السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
632. -- باب: لا تفريط على من نام عن صلاة، أو نسيها حتى ذهب وقتها، وعليه قضاؤها إذا ذكرها، لا كفارة لها إلا ذلك
-- باب: اس شخص پر کوئی کوتاہی نہیں جو نماز سے سو گیا، یا اسے بھول گیا یہاں تک کہ اس کا وقت نکل گیا، اور جب اسے یاد آئے تو اس پر اس کی قضا لازم ہے، اس کے سوا اس کا کوئی کفارہ نہیں
حدیث نمبر: 3181
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حِمْشَاذَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ نَسِيَ صَلَاةً أَوْ نَامَ عَنْهَا فَكَفَّارَتُهَا أَنْ يُصَلِّيَهَا إِذَا ذَكَرَهَا" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى وَغَيْرِهِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، وَالْمُثَنَّى بْنُ سَعِيدٍ وَغَيْرُهُمَا، عَنْ قَتَادَةَ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص نماز پڑھنا بھول جائے یا سو جائے، اس کا کفارہ یہ ہے کہ جب بھی اسے یاد آجائے تو وہ نماز پڑھ لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3181]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3182
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، وَالْمَسْعُودِيُّ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَلْقَمَةَ الْقَارِيِّ، مِنْ بَنِي قَارَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَحَدِيثُ الْمَسْعُودِيِّ أَحْسَنُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْجِعَهُ مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَعَرَّسْنَا، فَقَالَ:" مَنْ يَحْرُسُنَا لِصَلَاتِنَا؟" وَقَالَ شُعْبَةُ:" مَنْ يَكْلَؤُنَا؟" فَقَالَ بِلَالٌ: أَنَا قَالَ الْمَسْعُودِيُّ فِي حَدِيثِهِ: إِنَّكَ تَنَامُ، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ يَحْرُسُنَا لِصَلَاتِنَا؟" فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: قُلْتُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ⦗٣١٠⦘ إِنَّكَ تَنَامُ" فَحَرَسْتُهُمْ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ أَدْرَكَنِي مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنِمْتُ فَمَا اسْتَيْقَظْنَا إِلَّا بِالشَّمْسِ قَالَ: فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَنَعَ مَا كَانَ يَصْنَعُ ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ اللهَ لَوْ أَرَادَ أَنْ لَا تَنَامُوا عَنْهَا لَمْ تَنَامُوا، وَلَكِنْ أَرَادَ أَنْ تَكُونَ لِمَنْ بَعْدَكُمْ، فَهَكَذَا فَافْعَلُوا، مَنْ نَامَ مِنْكُمْ أَوْ نَسِيَ".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ سے واپس آ رہے تھے تو ہم نے رات کو جنگل میں پڑاؤ ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیں نماز کے لیے کون جگائے گا؟“ شعبہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم پر پہرہ کون دے گا؟“ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: میں۔ مسعودی اپنی حدیث میں کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سو جاؤ گے۔“ پھر فرمایا: ”ہمیں نماز کے لیے کون اٹھائے گا؟“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: میں اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم سو جاؤ گے۔“ تو میں نے ان پر پہرہ دیا حتیٰ کہ جب صبح قریب تھی میرے ساتھ وہی ہوا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا (کہ تم سو جاؤ گے) تو میں سو گیا۔ دھوپ کی وجہ سے ہم بیدار ہوئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے اور حسب معمول کام کیا پھر فرمایا: ”اگر اللہ چاہتا کہ تم نہ سوؤ تو تم کبھی نہ سوتے لیکن اللہ چاہتا ہے کہ تمہارے بعد والوں کے لیے مسئلہ واضح ہو جائے، لہٰذا تم میں سے کوئی سو جائے یا بھول جائے تو تم اس طرح کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3182]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه احمد 1/ 391»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3183
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْبُرُلُّسِيُّ، ثنا أَبُو ثَابِتٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ أَبِي الْعَطَّافِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَوَقْتُهَا إِذَا ذَكَرَهَا" كَذَا رَوَاهُ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي الْعَطَّافِ، وَقَدْ قِيلَ عَنْهُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، أَوْ عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ قَالَ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ وَالصَّحِيحُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَغَيْرِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا ذَكَرْنَا لَيْسَ فِيهِ: فَوَقْتُهَا إِذَا ذَكَرَهَا، وَفِي حَدِيثِ أَبِي قَتَادَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَغَيْرِهِمَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ وَقْتَ الْقَضَاءِ لَا يَتَضَيَّقُ وَلَوْ كَانَ يَتَضَيَّقُ لَأَشْبَهَ أَنْ لَا يُؤَخِّرَهَا عَنْ حَالِ الِانْتِبَاهِ لِمَكَانِ الشَّيْطَانِ فَقَدْ صَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْنُقُ الشَّيْطَانَ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَخَنْقُهُ الشَّيْطَانِ فِي الصَّلَاةِ أَكْبَرُ مِنْ وَادٍ فِيهِ شَيْطَانٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی نماز پڑھنا بھول جائے تو جب اسے یاد آجائے وہی اس کا وقت ہے، لہٰذا اسی وقت پڑھ لے۔“
