السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1207. -- باب: الساعة التي في يوم الجمعة وما جاء في فضله على طريق الاختصار
-- باب: جمعہ کے دن کی (مخصوص قبولیت والی) گھڑی اور اختصار کے ساتھ جمعہ کی فضیلت کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 5998
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا عَبْدُ اللهِ هُوَ الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عِيسَى، ثنا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الذُّهْلِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزَّنَّادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ:" فِيهِ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ"، وَفِي رِوَايَةِ الشَّافِعِيِّ" إِنْسَانٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ". وَأَشَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ يُقَلِّلُهَا. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنِ الْقَعْنَبِيِّ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن کا ذکر کیا۔ ”اس میں ایک گھڑی ہے جو مسلمان بندہ اس کی موافقت کر لیتا ہے“ اور شافعی رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ ”مسلمان انسان اس گھڑی نماز پڑھ رہا ہو اور وہ اللہ سے دعا کرے تو اللہ اس کو ضرور عطا کر دیتے ہیں“ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ یہ بہت کم ہوتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجُمُعَةِ/حدیث: 5998]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 893»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 5999
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، وَأنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ يَعْنِي ابْنَ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ لِيَ ابْنُ عُمَرَ: أَسَمِعْتَ ⦗٣٥٥⦘ أَبَاكَ يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَأْنِ سَاعَةِ الْجُمُعَةِ؟ قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" هِيَ مَا بَيْنَ أَنْ يَجْلِسَ الْإِمَامُ إِلَى أَنْ يَقْضِيَ الصَّلَاةَ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عِيسَى، وَجَمَاعَةٍ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ..
سیدنا ابو بردہ بن ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا: کیا آپ نے اپنے والد سے سنا جو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جمعہ کی گھڑی کے بارے میں نقل فرماتے ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، میں نے انہیں فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: ”یہ وقت امام کے منبر پر بیٹھنے سے لے کر نماز مکمل ہونے تک ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجُمُعَةِ/حدیث: 5999]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 853»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6000
أَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، ثنا جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ: سَمِعْتُ مُسْلِمَ بْنَ الْحَجَّاجِ يَقُولُ، وَذَاكَرْتُهُ بِحَدِيثِ مَخْرَمَةَ هَذَا، فَقَالَ: هَذَا أَجْوَدُ حَدِيثٍ وَأَصَحُّهُ فِي بَيَانِ سَاعَةِ الْجُمُعَةِ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ فِي خَبَرٍ آخَرَ الْأَمْرُ بِالْتِمَاسِهَا آخِرَ السَّاعَةِ بَعْدَ الْعَصْرِ.
احمد بن سلمہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام مسلم بن حجاج رحمہ اللہ سے، جب میں نے ان سے مخرمہ کی اس حدیث کا مذاکرہ کیا، سنا کہ انہوں نے فرمایا: ”یہ جمعہ کی گھڑی کے بیان میں سب سے عمدہ اور سب سے صحیح حدیث ہے۔“
شیخ فرماتے ہیں: حدیث میں ہے کہ ”اس گھڑی کو عصر کے بعد آخری گھڑی میں تلاش کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجُمُعَةِ/حدیث: 6000]
شیخ فرماتے ہیں: حدیث میں ہے کہ ”اس گھڑی کو عصر کے بعد آخری گھڑی میں تلاش کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجُمُعَةِ/حدیث: 6000]
حدیث نمبر: 6001
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالُوا ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ وَهْبٍ: حَدَّثَكَ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ الْجَلَّاحِ مَوْلَى عَبْدِ الْعَزِيزِ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" يَوْمُ الْجُمُعَةِ لَا يُوجَدُ عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللهَ شَيْئًا إِلَّا آتَاهُ اللهُ إِيَّاهُ، فَالْتَمِسُوهَا آخِرَ السَّاعَةِ بَعْدَ الْعَصْرِ". وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جمعہ کے دن بندہ جو بھی اللہ سے سوال کرتا ہے اس کو دے دیا جاتا ہے اور اس گھڑی کو عصر کے بعد تلاش کرو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجُمُعَةِ/حدیث: 6001]
تخریج الحدیث: «قوي۔ ابو داؤد 1048»
الحكم على الحديث: قوي
حدیث نمبر: 6002
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، وَأَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْبِرْتِيُّ قَالَا: ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْقَاسِمِ الْمُقْرِئُ بِمَكَّةَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ وَصِيفٍ الْغَزِّيُّ بِغَزَّةَ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ الْفَرَجِ الْغَزِّيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُكَيْرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ مَهْرَوَيْهٍ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْعَبْدِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى الطُّورِ فَلَقِيتُ كَعْبَ الْأَحْبَارِ فَجَلَسْتُ مَعَهُ فَحَدَّثَنِي عَنِ التَّوْرَاةِ وَحَدَّثْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَ فِيمَا حَدَّثْتُهُ أَنْ قُلْتُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُهْبِطَ، وَفِيهِ تِيبَ عَلَيْهِ، وَفِيهِ مَاتَ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا وَهِيَ مُسِيخَةٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينِ يُصْبِحُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ⦗٣٥٦⦘ شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ، وَفِيهِ سَاعَةٌ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللهُ فِيهَا خَيْرًا إِلَّا أَعْطَاهُ اللهُ إِيَّاهُ". فَقَالَ كَعْبٌ: ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ، فَقُلْتُ: بَلْ هُوَ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ قَالَ: فَقَرَأَ كَعْبُ الْأَحْبَارِ التَّوْرَاةَ، فَقَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرَ حَدِيثًا آخَرَ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُهُ بِمَجْلِسِي مَعَ كَعْبِ الْأَحْبَارِ وَمَا حَدَّثْتُهُ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: قَالَ كَعْبٌ: ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: كَذَبَ كَعْبٌ، فَقُلْتُ: نَعَمْ، ثُمَّ قَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ فَقَالَ: بَلْ هِيَ فِي كُلِّ جُمُعَةِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: صَدَقَ كَعْبٌ وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقُلْتُ لَهُ: فَأَخْبِرْنِي بِهَا وَلَا تَضِنَّنَ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَكَيْفَ تَكُونُ آخِرُ سَاعَةٍ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي، وَتِلْكَ سَاعَةٌ لَا يُصَلَّى فِيهَا، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ: أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ"، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: قُلْتُ: بَلَى. قَالَ: هُوَ ذَلِكَ. لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ بُكَيْرٍ. وَكَذَلِكَ رَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ فَجَعَلَ قَوْلَهُ" خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ" رِوَايَةً عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ كَعْبٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں طور کی جانب گیا وہاں کعب احبار سے ملاقات ہوئی۔ میں ان کے پاس بیٹھ گیا تو انہوں نے توراۃ کے بارے میں بیان کیا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں۔ میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے۔ اس میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا، جنت سے اتارا گیا، توبہ قبول کی گئی، اسی میں فوت ہوئے اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔ جن و انس کے سوا ہر جاندار جمعہ کے دن صبح سے لے کر سورج طلوع ہونے تک قیامت کے ڈر سے کان لگائے رہتا ہے اور اس میں ایک گھڑی ایسی ہے اگر مسلمان بندہ اس کی موافقت کرلے اور وہ نماز کی حالت میں اللہ سے بھلائی کی دعا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کو عطا کردیں گے۔“ کعب فرماتے ہیں کہ یہ دن سال میں ایک مرتبہ آتا ہے۔ میں نے کہا: نہیں بلکہ یہ دن ہر جمعہ میں ہوتا ہے تو کعب احبار نے توراۃ کی تلاوت کی اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔ پھر دوسری حدیث بیان کی۔ پھر فرماتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر میں سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما سے ملا تو میں نے ان کو کعب احبار کے ساتھ اپنی مجلس کا تذکرہ کیا اور وہ جو میں نے ان کو جمعہ کے دن کے بارے میں بیان فرمایا اور بتلایا کہ کعب احبار کہنے لگے: یہ دن سال میں ایک مرتبہ آتا ہے، تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: کعب نے جھوٹ بولا ہے۔ میں نے کہا: جی ہاں پھر کعب نے توراۃ کی تلاوت کی اور کہا: ہاں یہ دن ہر جمعہ میں ہے، تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: کعب نے سچ کہا ہے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں جانتا ہوں یہ کون سی گھڑی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: مجھے بھی بتاؤ اور بخل نہ کرنا تو عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جمعہ کے دن کی آخری گھڑی ہوتی ہے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ کیسے کہتے ہیں کہ یہ جمعہ کے دن آخری گھڑی ہوتی ہے، حالانکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”مسلمان بندہ اس گھڑی کی موافقت کرتا ہے اور وہ حالتِ نماز میں ہوتا ہے“ اور یہ وقت ایسا ہے کہ اس میں نماز نہیں ہوتی۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا ہے: ”جو نماز کے انتظار میں بیٹھا رہتا ہے وہ نماز ہی کی حالت میں ہوتا ہے جب تک وہ نماز نہ پڑھ لے۔“ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہاں اسی طرح ہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجُمُعَةِ/حدیث: 6002]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ النسائي1430»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6003
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِيُّ الْقَاضِي، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ يَحْيَى، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ:" خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ جُمُعَةٍ، فِيهِ خَلَقَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ آدَمَ، وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ، وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ". وَرَوَاهُ الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ يَحْيَى زَادَ قَالَ: قُلْتُ لَهُ: شَيْءٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: بَلْ شَيْءٌ حَدَّثَنَاهُ كَعْبٌ. وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ الْأَعْرَجُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابو سلمہ رحمہ اللہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، ”بہترین دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے۔ اس میں آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے۔ اسی دن جنت میں داخل کیے گئے۔ اسی دن جنت سے نکالے گئے۔ اسی دن قیامت قائم ہوگی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجُمُعَةِ/حدیث: 6003]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 854»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6004
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرِ بْنِ الْقَاسِمِ الْخَوَّاصُ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ يَوْمُ ⦗٣٥٧⦘ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ، وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ". رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ، وَكَذَلِكَ أَخْرَجَهُ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ عَنِ الْأَعْرَجِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ فَرُّوخَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَذَهَبَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ إِلَى أَنَّ هَذَا الِاخْتِلَافَ فِي قَوْلِهِ:" فِيهِ خُلِقَ آدَمُ إِلَى آخِرِهِ، فَأَمَّا قَوْلُهُ" خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ" فَهُوَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا شَكَّ فِيهِ.
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ ہے۔ اس میں آدم علیہ السلام پیدا کیے گئے۔ اسی دن جنت میں داخل کیے گئے۔ اسی دن جنت سے نکالے گئے اور قیامت بھی جمعہ کے دن قائم ہوگی۔“
محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمہ اللہ کی رائے یہ ہے کہ یہ اختلاف ”اس میں آدم پیدا کیے گئے“ سے آخر تک کے الفاظ میں ہے، رہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ”بہترین دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے“ تو وہ بلا شک ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجُمُعَةِ/حدیث: 6004]
محمد بن اسحاق بن خزیمہ رحمہ اللہ کی رائے یہ ہے کہ یہ اختلاف ”اس میں آدم پیدا کیے گئے“ سے آخر تک کے الفاظ میں ہے، رہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ”بہترین دن جس میں سورج طلوع ہوتا ہے جمعہ کا دن ہے“ تو وہ بلا شک ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجُمُعَةِ/حدیث: 6004]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر ما قبله»
الحكم على الحديث: صحيح