السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1420. -- باب: المرتث والذي يقتل ظلما في غير معترك الكفار والذي يرجع إليه سيفه
-- باب: اس شخص کا بیان جو میدانِ جنگ سے زخمی حالت میں لایا جائے، یا جو کفار کے میدانِ جنگ کے علاوہ کہیں اور ظلماً قتل کر دیا جائے، اور اس شخص کا بیان جس کی تلوار خود اسی کو لگ جائے
حدیث نمبر: 6817
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَ آبَاذِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، أَخْبَرَنِي شَدَّادُ بْنُ الْهَادِ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَعْرَابِ جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ فَآمَنَ وَاتَّبَعَهُ فَقَالَ: أُهَاجِرُ مَعَكَ فَأَوْصَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا كَانَتْ غَزْوَةُ خَيْبَرَ غَنِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَقَسَمَ وَقَسَمَ لَهُ، فَأَعْطَى أَصْحَابَهَ مَا قَسَمَ لَهُ وَكَانَ يَرْعَى ظَهْرَهَمْ، فَلَمَّا جَاءَ دَفَعُوهُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالَ: قَسْمٌ قَسَمَهُ لَكَ فَأَخَذَهُ فَجَاءَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا مُحَمَّدُ؟ قَالَ:" قَسْمٌ قَسَمْتُهُ لَكَ"، قَالَ: مَا عَلَى هَذَا اتَّبَعْتُكَ وَلَكِنِ اتَّبَعْتُكَ عَلَى أَنْ أُرْمَى هَهُنَا وَأَشَارَ إِلَى حَلْقِهِ بِسَهْمٍ فَأَمُوتَ فَأَدْخُلَ الْجَنَّةَ، فَقَالَ:" إِنْ تَصَدُقِ اللهَ يَصْدُقْكَ"، ثُمَّ ⦗٢٤⦘ نَهَضُوا إِلَى قِتَالِ الْعَدُوِّ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ يُحْمَلُ وَقَدْ أَصَابَهُ سَهْمٌ حَيْثُ أَشَارَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ هُوَ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" صَدَقَ اللهَ فَصَدَقَهُ"، فَكَفَّنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ فِي جُبَّتِهِ، ثُمَّ قَدَّمَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ، فَكَانَ مِمَّا ظَهَرَ مِنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ:" اللهُمَّ هَذَا عَبْدُكَ خَرَجَ مُهَاجِرًا فِي سَبِيلِكَ، قُتِلَ شَهِيدًا، أَنَا عَلَيْهِ شَهِيدٌ" قَالَ عَطَاءٌ:" وَزَعَمُوا أَنَّهُ لَمْ يُصَلِّ عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ" قَالَ الشَّيْخُ: ابْنُ جُرَيْجٍ يَذْكُرُهُ، عَنْ عَطَاءٍ وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ هَذَا الرَّجُلُ بَقِيَ حَيًّا حَتَّى انْقَطَعَتِ الْحَرْبُ، ثُمَّ مَاتَ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِينَ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ بِأُحُدٍ مَاتُوا قَبْلَ انْقِضَاءِ الْحَرْبِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا شداد بن ہاد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دیہاتیوں میں سے ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ وہ ایمان لایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی اور اس نے کہا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کروں گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق اپنے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کو وصیت کی۔ سو جب غزوہ خیبر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غنیمت کا مال ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تقسیم کیا اور اس کے لیے بھی تقسیم کی اور اس کا حصہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو دیا اور وہ ان کی سواریاں چرایا کرتا تھا۔ سو جب وہ آیا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے وہ حصہ اسے دیا تو اس نے کہا کہ یہ کیا ہے؟ تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ یہ تقسیم کا مال ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرے لیے تقسیم کیا ہے۔ اس نے وہ لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے محمد! یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حصہ ہے جو میں نے تیرے لیے تقسیم کیا ہے۔“ اس نے کہا: میں نے اس کے لیے آپ کی اتباع نہیں کی، بلکہ میں نے اس لیے آپ کی اتباع کی ہے کہ مجھے یہاں (اس نے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا) تیر مارا جائے، پھر میں مر جاؤں اور جنت میں داخل ہو جاؤں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «إِنْ تَصْدُقِ اللهَ يَصْدُقْكَ» اگر تو نے اللہ کی تصدیق کی ہے تو وہ تیری تصدیق کرے گا۔“ پھر وہ دشمن سے لڑنے کے لیے آئے، پھر اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھا کر لایا گیا اور اسے تیر وہیں لگا تھا جہاں اس نے حلق کی طرف اشارہ کیا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہی ہے؟“ تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے اللہ کی تصدیق کی اور اللہ تعالیٰ نے اسے سچا ثابت کر دیا۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے لباس میں ہی کفن دیا۔ پھر اسے آگے کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی اور یہ ان میں سے ہے جن کے لیے نماز جنازہ میں واضح دعا کی: «اللّٰهُمَّ هٰذَا عَبْدُكَ، خَرَجَ مُهَاجِرًا فِي سَبِيْلِكَ، فَقُتِلَ شَهِيْدًا، أَنَا شَهِيْدٌ عَلَى ذٰلِكَ» ”اے اللہ! یہ تیرا بندہ ہے اور تیری راہ میں مہاجر بن کر نکلا ہے اور یہ شہادت کی موت مرا ہے اور میں اس پر گواہ ہوں۔“
عطاء کہتے ہیں کہ ان کا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد والوں کا جنازہ نہیں پڑھا۔ شیخ کہتے ہیں کہ ابن جریج اسے عطاء سے ذکر کرتے ہیں اور اس بات کا احتمال ہے کہ یہ شخص جنگ کے ختم ہونے تک زندہ رہا ہو، پھر وہ فوت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ پڑھا اور احد میں جن کا جنازہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں پڑھا وہ جنگ ختم ہونے سے پہلے فوت ہو گئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6817]
عطاء کہتے ہیں کہ ان کا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد والوں کا جنازہ نہیں پڑھا۔ شیخ کہتے ہیں کہ ابن جریج اسے عطاء سے ذکر کرتے ہیں اور اس بات کا احتمال ہے کہ یہ شخص جنگ کے ختم ہونے تک زندہ رہا ہو، پھر وہ فوت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ پڑھا اور احد میں جن کا جنازہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں پڑھا وہ جنگ ختم ہونے سے پہلے فوت ہو گئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6817]
تخریج الحدیث: «حسن۔ نسائي»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 6818
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَسِيرِهِ إِلَى خَيْبَرَ لِعَامِرِ بْنِ الْأَكْوَعِ وَكَانَ اسْمُ الْأَكْوَعِ سِنَانًا:" انْزِلْ يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ فَاحْدُ لَنَا مِنْ هَنَاتِكَ فَنَزَلَ يَرْتَجِزُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، وَيَقُولُ:.
ابو الہیثم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ بیشک ان کے باپ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی طرف جاتے ہوئے عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ کو فرمایا اور اکوع کا نام سنان ہے: ”اے ابن اکوع! اتر اور ہمارے لیے اپنی آواز میں حدی کر۔“ سو وہ اترے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اشعار کہنے لگے کہ اللہ کی قسم! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے تو ہم ہدایت نہ پاتے۔ نہ ہم صدقہ کرتے اور نہ نماز پڑھتے۔ سو تو ہم پر سکینہ نازل فرما۔ اگر ہم دشمن سے ملیں تو ہمیں ثابت قدم فرما۔ بیشک کافروں کی اولاد نے ہمارے ساتھ بغاوت کی ہے، اگر وہ ہم سے شرک و کفر کی امید رکھتے ہیں تو ہم اس کے انکاری ہیں۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھ پر تیرا رب رحم کرے۔“ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اس پر واجب ہوگئی۔ اللہ کی قسم! اگر آپ ہمیں ان سے استفادہ کرنے دیتے۔ سو وہ غزوہ خیبر میں شہید کر دیے گئے، جو بات ہم تک پہنچی ہے تو وہ ان کی شہادت اس سے ہوئی کہ ان کی تلوار ہی ان کی طرف پلٹی اور انہیں شدید زخمی کر دیا اور وہ لڑائی کرتے رہے حتیٰ کہ وہ فوت ہو گئے اور مسلمان ان کے متعلق شک میں پڑ گئے کہ انہیں ان کے اسلحہ ہی نے قتل کیا ہے۔ اس وجہ سے ان کے بھتیجے سلمہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کی بات سے آگاہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شہید ہے۔“ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے نماز جنازہ ادا کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6818]
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھ پر تیرا رب رحم کرے۔“ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اس پر واجب ہوگئی۔ اللہ کی قسم! اگر آپ ہمیں ان سے استفادہ کرنے دیتے۔ سو وہ غزوہ خیبر میں شہید کر دیے گئے، جو بات ہم تک پہنچی ہے تو وہ ان کی شہادت اس سے ہوئی کہ ان کی تلوار ہی ان کی طرف پلٹی اور انہیں شدید زخمی کر دیا اور وہ لڑائی کرتے رہے حتیٰ کہ وہ فوت ہو گئے اور مسلمان ان کے متعلق شک میں پڑ گئے کہ انہیں ان کے اسلحہ ہی نے قتل کیا ہے۔ اس وجہ سے ان کے بھتیجے سلمہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کی بات سے آگاہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شہید ہے۔“ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے نماز جنازہ ادا کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6818]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابن اسحاق»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 6819
