🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

796. -- باب: ما يستدل به على أنه لا يجوز أن يكون حديث ابن مسعود في تحريم الكلام ناسخا لحديث أبي هريرة وغيره في كلام الناسي وذلك لتقدم حديث عبد الله وتأخر حديث أب
-- باب: اس بات کے استدلال کا بیان کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی کلام کی حرمت والی حدیث کا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ وغیرہ کی بھول کر کلام کرنے والی حدیث کے لیے ناسخ ہونا جائز نہیں، اور یہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مقدم ہونے اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مؤخر ہونے کی وجہ سے ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3928
وَاحْتَجَّ بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ الزَّاهِدُ ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرِ بْنِ بَرِّيٍّ، ثنا أَبِي، ثنا مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي شُعَيْثُ بْنُ مُطَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ - وَمُطَيْرٌ، حَاضِرٌ فَصَدَّقَهُ مُطَيْرٌ - قَالَ شُعَيْثٌ: يَا أَبَتَاهُ أَخْبَرْتَنِي أَنَّ ذَا الْيَدَيْنِ لَقِيَكَ بِذِي خَشَبٍ فَأَخْبَرَكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ إِحْدَى صَلَاتِي الْعَشِيِّ وَهِيَ الْعَصْرُ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ فَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَتْبَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَخَرَجَ سَرَعَانُ النَّاسِ فَلَحِقَهُ ذُو الْيَدَيْنِ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَوْ نَسِيتَ؟ قَالَ:" مَا قَصُرَتِ الصَّلَاةُ وَلَا نَسِيتُ" ثُمَّ أَقْبَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ:" مَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟" فَقَالَا: صَدَقَ يَا رَسُولَ اللهِ، فَرَجَعَ وَثَارَ النَّاسُ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ".
شعیث اپنے والد مطیر سے کہتے ہیں: اے والد محترم! آپ نے مجھے بتایا تھا کہ ذوالیدین رضی اللہ عنہ آپ کو ذی حشب مقام پر ملے تھے اور انہوں نے آپ کو خبر دی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں زوالِ آفتاب کے بعد والی نمازوں میں سے ایک نماز پڑھائی اور وہ عصر کی نماز تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتوں کے بعد سلام پھیر دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے تو ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما بھی ان کے پیچھے چل پڑے۔ جلدی کرنے والے لوگ نکل گئے تو ذوالیدین، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جا ملے۔ ذوالیدین رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ نماز کم ہوئی اور نہ ہی میں بھولا ہوں۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”ذوالیدین کیا کہہ رہا ہے؟“ ان دونوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ سچ کہہ رہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس پلٹے اور لوگ پھیل چکے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھائیں پھر سہو کے دو سجدے کیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3928]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3929
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ أنبأ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا أَبِي وَنَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَبِنْدَارٌ، قَالُوا: ثنا مَعْدِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ مُطَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: وَأَبُوهُ مَطِيرٌ حَاضِرٌ حِينَ حَدَّثَنِي بِهَذَا الْحَدِيثِ قَالَ: قَالَ لَهُ: يَا أَبَتِ، حَدَّثْتَنِي أَنَّ ذَا الْيَدَيْنِ لَقِيَكَ بِذِي خَشَبٍ فَحَدَّثَكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ إِحْدَى صَلَاتِي الْعَشِيِّ وَهِيَ الْعَصْرُ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِيهِ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ سَجَدَ وَقَدْ قَالَ بَعْضُ الرُّوَاةِ فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ ذُو الشِّمَالَيْنِ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَقَصُرَتِ الصَّلَاةُ أَمْ نَسِيتَ؟ وَشَيْخَا الصَّحِيحَيْنِ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ لَمْ يُصَحِّحَا شَيْئًا مِنْ تِلْكَ الرِّوَايَاتِ؛ لِمَا فِيهَا مِنْ هَذَا الْوَهْمِ الظَّاهِرِ وَكَانَ شَيْخُنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رَحِمَهُ اللهُ يَقُولُ: كُلُّ مَنْ قَالَ ذَلِكَ فَقَدْ أَخْطَأَ فَإِنَّ ذَا الشِّمَالَيْنِ تَقَدَّمَ مَوْتُهُ وَلَمْ يُعَقِّبْ وَلَيْسَ لَهُ رَاوٍ.
معدی بن سلیمان بیان کرتے ہیں کہ شعیث بن مطیر نے اپنے والد سے ہمیں یہ حدیث بیان کی کہ ان کا باپ مطیر اس وقت موجود تھا جب اس نے یہ حدیث مجھے بیان کی کہ اس نے اپنے والد سے کہا: ”اے ابو جان! آپ نے مجھے حدیث بیان کی تھی کہ ذوالیدین رضی اللہ عنہ آپ کو ذی خشب مقام میں ملے تھے اور انہوں نے آپ کو حدیث بیان کی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں زوالِ آفتاب کی نمازوں میں سے ایک نماز پڑھائی تھی، وہ عصر کی نماز تھی اور دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا۔“ پھر انہوں نے مکمل حدیث ذکر کی۔ اس میں یہ بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد میں انہیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر سلام پھیرا، پھر سہو کے سجدے کیے۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث بعض راوی بیان کرتے ہیں کہ ذوالشمالین رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! کیا نماز کم ہو گئی ہے یا آپ بھول گئے ہیں؟“ صحیحین کے شیخین بخاری و مسلم رحمہما اللہ نے ان روایات کو صحیح نہیں کہا ہے جن میں یہ وہم ظاہر ہے اور ہمارے شیخ ابو عبداللہ حافظ رحمہ اللہ کہا کرتے تھے: ”جو بھی اس طرح کہتا ہے وہ غلطی کرتا ہے۔“
پس بیشک ذوالشمالین رضی اللہ عنہ کی وفات پہلے ہوئی اور وہ باقی نہیں رہے اور ان سے روایت کرنے والا کوئی نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3929]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ وقد تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3930
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: سَمِعْتُ حَفْصَ بْنَ عَاصِمٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ وَأَنَا أُصَلِّي فَدَعَانِي قَالَ: فَصَلَّيْتُ، ثُمَّ جِئْتُ، فَقَالَ:" مَا مَنَعَكَ أَنْ تُجِيبَنِي حِينَ دَعَوْتُكَ؟ أَمَا سَمِعْتَ اللهَ يَقُولُ {يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ} لَأُعَلِّمَنَّكَ أَعْظَمَ سُورَةٍ فِي الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَ: فَمَشَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ⦗٥١٦⦘ حَتَّى كِدْنَا أَنْ نَبْلُغَ بَابَ الْمَسْجِدِ، فَقُلْتُ: نَسِيَ، فَذَكَّرْتُهُ، فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّكَ قُلْتَ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ".
سیدنا ابو سعید بن معلی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں موجود تھے اور میں نماز پڑھ رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا۔ میں نماز پڑھنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے کس چیز نے منع کیا کہ جب میں نے تجھے بلایا تو تم نہیں آئے؟ کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا کہ ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ﴾ [سورة الأنفال: 24] ”اے ایمان والو! اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پر لبیک کہو جب وہ تمہیں اس چیز کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی بخشتی ہے۔“ میں ضرور تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے قرآن میں سب سے عظیم سورت سکھاؤں گا۔“ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ چلتا رہا حتیٰ کہ ہم دروازے کے قریب پہنچنے والے تھے تو میں نے دل میں کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھول گئے ہوں گے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد دلایا، میں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! آپ نے فلاں بات کہی تھی۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ﴿الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ﴾ [سورة الفاتحة: 2] (تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو سب جہانوں کا رب ہے) یہی وہ سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو مجھے دی گئی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3930]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 4474»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3931
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَا أنبأ صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْجُشَمِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، ثنا شُعْبَةُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي إِسْنَادِهِ: عَنْ عَنْ وَقَالَ:" دَعَوْتُكَ فَلَمْ تُجِبْنِي" قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي قَالَ: فَذَكَرَ مَعْنَاهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ وَفِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ جَوَابَ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ سَأَلَهُمْ عَمَّا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ لَمْ يُبْطِلْ صَلَاتَهُمْ مَعَ مَا رُوِّينَا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ فِي تِلْكَ الْقِصَّةِ أَنَّهُمْ أَوْمَئُوا.
(ا) ایک دوسری سند سے یہی حدیث منقول ہے، مگر اس میں الفاظ اس طرح ہیں: «قَالَ: دَعَوْتُكَ فَلَمْ تُجِبْنِي قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي» ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے تمہیں بلایا تھا مگر تم نے مجھے جواب نہیں دیا، انہوں نے عرض کیا: میں نماز پڑھ رہا تھا“ یعنی اس کے معنی میں روایت بیان کی۔
(ب) اس بات میں اس چیز کی دلیل ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دینا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ذوالیدین رضی اللہ عنہ کے بارے میں پوچھا تھا کہ ”وہ کیا کہہ رہا ہے؟“ تو یہ جواب دینے سے ان کی نماز باطل نہ ہوگی، اس لیے کہ حماد بن زید سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ انہوں نے اس قصہ میں فرمایا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اشارہ کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3931]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں