🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1506. -- باب: ما ورد في نهي النساء عن اتباع الجنائز
-- باب: عورتوں کو جنازوں کے پیچھے چلنے سے روکنے کے بارے میں وارد شدہ روایات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7200
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ شَاذَانَ، بِبَغْدَادَ أنبأ حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْعَبَّاسِ، أنبأ الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، ثنا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ:" نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ وَجْهَيْنِ عَنْ هِشَامٍ.
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمیں جنازوں کے پیچھے جانے سے منع کیا گیا اور ہم پر (اسے) لازم نہیں کیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7200]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7201
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءٍ، أنبأ إِسْرَائِيلُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ هُوَ الْأَصَمُّ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَلْمَانَ، عَنْ دِينَارٍ أَبِي عُمَرَ، عَنْ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي جِنَازَةٍ فَرَأَى نِسْوَةً جُلُوسًا فَقَالَ:" ⦗١٣٠⦘ مَا يُجْلِسُكُنَّ" فَقُلْنَ: الْجِنَازَةُ، فَقَالَ:" أَتَحْمِلْنَ فِيمَنْ يَحْمِلُ؟" قُلْنَ: لَا. قَالَ:" أَفَتُدْلِينَ فِيمَنْ يُدْلِي" قُلْنَ: لَا. قَالَ:" أَفَتَغْسِلْنَ فِيمَنْ يَغْسِلُ" قُلْنَ: لَا، قَالَ:" فَارْجِعْنَ مَأْزُورَاتٍ غَيْرَ مَأْجُورَاتٍ" وَفِي حَدِيثِ الرُّوذْبَارِيِّ" مَوْزُورَاتٍ".
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازے میں نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹھی ہوئی عورتوں کو دیکھا تو فرمایا: ”تمہیں کس نے بٹھایا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: جنازے نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم ان کے ساتھ اٹھاؤ گی جیسے وہ اسے اٹھائیں گے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم ان کے ساتھ اسے دفن کرو گی جیسے وہ دفن کریں گے؟“ تو انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم غسل دینے والوں کے ساتھ غسل دو گی؟“ انہوں نے کہا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر پلٹ جاؤ، تمہارے لیے ممنوع ہے، اس پر اجر نہیں ملے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7201]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابن ماجه»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7202
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِنِسْوَةٍ فَقَالَ:" مَا لَكُنَّ" قُلْنَ: نَنْتَظِرُ الْجِنَازَةَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" فَتَحْثَيْنَ فِيمَنْ يَحْثُوا" قُلْنَ: لَا، وَلَمْ يَذْكُرِ الْغُسْلَ.
اسرائیل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”تمہیں کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ہم جنازے کا انتظار کر رہی ہیں۔۔۔ پھر پوری حدیث بیان کی، سوائے اس کے کہ فرمایا: ”کیا تم مٹی ڈالنے والوں کے ساتھ مٹی ڈالو گی؟“ تو انہوں نے کہا: نہیں اور غسل کا تذکرہ نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7202]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7203
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، قَالَ حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ سَيْفٍ الْمَعَافِرِيُّ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ رَأَى فَاطِمَةَ ابْنَتَهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَالَ لَهَا:" مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتِ يَا فَاطِمَةُ؟" فَقَالَتْ: أَقْبَلْتُ مِنْ وَرَاءِ جِنَازَةِ هَذَا الرَّجُلِ قَالَ:" هَلْ بَلَغْتِ مَعَهُمُ الْكُدَى؟" فَقَالَتْ: لَا وَكَيْفَ أَبْلُغُهَا وَقَدْ سَمِعْتُ مِنْكَ مَا سَمِعْتُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ بَلَغْتِهَا مَعَهُمْ مَا رَأَيْتِ الْجَنَّةَ حَتَّى يَرَاهَا جَدُّ أَبِيكَ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو دیکھا تو پوچھا: ”کہاں سے آئی ہو؟“ تو انہوں نے کہا: اس جنازے کے پیچھے سے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو ان کے ساتھ قبرستان پہنچی ہے؟“ انہوں نے کہا: نہیں، میں کیسے پہنچ سکتی ہوں جب کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے (اس بارے میں) سنا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! اگر تو ان کے ساتھ چلی جاتی تو جنت نہ دیکھ پاتی، جب تک تیرے والد کا دادا نہ دیکھ پائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7203]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ مضي تخريجه من قبل»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں