السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1420. -- باب: المرتث والذي يقتل ظلما في غير معترك الكفار والذي يرجع إليه سيفه
-- باب: اس شخص کا بیان جو میدانِ جنگ سے زخمی حالت میں لایا جائے، یا جو کفار کے میدانِ جنگ کے علاوہ کہیں اور ظلماً قتل کر دیا جائے، اور اس شخص کا بیان جس کی تلوار خود اسی کو لگ جائے
حدیث نمبر: 6818
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي مَسِيرِهِ إِلَى خَيْبَرَ لِعَامِرِ بْنِ الْأَكْوَعِ وَكَانَ اسْمُ الْأَكْوَعِ سِنَانًا:" انْزِلْ يَا ابْنَ الْأَكْوَعِ فَاحْدُ لَنَا مِنْ هَنَاتِكَ فَنَزَلَ يَرْتَجِزُ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى الله عَلَيهِ وَسَلَّمَ، وَيَقُولُ:.
ابو الہیثم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ بیشک ان کے باپ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی طرف جاتے ہوئے عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ کو فرمایا اور اکوع کا نام سنان ہے: ”اے ابن اکوع! اتر اور ہمارے لیے اپنی آواز میں حدی کر۔“ سو وہ اترے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اشعار کہنے لگے کہ اللہ کی قسم! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہوتے تو ہم ہدایت نہ پاتے۔ نہ ہم صدقہ کرتے اور نہ نماز پڑھتے۔ سو تو ہم پر سکینہ نازل فرما۔ اگر ہم دشمن سے ملیں تو ہمیں ثابت قدم فرما۔ بیشک کافروں کی اولاد نے ہمارے ساتھ بغاوت کی ہے، اگر وہ ہم سے شرک و کفر کی امید رکھتے ہیں تو ہم اس کے انکاری ہیں۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھ پر تیرا رب رحم کرے۔“ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اس پر واجب ہوگئی۔ اللہ کی قسم! اگر آپ ہمیں ان سے استفادہ کرنے دیتے۔ سو وہ غزوہ خیبر میں شہید کر دیے گئے، جو بات ہم تک پہنچی ہے تو وہ ان کی شہادت اس سے ہوئی کہ ان کی تلوار ہی ان کی طرف پلٹی اور انہیں شدید زخمی کر دیا اور وہ لڑائی کرتے رہے حتیٰ کہ وہ فوت ہو گئے اور مسلمان ان کے متعلق شک میں پڑ گئے کہ انہیں ان کے اسلحہ ہی نے قتل کیا ہے۔ اس وجہ سے ان کے بھتیجے سلمہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کی بات سے آگاہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شہید ہے۔“ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے نماز جنازہ ادا کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6818]
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھ پر تیرا رب رحم کرے۔“ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اس پر واجب ہوگئی۔ اللہ کی قسم! اگر آپ ہمیں ان سے استفادہ کرنے دیتے۔ سو وہ غزوہ خیبر میں شہید کر دیے گئے، جو بات ہم تک پہنچی ہے تو وہ ان کی شہادت اس سے ہوئی کہ ان کی تلوار ہی ان کی طرف پلٹی اور انہیں شدید زخمی کر دیا اور وہ لڑائی کرتے رہے حتیٰ کہ وہ فوت ہو گئے اور مسلمان ان کے متعلق شک میں پڑ گئے کہ انہیں ان کے اسلحہ ہی نے قتل کیا ہے۔ اس وجہ سے ان کے بھتیجے سلمہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کی بات سے آگاہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شہید ہے۔“ سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے نماز جنازہ ادا کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 6818]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه ابن اسحاق»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 6818 in Urdu