السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1511. -- باب: المشي بين القبور في النعل
-- باب: جوتے پہن کر قبروں کے درمیان چلنے کا بیان
حدیث نمبر: 7215
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ مَزْيَدَ الَبَيْرُوتِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ جَابِرٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو صَالِحِ بْنُ بِنْتِ يَحْيَى بْنِ مَنْصُورٍ، أنبأ جَدِّي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، وَدَاوُدُ بْنُ مِخْرَاقٍ الْفَارَيَابِيُّ، قَالَا: ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ ⦗١٣٤⦘ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، يَقُولُ حَدَّثَنِي بُسْرُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ اللَّيْثِيَّ، يَقُولُ سَمِعْتُ أَبَا مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا تَجْلِسُوا عَلَى الْقُبُورِ وَلَا تُصَلُّوا إِلَيْهَا" لَفْظُ حَدِيثِهِمَا سَوَاءٌ إِلَّا أَنَّ فِي رِوَايَةِ ابْنِ مَزْيَدَ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ مُسْلِمٍ. وَرَوَاهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ عَنِ ابْنِ جَابِرٍ عَنْ بُسْرٍ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ وَاثِلَةَ، وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الصَّلَاةِ، وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عُمَرَ فِي كَرَاهِيَةِ ذَلِكَ وَالتَّشْدِيدِ فِيهِ.
سیدنا ابو مرثد غنوی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ ”قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ہی ادھر منہ کر کے نماز ادا کرو۔“
ان دونوں احادیث کے الفاظ برابر ہیں سوائے ابن مزید کی روایت کے جو واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے نقل ہوئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7215]
ان دونوں احادیث کے الفاظ برابر ہیں سوائے ابن مزید کی روایت کے جو واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے نقل ہوئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7215]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه مسلم»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7216
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ النَّحْوِيُّ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ شُمَيْرٍ، حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ نَهِيكٍ، قَالَ حَدَّثَنِي بَشِيرٌ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ اسْمُهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ زَحْمَ بْنَ مَعْبَدٍ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا اسْمُكَ"؟ قَالَ زَحْمُ بْنُ مَعْبَدٍ، قَالَ:" أَنْتَ بَشِيرٌ" فَكَانَ اسْمَهُ، قَالَ: بَيْنَا أَنَا أُمَاشِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا ابْنَ الْخَصَاصِيَةِ مَا أَصْبَحْتَ تَنْقِمُ عَلَى اللهِ تُمَاشِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، فَقُلْتُ مَا أَنْقِمُ عَلَى اللهِ شَيْئًا كُلُّ خَيْرٍ فَعَلَ بِيَ اللهُ، فَأَتَى عَلَى قُبُورِ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ:" لَقَدْ سَبَقَ هَؤُلَاءِ بِخَيْرٍ كَثِيرٍ ثَلَاثَ مِرَارٍ" ثُمَّ أَتَى عَلَى قُبُورِ الْمُسْلِمِينَ فَقَالَ: لَقَدْ أَدْرَكَ هَؤُلَاءِ خَيْرًا كَثِيرًا ثَلَاثَ مِرَارٍ" فَبَيْنَمَا هُوَ يَمْشِي إِذْ حَانَتْ مِنْهُ نَظْرَةٌ فَإِذَا رَجُلٌ يَمْشِي بَيْنَ الْقُبُورِ عَلَيْهِ نَعْلَانِ فَقَالَ:" يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّتَيْنِ وَيْحَكَ أَلْقِ سِبْتِيَّتَيْكَ" فَنَظَرَ فَلَمَّا عَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلَعَ نَعْلَيْهِ. فَرَمَى بِهِمَا هَذَا حَدِيثٌ قَدْ رَوَاهُ جَمَاعَةٌ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ شَيْبَانَ وَلَا يُعْرَفُ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
بشیر بن نہیک بیان کرتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی بشیر رضی اللہ عنہ نے (جس کا جاہلیت کا نام زحم بن معبد تھا) حدیث بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”تیرا نام کیا ہے؟“ اس نے عرض کیا: زحم بن معبد۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تو بشیر ہے۔“ تو ان کا نام یہی ٹھہرا۔ وہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابن خصاصیہ! تو نے اس حال میں صبح کی ہے کہ تو اللہ سے شکوہ کر رہا ہے حالانکہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہا ہے۔“ میں نے عرض کیا: میں اللہ تعالیٰ سے کوئی شکوہ نہیں کر رہا، میرے ساتھ میرے اللہ نے سب بھلا ہی کیا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کے قبرستان آئے اور فرمایا: ”یہ لوگ ایسے ہیں جن سے بہت سی خیر سبقت لے جا چکی ہے۔“ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ دہرائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کی قبروں کے پاس آئے اور فرمایا: ”انہوں نے بہت زیادہ بھلائی حاصل کر لی ہے۔“ تین بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے ہی چلتے رہے کہ ایک ایسے شخص پر نظر پڑی جو قبرستان کے درمیان چل رہا تھا اور اس نے جوتے پہنے ہوئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے جوتوں والے! تجھ پر افسوس، اپنے جوتے اتار دے۔“ جب اس نے دیکھا کہ آپ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو اس نے جوتے اتار کر پھینک دیے۔
اس حدیث کو اسود بن شیبان سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے اور یہ صرف اسی سند سے معروف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7216]
اس حدیث کو اسود بن شیبان سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے اور یہ صرف اسی سند سے معروف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7216]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه ابو داؤد»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 7217
وَثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ يَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيَقُولَانِ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ يَعْنِي مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُولُ آمَنْتُ أَنَّهُ عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ، فَيُقَالُ لَهُ انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ فِي النَّارِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللهُ مَقْعَدًا فِي الْجَنَّةِ فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا"، ⦗١٣٥⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ زُرَارَةَ عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى بِنَعْلَيْهِ قَذَرًا فَأَمَرَهُ أَنْ يَخْلَعَهُمَا لِأَجْلِ ذَلِكَ وَيُحْتَمَلُ غَيْرُ ذَلِكَ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک بندہ جب قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی واپس پلٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی چاپ سنتا ہے، اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں: تو اس آدمی کے بارے کیا کہتا ہے، یعنی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بارے میں۔ انہوں نے کہا: اگر وہ مومن ہے تو کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کا بندہ اور رسول ہے تو اسے کہا جاتا ہے تو اپنا ٹھکانا دوزخ میں دیکھ لے، مگر اللہ نے تیرا ٹھکانا جنت میں تبدیل کر دیا ہے تو وہ ان دونوں کو دیکھتا ہے۔“
اس بات کا بھی احتمال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتوں میں گندگی دیکھی ہو اور اسی وجہ سے ان کے اتارنے کا حکم دیا اور اس کے علاوہ کا بھی احتمال ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7217]
اس بات کا بھی احتمال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتوں میں گندگی دیکھی ہو اور اسی وجہ سے ان کے اتارنے کا حکم دیا اور اس کے علاوہ کا بھی احتمال ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 7217]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»
الحكم على الحديث: صحيح