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ:" أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ غُسِّلَ وَكُفِّنَ وَصُلِّيَ عَلَيْهِ" زَادَ فِيهِ عُبَيْدُ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ:" وَحُنِّطَ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے، انہیں غسل دیا گیا، کفن پہنایا گیا اور نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6819]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مال»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 6820
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنُ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ:" كَانَ أَبُو لُؤْلُؤَةَ لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ:" فَصَنَعَ لَهُ خِنْجَرًا لَهُ رَأْسَانِ، فَلَمَّا كَبَّرَ وَوَجَأَهُ عَلَى كَتِفِهِ، وَوَجَأَهُ عَلَى مَكَانٍ آخَرَ، وَوَجَأَهُ فِي خَاصِرَتِهِ، فَسَقَطَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" وَقَدْ مَضَى فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ فِي قِصَّةِ قَتْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ طَعَنَهُ، قَالَ: فَطَارَ الْعِلْجُ بِالسِّكِّينِ ذَاتِ طَرَفَيْنِ لَا يَمُرُّ عَلَى أَحَدٍ يَمِينًا وَلَا شِمَالًا إِلَّا طَعَنَهُ. وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ قُتِلَ بِمِحْدَدٍ ثُمَّ غُسِّلَ وَكُفِّنَ وَصُلِّيَ عَلَيْهِ.
ثابت ابو رافع سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: ابو لؤلؤ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا غلام ہے اور آگے پوری حدیث بیان کی۔ وہ کہتے ہیں: اس نے ان کے لیے دو سروں والا خنجر تیار کیا۔ جب عمر رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی تو اس نے ان کے کندھے پر وار کیا، پھر دوسری جگہ وار کیا اور خنجر ان کے پہلو میں اتار دیا تو عمر رضی اللہ عنہ گر پڑے۔
حصین کی عمرو بن میمون سے ثابت (صحیح) حدیث میں قتل عمر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ گزر چکا ہے کہ مجوسی نے ان پر خنجر سے وار کیا اور پھر وہ جس کے پاس سے بھی گزرتا تو وہ دائیں بائیں والوں کو خنجر مارتا اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا۔ پھر غسل دیا گیا، کفن دیا گیا اور جنازہ پڑھا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6820]
حصین کی عمرو بن میمون سے ثابت (صحیح) حدیث میں قتل عمر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ گزر چکا ہے کہ مجوسی نے ان پر خنجر سے وار کیا اور پھر وہ جس کے پاس سے بھی گزرتا تو وہ دائیں بائیں والوں کو خنجر مارتا اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں تیز دھار آلے سے قتل کیا گیا۔ پھر غسل دیا گیا، کفن دیا گیا اور جنازہ پڑھا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6820]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه ابن حبان»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 6821
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، أَنَّ الْحَسَنَ: صَلَّى عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا.
ابواسحاق بیان کرتے ہیں کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6821]
تخریج الحدیث: «حسن لغيرهٖ»
الحكم على الحديث: حسن لغيرهٖ
حدیث نمبر: 6822
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ، ثنا سَعِيدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَيُّوبُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ بَعْدَ قَتْلِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: وَجَاءَ كِتَابُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَنْ يُدْفَعَ إِلَى أَهْلِهِ، فَأَتَيْتُ بِهِ أَسْمَاءَ: فَغَسَّلَتْهُ وَكَفَّنَتْهُ وَحَنَّطَتْهُ، ثُمَّ دَفَنَتْهُ قَالَ أَيُّوبُ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: فَمَا عَاشَتْ بَعْدَ ذَلِكَ إِلَّا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ثُمَّ مَاتَتْ زَادَ غَيْرُهُ فِيهِ وَصَلَّتْ عَلَيْهِ.
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا کے پاس سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے قتل ہونے کے بعد گیا۔ وہ کہتے ہیں: عبدالملک کا خط آیا، اس نے کہا: اس کی میت ان کے اہل کے حوالے کر دو۔ میں اسے لے کر سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس آیا، انہوں نے اسے غسل دیا، کفن پہنایا اور خوشبو لگائی، پھر دفن کر دیا گیا۔ ایوب رحمہ اللہ کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ راوی نے کہا کہ اس کے بعد وہ صرف تین دن زندہ رہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 6822]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابن ابي شيبه»
الحكم على الحديث: صحيح