🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

807. -- باب: ما روي فيمن يسرق من صلاته فلا يتمها
-- باب: اس شخص کے متعلق جو مروی ہے جو اپنی نماز میں چوری کرتا ہے اور اسے پورا نہیں کرتا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3996
أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ ثنا أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى الْقَنْطَرِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَسْوَأُ النَّاسِ سَرِقَةً الَّذِي يَسْرِقُ صَلَاتَهُ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ يَسْرِقُ صَلَاتَهُ؟ قَالَ:" لَا يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَلَا سُجُودَهَا".
سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں سے بدترین چوری کرنے والا وہ ہے جو نماز میں چوری کرے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! نماز میں چوری کیسے ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے رکوع و سجود کو مکمل نہ کرنا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3996]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ رواه الحاكم 1 /353»

الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3997
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُمَارَةَ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أَبِي الْعِشْرِينَ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ، ثنا أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَسْوَأَ النَّاسِ سَرِقَةً الَّذِي يَسْرِقُ صَلَاتَهُ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَكَيْفَ يَسْرِقُ صَلَاتَهُ؟ قَالَ:: لَا يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَلَا سُجُودَهَا" وَرُوِيَ ذَلِكَ فِي حَدِيثِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چوری کرنے کے لحاظ سے لوگوں میں سے بدترین آدمی وہ ہے جو نماز میں چوری کرتا ہے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! نماز میں آدمی کیسے چوری کرتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے رکوع و سجود کو مکمل نہ کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3997]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ۔ أخرجه الحاكم 1/353»

الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3998
وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: رَأَى حُذَيْفَةُ رَجُلًا لَا يُتِمُّ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ قَالَ: مُذْ كَمْ صَلَّيْتَ؟ قَالَ: مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ:" مَا صَلَّيْتَ وَلَوْ مُتَّ مُتَّ عَلَى غَيْرِ الْفِطْرَةِ" ⦗٥٤٠⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ.
زید بن وہب بیان کرتے ہیں: سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا جو رکوع و سجود کو پورا پورا ادا نہیں کر رہا تھا تو اس کو کہا: کتنے عرصے سے تو (اس طرح کی) نماز پڑھ رہا ہے؟ اس نے جواب دیا: چالیس سال سے۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو نے کوئی نماز نہیں پڑھی، اگر تو اسی حالت میں مر گیا تو تیری موت فطرت (اسلام) پر نہ ہو گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3998]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 758»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3999
وَأنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَبُو سَعِيدٍ وَصَفْوَانُ، قَالُوا: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ مَوْلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ أَنَّهُ بَيْنَمَا هُوَ جَالِسٌ مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ دَخَلَ الْحَجَّاجُ بْنُ أَيْمَنَ ابْنِ أُمِّ أَيْمَنَ وَهُوَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَكَانَ أَيْمَنُ أَخًا لِأُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ كَانَ أَكْبَرَ مِنْ أُسَامَةَ قَالَ حَرْمَلَةُ: فَصَلَّى الْحَجَّاجُ صَلَاةً لَمْ يُتِمَّ رُكُوعَهُ وَلَا سُجُودَهُ فَدَعَاهُ ابْنُ عُمَرَ حِينَ سَلَّمَ، فَقَالَ: أَيِ ابْنَ أَخِي أَتَحْسِبُ أَنَّكَ قَدْ صَلَّيْتَ إِنَّكَ لَمْ تُصِلِّ فَعُدْ لِصَلَاتِكَ، فَلَمَّا وَلَّى الْحَجَّاجُ قَالَ لِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: الْحَجَّاجُ بْنُ أَيْمَنَ ابْنِ أُمِّ أَيْمَنَ قَالَ ابْنُ عُمَرَ:" لَوْ رَأَى هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأَحَبَّهُ، فَذَكَرَ حُبَّهُ مَا وَلَدَتْ أُمُّ أَيْمَنَ وَكَانَتْ حَاضِنَةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حرملہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ وہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ حجاج بن ایمن بن ام ایمن داخل ہوا، جو انصار کا ایک شخص تھا اور ایمن، سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کا بڑا بھائی تھا۔ حرملہ بیان کرتے ہیں کہ حجاج نے ایسی نماز پڑھی جس میں اس نے رکوع و سجود کو مکمل نہیں کیا، جب اس نے سلام پھیرا تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے بلا کر کہا: ”اے بھتیجے! تو کیا سمجھتا ہے کہ تو نے نماز پڑھ لی ہے؟ تیری نماز نہیں ہوئی، اپنی نماز لوٹا۔“ جب حجاج چلا گیا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے کہا: ”یہ کون تھا؟“ میں نے کہا: حجاج بن ایمن بن ام ایمن۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بولے: ”اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دیکھ لیتے تو اس سے محبت کرتے“، پھر انہوں نے محبت کی وجہ ذکر کی کہ وہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کی اولاد میں سے تھا اور ام ایمن رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش و نگہداشت کرنے والی تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 3999]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري 3529»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں