السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1499. -- باب: سياق أخبار تدل على أن الميت يعذب بالنياحة عليه وما روي عن عائشة رضي الله عنها في ذلك.
-- باب: ان احادیث کا بیان جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ میت کو اس پر نوحہ کیے جانے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے اور اس بارے میں جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 7173
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّازُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، لَمَّا مَاتَ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ قَالَ لَهُمْ: لَا تَبْكُوا عَلَيْهِ فَإِنَّ بُكَاءَ الْحِيِّ عَذَابٌ لِلْمَيِّتِ، وَقَالَ عَنْ عَمْرَةَ فَسَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: يَرْحَمُهُ اللهُ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَهُودِيَّةٍ، وَأَهْلُهَا يَبْكُونَ:" إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو ان سے کہا: تم نہ روؤ کیونکہ ”زندوں کے رونے کی وجہ سے میت کے لیے عذاب ہوتا ہے۔“ عمرہ رحمہا اللہ کہتی ہیں: میں نے سیدہ رضی اللہ عنہا سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: اللہ ان پر رحم کرے۔ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودیہ اور اس کے اہل سے کہا جو رو رہے تھے کہ ”وہ اس پر رو رہے ہیں اور وہ قبر میں عذاب دی جا رہی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7173]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7174
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرَةَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَذُكِرَ لَهَا أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُ: إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحِيِّ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكْذِبْ وَلَكِنَّهُ أَخْطَأَ أَوْ نَسِيَ إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى يَهُودِيَّةٍ وَهِيَ يَبْكِي عَلَيْهَا أَهْلُهَا فَقَالَ:" إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا"..
سیدہ عمرہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، ان کے پاس سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا تذکرہ کیا گیا کہ وہ کہتے ہیں کہ میت کو زندوں کے رونے سے عذاب دیا جاتا ہے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ وہ جھوٹ تو نہیں بولتے لیکن ان سے غلطی یا بھول ہوئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودیہ کے پاس سے گزرے اور اس پر اس کے اہل والے رو رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس پر رو رہے ہیں اور وہ قبر میں عذاب دی جا رہی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7174]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7175
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ الشَّيْبَانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي وَمُحَمَّدُ بْنُ شَاذَانَ قَالَا: ثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ. إِلَّا أَنَّهُ قَالَ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ وَقَالَ: فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَغْفِرُ اللهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَقَالَ يَبْكِي عَلَيْهَا. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ. وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ كِلَاهُمَا عَنَ مَالِكٍ.
قتیبہ بن سعید، مالک بن انس رحمہ اللہ سے اسی سند کے ساتھ نقل فرماتے ہیں، مگر یہ کہ عمرہ بنت عبد الرحمٰن رحمہا اللہ نے کہا کہ انہوں نے خبر دی کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ابو عبد الرحمٰن (رضی اللہ عنہما) کو معاف فرمائے کہ انہوں نے کہا: اس پر رویا جا رہا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7175]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مالك»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7176
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِيمِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْمُونٍ الصَّائِغُ، بِمَرْوٍ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، أنبأ عَبْدَانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ ابْنُ ⦗١٢٢⦘ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ تُوُفِّيَتِ ابْنَةٌ لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمَكَّةَ، وَجِئْنَا لِنَشْهَدَهَا قَالَ: وَحَضَرَهَا ابْنُ عُمَرَ وَابْنُ عَبَّاسٍ وَإِنِّي لَجَالِسٌ بَيْنَهُمَا أَوْ قَالَ: جَلَسْتُ إِلَى أَحَدِهِمَا، ثُمَّ جَاءَ الْآخَرُ فَجَلَسَ إِلَى جَنْبِي، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ لِعَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ: أَلَا تَنْهَى النِّسَاءَ عَنِ الْبُكَاءِ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ" فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَدْ كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ بَعْضَ ذَلِكَ ثُمَّ حَدَّثَ قَالَ: صَدَرْتُ مَعَ عُمَرَ مِنْ مَكَّةَ حَتَّى كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ إِذَا هُوَ بِرَكْبٍ تَحْتَ ظِلِّ شَجَرَةٍ فَقَالَ: اذْهَبْ وَانْظُرْ إِلَى هَؤُلَاءِ الرَّكْبِ قَالَ: فَنَظَرْتُ فَإِذَا هُوَ صُهَيْبٌ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ: ادْعُهُ لِي فَرَجَعْتُ إِلَى صُهَيْبٍ فَقُلْتُ: ارْتَحِلْ فَالْحَقْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَلَمَّا أُصِيبَ عُمَرُ دَخَلَ صُهَيْبٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَبْكِي يَقُولُ: وَا أَخَاهُ وَا صَاحِبَاهُ فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا صُهَيْبُ أَتَبْكِي عَلَيَّ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ". قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: رَحِمَ اللهُ عُمَرَ وَاللهِ مَا حَدَّثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللهَ يُعَذِّبُ الْمُؤْمِنَ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ، وَلَكِنْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللهَ لَيَزِيدُ الْكَافِرَ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ" قَالَ: وَقَالَتْ عَائِشَةُ: حَسْبُكُمُ الْقُرْآنُ {وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الأنعام: ١٦٤] . قَالَ: وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ عِنْدَ ذَلِكَ: وَاللهُ أَضْحَكَ وَأَبْكَى، قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ فَوَاللهِ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ شَيْئًا لَفْظُ حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُبَارَكٍ، وَحَدِيثُ عَبْدِ الرَّزَّاقِ بِمَعْنَاهُ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدَانَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
عبداللہ بن عبید اللہ بن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مکہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بیٹی فوت ہوگئی، ہم اس (کے جنازے) میں حاضر ہونے کے لیے آئے تو سیدنا ابن عمر اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی تشریف فرما تھے اور میں ان کے درمیان میں تھا۔ وہ فرماتے ہیں: میں ان میں سے ایک کے پاس بیٹھا ہوا تھا تو دوسرا بھی آیا اور میرے پہلو میں بیٹھ گیا، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے عمرو بن عثمان سے کہا: کیا تو عورتوں کو رونے سے منع نہیں کرتا؟ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔“ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسا ہی کچھ کہتے تھے، پھر حدیث بیان کی کہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مکہ سے آیا، جب ہم بیداء کے مقام پر آئے تو وہ قافلے کے ساتھ ایک درخت کے نیچے تھے، تو انہوں نے کہا: جاؤ دیکھو یہ قافلے والے کون ہیں؟ وہ کہتے ہیں: میں نے دیکھا تو وہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے کہا: اسے میرے پاس بلاؤ، تو میں سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ امیر المؤمنین کے پاس چلو۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ روتے ہوئے داخل ہوئے اور وہ کہہ رہے تھے: ہائے میرے بھائی! ہائے میرے ساتھی! تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے صہیب! کیا تو مجھ پر روتا ہے؟ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک میت کو گھر والوں کے بعض رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔“ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس اس بات کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا: اللہ ان پر رحم کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے بیان نہیں کیا (کہ): ”بیشک اللہ تعالیٰ مومن کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیتا ہے“ بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک اللہ تعالیٰ کافر کے عذاب کو اس کے اہل کے رونے کی وجہ سے زیادہ کر دیتا ہے۔“ وہ کہتے ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تمہیں قرآن کافی ہے ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [سورة الأنعام: 164] ”اور کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔“ وہ فرماتے ہیں تب سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ ہی رلاتا اور ہنساتا ہے۔ ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے (اس کے جواب میں) ایسا کچھ نہیں کہا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7176]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7177
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا مُسَدَّدُ بْنُ فَطَنٍ، ثنا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ وَنَحْنُ نَنْتَظِرُ جِنَازَةَ أُخْتِ أَبَانَ بِنْتِ عُثْمَانَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ يُخَالِفُهُ فِي بَعْضِ الْأَلْفَاظِ قَالَ أَيُّوبُ: قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: لَمَّا بَلَغَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَوْلُ عُمَرَ وَابْنِ عُمَرَ قَالَتْ:" إِنَّكُمْ لَتُحَدِّثُونَ عَنْ غَيْرِ كَاذِبَيْنِ وَلَا مُكَذَّبَيْنِ وَلَكِنَّ السَّمْعَ يُخْطِئُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ دَاوُدَ بْنِ رُشَيْدٍ ⦗١٢٣⦘.
عبداللہ بن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ ہم ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ابان کی بہن بنت عثمان کے جنازے کا انتظار کر رہے تھے، انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔
قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو عمر رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بات پہنچی تو انہوں نے فرمایا کہ تم ان سے بیان کر رہے ہو جو نہ تو جھوٹے ہیں اور نہ ہی جھٹلائے گئے ہیں، لیکن سننے میں غلطی ہوتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7177]
قاسم بن محمد فرماتے ہیں کہ جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو عمر رضی اللہ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بات پہنچی تو انہوں نے فرمایا کہ تم ان سے بیان کر رہے ہو جو نہ تو جھوٹے ہیں اور نہ ہی جھٹلائے گئے ہیں، لیکن سننے میں غلطی ہوتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7177]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7178
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الشَّافِعِيِّ، رَحِمَهُ اللهُ قَالَ: وَمَا رَوَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشْبَهُ أَنْ يَكُونَ مَحْفُوظًا عَنْهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِدَلَالَةِ الْكِتَابِ ثُمَّ السُّنَّةِ فَإِنْ قِيلَ وَأَيْنَ دَلَالَةُ الْكِتَابِ قِيلَ فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ {لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الأنعام: ١٦٤] وَقَوْلِهِ {وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى} [النجم: ٣٩] وَقَوْلِهِ {فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ} [الزلزلة: ٨] وَقَوْلِهِ {لِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَى} [طه: ١٥] فَإِنْ قِيلَ فَأَيْنَ دَلَالَةُ السُّنَّةِ؟ قِيلَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ:" هَذَا ابْنُكَ" قَالَ: نَعَمْ قَالَ:" أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ". فَأَعْلَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَا أَعْلَمَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَنَّ جِنَايَةَ كُلِّ امْرِئٍ عَلَيْهِ، كَمَا عَمَلُهُ لَهُ لَا لِغَيْرِهِ وَلَا عَلَيْهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَعُمْرَةُ أَحْفَظُ عَنْ عَائِشَةَ مِنَ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ وَحَدِيثُهَا أَشْبَهُ الْحَدِيثَيْنِ أَنْ يَكُونَ مَحْفُوظًا فَإِنْ كَانَ الْحَدِيثُ عَلَى غَيْرِ مَا رَوَى ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِنَّهُمْ لَيَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا" فَهُوَ وَاضِحٌ لَا يَحْتَاجُ إِلَى تَفْسِيرٍ لِأَنَّهَا تُعَذَّبُ بِالْكُفْرِ وَهَؤُلَاءِ يَبْكُونَ وَلَا يَدْرُونَ مَا هِيَ فِيهِ وَإِنْ كَانَ الْحَدِيثُ كَمَا رَوَى ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ فَهُوَ صَحِيحٌ لِأَنَّ عَلَى الْكَافِرِ عَذَابًا أَعْلَى مِنْهُ فَإِنْ عُذِّبَ بِدُونِهِ فَزِيدَ فِي عَذَابِهِ فِيمَا اسْتَوْجَبَ وَمَا نِيلَ مِنْ كَافِرٍ مِنْ عَذَابٍ أَدْنَى مِنْ أَعْلَى مِنْهُ وَمَا زِيدَ عَلَيْهِ مَنَ الْعَذَابِ فَبِاسْتِيجَابِهِ لَا بِذَنْبِ غَيْرِهِ فِي بُكَائِهِ عَلَيْهِ فَإِنْ قِيلَ: يَزِيدُهُ عَذَابًا بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ، قِيلَ: يَزِيدُ بِمَا اسْتَوْجَبَ بِعَمَلِهِ وَيَكُونُ بُكَاؤُهُمْ سَبَبًا لَا أَنَّهُ يُعَذَّبُ بِبُكَائِهِمْ عَلَيْهِ وَفِيمَا بَلَغَنِي عَنْ أَبِي إِبْرَاهِيمَ الْمُزَنِيِّ أَنَّهُ قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّهُمْ كَانُوا يُوصُونَ بِالْبُكَاءِ عَلَيْهِمْ أَوْ بِالنِّيَاحَةِ أَوْ بِهِمَا وَذَلِكَ مَعْصِيَةٌ فَمَنْ أَمَرَ بِهَا فَعَمِلَتْ بِأَمْرِهِ كَانَتْ لَهُ ذَنْبًا كَمَا لَوْ أَمَرَ بِطَاعَةٍ فَعَمِلَتْ بَعْدَهُ كَانَتْ لَهُ طَاعَةٌ فَكَمَا يُؤْجَرُ بِمَا هُوَ سَبَبٌ لَهُ مِنَ الطَّاعَةِ فَكَذَلِكَ يَجُوزُ أَنْ يُعَذَّبَ بِمَا هُوَ سَبَبٌ لَهُ مِنَ الْمَعْصِيَةِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہے اس سے زیادہ محفوظ اور کوئی روایت نہیں کتاب اللہ اور سنت کی دلالت کی وجہ سے۔ اگر یہ کہا جائے کہ کتاب سے دلیل کیا ہے؟ تو وہ یہ ہے: ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [سورة الإسراء: 15] اور یہ: ﴿وَأَنْ لَيْسَ لِلْإِنْسَانِ إِلَّا مَا سَعَى﴾ [سورة النجم: 39] اور یہ فرمان: ﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ * وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾ [سورة الزلزلة: 7-8] اور یہ فرمان: ﴿لِتُجْزَى كُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَى﴾ [سورة طه: 15] کہ ہر جان کو وہی بدلہ ملے گا جو اس نے کیا اور سنت سے دلیل یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو فرمایا: ”یہ تیرا بیٹا ہے؟“ تو اس نے کہا: ہاں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کے گناہ تجھ پر نہیں ڈالے جائیں گے اور تیرے گناہ اس پر نہیں ڈالے جائیں گے۔“ سو جان لو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی بتایا جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہر آدمی کے گناہ اسی پر ہیں، جیسے وہ اعمال کرے گا نہ کسی پر ہوں گے اور نہ کسی کے اس پر ہوں گے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے (روایت) یاد رکھنے میں ابن ابی ملیکہ سے زیادہ پختہ ہیں اور ان کی روایت دونوں روایتوں میں سے محفوظ ہونے کے زیادہ قریب ہے۔ اگر حدیث ابن ابی ملیکہ کی روایت کے برعکس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہو کہ: ”وہ اس پر رو رہے ہیں اور اسے قبر میں عذاب ہو رہا ہے“ تو یہ بات واضح ہے، تفسیر کی کوئی حاجت نہیں، کیونکہ اسے کفر کی وجہ سے عذاب کیا جا رہا ہے اور یہ رو رہے ہیں، انہیں اس کا علم نہیں کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ اور اگر حدیث ویسے ہی ہو جیسے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا ہے تو وہ بھی صحیح ہے، کیونکہ کافر پر اس سے بڑا عذاب واجب ہے، اگر اسے اس سے کم عذاب دیا جا رہا ہو اور پھر اس کے عذاب میں اضافہ کیا جائے تو وہ اسی میں ہے جس کا وہ مستحق ہے۔ کافر کو جو عذاب ملتا ہے وہ اس بڑے عذاب سے کم ہے اور جو عذاب اس پر بڑھایا جاتا ہے وہ اس کے اپنے استحقاق کی وجہ سے ہے، نہ کہ اس پر رونے والے کسی دوسرے کے گناہ کی وجہ سے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اللہ اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے اس کے عذاب میں اضافہ کرتا ہے، تو جواب یہ ہے کہ وہ اس عذاب میں اضافہ کرتا ہے جس کا وہ اپنے عمل کی وجہ سے مستحق ہوا اور ان کا رونا محض ایک سبب ہوتا ہے، نہ یہ کہ اسے ان کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ اور ابو ابراہیم مزنی رحمہ اللہ سے مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے کہا: مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ وہ اپنے اوپر رونے کی وصیت کیا کرتے تھے یا نوحہ کرنے کی یا پھر دونوں کی اور یہ نافرمانی ہے۔ سو جس نے اس کا حکم دیا اور اس کے حکم پر عمل کیا گیا تو یہ اس کے لیے گناہ ہوگا، جیسے اگر وہ اطاعت کا حکم دیتا اور اس کے بعد اس پر عمل کیا جاتا تو وہ اس کے لیے اطاعت ہوتی، تو جس طرح اسے اس اطاعت پر اجر ملتا ہے جس کا وہ سبب بنا، اسی طرح یہ بھی جائز ہے کہ اسے اس نافرمانی پر عذاب دیا جائے جس کا وہ سبب بنا، وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7178]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے (روایت) یاد رکھنے میں ابن ابی ملیکہ سے زیادہ پختہ ہیں اور ان کی روایت دونوں روایتوں میں سے محفوظ ہونے کے زیادہ قریب ہے۔ اگر حدیث ابن ابی ملیکہ کی روایت کے برعکس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہو کہ: ”وہ اس پر رو رہے ہیں اور اسے قبر میں عذاب ہو رہا ہے“ تو یہ بات واضح ہے، تفسیر کی کوئی حاجت نہیں، کیونکہ اسے کفر کی وجہ سے عذاب کیا جا رہا ہے اور یہ رو رہے ہیں، انہیں اس کا علم نہیں کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ اور اگر حدیث ویسے ہی ہو جیسے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا ہے تو وہ بھی صحیح ہے، کیونکہ کافر پر اس سے بڑا عذاب واجب ہے، اگر اسے اس سے کم عذاب دیا جا رہا ہو اور پھر اس کے عذاب میں اضافہ کیا جائے تو وہ اسی میں ہے جس کا وہ مستحق ہے۔ کافر کو جو عذاب ملتا ہے وہ اس بڑے عذاب سے کم ہے اور جو عذاب اس پر بڑھایا جاتا ہے وہ اس کے اپنے استحقاق کی وجہ سے ہے، نہ کہ اس پر رونے والے کسی دوسرے کے گناہ کی وجہ سے۔ اگر یہ کہا جائے کہ اللہ اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے اس کے عذاب میں اضافہ کرتا ہے، تو جواب یہ ہے کہ وہ اس عذاب میں اضافہ کرتا ہے جس کا وہ اپنے عمل کی وجہ سے مستحق ہوا اور ان کا رونا محض ایک سبب ہوتا ہے، نہ یہ کہ اسے ان کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ اور ابو ابراہیم مزنی رحمہ اللہ سے مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے کہا: مجھے یہ معلوم ہوا ہے کہ وہ اپنے اوپر رونے کی وصیت کیا کرتے تھے یا نوحہ کرنے کی یا پھر دونوں کی اور یہ نافرمانی ہے۔ سو جس نے اس کا حکم دیا اور اس کے حکم پر عمل کیا گیا تو یہ اس کے لیے گناہ ہوگا، جیسے اگر وہ اطاعت کا حکم دیتا اور اس کے بعد اس پر عمل کیا جاتا تو وہ اس کے لیے اطاعت ہوتی، تو جس طرح اسے اس اطاعت پر اجر ملتا ہے جس کا وہ سبب بنا، اسی طرح یہ بھی جائز ہے کہ اسے اس نافرمانی پر عذاب دیا جائے جس کا وہ سبب بنا، وباللہ التوفیق۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7178]
تخریج الحدیث: «صحيح اسناد۔ الشافعي»
الحكم على الحديث: صحيح اسناد