🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1080. -- باب: من ترك القصر في السفر غير رغبة عن السنة
-- باب: جس نے سنت سے اعراض کی نیت کے بغیر سفر میں قصر کرنا چھوڑ دیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5429
وأَخْبَرَنَا عَلِيٍّ الرَّازِيُّ الْحَافِظُ، ثنا زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ الصُّورِيُّ، وَعَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو الْغَزِّيُّ قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ زُهَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عُمْرَةٍ فِي رَمَضَانَ فَأَفْطَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصُمْتُ، وَقَصَرَ وَأَتْمَمْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أَفْطَرْتَ وَصُمْتُ، وَقَصَرْتَ وَأَتْمَمْتُ فَقَالَ:" أَحْسَنْتِ يَا عَائِشَةُ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمرہ کے لیے نکلی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے افطار کیا اور میں نے روزہ رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز قصر کی اور میں نے پوری پڑھی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ نے افطار کیا اور میں نے روزہ رکھا، اور آپ نے قصر کی جبکہ میں نے پوری پڑھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! تو نے اچھا کیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5429]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5430
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الرَّازِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ قَالُوا: ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا" أَنَّهَا كَانَتْ تُصَلِّي فِي السَّفَرِ أَرْبَعًا، فَقُلْتُ لَهَا: لَوْ صَلَّيْتِ رَكْعَتَيْنِ؟ فَقَالَتْ: يَا ابْنَ أُخْتِي، إِنَّهُ لَا يَشُقُّ عَلَيَّ".
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سفر میں چار رکعات پڑھتی تھیں۔ میں نے ان سے کہا: اگر آپ دو رکعات پڑھیں، تو فرمانے لگیں: اے بھانجے! یہ میرے اوپر شاق نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5430]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5431
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ⦗٢٠٥⦘ الْمِصْرِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ إِلْيَاسَ بْنِ صَدَقَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ عَائِشَةَ" أَنَّ الصَّلَاةَ حِينَ فُرِضَتْ كَانَتْ رَكْعَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ عَلَى رَكْعَتَيْنِ، وَأُتِمَّتْ فِي الْحَضَرِ أَرْبَعًا". قَالَ: فَأَخْبَرْتُهَا عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَالَ: إِنَّ عُرْوَةَ قَدْ أَخْبَرَنِي أَنَّ عَائِشَةَ" كَانَتْ تُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي السَّفَرِ" قَالَ: فَوَجَدْتُ عُرْوَةَ يَوْمًا عِنْدَهُ، فَقُلْتُ: كَيْفَ أَخْبَرْتَنِي عَنْ عَائِشَةَ؟ فَحَدَّثَ بِمَا حَدَّثَنِي بِهِ عُمَرُ فَقَالَ عُمَرُ: أَلَيْسَ حَدَّثَتْنِي أَنَّهَا كَانَتْ تُصَلِّي أَرْبَعًا فِي السَّفَرِ؟ قَالَ: بَلَى.
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب نماز فرض کی گئی تو سفر و حضر میں دو دو رکعات تھیں۔ پھر سفر میں دو رکعات برقرار رکھ دی گئیں اور حضر کی نماز چار رکعات مکمل کر دی گئی۔ فرماتے ہیں: میں نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو بتایا تو وہ فرمانے لگے: عروہ نے تو مجھے خبر دی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سفر میں چار رکعات پڑھا کرتی تھیں۔ ایک دن عروہ رحمہ اللہ کو میں نے ان کے پاس پایا۔ میں نے کہا: آپ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں مجھے خبر دیں! انہوں نے مجھے ویسے ہی بیان کر دیا جیسے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے بیان کیا تھا۔
عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے فرمایا: کیا تم نے بیان نہیں کیا کہ وہ سفر میں چار رکعات پڑھتی تھیں؟ کہنے لگے: کیوں نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5431]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ انظر ما قبله»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5432
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا ابْنُ خَشْرَمٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" أَوَّلُ مَا فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ، فَزِيدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ وَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ". قُلْتُ: فَمَا شَأْنُ عَائِشَةَ كَانَتْ تُتِمُّ الصَّلَاةَ؟ قَالَ:" إِنَّهَا تَأَوَّلَتْ مَا تَأَوَّلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ". لَفْظُ حَدِيثِ الشَّافِعِيِّ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ خَشْرَمٍ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ سُفْيَانَ.
عروہ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ ”پہلے دو دو رکعات نماز فرض کی گئی، حضر کی نماز میں پھر اضافہ کر دیا گیا اور سفر کی نماز برقرار رکھی گئی۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے کہا: عائشہ رضی اللہ عنہا کو کیا ہوا کہ وہ نماز مکمل پڑھتی ہیں؟ فرمایا: انہوں نے وہی تاویل کی جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تاویل کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5432]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1040»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5433
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ يَقُولُ:" صَلَّى بِنَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِنًى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فَقِيلَ ذَلِكَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَاسْتَرْجَعَ ثُمَّ قَالَ:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّيْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّيْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِنًى رَكْعَتَيْنِ، فَلَيْتَ حَظِّي مِنْ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ رَكْعَتَانِ مُتَقَبَّلَتَانِ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ، وَكَذَلِكَ مُسْلِمٌ.
عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے ہمیں منیٰ میں چار رکعات پڑھائیں، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بات بیان کی گئی تو انہوں نے «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں“ پڑھا۔ اور فرمایا: میں نے منیٰ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو رکعات پڑھیں اور ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بھی منیٰ میں دو رکعات پڑھیں۔ کاش چار رکعات میں سے میرا حصہ دو مقبول رکعات ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5433]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1034»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5434
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، أَنَّ أَبَا مُعَاوِيَةَ، وَحَفْصَ بْنَ غِيَاثٍ، حَدَّثَاهُمْ، وَحَدِيثُ أَبِي مُعَاوِيَةَ أَتَمُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: صَلَّى عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِنًى أَرْبَعًا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ:" صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَكْعَتَيْنِ، وَمَعَ عُمَرَ رَكْعَتَيْنِ". زَادَ عَنْ حَفْصٍ:" وَمَعَ عُثْمَانَ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ، ثُمَّ أَتَمَّهَا"، زَادَ مِنْ هَهُنَا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ:" ثُمَّ تَفَرَّقَتْ بِكُمُ الطُّرُقُ، فَلَوَدِدْتُ أَنَّ لِي مِنْ أَرْبَعِ رَكَعَاتٍ رَكْعَتَيْنِ مُتَقَبَّلَتَيْنِ"، قَالَ الْأَعْمَشُ: فَحَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ ⦗٢٠٦⦘ قُرَّةَ عَنْ أَشْيَاخِهِ أَنَّ عَبْدَ اللهِ صَلَّى أَرْبَعًا، فَقِيلَ لَهُ: عِبْتَ عَلَى عُثْمَانَ، ثُمَّ صَلَّيْتَ أَرْبَعًا؟ قَالَ:" الْخِلَافُ شَرٌّ".
عبدالرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعات پڑھائیں تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ منیٰ میں دو دو رکعات پڑھیں۔“ اس میں حفص نے کچھ اضافہ کیا ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے شروع میں بھی (دو ہی پڑھیں) پھر انہوں نے نماز مکمل کی۔ اس روایت میں یہاں ابی معاویہ سے کچھ زائد بیان کیا گیا ہے کہ: ”پھر تمہارے راستے جدا ہو گئے، میری خواہش ہے کہ چار رکعات کے بدلے میرے حصے میں دو مقبول رکعات ہوں۔“ معاویہ بن قرہ اپنے شیوخ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے چار رکعات پڑھیں، تو ان سے کہا گیا کہ آپ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر تو عیب لگاتے تھے اور اب خود چار رکعات پڑھتے ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: ”اختلاف بری چیز ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5434]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ ابو داؤد 1960»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5435
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى بْنِ صَالِحٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ قُرَّةَ، بِوَاسِطَ، عَنْ أَشْيَاخِ الْحِيِّ قَالَ: صَلَّى عُثْمَانُ الظُّهْرَ بِمِنًى أَرْبَعًا، فَبَلَغَ ذَلِكَ عَبْدَ اللهِ فَعَابَ عَلَيْهِ، ثُمَّ صَلَّى بِأَصْحَابِهِ فِي رَحْلِهِ الْعَصْرَ أَرْبَعًا، فَقُلْتُ لَهُ: عِبْتَ عَلَى عُثْمَانَ وَصَلَّيْتَ أَرْبَعًا؟ قَالَ:" إِنِّي أَكْرَهُ الْخِلَافَ" وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ بِإِسْنَادٍ مَوْصُولٍ.
معاویہ بن قرۃ اپنے قبیلے کے شیوخ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعات نماز پڑھائی، یہ بات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوئی تو انہوں نے ان پر عیب لگایا۔ پھر انہوں نے اپنے گھر عصر کی نماز چار رکعات پڑھائی۔ میں نے کہا: آپ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ پر عیب لگاتے ہو اور خود چار رکعات پڑھتے ہو؟ فرمانے لگے: میں اختلاف کو ناپسند کرتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5435]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ۔ انظر ما سبق»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5436
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْفَاكِهِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كُنَّا مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِجَمْعٍ، فَلَمَّا دَخَلَ مَسْجِدَ مِنًى فَقَالَ:" كَمْ صَلَّى أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ؟" قَالُوا: أَرْبَعًا. فَصَلَّى أَرْبَعًا، قَالَ: فَقُلْنَا: أَلَمْ تُحَدِّثْنَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، وَأَبَا بَكْرٍ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ؟ فَقَالَ: بَلَى، وَأَنَا أُحَدِّثُكُمُوهُ الْآنَ، وَلَكِنَّ عُثْمَانَ كَانَ إِمَامًا فَمَا أُخَالِفُهُ، وَالْخِلَافُ شَرٌّ".
عبدالرحمن بن یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، جب وہ مسجدِ منیٰ میں داخل ہوئے تو انہوں نے سوال کیا کہ امیر المؤمنین نے کتنی نماز پڑھی ہے؟ انہوں نے کہا: چار رکعات، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی چار رکعات پڑھ لیں۔ ہم نے کہا: آپ تو ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعات پڑھتے تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی، تو انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں، میں اب بھی تمہیں (یہی بات) بیان کر دیتا ہوں، لیکن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ امام ہیں اور میں ان کی مخالفت نہیں کرنا چاہتا اور اختلاف بری چیز ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5436]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيرهٖ»

الحكم على الحديث: صحيح لغيرهٖ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5437
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَتَمَّ الصَّلَاةَ بِمِنًى مِنْ أَجْلِ الْأَعْرَابِ لِأَنَّهُمْ كَثُرُوا عَامَئِذٍ، فَصَلَّى بِالنَّاسِ أَرْبَعًا لِيُعْلِمَهُمْ أَنَّ الصَّلَاةَ أَرْبَعٌ".
ایوب، زہری سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ منیٰ میں نماز کو دیہاتیوں کی وجہ سے مکمل پڑھتے تھے، کیونکہ ان کا آنا زیادہ ہوتا تھا، اس غرض سے چار رکعات پڑھاتے تھے تاکہ ان کو معلوم ہو سکے کہ نماز چار رکعات ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5437]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابو داؤد 1964»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5438
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ سَالِمٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ أَتَمَّ الصَّلَاةَ بِمِنًى، ثُمَّ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ السُّنَّةَ سُنَّةُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسُنَّةُ صَاحِبَيْهِ، وَلَكِنَّهُ حَدَثَ الْعَامَ مِنَ النَّاسِ، فَخِفْتُ أَنْ يَسَتَنُّوا". قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ قِيلَ غَيْرُ هَذَا، وَالْأَشْبَهُ أَنْ يَكُونَ رَآهُ رُخْصَةً فَرَأَى الْإِتْمَامَ جَائِزًا كَمَا ⦗٢٠٧⦘ رَأَتْهُ عَائِشَةُ، وَقَدْ رُوِيَ ذَلِكَ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنَ الصَّحَابَةِ مَعَ اخْتِيَارِهِمُ الْقَصْرَ.
عبد الرحمن بن حمید رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ منیٰ میں نماز مکمل پڑھتے تھے، پھر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا: اے لوگو! یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دو ساتھیوں کا طریقہ ہی سنت ہے، لیکن اب لوگوں کا آنا عام ہوا تو میں ڈر گیا کہ لوگ اس کو سنت نہ بنا لیں۔
شیخ فرماتے ہیں: اس میں رخصت ہے اور مکمل بھی جائز سمجھتے تھے، جیسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا خیال تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 5438]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تاريخ ابن عساكر 39/255»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں