🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

888. جماع أبواب صلاة التطوع، وقيام شهر رمضان -- باب: ذكر البيان أن لا فرض في اليوم والليلة من الصلوات أكثر من خمس، وأن الوتر تطوع
نفل نماز اور رمضان کے قیام سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ دن اور رات میں پانچ سے زیادہ کوئی نماز فرض نہیں ہے، اور یہ کہ وتر نفل ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4455
أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ جَنَاحُ بْنُ نَذِيرِ بْنِ جَنَاحٍ بِالْكُوفَةِ، أنبأ أَبُو جَعْفَرِ بْنُ دُحَيْمٍ، أنبأ عُثْمَانُ، ثنا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ (ح) وَأنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو حَفْصٍ الْأَبَّارُ وَهُوَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ، فَأَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ" وَزَادَ أَبُو دَاوُدَ فِي رِوَايَتِهِ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا تَقُولُ؟ قَالَ:" لَيْسَ لَكَ وَلَا لِأَصْحَابِكَ".
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔ اے اہل قرآن! تم بھی وتر پڑھا کرو۔“
(ب) ابوداؤد رحمہ اللہ نے ایک روایت میں یہ زیادتی کی ہے کہ دیہاتی نے کہا: آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ آپ کے لیے اور نہ آپ کے ساتھیوں کے لیے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4455]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4456
وَأنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَعْلَجٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا مِهْرَانُ يَعْنِي الرَّازِيَّ، عَنْ أَبِي سِنَانٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ ⦗٦٥٨⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ" قَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا يَقُولُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ:" لَسْتَ مِنْ أَهْلِهِ" وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ فَأَرْسَلَهُ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اہل قرآن! وتر پڑھو۔“ ایک دیہاتی نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: تو ان میں سے نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4456]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4457
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوْتِرُوا يَا أَصْحَابَ الْقُرْآنِ، إِنَّ اللهَ تَعَالَى وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ" فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: مَا يَقُولُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ:" لَيْسَ لَكَ وَلَا لِأَصْحَابِكَ" هَكَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، وَيُقَالُ: لَمْ يَسْمَعْهُ الثَّوْرِيُّ مِنْ عَمْرٍو إِنَّمَا سَمِعَهُ عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَمْرٍو، وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، فَذَكَرَ فِيهِ عَبْدَ اللهِ وَلَيْسَ بِمَحْفُوظٍ، وَالْحَدِيثُ مَعَ ذِكْرِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ فِيهِ مُنْقَطِعٌ؛ لِأَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ لَمْ يُدْرِكْ أَبَاهُ.
ابوعبیدہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے قرآن والو! تم وتر پڑھو۔ بیشک اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔“ ایک دیہاتی نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ تو ابوعبیدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ نہ تیرے لیے ہے اور نہ تیرے ساتھیوں کے لیے۔
اسی طرح ایک جماعت نے اسے ثوری سے روایت کیا ہے، اور کہا جاتا ہے کہ ثوری نے اسے عمرو سے نہیں سنا، بلکہ ایک آدمی کے واسطے سے عمرو سے سنا ہے۔ اور عبدالمجید بن عبدالعزیز بن ابی رواد سے، انہوں نے ثوری سے روایت کی ہے تو اس میں عبداللہ کا ذکر کیا ہے، اور یہ محفوظ نہیں ہے۔ اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ذکر کے ساتھ یہ حدیث منقطع ہے، کیونکہ ابوعبیدہ نے اپنے والد کو نہیں پایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4457]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4458
أنبأ الشَّيْخُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَيْحِيُّ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ: أَوْتَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ عَلَيْكَ، وَضَحَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ عَلَيْكَ، وَصَلَّى الضُّحَى وَلَيْسَ عَلَيْكَ، وَصَلَّى قَبْلَ الظُّهْرِ وَلَيْسَ عَلَيْكَ، وَقَالَ قَتَادَةُ: فَقُلْتُ: هَذَا مَا نَعْرِفُ غَيْرَ الْوِتْرِ قَالَ: إِنَّمَا قَالَ:" يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ أَوْتِرُوا؛ فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ".
قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وتر پڑھے اور تجھ پر یہ فرض نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاشت کی نماز پڑھی اور تجھ پر یہ فرض نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کی اور تجھ پر فرض نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر سے پہلے نماز پڑھی اور تجھ پر فرض نہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا: یہ وہ چیزیں ہیں جن کو وتر کے علاوہ پہچانا جاتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ: ”اے اہل قرآن! تم وتر پڑھو، اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4458]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4459
أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ وَأَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْهَاشِمِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْغَضَائِرِيُّ، قَالُوا: ثنا أَبُو جَعْفَرِ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا أَبُو بَدْرٍ، ثنا أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ثَلَاثٌ هُنَّ عَلَيَّ فَرَائِضُ، وَهُنَّ لَكُمْ تَطَوُّعٌ: النَّحْرُ، وَالْوِتْرُ، وَرَكْعَتَا الضُّحَى" أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ اسْمُهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي حَيَّةَ ضَعِيفٌ، وَكَانَ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ يُصَدِّقُهُ وَيَرْمِيهِ بِالتَّدْلِيسِ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ”تین چیزیں میرے لیے فرض ہیں اور تمہارے لیے نفل: قربانی، وتر اور چاشت کی دو رکعتیں“۔
ابوجناب کلبی، جن کا نام یحییٰ بن ابی حیہ ہے، ضعیف ہیں، اور یزید بن ہارون انہیں سچا قرار دیتے تھے اور ان پر تدلیس کا الزام لگاتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4459]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں