السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
639. -- باب: عورة الأمة
-- باب: لونڈی کے ستر کا بیان
حدیث نمبر: 3219
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَيْمُونٍ، ثنا الْوَلِيدُ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا زَوَّجَ أَحَدُكُمْ عَبْدَهُ أَمَتَهُ أَوْ أَجِيرَهُ فَلَا يَنْظُرَنَّ إِلَى عَوْرَتِهَا" كَذَا قَالَ أَبِي: عَوْرَتِهَا.
عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے غلام کی اپنی لونڈی سے شادی کرا دے یا اپنے مزدور کی، تو وہ اس (لونڈی) کے ستر کو ہرگز نہ دیکھے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3219]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه ابوداود 4113»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 3220
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا وَكِيعٌ، ثنا دَاوُدُ بْنُ سَوَّارٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا زَوَّجَ أَحَدُكُمْ خَادِمَهُ عَبْدَهُ أَوْ أَجِيرَهُ فَلَا يَنْظُرَنَّ إِلَى مَا دُونَ السُّرَّةِ وَفَوْقَ الرُّكْبَةِ" قَالَ أَبُو دَاوُدَ: صَوَابُهُ سِوَارُ بْنُ دَاوُدَ قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ إِذَا قُرِنَتْ بِرِوَايَةِ الْأَوْزَاعِيِّ دَلَّنَا عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِالْحَدِيثِ نَهْيُ السَّيِّدِ عَنِ النَّظَرِ إِلَى عَوْرَتِهَا إِذَا زَوَّجَهَا وَأَنَّ عَوْرَةَ الْأَمَةِ مَا بَيْنَ السُّرَّةِ وَالرُّكْبَةِ، وَسَائِرُ طُرُقِ هَذَا الْحَدِيثِ يَدُلُّ وَبَعْضُهَا يَنُصُّ عَلَى أَنَّ الْمُرَادَ بِهِ نُهِيُ الْأَمَةِ عَنِ النَّظَرِ إِلَى عَوْرَةِ السَّيِّدِ بَعْدَ مَا زُوِّجَتْ أَوْ نُهِيُ الْخَادِمِ مِنَ الْعَبْدِ أو الْأَجِيرِ عَنِ النَّظَرِ إِلَى عَوْرَةِ السَّيِّدِ بَعْدَ مَا بَلَغَا النِّكَاحَ، فَيَكُونُ الْخَبَرُ وَارِدًا فِي بَيَانِ مِقْدَارِ الْعَوْرَةِ مِنَ الرَّجُلِ لَا فِي بَيَانِ مِقْدَارِهَا مِنَ الْأَمَةِ وَسَنَأْتِي عَلَى ذِكْرِهَا فِي الْبَابِ الَّذِي يَلِيهِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی لونڈی کا نکاح اپنے غلام یا نوکر سے کر دے تو پھر اس (لونڈی) کے ستر کو ناف کے نیچے سے گھٹنوں کے اوپر تک ہرگز نہ دیکھے۔“
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت کا جب اوزاعی کی روایت سے موازنہ کریں تو مطلب یہ ہے کہ آقا جب اپنی لونڈی کا نکاح کسی سے کر دے تو اس کا ستر نہ دیکھے اور دوسری بات یہ حاصل ہوئی کہ لونڈی کا ستر ناف اور گھٹنے کے درمیان ہے۔
اس حدیث کے تمام طرق اس بات پر دلالت کرتے ہیں اور بعض میں صراحت ہے کہ اس سے مراد لونڈی کو نکاح کے بعد اپنے آقا کا ستر دیکھنے کی ممانعت ہے، یا خادم (غلام یا نوکر) کو بالغ ہونے کے بعد اپنے آقا کے ستر کی طرف دیکھنے کی ممانعت ہے۔ یہ حدیث مرد کے ستر کی مقدار کے بیان کے لیے ہے نہ کہ لونڈی کے ستر کی۔ ان شاء اللہ ہم اگلے باب میں اس کا ذکر کریں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3220]
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت کا جب اوزاعی کی روایت سے موازنہ کریں تو مطلب یہ ہے کہ آقا جب اپنی لونڈی کا نکاح کسی سے کر دے تو اس کا ستر نہ دیکھے اور دوسری بات یہ حاصل ہوئی کہ لونڈی کا ستر ناف اور گھٹنے کے درمیان ہے۔
اس حدیث کے تمام طرق اس بات پر دلالت کرتے ہیں اور بعض میں صراحت ہے کہ اس سے مراد لونڈی کو نکاح کے بعد اپنے آقا کا ستر دیکھنے کی ممانعت ہے، یا خادم (غلام یا نوکر) کو بالغ ہونے کے بعد اپنے آقا کے ستر کی طرف دیکھنے کی ممانعت ہے۔ یہ حدیث مرد کے ستر کی مقدار کے بیان کے لیے ہے نہ کہ لونڈی کے ستر کی۔ ان شاء اللہ ہم اگلے باب میں اس کا ذکر کریں گے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3220]
تخریج الحدیث: «حسن۔ اخرجه ابوداود 4114»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 3221
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ الْوَلِيدِ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ حَدَّثَتْهُ قَالَت: خَرَجَتِ امْرَأَةٌ مُخْتَمِرَةٌ مُتَجَلْبِبَةٌ، فَقَالَ عَمْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَنْ هَذِهِ الْمَرْأَةُ؟ فَقِيلَ لَهُ: هَذِهِ جَارِيَةٌ لِفُلَانٍ رَجُلٍ مِنْ بَنِيهِ فَأَرْسَلَ إِلَى حَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَالَ:" مَنْ حَمَلَكِ عَلَى أَنْ تُخَمِّرِي هَذِهِ الْأَمَةَ وَتُجَلْبِبِيهَا، وَتُشَبِّهِيهَا بِالْمُحْصَنَاتِ حَتَّى هَمَمْتُ أَنْ أَقَعَ بِهَا، لَا أَحْسَبُهَا إِلَّا مِنَ الْمُحْصَنَاتِ، لَا تُشَبِّهُوا الْإِمَاءَ بِالْمُحْصَنَاتِ".
نافع بیان کرتے ہیں کہ صفیہ بنت ابی عبید رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک عورت بڑی چادر میں لپٹی ہوئی نکلی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: ”یہ کون عورت ہے؟“ تو کسی نے بتایا کہ فلاں آدمی کی لونڈی ہے۔ وہ آدمی ان کے بیٹوں میں سے ایک تھا تو انہوں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا: ”تجھے کس نے کہا کہ تو اس لونڈی کو چادر پہنا، اس کو مکمل پردہ کروا اور آزاد عورتوں کے مشابہ کر دے؟ میں ارادہ کر چکا تھا کہ میں اس کو پکڑ کر سزا دوں، میں تو اسے آزاد عورت ہی سمجھ رہا تھا۔ لہٰذا لونڈیوں کو آزاد عورتوں کے مشابہ نہ بناؤ۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3221]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه عبدالرزاق كما في نصب الرايه 1/241»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3222
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحِرَفِيُّ بِبَغْدَادَ أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الزُّبَيْرِ الْكُوفِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ ⦗٣٢١⦘ سَلَمَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ جَدِّهِ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ:" كُنَّ إِمَاءُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَخْدِمْنَنَا كَاشِفَاتٍ عَنْ شُعُورِهِنَّ تَضْرِبُ ثُدِيُّهُنَّ" قَالَ الشَّيْخُ:" وَالْآثَارُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي ذَلِكَ صَحِيحَةٌ، وَإِنَّهَا تَدُلُّ عَلَى أَنَّ رَأْسَهَا وَرَقَبَتَهَا وَمَا يَظْهَرُ مِنْهَا فِي حَالِ الْمِحْنَةِ لَيْسَ بِعَوْرَةٍ، فَأَمَّا حَدِيثُ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ فَقَدِ اخْتُلِفَ فِي مَتْنِهِ فَلَا يَنْبَغِي أَنْ يُعْتَمَدَ عَلَيْهِ فِي عَوْرَةِ الْأَمَةِ وَإِنْ كَانَ يَصْلُحُ الِاسْتِدْلَالُ بِهِ وَبِسَائِرِ مَا يَأْتِي عَلَيْهِ مَعَهُ فِي عَوْرَةِ الرَّجُلِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ وَقَدِ احْتَجَّ بَعْضُ أَصْحَابِنَا فِي ذَلِكَ بِحَدِيثٍ رَوَاهُ بِإِسْنَادِهِ.
(ا) سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی لونڈیاں ہماری خدمت کیا کرتی تھیں، ان کے بال کھلے ہوتے اور ان کے سینے ہل رہے ہوتے۔
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس مسئلہ کے بارے میں جو آثار منقول ہیں وہ صحیح ہیں اور اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ لونڈی کا سر، گردن اور کام کاج کے دوران جو حصہ ظاہر ہو وہ ستر نہیں ہے۔
(ج) رہی عمرو بن شعیب کی روایت تو اس کا متن مختلف فیہ ہے، لہٰذا کسی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ لونڈی کے ستر میں اس پر اعتماد کیا جائے، اگرچہ مرد کے ستر کے بارے میں اس سے اور اس کے ساتھ آنے والی دیگر روایات سے استدلال کرنا درست ہے، وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3222]
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس مسئلہ کے بارے میں جو آثار منقول ہیں وہ صحیح ہیں اور اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ لونڈی کا سر، گردن اور کام کاج کے دوران جو حصہ ظاہر ہو وہ ستر نہیں ہے۔
(ج) رہی عمرو بن شعیب کی روایت تو اس کا متن مختلف فیہ ہے، لہٰذا کسی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ لونڈی کے ستر میں اس پر اعتماد کیا جائے، اگرچہ مرد کے ستر کے بارے میں اس سے اور اس کے ساتھ آنے والی دیگر روایات سے استدلال کرنا درست ہے، وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3222]
تخریج الحدیث: «جيد۔ قد ذكر الالباني في الارواء 6/204»
الحكم على الحديث: جيد
حدیث نمبر: 3223
عَنْ عِيسَى بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَرَادَ شِرَاءَ جَارِيَةٍ أَوِ اشْتَرَاهَا فَلْيَنْظُرْ إِلَى جَسَدِهَا كُلِّهِ إِلَّا عَوْرَتَهَا، وَعَوْرَتُهَا مَا بَيْنَ مَعْقِدِ إِزَارِهَا إِلَى رُكْبَتِهَا" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ الْفَارِسِيُّ بِصُورَ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَدِينِيُّ، عَنْ مُحَمَّدٍ التَّمِيمِيِّ، عَنْ عِيسَى بْنِ مَيْمُونٍ، فَذَكَرَهُ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ رَحِمَهُ اللهُ: هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ قَالَ الشَّيْخُ: فَهَذَا إِسْنَادٌ لَا تَقُومُ بِمِثْلِهِ حُجَّةٌ وَعِيسَى بْنُ مَيْمُونٍ ضَعِيفٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ صَالِحِ بْنِ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، وَهُوَ أَيْضًا ضَعِيفٌ.
(ا) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو آدمی لونڈی خریدنا چاہے یا خرید لے تو اسے چاہیے کہ وہ اس کے ستر کو چھوڑ کر اس کا مکمل جسم دیکھ لے اور لونڈی کا ستر ازار بند سے لے کر اس کے گھٹنوں تک ہوتا ہے۔“
(ب) اسی طرح کی روایت دوسری سند سے بھی منقول ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس جیسی سند سے دلیل نہیں لی جا سکتی، عیسیٰ بن میمون ضعیف ہے۔
یہ روایت حفص بن عمر عن صالح بن حسان عن محمد بن کعب کی سند سے بھی مروی ہے اور وہ بھی ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3223]
(ب) اسی طرح کی روایت دوسری سند سے بھی منقول ہے۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس جیسی سند سے دلیل نہیں لی جا سکتی، عیسیٰ بن میمون ضعیف ہے۔
یہ روایت حفص بن عمر عن صالح بن حسان عن محمد بن کعب کی سند سے بھی مروی ہے اور وہ بھی ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3223]
تخریج الحدیث: «منكر۔ اخرجه الطبراني في الكبير 10773»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 3224
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، أنبأ عُمَرُ بْنُ سِنَانٍ، ثنا عَبَّاسٌ الْخَلَّالُ، ثنا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا صَالِحُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا بَأْسَ أَنْ يُقَلِّبَ الرَّجُلُ الْجَارِيَةَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَهَا وَيَنْظُرَ إِلَيْهَا مَا خَلَا عَوْرَتَهَا، وَعَوْرَتُهَا مَا بَيْنَ رُكْبَتِهَا إِلَى مَعْقِدِ إِزَارِهَا".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی جب لونڈی خریدتا ہے تو اس کو اچھی طرح دیکھنے میں کوئی حرج نہیں، اس کے ستر کے علاوہ جو چاہے دیکھ سکتا ہے اور لونڈی کا ستر اس کے گھٹنوں اور ناف کے درمیان ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3224]
تخریج الحدیث: «منكر۔ قد تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: منكر