اسی طرح اسے حفص بن عمر بن ابی العطاف نے روایت کیا ہے اور وہ منکر الحدیث ہے، یہ بات امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ نے کہی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وغیرہ سے صحیح روایت وہی ہے جو ہم نے ذکر کی، اس میں «فَوَقْتُهَا إِذَا ذَكَرَهَا» ”پس اس کا وقت وہی ہے جب وہ اسے یاد کرے“ کے الفاظ نہیں ہیں۔
سیدنا ابوقتادہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ قضا کا وقت تنگ نہیں ہوتا اور اگر تنگ ہوتا تو زیادہ مناسب یہ تھا کہ اسے بیدار ہونے کی حالت سے شیطان کی موجودگی کی وجہ سے مؤخر نہ کیا جاتا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حال میں نماز پڑھی تھی کہ آپ شیطان کا گلا گھونٹ رہے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نماز میں شیطان کا گلا گھونٹنا اس وادی سے بڑا معاملہ ہے جس میں شیطان ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3183]
اسی طرح اسے حفص بن عمر بن ابی العطاف نے روایت کیا ہے اور وہ منکر الحدیث ہے، یہ بات امام بخاری رحمہ اللہ وغیرہ نے کہی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وغیرہ سے صحیح روایت وہی ہے جو ہم نے ذکر کی، اس میں «فَوَقْتُهَا إِذَا ذَكَرَهَا» ”پس اس کا وقت وہی ہے جب وہ اسے یاد کرے“ کے الفاظ نہیں ہیں۔
سیدنا ابوقتادہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کی حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ قضا کا وقت تنگ نہیں ہوتا اور اگر تنگ ہوتا تو زیادہ مناسب یہ تھا کہ اسے بیدار ہونے کی حالت سے شیطان کی موجودگی کی وجہ سے مؤخر نہ کیا جاتا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حال میں نماز پڑھی تھی کہ آپ شیطان کا گلا گھونٹ رہے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نماز میں شیطان کا گلا گھونٹنا اس وادی سے بڑا معاملہ ہے جس میں شیطان ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3183]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 449، مسلم 541»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3184
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ عِفْرِيتًا مِنَ الْجِنِّ تَفَلَّتَ عَلَيَّ الْبَارِحَةَ لِيَقْطَعَ عَلَيَّ الصَّلَاةَ فَأَمْكَنَنِي اللهُ مِنْهُ فَذَرَعْتُهُ، وَأَرَدْتُ أَنْ أَرْبِطَهُ إِلَى جَنْبِ سَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى تُصْبِحُوا فَتَنْظُرُوا إِلَيْهِ كُلُّكُمْ أَجْمَعُونَ" قَالَ:" فَذَكَرْتُ دَعْوَةَ أَخِي سُلَيْمَانَ: رَبِّ هَبْ لِي مُلْكًا لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ مِنْ بَعْدِي" قَالَ:" فَرَدَّهُ خَاسِئًا" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ جَمِيعًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عفریت نامی جن گزشتہ رات مجھے تنگ کرنے لگا تاکہ میری نماز میں خلل ڈالے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے میرے اختیار میں کر دیا۔ میں نے چاہا کہ اس کو مسجد کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دوں تاکہ صبح کو تم سب اس کو دیکھتے، لیکن مجھے اپنے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا یاد آئی جو انہوں نے کی تھی: ﴿قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَّا يَنبَغِي لِأَحَدٍ مِّن بَعْدِي ۖ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ﴾ [سورة ص: 35] ”اے میرے رب! مجھے بخش دے اور مجھے ایسی بادشاہت عطا فرما جو میرے بعد کسی کے لیے نہ ہو۔ بے شک تو ہی بہت زیادہ عطا کرنے والا ہے“ تو میں نے اس کو رسوا کر کے چھوڑ دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3184]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه البخاري 449»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3185
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جَنَاحٍ الْمُحَارِبِيُّ بِالْكُوفَةِ أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ دُحَيْمٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ، أنبأ عُبَيْدُ اللهِ هُوَ ابْنُ مُوسَى، أنبأ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ هُوَ ابْنُ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَرَّ عَلَيَّ الشَّيْطَانُ فَتَنَاوَلْتُهُ فَأَخَذْتُهُ فَخَنَقْتُهُ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ لِسَانِهِ عَلَى يَدِي" وَقَالَ:" أَوْجَعْتَنِي أَوْجَعْتَنِي، وَلَوْلَا مَا دَعَا سُلَيْمَانُ عَلَيْهِ السَّلَامُ لَأَصْبَحَ مُنَاطًا إِلَى أُسْطُوَانَةٍ مِنْ أَسَاطِينِ الْمَسْجِدِ يَنْظُرُ إِلَيْهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ" ⦗٣١١⦘ تَابَعَهُ جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ، فَرَوَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس ایک بار شیطان آیا، میں نے اس کو پکڑ لیا اور اس کا گلا گھونٹا حتیٰ کہ مجھے اس کی زبان کی سردی اپنے ہاتھ پر محسوس ہوگئی۔ وہ کہنے لگا: آپ نے مجھے تکلیف دی ہے، اگر سلیمان علیہ السلام نے دعا نہ کی ہوتی کہ ﴿رَبِّ اغْفِرْ لِي وَهَبْ لِي مُلْكًا لَّا يَنبَغِي لِأَحَدٍ﴾ [سورة ص: 35] تو ضرور یہ صبح کو مسجد کے کسی ستون کے ساتھ بندھا ہوا ہوتا اور اہل مدینہ کے بچے اس کو دیکھتے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3185]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ اخرجه احمد 1/ 413»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره