🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

888. جماع أبواب صلاة التطوع، وقيام شهر رمضان -- باب: ذكر البيان أن لا فرض في اليوم والليلة من الصلوات أكثر من خمس، وأن الوتر تطوع
نفل نماز اور رمضان کے قیام سے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: اس بات کے بیان کا ذکر کہ دن اور رات میں پانچ سے زیادہ کوئی نماز فرض نہیں ہے، اور یہ کہ وتر نفل ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4446
بَابُ ذِكْرِ الْبَيَانِ أَنْ لَا فَرْضَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ مِنَ الصَّلَوَاتِ أَكْثَرُ مِنْ خَمْسٍ، وَأَنَّ الْوِتْرَ تَطَوُّعٌ.
یہ باب اس بات کے بیان میں ہے کہ دن اور رات میں پانچ سے زیادہ نمازیں فرض نہیں ہیں، اور یہ کہ وتر نفل (تطوع) نماز ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: Q4446]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4446
أنبأ أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ بِبَغْدَادَ، أَنْبَأَ أَبُو عَلِيٍّ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ قِرَاءَةً عَلَيْهِ فِي الْمُحَرَّمِ سَنَةَ سَبْعٍ وَثَلَاثِينَ وَثَلَاثِ مِائَةٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ أَنَّ أَعْرَابِيًّا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَائِرَ الرَّأْسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَخْبِرْنِي مَا افْتَرَضَ اللهُ عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ، قَالَ:" الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ شَيْئًا" فَقَالَ: أَخْبِرْنِي مَا افْتَرَضَ اللهُ عَلَيَّ مِنَ الصِّيَامِ قَالَ:" صِيَامُ رَمَضَانَ إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ شَيْئًا" فَقَالَ: أَخْبِرْنِي مَا افْتَرَضَ اللهُ عَلَيَّ مِنَ الزَّكَاةِ قَالَ: فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَائِعِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: وَالَّذِي أَكْرَمَكَ لَا أَتَطَوَّعُ شَيْئًا، وَلَا أَنْقُصُ مِمَّا فَرَضَ اللهُ عَلَيَّ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْلَحَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَاللهِ إِنْ صَدَقَ" أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" وَدَخَلَ الْجَنَّةَ، وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ".
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بکھرے ہوئے بالوں والا ایک دیہاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے بتائیے اللہ نے مجھ پر کتنی نمازیں فرض کی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ نمازیں مگر یہ کہ تو کچھ نفل پڑھے۔“ پھر کہنے لگا: اللہ نے میرے اوپر کتنے روزے فرض کیے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رمضان کے روزے مگر یہ کہ آپ کچھ نفلی روزے رکھیں۔“ پھر وہ کہنے لگا: مجھے بتائیے کہ اللہ نے مجھ پر کتنی زکاۃ فرض کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اسلام کے طریقوں کی خبر دی۔ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو عزت دی ہے، نہ تو میں اس سے زیادہ کروں گا اور نہ کمی کروں گا جو اللہ نے مجھ پر فرض کیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ شخص کامیاب ہو گیا اگر اس نے سچ کہا۔ اللہ کی قسم! وہ جنت میں داخل ہو گا اگر اس نے سچ کہا۔“
(ب) اسماعیل بن جعفر رحمہ اللہ نے یہ لفظ ذکر کیے ہیں کہ وہ شخص جنت میں داخل ہو گا اگر اس نے سچ کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4446]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 46»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4447
أَنْبَأَهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ يُوسُفَ الْعَدْلُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا هِشَامٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَلِيٍّ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ”پانچ نمازیں اور ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک، ان کے درمیان ہونے والے گناہوں کا کفارہ ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4447]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 233»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4448
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ ثَائِرَ الرَّأْسِ نَسْمَعُ دَوِيَّ صَوْتِهِ، وَلَا نَفْقَهُ مَا يَقُولُ حَتَّى دَنَا مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا هُوَ يَسْأَلُ عَنِ ⦗٦٥٦⦘ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَمْسُ صَلَوَاتٍ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ" فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُنَّ؟ قَالَ:" لَا، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ، وَصِيَامُ شَهْرِ رَمَضَانَ" فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهُ؟ قَالَ:" لَا، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ" وَذَكَرَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الزَّكَاةَ، فَقَالَ: هَلْ عَلَيَّ غَيْرُهَا؟ قَالَ:" لَا، إِلَّا أَنْ تَطَوَّعَ" فَأَدْبَرَ الرَّجُلُ وَهُوَ يَقُولُ: وَاللهِ لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا، وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْلَحَ إِنْ صَدَقَ" لَفْظُ حَدِيثِ قُتَيْبَةَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ مَالِكٍ،، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَيْبَةَ.
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اہل نجد کا ایک شخص بکھرے ہوئے بالوں والا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ ہم اس کی آواز کی بھنبھناہٹ سنتے تھے اور ہم سمجھتے نہیں تھے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، یہاں تک کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوا اور وہ اسلام کے بارے میں سوال کر رہا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض ہیں۔“ اس نے کہا: کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، مگر یہ کہ تو نفل پڑھے۔“ اور (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”رمضان کے روزے فرض ہیں۔“ اس نے کہا: کیا ان روزوں کے علاوہ بھی مجھ پر کوئی فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، مگر یہ کہ تو نفلی روزے رکھے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے زکاۃ کا ذکر کیا۔ اس نے کہا: کیا اس کے علاوہ بھی مجھ پر فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، مگر یہ کہ تو نفلی صدقہ کرے۔“ اس شخص نے پیٹھ پھیری اور وہ کہہ رہا تھا: اللہ کی قسم! نہ میں اس میں زیادتی کروں گا اور نہ ہی کمی کروں گا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے سچ کہا تو کامیاب ہو گیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4448]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 4446»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4449
أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، أنبأ الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا لَمْ يَغْشَ الْكَبَائِرَ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانچ نمازیں، ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کے درمیانی گناہوں کا کفارہ ہیں جب تک وہ کبیرہ گناہوں کا مرتکب نہیں ہوتا (یعنی کبیرہ گناہ اس کو ڈھانپ نہیں لیتے)۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4449]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 4447»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4450
وَأنبأ أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي كِنَانَةَ يُدْعَى الْمُخْدَجِيَّ سَمِعَ رَجُلًا، بِالشَّامِ يُدْعَى أَبَا مُحَمَّدٍ يَقُولُ: إِنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ قَالَ الْمُخْدَجِيُّ: فَرُحْتُ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَاعْتَرَضْتُ لَهُ وَهُوَ رَائِحٌ إِلَى الْمَسْجِدِ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ، فَقَالَ عُبَادَةُ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللهُ عَلَى الْعِبَادِ فَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ".
محمد بن یحییٰ بن حبان، ابن محیریز سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو کنانہ کا ایک شخص جس کو مخدجی کہا جاتا تھا، اس نے شام میں ایک شخص سے سنا جس کو ابومحمد کہا جاتا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا کہ وتر واجب ہے۔ مخدجی کہتے ہیں: میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور میں نے ان کے سامنے یہ مسئلہ پیش کیا، وہ مسجد کی طرف جا رہے تھے تو میں نے ان کو وہ بات بتائی جو ابومحمد نے کہی تھی۔ عبادہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ابومحمد نے غلطی کی، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جس نے یہ پانچ نمازیں پڑھیں اور ان کو ہلکا سمجھتے ہوئے ضائع نہ کیا تو اللہ کا اس بندے سے وعدہ ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔ جو بندہ ان پانچ نمازوں کی طرف نہ آیا تو اللہ کا اس سے کوئی وعدہ نہیں ہے، اگر چاہے تو اسے عذاب دے اور اگر چاہے تو اس کو جنت میں داخل کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4450]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم برقم 3166-2226»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4451
وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ أَنَّ رَجُلًا، مِنْ بَنِي كِنَانَةَ، ثُمَّ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ لَقِيَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ أَبُو مُحَمَّدٍ فَسَأَلَهُ عَنِ الْوِتْرِ، فَقَالَ: إِنَّهُ وَاجِبٌ قَالَ الْكِنَانِيُّ: فَلَقِيتُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ، فَقَالَ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" خَمْسُ صَلَوَاتٍ فَرَضَهُنَّ اللهُ عَلَى الْعِبَادِ مَنْ أَتَى بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ شَيْئًا مِنْهُنَّ كَانَ لَهُ عَهْدٌ عَلَى اللهِ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ، فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ رَحِمَهُ".
محمد بن یحییٰ بن حبان، ابن محیریز رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ بنو کنانہ کا ایک شخص جو بنو مدلج میں سے تھا، انصار کے ایک شخص سے ملا جسے ابومحمد کہا جاتا تھا۔ اس نے اس سے وتر کے بارے میں سوال کیا تو ابومحمد نے کہا: واجب ہے۔ کنانی کہتا ہے کہ میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے اس بات کا تذکرہ ان سے کیا تو انہوں نے فرمایا: ابومحمد نے غلطی کی ہے، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے: ”اللہ نے اپنے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جو بندہ ان پانچ نمازوں کو پڑھتا ہے ان میں سے کسی کو ضائع نہیں کرتا تو اللہ کا اس بندے کے لیے وعدہ ہے کہ اسے جنت میں داخل کرے گا اور جو بندہ ان پانچ نمازوں کو نہیں پڑھتا تو اللہ کا اس کے لیے کوئی وعدہ نہیں۔ اگر چاہے تو اسے عذاب دے اور اگر چاہے تو اس پر رحم کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4451]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4452
أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ إِمْلَاءً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ حُمْرَانَ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي جَعْفَرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمْرَةَ الْبُخَارِيِّ، أَنَّهُ سَأَلَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْوِتْرِ فَقَالَ:" أَمْرٌ حَسَنٌ جَمِيلٌ، عَمِلَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْمُسْلِمُونَ مِنْ بَعْدِهِ وَلَيْسَ بِوَاجِبٍ".
عبدالرحمن بن عمرو بخاری نے عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے وتر کے بارے میں سوال کیا تو وہ کہنے لگے: بڑا اچھا کام ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے بعد مسلمانوں نے اس پر عمل کیا، لیکن یہ واجب نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4452]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ ابن خذيمه 1067»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4453
أنبأ أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ قَالَ: قُرِئَ عَلَى يَحْيَى بْنِ جَعْفَرٍ، وَأَنَا أَسْمَعُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا سُفْيَانُ (ح) وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ زُهَيْرٌ جَمِيعًا، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: إِنَّ هَذَا الْوِتْرَ لَيْسَ بِحَتْمٍ وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ حَسَنَةٌ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" إِنَّ اللهَ وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ" لَفْظُ حَدِيثِ زُهَيْرٍ، وَفِي رِوَايَةِ الثَّوْرِيِّ" الْوِتْرُ لَيْسَ بِحَتْمٍ وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
عاصم بن ضمرہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وتر لازم نہیں ہے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اچھی سنت ہے، کیونکہ ”اللہ رب العزت وتر ہے اور وتر کو پسند فرماتا ہے“۔
(ب) یہ زہیر کی روایت کے الفاظ ہیں، اور ثوری کی روایت میں یہ لفظ ہیں کہ وتر لازم نہیں، بلکہ سنت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنت قرار دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4453]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4454
وَأنبأ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، ثنا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: الْوِتْرُ لَيْسَ بِحَتْمٍ كَالصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ، وَلَكِنَّهُ سُنَّةٌ سَنَّهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَوْتِرُوا يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ، فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى وِتْرٌ يُحِبُّ الْوِتْرَ".
عاصم بن ضمرہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وتر لازم نہیں جیسے فرض نماز ہے بلکہ سنت ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو سنت قرار دیا ہے۔ فرماتے ہیں: ”اے اہل قرآن! تم وتر پڑھا کرو، بیشک اللہ تعالیٰ وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4454]
تخریج الحدیث: «حسن۔ تقدم في الذي قبله»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں