🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
1511. -- باب: المشي بين القبور في النعل
-- باب: جوتے پہن کر قبروں کے درمیان چلنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7217
وَثَابِتٌ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ الْعَدْلُ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ إِنَّهُ لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ يَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيَقُولَانِ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ يَعْنِي مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَيَقُولُ آمَنْتُ أَنَّهُ عَبْدُ اللهِ وَرَسُولُهُ، فَيُقَالُ لَهُ انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ فِي النَّارِ قَدْ أَبْدَلَكَ اللهُ مَقْعَدًا فِي الْجَنَّةِ فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا"، ⦗١٣٥⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ زُرَارَةَ عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ فَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى بِنَعْلَيْهِ قَذَرًا فَأَمَرَهُ أَنْ يَخْلَعَهُمَا لِأَجْلِ ذَلِكَ وَيُحْتَمَلُ غَيْرُ ذَلِكَ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیشک بندہ جب قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی واپس پلٹتے ہیں تو وہ ان کے جوتوں کی چاپ سنتا ہے، اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور کہتے ہیں: تو اس آدمی کے بارے کیا کہتا ہے، یعنی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کے بارے میں۔ انہوں نے کہا: اگر وہ مومن ہے تو کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کا بندہ اور رسول ہے تو اسے کہا جاتا ہے تو اپنا ٹھکانا دوزخ میں دیکھ لے، مگر اللہ نے تیرا ٹھکانا جنت میں تبدیل کر دیا ہے تو وہ ان دونوں کو دیکھتا ہے۔“
اس بات کا بھی احتمال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوتوں میں گندگی دیکھی ہو اور اسی وجہ سے ان کے اتارنے کا حکم دیا اور اس کے علاوہ کا بھی احتمال ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الجنائز/حدیث: 7217]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 7217 in Urdu