🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

1615. -- باب: الهدية للوالي بسبب الولاية.
-- باب: حاکم کو اس کے منصب کی وجہ سے ہدیہ (تحفہ) دینے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7664
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا مِنَ الْأَزْدِ عَلَى الصَّدَقَةِ، يُقَالُ لَهُ ابْنُ اللُّتْبِيَّةِ فَلَمَّا جَاءَهُ، قَالَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ:" مَا بَالُ الْعَامِلِ نَسْتَعْمِلُهُ عَلَى بَعْضِ الْعَمَلِ مِنْ أَعْمَالِنَا فَيَجِيءُ فَيَقُولُ هَذَا لَكُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي، أَفَلَا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ أَوْ فِي بَيْتِ أُمِّهِ فَيَنْظُرَ هَلْ يُهْدَى لَهُ شَيْءٌ أَوْ لَا، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَأْتِي أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا بِشَيْءٍ إِلَّا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَى رَقَبَتِهِ إِنْ كَانَ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ، أَوْ بَقَرَةٌ لَهَا خُوَارٌ، أَوْ شَاةٌ تَيْعَرُ". ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ عُفْرَةَ إِبْطَيْهِ، فَقَالَ:" اللهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ اللهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ اللهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ". رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللهِ. وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ..
سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ازد قبیلے میں سے ایک شخص کو عامل بنایا جسے ابن لتبیہ کہا جاتا تھا، جب وہ آیا تو اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یہ آپ کے لیے ہے اور یہ میرے لیے تحفہ ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: ”اس عامل کا کیا حال ہے کہ ہم اسے عامل مقرر کرتے ہیں، پھر وہ آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ تمہارا ہے اور یہ مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ کیوں نہ وہ اپنے والد یا ماں کے گھر میں بیٹھا رہا، پھر وہ دیکھتا کہ اسے تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں! مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے، تم میں سے کوئی بھی کوئی چیز نہیں لاتا مگر وہ قیامت کے دن اسے اپنی گردن پر اٹھا کر لائے گا۔ اگر وہ اونٹ ہوگا تو اس کی بلبلاہٹ ہوگی، گائے اور بکری کی منمناہٹ ہوگی۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اٹھائے یہاں تک کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ، اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ» ”اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟ اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا ہے؟ اے اللہ! کیا میں نے پہنچا دیا؟““ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7664]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ أخرجه البخاري»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7665
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ⦗٢٦٨⦘ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَرَ.
سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، پھر انہوں نے مکمل حدیث بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7665]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7666
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَغَيْرُهُ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَفْوَانَ الْجُمَحِيُّ وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الصُّوفِيُّ، ثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا خَالَطَتِ الصَّدَقَةُ مَالًا إِلَّا أَهْلَكَتْهُ". وَفِي رِوَايَةِ الشَّافِعِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا تُخَالِطُ الصَّدَقَةُ مَالًا إِلَّا أَهْلَكَتْهُ" قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: لَا أَعْلَمُ أَنَّهُ رَوَاهُ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ غَيْرُهُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں ملتا صدقہ (زکوۃ) کبھی کسی مال سے مگر اسے ہلاک کر دیتا ہے“ اور شافعی رحمہ اللہ کی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں ملتا صدقہ کبھی کسی مال سے مگر اسے ہلاک کر دیتا ہے۔“
ابو احمد (ابن عدی) فرماتے ہیں: میرے علم میں نہیں کہ اسے ہشام بن عروہ سے اس (محمد بن عثمان بن صفوان) کے علاوہ کسی نے روایت کیا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 7666]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ أخرجه الحميدي»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں