السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
793. -- باب: من قال يتشهد بعد سجدتي السهو ثم يسلم
-- باب: اس قول کا بیان کہ سجدہ سہو کے بعد تشہد پڑھے پھر سلام پھیرے
حدیث نمبر: 3896
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي الْوَزِيرِ التَّاجِرُ أنبأ أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الْحَنْظَلِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحُمْرَانِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشَهَّدَ فِي سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ثُمَّ سَلَّمَ".
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے دو سجدے کیے، پھر تشہد پڑھی اور سلام پھیرا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3896]
تخریج الحدیث: «شاذ۔ اخرجه ابوداود 1039»
الحكم على الحديث: شاذ
حدیث نمبر: 3897
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُثَنَّى، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ فَسَهَا فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ تَشَهَّدَ بَعْدُ، ثُمَّ سَلَّمَ" تَفَرَّدَ بِهِ أَشْعَثُ الْحُمْرَانِيُّ وَقَدْ رَوَاهُ شُعْبَةُ وَوُهَيْبٌ وَابْنُ عُلَيَّةَ وَالثَّقَفِيُّ وَهُشَيْمٌ وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ وَيَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ وَغَيْرُهُمْ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمْ مَا ذَكَرَ أَشْعَثُ، عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْهُ وَرَوَاهُ أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنْ عِمْرَانَ فَذَكَرَ السَّلَامَ دُونَ التَّشَهُّدِ وَفِي رِوَايَةِ هُشَيْمٍ ذَكَرَ التَّشَهُّدَ قَبْلَ السَّجْدَتَيْنِ وَذَلِكَ يَدُلُّ عَلَى خَطَأِ أَشْعَثَ فِيمَا رَوَاهُ.
(ا) یہ حدیث دوسری سند سے بھی منقول ہے، اس میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں نماز پڑھائی تو بھول گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو سجدے کیے، اس کے بعد تشہد پڑھا پھر سلام پھیرا۔
(ب) محمد بیان کرتے ہیں کہ مجھے عمران رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بتایا گیا کہ انھوں نے سلام کا ذکر کیا ہے، تشہد کا ذکر نہیں کیا اور ہشیم کی روایت میں سجدوں سے پہلے تشہد کا ذکر ہے۔
اس روایت کو بیان کرنے میں اشعث حمرانی منفرد ہیں۔ شعبہ، وہیب، ابن علیہ، ثقفی، ہشیم، حماد بن زید، یزید بن زریع وغیرہ نے یہ حدیث خالد حذاء سے روایت کی ہے اور ان میں سے کسی نے وہ بات ذکر نہیں کی جو اشعث نے محمد کے واسطے سے ان سے ذکر کی ہے، یہ اشعث کی روایت میں غلطی پر دلالت کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3897]
(ب) محمد بیان کرتے ہیں کہ مجھے عمران رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بتایا گیا کہ انھوں نے سلام کا ذکر کیا ہے، تشہد کا ذکر نہیں کیا اور ہشیم کی روایت میں سجدوں سے پہلے تشہد کا ذکر ہے۔
اس روایت کو بیان کرنے میں اشعث حمرانی منفرد ہیں۔ شعبہ، وہیب، ابن علیہ، ثقفی، ہشیم، حماد بن زید، یزید بن زریع وغیرہ نے یہ حدیث خالد حذاء سے روایت کی ہے اور ان میں سے کسی نے وہ بات ذکر نہیں کی جو اشعث نے محمد کے واسطے سے ان سے ذکر کی ہے، یہ اشعث کی روایت میں غلطی پر دلالت کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3897]
تخریج الحدیث: «شاذ۔ تقدم في الذي قبله»
الحكم على الحديث: شاذ
حدیث نمبر: 3898
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ خَالِدٌ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، ثنا أَبُو الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ،" أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ أَوِ الْعَصْرَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، فَقَالَ: لَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ الْخِرْبَاقُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّمَا صَلَّيْتَ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ قَالَ:" أَكَذَلِكَ؟" قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: فَقَامَ فَصَلَّى، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ تَشَهَّدَ وَسَلَّمَ وَسَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ، ثُمَّ سَلَّمَ" هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ بِهَذَا اللَّفْظِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر یا عصر کی نماز تین رکعتیں پڑھائیں، ایک آدمی جسے سیدنا خرباق رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ نے تو تین رکعتیں پڑھی ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا واقعی ایسا ہی ہے؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”جی ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر ایک رکعت پڑھائی، پھر سجدہ کیا، پھر تشہد پڑھی، سلام پھیرا اور سہو کے دو سجدے کیے، اس کے بعد سلام پھیرا۔
ان الفاظ کے ساتھ یہی روایت صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3898]
ان الفاظ کے ساتھ یہی روایت صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3898]
تخریج الحدیث: «شاذ»
الحكم على الحديث: شاذ
حدیث نمبر: 3899
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ: قَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ سَلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ: قُلْتُ لِمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ: فِيهِمَا تَشَهُّدٌ؟ يَعْنِي فِي سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَالَ: لَمْ أَسْمَعْهُ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَأَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يَتَشَهَّدَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ مُخْتَصَرًا، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَسَلَّمَ أَنَسٌ وَالْحَسَنُ وَلَمْ يَتَشَهَّدْ، وَقَالَ قَتَادَةُ: لَا يَتَشَهَّدُ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمًهُ اللهُ: وَالْأَخْبَارُ الصَّحِيحَةُ فِي ذَلِكَ تَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ وَإِنْ سَجَدَهُمَا بَعْدَ السَّلَامِ لَمْ يَتَشَهَّدْ لَهُمَا، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
(ا) سلمہ بن علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا سہو کے سجدوں میں تشہد ہے؟ انہوں نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں تو میں نے نہیں سنا لیکن تشہد پڑھنا میرے نزدیک محبوب ہے۔
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انس رضی اللہ عنہ اور حسن رحمہ اللہ نے سلام پھیرا اور تشہد نہیں پڑھا۔
(ج) قتادہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ تشہد نہ پڑھے۔
(د) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس بارے میں صحیح احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ انہوں نے سلام کے بعد بھی سجدے کیے لیکن ان کے لیے تشہد نہیں پڑھا۔ وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3899]
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: انس رضی اللہ عنہ اور حسن رحمہ اللہ نے سلام پھیرا اور تشہد نہیں پڑھا۔
(ج) قتادہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ تشہد نہ پڑھے۔
(د) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس بارے میں صحیح احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ انہوں نے سلام کے بعد بھی سجدے کیے لیکن ان کے لیے تشہد نہیں پڑھا۔ وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3899]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 3900
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي لَيْلَى، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ أَبِي لَيْلَى قَالَ: حَدَّثَنِي الشَّعْبِيُّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَشَهَّدَ بَعْدَ أَنْ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ" وَهَذَا يَتَفَرَّدُ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَلَا يُفْرَحُ بِمَا يَتَفَرَّدُ بِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سہو کے سجدوں سے سر اٹھانے کے بعد تشہد پڑھی ہے۔
اس روایت کو شعبی سے بیان کرنے میں محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ منفرد ہیں اور جس روایت میں وہ منفرد ہوں اس پر اعتماد نہیں کیا جاتا۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3900]
اس روایت کو شعبی سے بیان کرنے میں محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ منفرد ہیں اور جس روایت میں وہ منفرد ہوں اس پر اعتماد نہیں کیا جاتا۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3900]
تخریج الحدیث: «شاذ۔ اخرجه الطبراني في الاوسط 8124»
الحكم على الحديث: شاذ
حدیث نمبر: 3901
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْهَرَوِيُّ، قَدِمَ عَلَيْنَا حَاجًّا أنبأ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيٍّ الْجَوْهَرِيُّ بِمَرْوَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا كُنْتَ فِي الصَّلَاةِ فَشَكَكْتَ فِي ثَلَاثٍ أَوْ أَرْبَعٍ ⦗٥٠١⦘ وَأَكْثَرَ أَظُنُّكَ عَلَى أَرْبَعٍ تَشَهَّدْتَ، ثُمَّ سَجَدْتَ سَجْدَتَيْنِ وَأَنْتَ جَالِسٌ قَبْلَ أَنْ تُسَلِّمَ، ثُمَّ تَشَهَّدْتَ أَيْضًا، ثُمَّ سَلَّمْتَ" وَهَذَا غَيْرُ قَوِيٍّ وَمُخْتَلَفٌ فِي رَفَعِهِ وَمَتْنِهِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو نماز پڑھ رہا ہو اور تجھے تین، چار (رکعتوں) میں شک پڑ جائے اور تیرا غالب گمان چار کا ہو تو تشہد پڑھ، پھر سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھنے کی حالت میں ہی دو سجدے کرے، پھر اسی طرح تشہد پڑھ اس کے بعد سلام پھیر۔“
یہ روایت قوی نہیں ہے اور اس کے مرفوع ہونے اور اس کے متن میں اختلاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3901]
یہ روایت قوی نہیں ہے اور اس کے مرفوع ہونے اور اس کے متن میں اختلاف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3901]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف