" اقْتَادُوا"، فَاقْتَادُوا رَوَاحِلَهُمْ شَيْئًا ثُمَّ تَوَضَّأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَ بِلَالًا فَأَقَامَ الصَّلَاة فَصَلَّى بِهُمُ الصُّبْحَ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ:" مَنْ نَسِيَ الصَّلَاةَ فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ {أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي} [طه: ١٤] " قَالَ يُونُسُ: وَكَانَ ابْنُ شِهَابٍ يَقْرَؤُهَا" لِذِكْرَى" وَفِي حَدِيثِ أَحْمَدَ" لِلذِّكْرَى" قَالَ يُونُسُ وَكَانَ ابْنُ شِهَابٍ يَقْرَؤُهَا كَذَلِكَ قَالَ أَحْمَدُ قَالَ عَنْبَسَةُ، يَعْنِي عَنْ يُونُسَ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ" لِذِكْرَى" قَالَ أَحْمَدُ: الْكَرَى النُّعَاسُ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَرْمَلَةَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ خیبر سے واپس تشریف لا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کو کوچ کیا، یہاں تک کہ ہمیں نیند آنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ پڑاؤ ڈال دیا اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”تم رات کو ہماری نگرانی کرو۔“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی جو ان کے مقدر میں تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم سو گئے، جب فجر کا وقت قریب آیا تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سواری کے ساتھ ٹیک لگا کر مشرق کی طرف رخ کر کے بیٹھ گئے۔ ان پر نیند کا غلبہ ہوا اور وہ بھی سواری کے ساتھ سہارا لیے ہوئے سو گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا بلال رضی اللہ عنہ یا آپ کے اصحاب رضی اللہ عنہم میں سے کوئی بھی بیدار نہ ہوا یہاں تک کہ ان پر دھوپ آگئی۔ سب سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھبرا کر آواز دی: ”اے بلال!“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، جس ذات نے آپ پر نیند طاری کی، اسی نے مجھ پر بھی نیند طاری کی۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہاں سے کوچ کر جاؤ۔“ پھر سب نے وہاں سے کچھ فاصلے تک کوچ کیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے نماز کے لیے اقامت کہی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آئے نماز پڑھ لے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ [سورة طه: 14] ”میری یاد کی خاطر نماز قائم کرو۔““
یونس کہتے ہیں: ابن شہاب اس کو «لِلذِّكْرَى» پڑھتے تھے۔
یونس کہتے ہیں کہ ابن شہاب اس کو اسی طرح پڑھتے تھے۔
امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: عنبسہ نے یونس کی سند سے «لِذِكْرِي» بیان کیا ہے۔ امام احمد رحمہ اللہ کہتے ہیں: الکری کا مطلب نیند اور اونگھ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3176]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 680»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3177
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبَانُ، ثنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فِي هَذَا الْخَبَرِ قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَحَوَّلُوا عَنْ مَكَانِكُمُ الَّذِي أَصَابَتْكُمْ فِيهِ الْغَفْلَةُ" قَالَ: فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ وَأَقَامَ وَصَلَّى وَهَذَا الْخَبَرُ رَوَاهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَجَمَاعَةٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٣٠٩⦘ مُرْسَلًا وَرَوَاهُ مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْقَطِعًا وَمَنْ وَصَلَهُ ثِقَةٌ، وَقَدْ ثَبَتَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مُخْتَصَرًا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس جگہ تم غفلت کا شکار ہوئے ہو وہاں سے کوچ کرو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو اذان کا حکم دیا، انہوں نے اذان اور اقامت کہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی۔
اس روایت کو امام مالک بن انس اور ایک جماعت نے زہری سے، انہوں نے ابن مسیب سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل بیان کیا ہے، اور امام مالک نے اسے زید بن اسلم سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقطع بیان کیا ہے۔ جس نے اسے موصول بیان کیا ہے وہ ثقہ ہے، اور یہ روایت ایک دوسری سند سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مختصر طور پر ثابت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3177]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابوداود 436»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3178
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَحْيَى، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: عَرَّسْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَسْتَيْقِظْ حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيَأْخُذْ كُلُّ رَجُلٍ بِرَأْسِ رَاحِلَتِهِ فَإِنَّ هَذَا مَنْزِلٌ حَضَرَنَا فِيهِ الشَّيْطَانُ" فَفَعَلْنَا ثُمَّ دَعَا بِالْمَاءِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَصَلَّى الْغَدَاةَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے رات کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک جگہ پڑاؤ ڈالا۔ ہم بیدار نہ ہوئے حتیٰ کہ آفتاب طلوع ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر آدمی اپنی سواری کی لگام پکڑ لے یعنی یہاں سے کوچ کر چلو، کیونکہ اس جگہ ہمارے پاس شیطان حاضر ہو گیا ہے“ تو ہم نے ایسے ہی کیا۔ پھر آپ نے پانی منگوا کر وضو کیا اور فجر کی دو سنتیں ادا کیں۔ پھر اقامت کہی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3178]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ وقد مضي الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3179
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، وَأَبُو الْوَلِيدِ، وَمُسْلِمٌ، قَالُوا: ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا وَلَا كَفَّارَةَ لَهَا إِلَّا ذَلِكَ" ثُمَّ قَرَأَ قَتَادَةُ {أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي} [طه: ١٤] رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے تو جب بھی یاد آئے پڑھ لے اور اس کا کفارہ یہی ہے کہ وہ نماز قضا کرلے۔“ پھر قتادہ نے یہ آیت کریمہ تلاوت کی: ﴿أَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي﴾ [سورة طه: 14] ”اور میرے ذکر کے لیے نماز قائم کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3179]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مسلم 680»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3180
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هُدْبَةُ، ثنا هَمَّامٌ، ثنا قَتَادَةُ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ هَدَّابِ بْنِ خَالِدٍ وَهُوَ هُدْبَةُ.
قتادہ رحمہ اللہ سے یہی روایت دوسری سند سے بھی منقول ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3180]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 572»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں