🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

979. -- باب: ما جاء من التشديد في ترك الجماعة من غير عذر
-- باب: بغیر عذر کے باجماعت نماز ترک کرنے پر وارد شدہ سختی اور وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4950
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ الْمَوْصِلِيُّ، ثنا قَاسِمُ بْنُ يَزِيدَ الْجَرْمِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، ثنا أَبِي، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ الْمَدِينَةَ كَثِيرَةُ السِّبَاعِ وَالْهَوَامِّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَسْمَعُ حِيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حِيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، فَحَيْ هَلَّا". قَالَ لَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ: قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ: لَيْسَ فِي أَمَرِهِ هَذَا الْأَعْمَى بِحُضُورِ الْجَمَاعَةِ مَا يَدُلُّ أَنَّ حُضَورَهَا فَرْضٌ لِأَنَّهُ قَدْ رَخَّصَ لِعِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ، وَهُوَ أَعْمَى، التَّخَلُّفَ عَنْ ⦗٨٣⦘ حُضُورِهَا فَدَلَّ عَلَى أَنَّ قَوْلَهُ" لَا أَجِدُ لَكَ رُخْصَةً" أَيْ لَا أَجِدُ لَكَ رُخْصَةً تَلْحَقُ فَضِيلَةَ مَنْ حَضَرَهَا. قَالَ الشَّيْخُ: وَالَّذِي يُؤَكِّدُ هَذَا التَّأْوِيلَ.
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ، سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مدینہ میں موذی جانور اور درندے بہت زیادہ ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم «حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ»، «حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ» سنتے ہو؟ تو نماز کی طرف آؤ۔“
نوٹ: ابوبکر بن اسحاق فقیہ فرماتے ہیں: اس نابینا کو جماعت میں حاضر ہونے کا حکم دینے میں اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ جماعت میں حاضر ہونا فرض ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کو، جو نابینا تھے، جماعت سے پیچھے رہنے کی رخصت دی تھی۔ تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ”میں تیرے لیے رخصت نہیں پاتا“ کا مطلب یہ ہے کہ میں تیرے لیے ایسی رخصت نہیں پاتا جس سے تجھے جماعت میں حاضر ہونے والے کی فضیلت مل جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4950]
تخریج الحدیث: «قوي۔ ابوداؤد 553»

الحكم على الحديث: قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4951
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَلَوِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ يَعْقُوبُ بْنُ يُوسُفَ الْمُطَّوِعِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الْمُبَارَكِيُّ، ثنا أَبُو شِهَابٍ الْحَنَّاطُ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ لِي قَائِدًا لَا يُلَاوِمُنِي فِي هَاتَيْنِ الصَّلَاتَيْنِ، قَالَ:" أِيُّ الصَّلَاتَيْنِ؟" قُلْتُ: الْعِشَاءُ وَالصُّبْحُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ يَعْلَمُ الْقَاعِدُ عَنْهُمَا مَا فِيهِمَا لَأَتَاهُمَا وَلَوْ حَبْوًا". قَالَ الشَّيْخُ: وَاخْتَلَفُوا فِي اسْمِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ فَقِيلَ عَبْدَ اللهِ، وَقِيلَ عَمْرٌو.
علاء بن مسیب اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! مجھے لانے والا موجود ہے لیکن ان دو نمازوں میں وہ مجھے نہیں لا سکتا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کون سی دو نمازیں؟“ انہوں نے کہا: ”عشاء اور صبح۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر ان دونوں نمازوں سے پیچھے رہنے والا جان لے کہ ان دو نمازوں کا کیا اجر و ثواب ہے تو وہ ان کے وقت ضرور آئے، اگرچہ اس کو گھٹنوں کے بل آنا پڑے۔“
شیخ فرماتے ہیں: ابن ام مکتوم کے نام میں اختلاف ہے، کہا گیا ہے کہ عبداللہ اور کہا گیا ہے کہ عمرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4951]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4952
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحُرْفِيُّ الْحَرْبِيُّ، فِي مَسْجِدِ الْحَرْبِيَّةِ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو الْعُمَيْسِ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْأَقْمَرِ يَذْكُرُ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ:" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللهَ غَدًا مُسْلِمًا فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ، فَإِنَّ اللهَ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَنَ الْهُدَى، وَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى، وَلَوْ أَنَّكُمْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ كَمَا يُصَلِّي هَذَا الْمُتَخَلِّفُ فِي بَيْتِهِ لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ، وَلَوْ تَرَكْتُمْ سَنَةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ، ثُمَّ يَعْمَدُ إِلَى مَسْجِدٍ مِنْ هَذِهِ الْمَسَاجِدِ إِلَّا كَتَبَ اللهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا حَسَنَةً، وَرَفَعَهُ بِهَا دَرَجَةً، وَحَطَّ عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةً، وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومٌ نِفَاقُهُ، وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يُؤْتَى بِهِ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ الْفَضْلِ بْنِ دُكَيْنٍ.
ابواحوص رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس کو پسند ہو کہ وہ کل اللہ سے مسلمان ہونے کی حالت میں ملاقات کرے تو وہ ان نمازوں پر محافظت کرے۔ جب بھی ان کی اذان دی جائے۔ کیونکہ اللہ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہدایت کے طریقے مقرر کیے ہیں اور یہ ہدایت کے طریقوں میں سے ہیں۔ اگر تم ان کو اپنے گھروں میں پڑھنا شروع کر دو جیسے یہ نماز سے پیچھے رہنے والے ہیں تو تم اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت چھوڑ بیٹھو گے۔ اگر تم نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو چھوڑ دیا تو گمراہ ہو جاؤ گے۔ جو شخص اچھی طرح وضو کرتا ہے، پھر ان مساجد میں سے کسی مسجد کی طرف آتا ہے تو اللہ اس کے ہر قدم کے بدلے نیکی لکھ دیتے ہیں اور اس کا ہر درجہ بلند کر دیتے ہیں اور ایک غلطی مٹا دیتے ہیں اور ان نمازوں سے پیچھے صرف منافق ہی رہتا تھا جن کا نفاق واضح ہوتا تھا جب کہ مومن مرد کو آدمیوں کے درمیان سہارا دے کر لایا جاتا اور صف میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4952]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 654»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4953
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُنَافِقِينَ شُهُودُ الْعِشَاءِ وَالصُّبْحِ، لَا يَسْتَطِيعُونَهُمَا" أَوْ نَحْوَ هَذَا. قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَيُشْبِهُ مَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ هَمِّهِ بِأَنْ يُحَرِّقَ عَلَى قَوْمٍ بُيُوتَهُمْ أَنْ يَكُونَ مَا قَالَهُ فِي قَوْمٍ تَخَلَّفُوا فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ لِنِفَاقٍ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
عبدالرحمن بن حرملہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے اور منافقین کے درمیان فرق صبح اور عشاء کی نماز میں حاضر ہونا ہے، وہ ان میں حاضر ہونے کی طاقت نہیں رکھتے۔“
نوٹ: امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو لوگوں کے گھروں کو جلانے کا ارادہ کیا تھا وہ اس وجہ سے تھا کہ وہ نفاق کی وجہ سے عشاء کی نماز میں حاضر نہیں ہوتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4953]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ الشافعي 214»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4954
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:" كُنَّا إِذَا فَقَدْنَا الرَّجُلَ فِي صَلَاةِ الْعِشَاءِ وَالْفَجْرِ أَسَأْنَا بِهِ الظَّنَّ".
سیدنا نافع رحمہ اللہ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب ہم کسی کو فجر اور عشاء کی نماز میں غائب پاتے تو ہمارا گمان ان کے بارے میں برا ہوتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 4954]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره۔ الطبراني في الكبير 13085»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں