السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1420. -- باب: المرتث والذي يقتل ظلما في غير معترك الكفار والذي يرجع إليه سيفه
-- باب: اس شخص کا بیان جو میدانِ جنگ سے زخمی حالت میں لایا جائے، یا جو کفار کے میدانِ جنگ کے علاوہ کہیں اور ظلماً قتل کر دیا جائے، اور اس شخص کا بیان جس کی تلوار خود اسی کو لگ جائے
حدیث نمبر: 6817
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَ آبَاذِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عِكْرِمَةُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمَّارٍ، أَخْبَرَنِي شَدَّادُ بْنُ الْهَادِ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَعْرَابِ جَاءَ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ فَآمَنَ وَاتَّبَعَهُ فَقَالَ: أُهَاجِرُ مَعَكَ فَأَوْصَى بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ بَعْضَ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا كَانَتْ غَزْوَةُ خَيْبَرَ غَنِمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَقَسَمَ وَقَسَمَ لَهُ، فَأَعْطَى أَصْحَابَهَ مَا قَسَمَ لَهُ وَكَانَ يَرْعَى ظَهْرَهَمْ، فَلَمَّا جَاءَ دَفَعُوهُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالَ: قَسْمٌ قَسَمَهُ لَكَ فَأَخَذَهُ فَجَاءَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا هَذَا يَا مُحَمَّدُ؟ قَالَ:" قَسْمٌ قَسَمْتُهُ لَكَ"، قَالَ: مَا عَلَى هَذَا اتَّبَعْتُكَ وَلَكِنِ اتَّبَعْتُكَ عَلَى أَنْ أُرْمَى هَهُنَا وَأَشَارَ إِلَى حَلْقِهِ بِسَهْمٍ فَأَمُوتَ فَأَدْخُلَ الْجَنَّةَ، فَقَالَ:" إِنْ تَصَدُقِ اللهَ يَصْدُقْكَ"، ثُمَّ ⦗٢٤⦘ نَهَضُوا إِلَى قِتَالِ الْعَدُوِّ فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ يُحْمَلُ وَقَدْ أَصَابَهُ سَهْمٌ حَيْثُ أَشَارَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ:" هُوَ هُوَ؟" قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" صَدَقَ اللهَ فَصَدَقَهُ"، فَكَفَّنَهُ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ فِي جُبَّتِهِ، ثُمَّ قَدَّمَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ، فَكَانَ مِمَّا ظَهَرَ مِنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ:" اللهُمَّ هَذَا عَبْدُكَ خَرَجَ مُهَاجِرًا فِي سَبِيلِكَ، قُتِلَ شَهِيدًا، أَنَا عَلَيْهِ شَهِيدٌ" قَالَ عَطَاءٌ:" وَزَعَمُوا أَنَّهُ لَمْ يُصَلِّ عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ" قَالَ الشَّيْخُ: ابْنُ جُرَيْجٍ يَذْكُرُهُ، عَنْ عَطَاءٍ وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ هَذَا الرَّجُلُ بَقِيَ حَيًّا حَتَّى انْقَطَعَتِ الْحَرْبُ، ثُمَّ مَاتَ فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِينَ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ بِأُحُدٍ مَاتُوا قَبْلَ انْقِضَاءِ الْحَرْبِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا شداد بن ہاد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دیہاتیوں میں سے ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ وہ ایمان لایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی اور اس نے کہا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کروں گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق اپنے بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کو وصیت کی۔ سو جب غزوہ خیبر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غنیمت کا مال ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تقسیم کیا اور اس کے لیے بھی تقسیم کی اور اس کا حصہ صحابہ رضی اللہ عنہم کو دیا اور وہ ان کی سواریاں چرایا کرتا تھا۔ سو جب وہ آیا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے وہ حصہ اسے دیا تو اس نے کہا کہ یہ کیا ہے؟ تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ یہ تقسیم کا مال ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیرے لیے تقسیم کیا ہے۔ اس نے وہ لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے محمد! یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ حصہ ہے جو میں نے تیرے لیے تقسیم کیا ہے۔“ اس نے کہا: میں نے اس کے لیے آپ کی اتباع نہیں کی، بلکہ میں نے اس لیے آپ کی اتباع کی ہے کہ مجھے یہاں (اس نے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا) تیر مارا جائے، پھر میں مر جاؤں اور جنت میں داخل ہو جاؤں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «إِنْ تَصْدُقِ اللهَ يَصْدُقْكَ» اگر تو نے اللہ کی تصدیق کی ہے تو وہ تیری تصدیق کرے گا۔“ پھر وہ دشمن سے لڑنے کے لیے آئے، پھر اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اٹھا کر لایا گیا اور اسے تیر وہیں لگا تھا جہاں اس نے حلق کی طرف اشارہ کیا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ وہی ہے؟“ تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا کہ جی ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے اللہ کی تصدیق کی اور اللہ تعالیٰ نے اسے سچا ثابت کر دیا۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اس کے لباس میں ہی کفن دیا۔ پھر اسے آگے کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی اور یہ ان میں سے ہے جن کے لیے نماز جنازہ میں واضح دعا کی: «اللّٰهُمَّ هٰذَا عَبْدُكَ، خَرَجَ مُهَاجِرًا فِي سَبِيْلِكَ، فَقُتِلَ شَهِيْدًا، أَنَا شَهِيْدٌ عَلَى ذٰلِكَ» ”اے اللہ! یہ تیرا بندہ ہے اور تیری راہ میں مہاجر بن کر نکلا ہے اور یہ شہادت کی موت مرا ہے اور میں اس پر گواہ ہوں۔“
عطاء کہتے ہیں کہ ان کا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد والوں کا جنازہ نہیں پڑھا۔ شیخ کہتے ہیں کہ ابن جریج اسے عطاء سے ذکر کرتے ہیں اور اس بات کا احتمال ہے کہ یہ شخص جنگ کے ختم ہونے تک زندہ رہا ہو، پھر وہ فوت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ پڑھا اور احد میں جن کا جنازہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں پڑھا وہ جنگ ختم ہونے سے پہلے فوت ہو گئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6817]
عطاء کہتے ہیں کہ ان کا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد والوں کا جنازہ نہیں پڑھا۔ شیخ کہتے ہیں کہ ابن جریج اسے عطاء سے ذکر کرتے ہیں اور اس بات کا احتمال ہے کہ یہ شخص جنگ کے ختم ہونے تک زندہ رہا ہو، پھر وہ فوت ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جنازہ پڑھا اور احد میں جن کا جنازہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں پڑھا وہ جنگ ختم ہونے سے پہلے فوت ہو گئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6817]
تخریج الحدیث: «حسن۔ نسائي»
الحكم على الحديث: حسن
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6817 in Urdu